
Official twitter account of #JUI Jamiat Ulam-e-Islam Pakistan. Any feedback email us: [email protected]
Pakistan
Joined April 2012
- Tweets14.4K
- Following13
- Followers3K
- Likes1K
ہم اپنے حق کی آواز روک دیں، یہ نہیں ہوگا۔ہمیں مطمئن کرو، قوم کی تشویش کو دور کرو۔
اس وقت کوئی سیاسی جماعت نہیں بول رہی ہے، کوئی قوم پرست نہیں بول رہا، سب کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ اس ماحول میں ایک ہی آواز ہے۔وہ جمع
اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اکیلے ہیں۔ اکیلے نہیں ہیں۔ اگر ہم نے کال دیدی، تو پھر قوم آئے گی، کسی کی محتاج نہیں ہوگی۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب – at Islamabad, Pakistan
پاکستان ہمارا ہے اور اس پاکستان کا ہم دفاع کریں گے، اس کے نظام کا دفاع کریں گے، اس کی امانتوں کا دفاع کریں گے اور تمہارے یہ سارے حربے خس و خاشاک ہو جائیں گے۔
آپ نہیں جانتے، ہم تحریکی لوگ ہیں، ہم مسلسل آگے بڑھتے ہیں۔ تحریک تشدد کا نام نہیں، تحریک تسلسل کا نام ہے۔
کبھی آپ گوادر پر نظر ڈالے ہوئے ہیں؟ کبھی آپ بلوچستان کے سمندر اور کوسٹل ایریا پر نظر ڈالے ہوئے ہیں؟ کبھی آپ صوبہ سندھ کے جزیروں پر نظر ڈالے ہوئے ہیں؟ یہ عوام کے حقوق ہیں۔
یہ سارا کچھ جو ہو رہا ہے دو باتوں کےلئے ہو رہا ہے۔
ایک، صوبوں کے وسائل پر قبضہ کرنا، ان کے معدنی ذخائر، ان کے سمندری ساحل اور ان کے جزائر۔
اور دوسرا، این ایف سی ایوارڈ، جو اس وقت صوبوں کے محصولات کے بڑے حصے کا ذریعہ ہے، ان کو کم کرنے کے لیے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔
یہ تو ایسی ترامیم ہیں جو متفقہ ہیں؟ یا پاکستان کا آئین متفقہ ہے؟ یا ختمِ نبوت کی ترمیم متفقہ ہے؟ یا اٹھارویں ترمیم متفقہ ہے؟ آپ قوم کے اتفاق کو تباہ کر رہے ہیں۔
بجائے اس کے کہ ہمیں مطمئن کیا جائے، ہم پر طنز کیے جا رہے ہیں، ہم پر الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ اور ان کا خیال یہ ہے کہ ہم اس دباؤ میں آ کر اپنا بیانیہ تبدیل کر دیں گے۔
ہم بھی آپ کے منہ پر یہ مارتے رہیں گے، آپ کی مرضی ہے، آپ جو کچھ کر دیں۔ تمہارے یہ ادارے تمہارے کنٹرول میں ہیں، ان سے ہمیں انصاف کی کوئی توقع نہیں۔
وضاحت کے ساتھ انہیں پیغام بھیجنا چاہتا ہوں کہ احتساب کے آپ کے ادارے انتقامی ادارے ہیں، یہ احتساب کے ادارے نہیں ہیں۔
اس حوالے سے ہم نے اپنی بات کرنی ہے، دلائل کے ساتھ کرنی ہے۔ ہم کسی سے جھگڑا نہیں کر رہے،
تم قوم کے سرمائے کو سمیٹنے کی کوشش کرو، ہم اس وطن کو بچانے کی جنگ لڑیں گے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
ہمارا دعویٰ کیا ہے اور تم میڈیا پر بحث کیا کر رہے ہو؟
فلاں نوٹس مل گیا، فلاں نوٹس مل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
بات یہ ہے سیاسی طور کہ تم نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کیوں نافذ کیا؟ تم نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیوں لگائی؟
دعویٰ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ دہشت گردی تو جب بھی آپ نے دہشت گردی کے خلاف قدم اٹھایا ہے، بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کے آپریشنز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نہیں ہیں، اس کے پردے میں چھپ کر کوئی اور مقاصد ہیں۔
ہمارا ایک سوال ہے۔ ہم پبلک ہیں، ہم پبلک کی نمائندگی کر رہے ہیں، ہم قبائل کی نمائندگی کر رہے ہیں، صوبوں کے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
یہ واضح کرنا ہوگا کہ تمہارے اقدامات دہشت گردی کے خلاف ہیں یا تمہارے اقدامات کا مقصد ہمارے پہاڑوں میں موجود معدنی ذخائر کو لوٹنا ہے؟
میرا احتساب لیتے ہو؟ جنریٹر باہر پڑا ہوا ہے، کیبن غلط لگا ہوا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے مرکز کے سامنے کھڑے ہو گئے کہ تم نے تجاوز کیا ہے؟ یہ باتیں نہ کرو! تم بتاؤ، تمہارے پیٹ میں جو پہاڑ پڑے ہوئے ہیں، اس کا کیا کرو گے؟
شرم و حیا والوں کو آدمی ایک دفعہ کہتا ہے، وہ فوراً سمجھ جاتا ہے۔ بار بار کہتی ہیں کہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اور ہمارا مدرسہ، اس کا نظام یہ ہوتا ہے، آپ جانتے ہیں کہ مدرسے کا انتظام ایک مہتمم کے ذریعے ہوتا ہے۔ وہی اس کے لیے زمین بھی پیدا کرتا ہے، چندہ بھی کرتا ہے، تعمیر بھی کھڑی کرتا ہے، سارا نظام اس کا اپنا ہوتا ہے۔ پھر وہ جا کر وفاق المدارس کے نظم میں شامل ہوتا ہے۔
یہاں پر کہا گیا کہ فضل الرحمٰن کے بیس ہزار مدارس ہیں۔ تو مولوی صاحبان! آپ فارغ ہیں؟ یعنی الزام لگانا، پروپیگنڈا کرنا۔۔۔کوئی سلیقہ بھی تو آنا چاہیے۔
یہ جو بے موقع آپ کو غصہ آتا ہے اور گزرنے کے بعد غصے میں آپ گھونسہ اٹھاتے ہیں، تو یہ گھونسہ پھر اپنے منہ پر گھونسہ دینا چاہیے، اپنے منہ پر مارو، ہماری طرف متوجہ نہیں ہو سکتا۔
جمعیت علمائے اسلام آپ کی بنائی ہوئی نہیں ہے۔ جمعیت علمائے اسلام نے انگریز اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آزادی کی تحریک اٹھا کر بنی ہے اور آج بھی ہم اسی کا تسلسل ہیں۔
تم ہمیں اشتعال دلا رہے ہو، لیکن اشتعال میں نہیں آتے۔ یہ حربے ہمیشہ چلتے رہتے ہیں، ہم ان کے عادی ہو چکے ہیں۔
جو آپ کو گالیاں دیتا ہے، وہ ایوانِ صدر میں بیٹھتا ہے۔ جو آپ کو گالیاں دیتا ہے، وہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بن جاتے ہیں، وزیر دفاع بن جاتے ہیں۔
اور جو کہتا ہے کہ ملک بھی میرا ہے اور فوج بھی میری ہے، آج وہ معتوب ہیں اور وہ ملک میں جلسہ نہیں کر سکتے، اجتماع نہیں کر سکتے۔لیکن اللہ کی زمین وسیع ہے۔ ایک جگہ سے روکے بھی تو دوسری جگہ بیٹھ جائیں گے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
انگریز کے خلاف جنگ لڑنے والوں کو غدار کہا گیا، آج بھی اختلاف کرنے والوں کو غدار قرار دیا جاتا ہے
آج بھی آپ پاکستان کے وفادار بنیں، سو دفعہ وفادار بن جائیں، لیکن آج کی اسٹیبلشمنٹ کی پیروی اگر آپ نے نہ کی اور ان کی خواہشات کے مطابق آپ نے زندگی نہ گزاری تو آپ غدار قرار دیے جاتے ہیں۔
دشمنی بھی کی جاتی ہے، اختلاف بھی کیا جاتا ہے، لیکن بڑے لوگ اس میں بھی وقار رکھتے ہیں۔ یہاں تو حالت یہ ہے کہ گھٹیا قسم کے اقدامات!
آج آپ میڈیا دیکھیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور یہ کیا کہہ رہے ہیں !
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
دو روز پہلے یہاں اسلام آباد میں طلبہ کا اجتماع ہوا تھا اور آج یہاں اساتذہ کا اجتماع ہو رہا ہے۔ دونوں اجتماعات جہاں منعقد ہونے تھے، وہاں طاقتور قوت نے نہ طلبہ کو جمع ہونے دیا اور نہ اساتذہ کو۔
یہ ہے ان کی نظر میں تعلیم کی قدر و قیمت، یہ ہے ان کی نظر میں طالب علم کا مقام اور یہ ہے ان کی نظر میں استاد کا مقام۔ آپ کو شاید سزا اس بات کی مل رہی ہے کہ آپ کا نظریہ، آپ کا فکر اور آپ کی سوچ کا زاویہ جمعیت علمائے اسلام سے ملتا ہے، اور یہ بھی کہ آپ کے اجتماعات سے فضل الرحمٰن خطاب کرنے والے ہیں۔
ہم نے اپنے بزرگوں سے یہی سیکھا ہے کہ کمزور لوگ اشتعال دلاتے ہیں، بہادر لوگ اشتعال میں نہیں آتے، جو کچھ انہوں نے کیا، اس میں حماقت ہے
سوائے اس کے کہ وہ اپنے خلاف نفرت پیدا کر رہے ہیں۔ نفرت کس کے خلاف پیدا ہوگی؟ حکومت کے خلاف، ملکی نظام کے خلاف۔ تو یہ چیزیں انہیں کوئی فائدہ نہیں دے رہیں۔
کون پالیسی بناتا ہے؟ کون فیصلے کرتا ہے؟ یہ جو نامعلوم ہیں، یہ سب ہمیں معلوم ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب،7 نومبر
اسلام آباد: امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا قومی تعلیمی کانفرنس سے خطاب
حکومت نے طلبہ اور اساتذہ، دونوں کو اپنے اجتماعات منعقد کرنے سے روک دیا، مولانا فضل الرحمٰن
یہ ہے حکمرانوں کی نظر میں تعلیم، طالب علم اور استاد کی قدر و منزلت، مولانا فضل الرحمان
کون پالیسیاں بنا رہے ہیں کون فیصلے کر رہا ہے
یہ جو نامعلوم ہیں، یہ سب ہمیں معلوم ہے، مولانا فضل الرحمٰن
حکومت اپنے اقدامات سے خود اپنے خلاف نفرت پیدا کر رہی ہے، مولانا فضل الرحمٰن
یہ نفرت کس کے خلاف پیدا ہوگی؟ حکومت کے خلاف یا ملکی نظام کے خلاف؟ ان اقدامات سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا
الحمدللہ! 34 سال سے سیاست کر رہا ہوں، آج تک کسی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوا، مولانا فضل الرحمٰن
34 سالہ سیاسی زندگی میں کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں، ختمِ نبوت کے معاملے میں ایک مرتبہ عدالت گیا، مولانا فضل الرحمٰن
ملک میں ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جیسے ہم بڑے بدعنوان لوگ ہیں، مولانا فضل الرحمٰن
میری کردار کشی کے لیے نوٹس اچھالے جا رہے ہیں، میڈیا میرا اصل مؤقف بھی قوم کے سامنے لائے
احتساب کے ادارے احتساب نہیں، انتقامی کارروائیاں کر رہے ہیں، مولانا فضل الرحمٰن
حکمرانوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ دس بیس سال میں لاکھوں ایکڑ اراضی کے مالک کیسے بن گئے؟
سیاست میں آئے اور آج پورے ملک کے بڑے سرمایہ کار بن گئے، ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں؟
مقدمات بھی چلے، سزائیں بھی ہوئیں، قید و بند بھی ہوئی، لیکن وفاداری کا اعلان کرتے ہی سب کچھ دھل جاتا ہے
میرے خاندان، جماعت کے اہم ذمہ داروں اور کاروباری ساتھیوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے
ہم دباؤ کے عادی ہیں، اپنے حق کی آواز کسی صورت نہیں روکیں گے
کمزور لوگ اشتعال دلاتے ہیں، بہادر لوگ اشتعال میں نہیں آتے، مولانا فضل الرحمٰن
تعلیم اور تربیت دونوں ضروری ہیں، تعلیم کے بغیر اندھیرا اور تربیت کے بغیر انسانیت نامکمل ہے
دینی مدارس کو سرکاری کنٹرول میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، مولانا فضل الرحمٰن
دینی مدارس صرف مولوی نہیں، دین کی تعلیم اور انسانی زندگی کی رہنمائی کرنے والے علماء پیدا کرتے ہیں
علمائے دین انبیاء کے وارث ہیں، ان کا مقصد روپیہ پیسہ کمانا نہیں بلکہ انسانیت کی رہنمائی ہے
شریعت کا اولین تقاضا غلامی سے نجات اور جبر کے سامنے سر نہ جھکانا ہے
حکمرانوں نے اپنے مفادات کے لیے قانون سازی کی، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات آج تک نظرانداز کی جا رہی ہیں
اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، اس کا اپنا سیاسی، معاشی اور سماجی نظام بھی ہے
قرآن کا تصور آزادی، معاشی خوشحالی اور کمزور طبقات کی فلاح و بہبود ہے
آج وفاداری کا معیار وطن سے محبت نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی پیروی بنا دیا گیا ہے
انگریز کے خلاف جنگ لڑنے والوں کو غدار کہا گیا، آج بھی اختلاف کرنے والوں کو غدار قرار دیا جاتا ہے
ہمارا دعویٰ کچھ ہے اور میڈیا پر بحث کسی اور چیز پر ہو رہی ہے، مولانا فضل الرحمٰن
میڈیا نوٹس اچھالنے کے بجائے ہمارا اصل مؤقف اور ملک کا مسئلہ قوم کے سامنے لائے
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ مولانا فضل الرحمٰن
دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے باوجود دہشت گردی بڑھ رہی ہے، آخر ان اقدامات کے پیچھے مقاصد کیا ہیں؟
کیا قبائلی علاقوں میں آپریشنز کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے یا معدنی ذخائر پر قبضہ؟
ہمارے پہاڑوں کے معدنی ذخائر، ساحل اور جزائر کس کے حوالے کرنے کی تیاری ہو رہی ہے؟
صوبوں کے وسائل پر قبضہ اور این ایف سی ایوارڈ میں کمی کی کوششیں ہو رہی ہیں
فاٹا انضمام کے نتائج سامنے آ رہے ہیں، دس سال بعد خود اس فیصلے کو غلط قرار دیا جا رہا ہے
احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، یہ احتساب کے ادارے نہیں ہیں
جمعیت علمائے اسلام تمہاری بنائی ہوئی جماعت نہیں، ہم انگریز کے خلاف آزادی کی تحریک کا تسلسل ہیں
ہمیں اشتعال دلانے کے حربے پہلے بھی ناکام ہوئے، آئندہ بھی ناکام ہوں گے
پاکستان ہمارا ہے، ہم اس کے دفاع، اس کے نظام اور اس کی امانتوں کا دفاع کریں گے
تحریک تشدد کا نام نہیں، تحریک تسلسل کا نام ہے، مولانا فضل الرحمٰن
ہمیں دباؤ میں لا کر اپنا بیانیہ تبدیل نہیں کرایا جا سکتا، ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں
صوبوں کے وسائل، معدنی ذخائر، سمندری ساحل اور جزائر عوام کی ملکیت ہیں
قوم کو اعتماد میں لیے بغیر صوبوں کے حقوق اور وسائل پر فیصلے قبول نہیں کریں گے
ہمیں مطمئن کرو، ہماری تشویش دور کرو، قوم کے تحفظات کا جواب دو، مولانا فضل الرحمٰن
اللہ تعالیٰ کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ وہ جب انتقام لینے پر آتا ہے تو طاقتور سے طاقتور کی بھی شامت آ جاتی ہے۔ ٹرمپ ہار گیا۔ٹرمپ خالصتاً کاروباری آدمی ہے۔ وہ سرمایہ داریت کی اپنی ذات میں علامت تھا۔ جہاں وہ دنیا کے معدنی ذخائر دیکھتا تھا، وہاں پر وہ پہنچتا تھا، چاہے جنگ کے ذریعے سے ہو۔
وینزویلا کے علاقے میں یہ ذخائر موجود ہیں۔ تو ان پر قبضہ کرنے کے لیے، جب وہاں کی حکومت اجازت نہیں دے رہی تھی، تو پوری امریکی قوت کو ساتھ لے جا کر وہاں کے پریزیڈنٹ اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرکے امریکہ لے آیا۔
اب جب ان کا احتساب شروع ہوگا، آپ تو ہمارا احتساب کرنے لگے ہیں نا، کچن کا اور جنریٹر کا احتساب کرنے لگے ہیں، اور وہاں واشنگٹن سے جب احتساب شروع ہوگا تو یہ احتساب یہاں اسلام آباد کی وزیراعظم ہاؤس تک بھی پہنچے گا اور یہاں کی پنڈی تک بھی پہنچے گا۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا خطاب
ہم اس ملک میں جھک کر چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ہم اس ملک میں باعزت شہری کی طرح زندہ رہنا چاہتے ہیں۔
کامران مرتضیٰ صاحب کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ افغانی ہیں، وہ تو کشمیری ہے اور یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ کشمیر سے آئے ہیں اور وہاں کوئٹہ میں سیٹل ہوئے ہیں۔
اس سے بھی عجیب بات یہ کہ حافظ حمدللہ صاحب کا بیٹا فوج میں بھرتی ہوا، اس کے بیٹے کا فوج میں کمیشن ہو گیا، بیٹا فوج میں کمیشن لے رہا ہے اور باپ کو کہا جاتا ہے کہ تم افغانی ہو، تم پاکستانی نہیں ہو، اس کو کہتے ہیں اندھیر نگری۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
دنیا چاہتی ہے کہ ہم چائنا کا راستہ روک لیں اور امریکہ چاہتا ہے کہ ہم یہاں قبائلی پہاڑوں میں یہاں پر سرمایہ کاری کریں۔ اور ان کو دعوت دینے میں گیا تھا؟ امریکہ کے اوول ہاؤس میں پریزیڈنٹ ٹرمپ کو ہمارے پہاڑوں کے معدنیات کے نمونے میں نے پیش کیے تھے؟ نمونے تم پیش کرتے ہو، ترغیب تم دلا رہے ہو، تمہارا آپس میں ایک معاملہ ہے،،، قوم کے سامنے رکھو یہ چیزیں۔
ہم کسی کی سرمایہ کاری کے خلاف نہیں ہیں، یہ بھی غلط ہے کہ چین کی سرمایہ کاری کا راستہ روکا جائے۔ ہم امریکہ کی سرمایہ کاری کے بھی خلاف نہیں ہیں، ہم ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے بھی خلاف نہیں ہیں، لیکن معاملے میں شفافیت ہونی چاہیے، معاہدات میں شفافیت ہونی چاہیے، قوم کے سامنے تمام شرائط رکھی جائیں، کن شرائط پر معاہدہ ہوا ہے، ہمارے ملک کے منافع کا تعین ہو، ان کے منافع کا تعین ہو، مقامی آبادی کے منافع کا تعین ہو۔
چوری چھپے ۔۔۔۔۔۔۔اب کہتے ہیں کہ اگر دہشت گردی کے خلاف بات نہ ہوتی تو پھر تو ایمرجنسی صرف فاٹا میں ہونی چاہیے تھی، یہ نیچے اضلاع میں کیوں ہوئی؟ اب مجھے بھی پھر کچھ کہنا پڑ رہا ہے، کیا کریں ۔۔۔۔۔ یہ اسمگلنگ کے راستے ہیں، اس لیے وہاں ایمرجنسی ہے۔ بہت سے قبائلی نوجوان یہاں ہوں گے جن کے علاقوں میں ہفتے میں دو دن کرفیو ہوتا ہے، ہوتا ہے نا دو دن؟ تو پانچ دن دہشت گردی نہیں ہوتی وہاں پر؟ پانچ دن دہشت گرد کہیں چلے جاتے ہیں، غاروں میں چھپ جاتے ہیں اور صرف دو دن باہر آتے ہیں، تو پھر آپ ان کے خلاف کارروائی کر رہے ہوتے ہیں؟(
تو یہ کرفیو کس لیے لگائی جاتی ہے؟ ہمیں کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد آ رہے ہیں، گھروں میں بند رہو، باہر مت آؤ، ہم لڑ رہے ہیں، وہ پتا چلا کہ وہاں سے ٹرک گزر رہے ہوتے ہیں۔
ہمیں نہ معاہدہ پر اعتراض، نہ کسی کی سرمایہ کاری پر اعتراض، یہاں سے اگر مال نکلتا ہے تو جائز راستے سے آئے نا، تو جائز راستے ہم نے بند کیے ہیں، افغانستان کے ساتھ ہماری بندش ہے، تو چوری کے راستوں سے مال تو آ رہا ہے۔ ہمارے محصولات میں اگر اضافہ ہوتا ہے تو ٹیکس کی وجہ سے ہوتا ہے، اس کی ڈیوٹی ہوتی ہے، وہ ادا کرو، اس سے ملک چلتا ہے۔
اب اگر ہم حکمران ہوتے ہوئے اس طرح کی کارروائیاں کریں گے کہ پتا نہیں اپنے منافع کے لیے تم نے کون سے چوری کے راستے بنا لیے ہیں اور قوم کے خزانے کی پرواہ نہیں ہے، عوام کی تمہیں پرواہ نہیں ہے۔
ہم قوم کے حق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آپ کی نظر گوادر پر ہے، تم نے گوادر کو وفاق کے ساتھ وابستہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو بلوچستان کا حق بنتا ہے۔ ساحلی علاقہ جو بلوچستان کا حق بنتا ہے، تمہاری اس پر نظریں ہیں کہ کس طرح کوسٹل ایریا کو وفاق کی طرف کیا جائے، ہم ان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
صوبہ سندھ میں جزیرے ہیں، جن کے منافع کے حق دار سندھ کے عوام ہیں، تم ان پر قبضہ کر رہے ہو اور وفاق کے کنٹرول میں لے رہے ہو۔ ظاہر ہے، جب ایک دفعہ آئینی طور پر یہ ساری چیزیں صوبوں کے عوام کے حق قرار دیے جا چکے ہیں، آپ اس طریقے سے اس پر قبضہ کریں گے؟ یہ تو قومی امانت ہے، تم اتنی بڑی خیانت کے مرتکب ہو اور ہمارے پیچھے لگ گئے ہو، گھر کا نقشہ پاس نہیں کیا، فضائی ڈرون ویڈیوز بنائے جا رہے ہیں، گھر معلوم کیا جا رہا ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب – at Islamabad, Pakistan
میرے نوجوانو! جمعیۃ طلباء اسلام کے پروانو!
مجھے یاد ہے کہ چند سال قبل جمعیۃ طلباء اسلام کے زیر اہتمام اسی اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں مفتی محمود کانفرنس منعقد ہوئی تھی، جس کے مہمانِ خصوصی وزیراعظم جناب میاں شہباز شریف صاحب تھے۔
لیکن آج میں شہباز شریف صاحب کو اس قدر بے بس دیکھ رہا ہوں کہ وہ اسلام آباد میں واقع پاک چائنہ فرینڈشپ سینٹر میں بھی آپ کے اجلاس کے انعقاد کی اجازت نہیں دلوا سکے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب،5 نومبر – at Islamabad, Pakistan
اسلام آباد: میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب سے کہتا ہوں کہ آپ کا یہ زرد رومال ہماری عزت، ہمارا وقار، ہماری غیرت اور ہماری حیا کی علامت ہے۔
یقین جانیے! اگر کسی نے آپ کے اس زرد رومال پر ہاتھ اٹھایا یا اسے بری نظر سے دیکھا تو ہم اس کی آنکھیں نکال دیں گے۔
ہر فرعون کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک موسیٰ پیدا کیا ہے اور ان فرعونوں کے مقابلے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مولانا صاحب کو پیدا کیا ہے۔
میں ان لوگوں سے کہتا ہوں کہ خدا کے لیے آپ ہمیں اس معاملے پر نہ ڈرائیں، ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔
ہم غلامانہ پابندیاں ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
سابق وزیر اعلی مرکزی رہنما جےیوآئی الحاج اکرم خان درانی
اسلام آباد: جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام مفتی محمود کانفرنس سے قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا مکمل خطاب
اسلام آباد: جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام مفتی محمود کانفرنس سے قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ خطاب کر رہے ہیں۔
جمعیت طلبہ اسلام کے زیراہتمام اسلام آباد میں مفتی محمود کانفرنس کا اغاز
سابق وزیراعلی اکرم خان درانی، سابق وفاقی وزیر مولانا اسعد محمود، ترجمان جےیوآئی اسلم غوری، سینیٹر کامران مرتضی، مولانا صلاح الدین ایوبی شریک
اسلام آباد:اپوزیشن رہنماؤں کی امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ آمد
ال پارٹی کانفرنس، خیبر پختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کی صورت حال پر گفتگو
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر شریک
اکرم خان درانی،اسلم غوری، سنیٹر مولانا عطاء الرحمان، سنیٹر مولانا عطاء الحق درویش شریک
سلمان اکرم راجہ،عامر ڈوگر، اخونزادہ حسین، نور الحق قادری شریک
سنیٹر کامران مرتضٰی، مولانا صلاح الدین ایوبی، حافظ حمداللہ ، زاہد درانی شریک
کوئٹہ ( )جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے زیراہتمام ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن رفیق کی صدارت میں قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ کی ڈرون کے ذریعے فضائی فوٹیج بنانے اور اسے سوشل میڈیا پر نشر کرنے چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی اور قائد جمعیت کے خلاف منظم منفی پروپیگنڈے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی ریلی سے صوبائی امیر سنیٹر مولانا عبدالواسع، ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن رفیق، جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، صوبائی ترجمان دلاور خان کاکڑ، حاجی بشیراحمد کاکڑ، حاجی رحمت اللہ، سید عبدالواحد آغا اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کے خلاف غیر اخلاقی سازشوں کے پیجھے ذہنیت قابل شرم ہے ۔ قائد کی حفاظت کے لیے جانوں کی قربانیوں سے کریں گے ۔ ان سے بڑھ کر کوئی محب وطن نہیں ہوسکتا ۔ ان کی رہائش گاہ کی ڈرون کے ذریعے نگرانی اور فوٹیج بنا کر سوشل میڈیا پر نشر کرنا نہ صرف چادر و چار دیواری کے تقدس کی صریح خلاف ورزی ہے آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے ۔بلکہ بنیادی انسانی اخلاقی اور جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔ کسی بھی سیاسی رہنما کی نجی زندگی میں اس طرح مداخلت اور نگرانی کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف مقتدرہ کی سرپرستی میں سوشل میڈیا کے کرائے کے باکوؤں کے ذریعے منظم میڈیا ٹرائل، منفی پروپیگنڈے، کردار کشی اور دشنام طرازی کا سلسلہ جاری ہے جس کا مقصد سیاسی قیادت کو مرعوب کرنا اور اس کے اصولی مؤقف کو دبانا ہے۔ سیاسی اختلاف اور تنقید جمہوریت کا حسن ہیں لیکن الزام تراشیطتضحیک اور بازاری زبان کا استعمال کسی صورت آزادیِ اظہار کے زمرے میں نہیں آتا۔ رہنماؤں نے کہا کہ حکومت عوامی اعتماد اور تعمیری تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے یہی وجہ ہے کہ اپنی ناکامیوں اور نااہلیوں کا جواب دینے کے بجائے سیاسی قیادت کی کردار کشی اور اوچھے ہتھکنڈوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ایسے اقدامات حکومتی بوکھلاہٹ اور سیاسی کمزوری کا واضح ثبوت ہیں۔ جماعت کی مرکزی قیادت اور اہم شخصیات کو ہراساں کرنا ان کی نجی زندگی میں مداخلت اور غیر جمہوری حربوں کے ذریعے دباؤ ڈالنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی عزت وقار دفاع اور تحفظ جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں کے لیے اولین ترجیح ہے۔ قیادت کے دفاع اور تحفظ کے لیے جمعیت کا ہر کارکن تن، من اور دھن کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ قیادت کو مرعوب کرنے یا اس کے سیاسی کردار کو متنازع بنانے کی کوئی بھی کوشش کارکنوں کے عزم و حوصلے کو کمزور نہیں کر سکتی۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے متفقہ قراردادوں کے ذریعے قائد جمعیت کی رہائش گاہ کی ڈرون نگرانی اور فوٹیج کی تشہیر کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی قرار دیا۔ قراردادوں میں قائد جمعیت کے خلاف منظم میڈیا ٹرائل منفی پروپیگنڈے کردار کشی اور دشنام طرازی کو مسترد کرتے ہوئے جماعت کی مرکزی قیادت اور اہم شخصیات کو ہراساں کرنے اور ان کی نجی زندگی میں مداخلت کے غیر جمہوری اقدامات کی فوری روک تھام کا مطالبہ کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام اپنی قیادت کے دفاع آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ اور سیاسی و اخلاقی اقدار کی پاسداری کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
جاری کردہ
عبد الغنی شہزاد
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کے گھر کے تقدس کی پامالی طاقتور لوگوں کی ذہنی پستی کا اظہار ہے ۔ترجمان جے یو آئی
ایسےاقدامات قوم میں نفرت اور اشتعال کاسبب بنتے ہیں ۔اسلم غوری
کارکن اشتعال میں آنے کی بجائے صوبائی اور مرکزی تنظیموں کے احکامات کی پیروی کریں۔ترجمان جےیوآئی
مولانافضل الرحمان کےگھر کی ڈرون ویڈیوانسانی حقوق، مشرقی اقداراوراسلامی روایات کےمنافی ہے۔ترجمان جے یو آئی
افسوس ہے کہ جن خواتین کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے مولانا فضل الرحمان میدان میں اترے، آج انہی کے دورِ حکومت میں مولانا کے گھر کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے۔اسلم غوری
دلیل اوردانش کا مقابلہ جھوٹے پروپیگنڈوں،الزام تراشیوں اورگھٹیا اقدامات کےذریعےکیا جارہاہے ۔ترجمان جے یو آئی
وفاقی وزیر اطلاعات جواب دیں کہ کس قانون کے دائرے میں چادر اور چاردیواری کا احترام ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔اسلم غوری
کوئی ہمیں دھونس اور دھمکیاں نہ دے ہم مقابلہ کرنا جانتے ہیں ۔ترجمان جےیوآئی
حکمران ہوش کے ناخن لیں ، اس حد تک جائیں جتنا برداشت بھی کرسکیں ۔اسلم غوری
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
کوئٹہ میں سینیٹر کامران مرتضیٰ کے بھائی کی دکان سیل کرنا اور سیکیورٹی واپس لینا قابل مذمت ہے۔ ترجمان جے یو آئی
کسی شہری کو افغانی قرار دے کر اس کی دکان بند کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ اسلم غوری
سینیٹر کامران مرتضیٰ کے خاندان کے ساتھ یہ ناروا سلوک افسوسناک ہے، کامران مرتضیٰ خود رکن سینیٹ اور معروف قانون دان ہیں۔ ترجمان جے یو آئی
کامران مرتضیٰ کی اہلیہ رکن قومی اسمبلی ہیں، اس کے باوجود ان کے خاندان کو تحفظ فراہم نہیں کیا جا رہا۔ اسلم غوری
ایک طرف دکان سیل کی جا رہی ہے تو دوسری طرف خاندان کی سیکیورٹی بھی واپس لے لی گئی ہے۔ ترجمان جے یو آئی
سینیٹر کامران مرتضیٰ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں، ان کے خاندان کو افغانی قرار دینا افسوسناک ہے۔ اسلم غوری
کیا پارلیمنٹ کے رکن اور ان کے خاندان کو بھی ملک میں تحفظ اور عزت حاصل نہیں؟ ترجمان جے یو آئی
حکومت سیاسی اختلاف کی بنیاد پر شخصیات اور ان کے خاندانوں کو انتقام کا نشانہ بنانے سے باز آئے۔ اسلم غوری
سینیٹر کامران مرتضیٰ کے بھائی کی دکان فوری کھولی جائے اور خاندان کی سیکیورٹی بحال کی جائے۔ ترجمان جے یو آئی
حکومت اس غیر منصفانہ کارروائی کا جواب دے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کرے۔ اسلم غوری
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا مانسہرہ میں خطاب
ملک وحید سابق ڈویژنل صدر پاکستان پیپلز پارٹی ہزارہ کی جمعیت علماء اسلام میں شمولیت خوش آئند ہے، مولانا فضل الرحمان
ملک وحید صاحب کو قافلہ شیخ الہند میں شامل ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، مولانا فضل الرحمان
وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ہے، لیکن پاکستان کا مستقبل ہمارا انتظار کر رہا ہے، مولانا فضل الرحمان
ہم جس محاذ پر کھڑے ہیں وہ پاکستان کی تاریخ کا اہم محاذ ہے، مولانا فضل الرحمان
ملک میں قوم کو آپس میں لڑایا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمان
قوم کے سیاسی، سماجی اور معدنی حقوق پر ڈاکا ڈالا گیا تو ہم ضرور آواز اٹھائیں گے، مولانا فضل الرحمان
ناجائز قوتوں کی ناجائز پالیسیاں کسی صورت قبول نہیں کریں گے، مولانا فضل الرحمان
ہماری زمین پر عالمی قوتوں کو سانپ کی طرح بٹھانا کسی صورت قبول نہیں، مولانا فضل الرحمان
دہشت گردی کی آڑ میں قومی وسائل پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، مولانا فضل الرحمان
2010 سے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے، لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، مولانا فضل الرحمان
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کا کوئی بیرونی ایجنڈا ہے، مولانا فضل الرحمان
حکمرانوں اور طاقتوروں کا فرض ہے کہ ہمارے شکوک و شبہات دور کرکے ہمیں مطمئن کریں، مولانا فضل الرحمان
ہمارے سوالات کا جواب دینے کے بجائے ہماری کردار کشی کی جا رہی ہے، مولانا فضل الرحمان
اب دوسری جماعتوں کی طرح چھپنے کے بجائے آپ کو میدان میں آنا ہوگا، مولانا فضل الرحمان
پاکستانی قوم ہمارے ساتھ ہے،مولانا فضل الرحمان
دھاندلی کے ذریعے حکومتیں مسلط کریں گے تو ہم قبول نہیں کریں گے، مولانا فضل الرحمان
2018 اور 2024 کے انتخابات کو ہم نے تسلیم نہیں کیا، مولانا فضل الرحمان
ہمارا سفر جرات و ہمت کے ساتھ جاری رہے گا، ان شاء اللہ، مولانا فضل الرحمان
یہ جدوجہد بے خوف و خطر جاری رہے گی، مولانا فضل الرحمان



