پہلی بار میں رویا تھا تو مُسکاٸی تھی
اب میں جب غمگین دِکھوں ماں رو دیتی ہے
عاطف جاویدعاطف
#mothersday
کچھ دیر اُس نے آنکھ کی وارفتگی سُنی
پھر یوں ہوا کہ اُس کا بدن بولنے لگا
عاطف جاوید عاطف
#atifjavedatif_traveldiary 2018 #dubai
جلا کے طاق پہ رکھنے ہیں صف بہ صف یہ چراغ
ہوا کی آنکھ میں چُبھنے دو لَو بکف یہ چراغ
ہزار بھید وہ سینے میں لے کے بُجھتے ہیں
شبِ سیاہ کے بنتے ہیں جب ہدف یہ چراغ
کہانی کار کا چہرا نہ تیرگی میں کھُلے
سو داستان سے کرنا ہیں اب حذف یہ چراغ
ہماری آنکھ ہی منصف تھی تیرگی کا ثبوت
سو کاغذات میں رکھ دیں گے کر کے لف یہ چراغ
بجھے یوں شام کے ہاتھوں کہ رائیگاں نہ ہوئے
ہماری راکھ سے جلتے ہیں ہر طرف یہ چراغ
یزیدِ شب تری بیعت نہیں قبول سو آج
نشستِ جان سے ہوتے ہیں برطرف یہ چراغ
#عاطف_جاوید_عاطف
#urdupoetry #urdughazal
#azadimarch
#ImranKhan
#arshadshareef
***گرد****
دیارِ دنیا میں اپنی اپنی
انا کے پتھر اُٹھاۓ گلیوں میں بھاگتے یہ
فنا کے پیکر
ہوا کے رتھ پر سوار
نفرت سمیٹے بوٹوں سے گرد جتنی اُڑا رہے ہیں
یہ گرد بیٹھی تو ان کو اک دن دکھاٸی دے گا
کہ راستے سے کٹے ہوۓ تھے
ہوا کو ٹھوکر لگانے والوں کو کب پتا تھا
خود اُن کے چہرے اٹے ہوۓ تھے
عاطف جاوید عاطف
#nazm_e_atif #عاطف_جاوید_عاطف #urdupoetry #nazm
دل میں کسی کے پیار کی سرسوں کِھلی رہی
اپنا سفر تو ایک ہی پہلو میں طے ہوا
ملتے رہیں گے آپ جو ہم سے تو روز پھول
مہکا رہے گا آپ کے گیسو میں طے ہوا
عاطف جاوید عاطف
#عاطف_جاوید_عاطف
کچھ یاد نہ آنے کی دعا مانگ رہا ہوں
سب نقش مٹانے کی دعا مانگ رہا ہوں
اے رسمی تسلی سے، دلاسوں سے بھرے شخص
میں ضبط بڑھانے کی دعا مانگ رہا ہوں
یوسف نہ سہی پھر بھی کسی دستِ طلب سے
کُرتے کو بچانے کی دعا مانگ رہا ہوں
ممکن ہے سرک جاۓ ترے دل کی گُپھا سے
پتھر کو ہٹانے کی دُعا مانگ رہا ہوں
پُر اشکِ مناجاتِ مسلسل ہے مری آنکھ
اک شخص کے شانے کی دعا مانگ رہا ہوں
پھر طاقِ تعلق کے چراغوں کو خبر دو
اک شام منانے کی دعا مانگ رہا ہوں
اِس آنکھ رکابی کا نمک بڑھنے لگا ہے
کچھ خواب جلانے کی دعا مانگ رہا ہوں
شاعر: عاطف جاوید عاطف
#عاطف_جاوید_عاطف #ghazal_atifjavedatif
لمحوں کے اس پیڑ سے یارو پھر اک کونپل پھوٹ رہی ہے
پھر اک شاخ پہ پتے لرزے سال ہوا اور کھیل تمام
عاطف جاوید عاطف
#newyearpoetry #HappyNewYear #عاطف_جاوید_عاطف
پچھلا برس تو کھو گیا بیتے سمے کی دُھند میں
حدِ نگاہ صفر ہے ، اگلے برس کی خیر ہو !!!
(عاطف جاوید عاطف)
#HappyNewYear
پچھلا برس تو کھو گیا بیتے سمے کی دُھند میں
حدِ نگاہ صفر ہے ، اگلے برس کی خیر ہو !!!
(عاطف جاوید عاطف)
#HappyNewYear
سبھی پہاڑوں پہ برف پڑنے کے منتظر تھے
اور ایک ہم تھے کہ دل پگھلنے کے منتظر تھے
خُنَک ہوا پھر لہو کی گردش بڑھا رہی تھی
چراغ پَوروں میں پھر سے جلنے کے منتظر تھے
وہ گرم ہاتھوں سے برف پُتلے بنا رہی تھی
جو بن چکے تھے وہ پھر بکھرنے کے منتظر تھے
بُریدہ شاخوں پہ سرد ہوتے ہوۓ وہ لمحے
کسی کے لہجے سے پھول جھڑنے کے منتظر تھے
وہ بون فاٸر کے پاس بیٹھی تھی اور شعلے
نمیدہ آنکھوں سے بات کرنے کے منتظر تھے
کسی کی چاہت کشید کرکے سفید گالے
کسی کے مفلر پہ آن گرنے کے منتظر تھے
شاعر #عاطف_جاوید_عاطف
یارانِ گدھ مثال ذرا صبر کیجیے
سستا لوں تھوڑی دیر ابھی جی رہا ہوں میں
عاطف جاوید عاطف
#عاطف_جاوید_عاطف













