M Azhar Siddique (@AzharSiddique) header
M Azhar Siddique (@AzharSiddique) profile picture

Advocate Supreme Court of Pakistan, Human Rights Activist & Pro Bono Publico Lawyer, Columnist

Lahore, Pakistan
Joined January 2011
Photo by M Azhar Siddique (@AzharSiddique)Photo by M Azhar Siddique (@AzharSiddique)Photo by M Azhar Siddique (@AzharSiddique)Photo by M Azhar Siddique (@AzharSiddique)Photo by M Azhar Siddique (@AzharSiddique)Photo by M Azhar Siddique (@AzharSiddique)Photo by M Azhar Siddique (@AzharSiddique)Photo by M Azhar Siddique (@AzharSiddique)Photo by M Azhar Siddique (@AzharSiddique)Photo by M Azhar Siddique (@AzharSiddique)
ہماری اعلی عدالتیں اور 26ویں اور 27ویں ترمیم کی تباہ کاریاں!! PLD 1963 Lahore 575 A five-member Full Bench headed by Chief Justice Manzur Qadir was constituted to settle the true meaning and constitutional scope of the words "adequate remedy". “جب تک زہر کا تریاق دور دراز ملک سے لایا جائے گا، سانپ کے کاٹے ہوئے شخص کی موت واقع ہو چکی ہوگی۔” ریاق از عراق آورده شود، مارگزیده مرده شود "While the antidote is being brought from Iraq (which, in the context, is a metaphor for a distant land), the victim of snake-bite will be dead."
2
20
849
🌹 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌹 ✨ یاد رکھیں! پُرسکون زندگی کا راز صرف ایک ہے، اور وہ ہے قناعت۔ ✨ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ عطا فرمایا ہے، اس پر صبر، شکر اور دل کے اطمینان کے ساتھ راضی رہنا۔ عدمِ اطمینان دراصل عدمِ قناعت کی وہ قیمت ہے جو ہر اُس شخص کو ادا کرنا پڑتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی نہیں ہوتا۔ 🤲 اللہ کریم! ہمیں اپنی عطا پر راضی رہنے، ہر حال میں شکر ادا کرنے اور صبر و قناعت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں اپنی بے شمار رحمتوں اور برکتوں سے نواز، اپنے بہترین اور پسندیدہ بندوں میں شامل فرما، اور ہمیں، ہمارے اہلِ خانہ اور ہمارے تمام پیاروں کو اپنے حفظ و امان میں رکھ۔ ہمارے دلوں کو سکون، گھروں کو محبت، رزق کو برکت اور زندگیوں کو خیر و عافیت سے بھر دے۔ آمین یا رب العالمین! 🤲🌸 🌅 صبح بخیر! 💐 @CMShehbaz @MaryamNSharif
1
1
422
پیارے ولی صاحب! ٹی وی پر بیٹھ کر ایسی گفتگو نہیں کرنی چاہیے جس سے معاشرے میں غلط فہمیاں پیدا ہوں اور عوام کو گمراہ کن تاثر ملے۔ ہیلتھ کارڈ پروگرام نے بہت سے مستحق خاندانوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کی اور مشکل وقت میں لوگوں کے لیے امید کا ذریعہ بنا۔ اس پروگرام کے فوائد، خامیاں اور اس کے مالی و انتظامی معاملات پر ضرور بات ہونی چاہیے، لیکن حقائق کی مکمل جانچ کے بغیر کسی نتیجے پر پہنچنا مناسب نہیں۔ عوامی فلاح کے پروگراموں میں حکومت، انشورنس کمپنیوں اور ہسپتالوں کے کردار، ادائیگیوں اور ذمہ داریوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ اگر کسی کو اس نظام کے بارے میں مکمل معلومات نہیں تو بہتر ہے کہ پہلے حقائق معلوم کیے جائیں، پھر رائے دی جائے۔ اور ایک بات یاد رکھیے: ہم سب نے ایک دن اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ اس لیے سچ کا ساتھ دیجیے، حقائق بیان کیجیے اور اختلافِ رائے میں بھی دیانت داری کو مقدم رکھیے۔ تنقید ضرور کریں، سوال ضرور اٹھائیں، لیکن عوامی مفاد سے متعلق معاملات میں ذمہ داری، تحقیق اور سچائی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ کیونکہ اصل کامیابی میڈیا کی بحث جیتنے میں نہیں، بلکہ حق اور سچ کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہے۔
وزیراعظم @CMShehbaz کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی صاحب @ikhtiarwali کا حیرت انگیز انکشاف ! @RubarooAajTv میں میرا۔سوال: صحت کارڈ میں ایک مریض کے ایک دن میں 22 آپریشنز کے الزام کے کیا ثبوت ہیں؟ جواب: یہ معاملہ لوئر دیر کی تحصیل تیمرگرہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کا ہے
4
714
M Azhar Siddique retweeted
Obey or refuse? When power tests principle, what would you choose? Read my op-ed and share your thoughts 😊 Obey or refuse? A former police chief on power and principle arab.news/6n5b8
9
24
5
92
7,975
M Azhar Siddique retweeted
ملک میں جنگل کا قانون ہے کبھی فرعون نے بھی ایسا نہیں کیا،اظہر صدیق ناصر بٹ پر ناراض #AzharSiddique #NasirButt #AsmaIqbal #SawalAsmaIqbalKeSath #GTVNews @Aasma_Official @AzharSiddique
1
2
439
M Azhar Siddique retweeted
دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے گورنر کنڈی صفائیوں میں لگا ہوا پے،اظہر صدیق #AzharSiddique #FaisalKarimKundi #KhyberPakhtunkhwa #AsmaIqbal #SawalAsmaIqbalKeSath #GTVNews @Aasma_Official @AzharSiddique
1
2
389
M Azhar Siddique retweeted
پی ٹی آئی نے مسلم لیگ ن کو دنیا کے سامنے ننگا کردیا،اظہر صدیق #AzharSiddique #PTI #PMLN #AsmaIqbal #SawalAsmaIqbalKeSath #GTVNews @Aasma_Official @AzharSiddique
1
1
406
M Azhar Siddique retweeted
بٹ صاحب ۔۔ کلمہ پڑھ کر کہیں جو کچھ ہورہا ہے وہ قانون کے مطابق اور یہ آپ کسی کے کہنے پر نہیں کررہے ۔۔ اظہر صدیق @AzharSiddique
3
13
1
40
27,928
M Azhar Siddique retweeted
اظہر صدیق صاحب نے ن لیگ کے سینیٹر سے کہا کہ کلمہ پڑھ کر کہیں کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کی بہنوں کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے وہ قانون کے مطابق ہو رہا ہے اور آپ یہ سب کسی کے کہنے پر نہیں کررہے، اینکر عاصمہ اقبال بھی بار بار پوچھتی رہیں لیکن سینیٹر ناصر بٹ نے اس سوال اور چیلنج کا جواب نہیں دیا
بٹ صاحب ۔۔ کلمہ پڑھ کر کہیں جو کچھ ہورہا ہے وہ قانون کے مطابق اور یہ آپ کسی کے کہنے پر نہیں کررہے ۔۔ اظہر صدیق @AzharSiddique
6
258
919
26,761
ایس لوگ میڈیا پر بیٹھ پر آئین و قانون کی توہین کر رہے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ آزردہ صحافت؟
3
77
2
320
7,360
M Azhar Siddique retweeted
عدلیہ میں خرابیاں ختم کرنی تھیں لیکن حکومت نے 26 ویں 27ویں ترامیم کے ذریعے عدلیہ کو ہی ختم کردیا ۔ اب تو ویسے ہی " حافظ آباد سکول آف تھاٹ " یا پھر " خوشاب ونڈربوائے " کا راج ہے
249
898
7,567
M Azhar Siddique retweeted
نومبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس انور کاسی نے جسٹس محسن اختر کیانی اور میاں گل حسن اورنگزیب کے نام ہائی کورٹ کے ججز کے لیے تجویز کیے۔ میں نے اس حوالے سے سب سے پہلے خبر اخبار میں بریک کی۔ 👇 tribune.com.pk/story/998485/… کیانی صاحب 2014 میں اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رہ چکے تھے۔ ان کے دورِ صدارت میں اسلام آباد کی ضلعی کچہری میں دہشت گردی کا افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا تھا۔ اس وقت بار کے عہدیداران میڈیا کو اس واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے پیش رفت کے بارے میں معلومات فراہم کرتے تھے۔ بہرحال، اخبار میں خبر کے ساتھ محسن اختر کیانی کی تصویر بھی شائع ہوگئی، جس پر وہ کافی خفا تھے۔ بالآخر دسمبر 2015 میں محسن اختر کیانی اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے پہلے وکیل بن گئے جنہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔
1
17
1
145
5,462
M Azhar Siddique retweeted
جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفی دے دیا، جسٹس کیانی نے 26 ویں 27 ویں ترمیم کے خلاف اور عدلیہ میں مداخلت کے خلاف سخت موقف اپنایا تھا، پارلیمنٹ کے کردار پر بھی سوال اٹھائے
4
387
1,634
18,594
27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کا بحران — آئین، آزادیِ عدلیہ اور نظامِ انصاف پر سنگین سوالات! یہ محض ججوں کے استعفے نہیں، نظامِ انصاف کے لیے ایک کڑا سوال اور اربابِ اختیار کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے استعفوں نے پاکستان کے آئینی و عدالتی ڈھانچے، عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے نہایت سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس شمس محمود مرزا، جسٹس راحیل کامران شیخ اور جسٹس محسن اختر کیانی کے استعفے اس بحران کی سنگینی کو نمایاں کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر جج اپنے آئینی حلف، عدالتی خودمختاری اور نظامِ انصاف کے مستقبل کے حوالے سے سنگین تحفظات کے باعث مستعفی ہونے پر مجبور محسوس کریں تو اس صورتِ حال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ آمریت کے ادوار میں بھی پاکستان کی عدلیہ نے دباؤ، مداخلت اور آئینی بحرانوں کا سامنا کیا، لیکن آج کے حالات پر اٹھنے والے سوالات کو محض ماضی کے واقعات سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر عدلیہ کی آزادی محدود ہو، اختیارات کی تقسیم متاثر ہو اور شہریوں کا اعتماد متزلزل ہونے لگے تو یہ پورے آئینی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ آج سب سے بڑا سوال یہ ہے: موجودہ نظام کے خلاف عدلیہ کے کون سے بڑے، مؤثر اور اصولی فیصلے سامنے آئے ہیں؟ یہ سوال کسی ایک فیصلے یا جج کے بارے میں نہیں، بلکہ عدلیہ کی مجموعی آئینی ذمہ داری، ادارہ جاتی خودمختاری اور عوام کو مؤثر انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت کے بارے میں ہے۔ اس کا جواب جذباتی نعروں کے بجائے عدالتی فیصلوں، آئینی اصولوں اور عملی ریکارڈ کی روشنی میں دیا جانا چاہیے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 4 ہر شہری کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک، آرٹیکل 9 زندگی اور آزادی کے تحفظ، آرٹیکل 10A منصفانہ ٹرائل اور آرٹیکل 175(3) عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ رکھنے کے آئینی اصول سے متعلق ہے۔ ان ضمانتوں کا حقیقی تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر ججوں کو اپنے منصب پر برقرار رہنے اور اپنے آئینی حلف کے تقاضے پورے کرنے کے درمیان ناقابلِ قبول کشمکش محسوس ہو، تو یہ صرف انفرادی استعفوں کا معاملہ نہیں رہتا؛ یہ پورے نظام کے احتساب کا سوال بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ پاکستان میں آئین بالادست ہے یا طاقت؟ قانون حاکم ہے یا مصلحت؟ اور عدالتیں شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہیں یا ان کے تحفظ کے لیے خود کسی مؤثر آئینی راستے کی منتظر ہیں؟ عدلیہ کا جنازہ نکلنے سے پہلے عدلیہ کو بچانا ہوگا۔ آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ teapawt.net/azharsiddique/status/2…
کرسی بھی گئی، کیس بھی گئے، کمائی بھی گئی تو ضمیر جاگ اٹھا؟ محسن اختر کیانی صاحب! سوال یہ ہے کہ استعفیٰ اصولوں کی خاطر دیا یا حالات نے راستہ بدلنے پر مجبور کر دیا؟ 187.7 کروڑ روپے کے مبینہ اثاثوں اور SJC میں زیرِ بحث معاملات پر بھی عوام کو جواب ملنا چاہیے! صحت، عدلیہ کی آزادی اور آئینی ترامیم کی بحث اپنی جگہ، مگر استعفیٰ دینے سے سوالات ختم نہیں ہوتے، جواب دہی شروع ہوتی ہے! عوام کو جذباتی بیانیہ نہیں، حقائق چاہییں۔ اگر الزامات غلط ہیں تو دستاویزات کے ساتھ تردید کریں، اور اگر سوالات جائز ہیں تو جواب دیں۔ قانون سب کے لیے برابر ہے، عہدہ کسی کو احتساب سے بالاتر نہیں کرتا!
1
2
12
1,444
27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کا بحران — آئین، آزادیِ عدلیہ اور نظامِ انصاف پر سنگین سوالات! یہ محض ججوں کے استعفے نہیں، نظامِ انصاف کے لیے ایک کڑا سوال اور اربابِ اختیار کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے استعفوں نے پاکستان کے آئینی و عدالتی ڈھانچے، عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے نہایت سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس شمس محمود مرزا، جسٹس راحیل کامران شیخ اور جسٹس محسن اختر کیانی کے استعفے اس بحران کی سنگینی کو نمایاں کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر جج اپنے آئینی حلف، عدالتی خودمختاری اور نظامِ انصاف کے مستقبل کے حوالے سے سنگین تحفظات کے باعث مستعفی ہونے پر مجبور محسوس کریں تو اس صورتِ حال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ آمریت کے ادوار میں بھی پاکستان کی عدلیہ نے دباؤ، مداخلت اور آئینی بحرانوں کا سامنا کیا، لیکن آج کے حالات پر اٹھنے والے سوالات کو محض ماضی کے واقعات سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر عدلیہ کی آزادی محدود ہو، اختیارات کی تقسیم متاثر ہو اور شہریوں کا اعتماد متزلزل ہونے لگے تو یہ پورے آئینی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ آج سب سے بڑا سوال یہ ہے: موجودہ نظام کے خلاف عدلیہ کے کون سے بڑے، مؤثر اور اصولی فیصلے سامنے آئے ہیں؟ یہ سوال کسی ایک فیصلے یا جج کے بارے میں نہیں، بلکہ عدلیہ کی مجموعی آئینی ذمہ داری، ادارہ جاتی خودمختاری اور عوام کو مؤثر انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت کے بارے میں ہے۔ اس کا جواب جذباتی نعروں کے بجائے عدالتی فیصلوں، آئینی اصولوں اور عملی ریکارڈ کی روشنی میں دیا جانا چاہیے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 4 ہر شہری کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک، آرٹیکل 9 زندگی اور آزادی کے تحفظ، آرٹیکل 10A منصفانہ ٹرائل اور آرٹیکل 175(3) عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ رکھنے کے آئینی اصول سے متعلق ہے۔ ان ضمانتوں کا حقیقی تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر ججوں کو اپنے منصب پر برقرار رہنے اور اپنے آئینی حلف کے تقاضے پورے کرنے کے درمیان ناقابلِ قبول کشمکش محسوس ہو، تو یہ صرف انفرادی استعفوں کا معاملہ نہیں رہتا؛ یہ پورے نظام کے احتساب کا سوال بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ پاکستان میں آئین بالادست ہے یا طاقت؟ قانون حاکم ہے یا مصلحت؟ اور عدالتیں شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہیں یا ان کے تحفظ کے لیے خود کسی مؤثر آئینی راستے کی منتظر ہیں؟ عدلیہ کا جنازہ نکلنے سے پہلے عدلیہ کو بچانا ہوگا۔ آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ teapawt.net/azharsiddique/status/2…
نو سال قبل 2017 میں جسٹس محسن اختر کیانی کے حکم پر اسلام آباد پولیس نے میرے خلاف اغوا کا مقدمہ ایک جعلی آڈیو کی بنیاد پر درج کیا وقوعہ 2010 کا تھا مقدمہ 2017 میں درج کرایا گیا پولیس کی تحقیقات میں جھوٹ سامنے آگیا مقدمہ عدالت سے خارج ہو گیا مدعی بھی کبھی سامنے نہ آئے لیکن کچھ لوگ آج بھی اسی پرانے الزام کو دہرا رہے ہیں جس پر عدالت نے مجھے سنے بغیر خاموشی سے مقدمہ درج کرا دیا thenews.com.pk/print/253911-…
550
27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کا بحران — آئین، آزادیِ عدلیہ اور نظامِ انصاف پر سنگین سوالات! یہ محض ججوں کے استعفے نہیں، نظامِ انصاف کے لیے ایک کڑا سوال اور اربابِ اختیار کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے استعفوں نے پاکستان کے آئینی و عدالتی ڈھانچے، عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے نہایت سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس شمس محمود مرزا، جسٹس راحیل کامران شیخ اور جسٹس محسن اختر کیانی کے استعفے اس بحران کی سنگینی کو نمایاں کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر جج اپنے آئینی حلف، عدالتی خودمختاری اور نظامِ انصاف کے مستقبل کے حوالے سے سنگین تحفظات کے باعث مستعفی ہونے پر مجبور محسوس کریں تو اس صورتِ حال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ آمریت کے ادوار میں بھی پاکستان کی عدلیہ نے دباؤ، مداخلت اور آئینی بحرانوں کا سامنا کیا، لیکن آج کے حالات پر اٹھنے والے سوالات کو محض ماضی کے واقعات سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر عدلیہ کی آزادی محدود ہو، اختیارات کی تقسیم متاثر ہو اور شہریوں کا اعتماد متزلزل ہونے لگے تو یہ پورے آئینی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ آج سب سے بڑا سوال یہ ہے: موجودہ نظام کے خلاف عدلیہ کے کون سے بڑے، مؤثر اور اصولی فیصلے سامنے آئے ہیں؟ یہ سوال کسی ایک فیصلے یا جج کے بارے میں نہیں، بلکہ عدلیہ کی مجموعی آئینی ذمہ داری، ادارہ جاتی خودمختاری اور عوام کو مؤثر انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت کے بارے میں ہے۔ اس کا جواب جذباتی نعروں کے بجائے عدالتی فیصلوں، آئینی اصولوں اور عملی ریکارڈ کی روشنی میں دیا جانا چاہیے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 4 ہر شہری کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک، آرٹیکل 9 زندگی اور آزادی کے تحفظ، آرٹیکل 10A منصفانہ ٹرائل اور آرٹیکل 175(3) عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ رکھنے کے آئینی اصول سے متعلق ہے۔ ان ضمانتوں کا حقیقی تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر ججوں کو اپنے منصب پر برقرار رہنے اور اپنے آئینی حلف کے تقاضے پورے کرنے کے درمیان ناقابلِ قبول کشمکش محسوس ہو، تو یہ صرف انفرادی استعفوں کا معاملہ نہیں رہتا؛ یہ پورے نظام کے احتساب کا سوال بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ پاکستان میں آئین بالادست ہے یا طاقت؟ قانون حاکم ہے یا مصلحت؟ اور عدالتیں شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہیں یا ان کے تحفظ کے لیے خود کسی مؤثر آئینی راستے کی منتظر ہیں؟ عدلیہ کا جنازہ نکلنے سے پہلے عدلیہ کو بچانا ہوگا۔ آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ teapawt.net/azharsiddique/status/2…
جس نظام میں میرٹ کا معیار ریٹائرڈ، ایکسپائرڈ اور ایکسٹینشن شدہ افراد کی ترقیاں ہو، وہاں محسن اختر کیانی جیسے افراد کا استعفیٰ ہی بنتا ہے۔ محسن اختر کیانی کو اپنے فیصلوں کی بدولت ہمیشہ عزت و تکریم کے ساتھ یاد کیا جائے گا جبکہ اس نظام کا شمار تاریخ کے کوڑے دان میں ہوگا۔
1
4
509
M Azhar Siddique retweeted
میں آج پریس گیلری میں موجود تھا جب مولانا زبانی حملے کررہے تھے۔ خواجہ آصف کو 2002 سے پارلیمنٹ میں بڑے بڑے مقرریں کو اپنی شعلہ بیانی سے فکس کرتے دیکھتا آیا ہوں۔لیکن آج خواجہ آصف کو خاموش دیکھ کر1996ورلڈکپ بھارت کے خلاف کوارٹر فائنل میں عمران خان کا کمنٹری کرتے جملہ یاد آیا جب جاوید میانداد بیٹنگ کررہے تھے۔سب کو امید تھی شاید وہ 1986شارجہ ٹائپ معجزہ کر دکھائیں۔عمران خان نے کہا تھا نوجوان میانداد میچ جتوا سکتا تھا لیکن اس ڈھلتی عمر میں آج میچ جتوانا مشکل ہوگا اور وہی ہوا۔ بیس چوبیس سال پہلے کا نوجوان خواجہ آصف بھی یقینا مولانا کو وہی کرارا جواب دیتے جس کے لیے وہ مشہور ہیں لیکن عمر کےساتھ وہ اب “ویل لیفٹ “ پر یقین کرتے ہیں۔ تسی لنگھ جائو ساڈی خیر اے۔ ورنہ مولانا کی اس تقریر کا جواب خواجہ صاحب نہ دیں یہ ممکن نہ تھا۔لگتا ہے ہمارے خواجہ صاحب آخر گوتم بدھ کی طرح اپنا نروان پاچکے ہیں کہ تمام دکھ ہے۔ @KhawajaMAsif @KhSaad_Rafique @AyazSadiq122 @DrTariqFazal @MoulanaOfficial @CMShehbaz
مولانا فضل الرحمن نے آج ایک تیر سے تین شکار کیے~خواجہ آصف، اسحاق ڈار اور محسن نقوی ۔ پی ٹی آئی جو 2014 سے خواجہ آصف کے بارہ سال پرانے تاریخی جملے “کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے “ کا بوجھ اٹھائے پھر رہی تھی آج اس کا سکور اسی ہاوس میں مولانا نے برابر کر دیا۔جو ادھار پی ٹی آئی نہ چکا سکی تھی وہ مولانا نے چکا دیا اور خواجہ آصف بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے رہے۔
122
84
16
765
119,566
M Azhar Siddique retweeted
پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی اجلاس نو گھنٹے جاری رہا اجلاس میں محمود اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس اور سہیل آفریدی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا لیکن تحریک انصاف کی طرف سے سہیل آفریدی پر اعتماد کا اظہار حکومت کو بالکل اچھا نہیں لگا
8
153
3
1,186
23,546
27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کا بحران — آئین، آزادیِ عدلیہ اور نظامِ انصاف پر سنگین سوالات! یہ محض ججوں کے استعفے نہیں، نظامِ انصاف کے لیے ایک کڑا سوال اور اربابِ اختیار کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے استعفوں نے پاکستان کے آئینی و عدالتی ڈھانچے، عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے نہایت سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس شمس محمود مرزا، جسٹس راحیل کامران شیخ اور جسٹس محسن اختر کیانی کے استعفے اس بحران کی سنگینی کو نمایاں کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر جج اپنے آئینی حلف، عدالتی خودمختاری اور نظامِ انصاف کے مستقبل کے حوالے سے سنگین تحفظات کے باعث مستعفی ہونے پر مجبور محسوس کریں تو اس صورتِ حال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ آمریت کے ادوار میں بھی پاکستان کی عدلیہ نے دباؤ، مداخلت اور آئینی بحرانوں کا سامنا کیا، لیکن آج کے حالات پر اٹھنے والے سوالات کو محض ماضی کے واقعات سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر عدلیہ کی آزادی محدود ہو، اختیارات کی تقسیم متاثر ہو اور شہریوں کا اعتماد متزلزل ہونے لگے تو یہ پورے آئینی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ آج سب سے بڑا سوال یہ ہے: موجودہ نظام کے خلاف عدلیہ کے کون سے بڑے، مؤثر اور اصولی فیصلے سامنے آئے ہیں؟ یہ سوال کسی ایک فیصلے یا جج کے بارے میں نہیں، بلکہ عدلیہ کی مجموعی آئینی ذمہ داری، ادارہ جاتی خودمختاری اور عوام کو مؤثر انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت کے بارے میں ہے۔ اس کا جواب جذباتی نعروں کے بجائے عدالتی فیصلوں، آئینی اصولوں اور عملی ریکارڈ کی روشنی میں دیا جانا چاہیے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 4 ہر شہری کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک، آرٹیکل 9 زندگی اور آزادی کے تحفظ، آرٹیکل 10A منصفانہ ٹرائل اور آرٹیکل 175(3) عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ رکھنے کے آئینی اصول سے متعلق ہے۔ ان ضمانتوں کا حقیقی تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر ججوں کو اپنے منصب پر برقرار رہنے اور اپنے آئینی حلف کے تقاضے پورے کرنے کے درمیان ناقابلِ قبول کشمکش محسوس ہو، تو یہ صرف انفرادی استعفوں کا معاملہ نہیں رہتا؛ یہ پورے نظام کے احتساب کا سوال بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ پاکستان میں آئین بالادست ہے یا طاقت؟ قانون حاکم ہے یا مصلحت؟ اور عدالتیں شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہیں یا ان کے تحفظ کے لیے خود کسی مؤثر آئینی راستے کی منتظر ہیں؟ عدلیہ کا جنازہ نکلنے سے پہلے عدلیہ کو بچانا ہوگا۔ آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ teapawt.net/azharsiddique/status/2…
جسٹس محسن اختر کیانی صاحب نے استعقی دینے کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی لکھی کے ان کے خیال میں 26 اور 27 وی آئینی ترمیم سے ججز کی آزادی مجروح ہو گئ ہے🤦‍♂️ جج صاحب چاہتے تھے ، عدالتیں جسٹس ثاقب نثار ، جسٹس گلزار اور جسٹس کھوسہ والے ہائی جیکڈ عدالتی نظام سے چلائی جاتی رہتی تو عدلیہ آزاد تصور ہوتی ۔ جس نظام میں ہم خیال ججز ہم خیال بینچ اور من پسند فیصلوں کے لئے من پسند جج وغیرہ وغیرہ ہوتے تھے
2
423
27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کا بحران — آئین، آزادیِ عدلیہ اور نظامِ انصاف پر سنگین سوالات! یہ محض ججوں کے استعفے نہیں، نظامِ انصاف کے لیے ایک کڑا سوال اور اربابِ اختیار کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے استعفوں نے پاکستان کے آئینی و عدالتی ڈھانچے، عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے نہایت سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس شمس محمود مرزا، جسٹس راحیل کامران شیخ اور جسٹس محسن اختر کیانی کے استعفے اس بحران کی سنگینی کو نمایاں کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر جج اپنے آئینی حلف، عدالتی خودمختاری اور نظامِ انصاف کے مستقبل کے حوالے سے سنگین تحفظات کے باعث مستعفی ہونے پر مجبور محسوس کریں تو اس صورتِ حال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ آمریت کے ادوار میں بھی پاکستان کی عدلیہ نے دباؤ، مداخلت اور آئینی بحرانوں کا سامنا کیا، لیکن آج کے حالات پر اٹھنے والے سوالات کو محض ماضی کے واقعات سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر عدلیہ کی آزادی محدود ہو، اختیارات کی تقسیم متاثر ہو اور شہریوں کا اعتماد متزلزل ہونے لگے تو یہ پورے آئینی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ آج سب سے بڑا سوال یہ ہے: موجودہ نظام کے خلاف عدلیہ کے کون سے بڑے، مؤثر اور اصولی فیصلے سامنے آئے ہیں؟ یہ سوال کسی ایک فیصلے یا جج کے بارے میں نہیں، بلکہ عدلیہ کی مجموعی آئینی ذمہ داری، ادارہ جاتی خودمختاری اور عوام کو مؤثر انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت کے بارے میں ہے۔ اس کا جواب جذباتی نعروں کے بجائے عدالتی فیصلوں، آئینی اصولوں اور عملی ریکارڈ کی روشنی میں دیا جانا چاہیے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 4 ہر شہری کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک، آرٹیکل 9 زندگی اور آزادی کے تحفظ، آرٹیکل 10A منصفانہ ٹرائل اور آرٹیکل 175(3) عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ رکھنے کے آئینی اصول سے متعلق ہے۔ ان ضمانتوں کا حقیقی تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر ججوں کو اپنے منصب پر برقرار رہنے اور اپنے آئینی حلف کے تقاضے پورے کرنے کے درمیان ناقابلِ قبول کشمکش محسوس ہو، تو یہ صرف انفرادی استعفوں کا معاملہ نہیں رہتا؛ یہ پورے نظام کے احتساب کا سوال بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ پاکستان میں آئین بالادست ہے یا طاقت؟ قانون حاکم ہے یا مصلحت؟ اور عدالتیں شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہیں یا ان کے تحفظ کے لیے خود کسی مؤثر آئینی راستے کی منتظر ہیں؟ عدلیہ کا جنازہ نکلنے سے پہلے عدلیہ کو بچانا ہوگا۔ آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ teapawt.net/azharsiddique/status/2…
سچ کہو تو لوگ کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔ پاکستان میں وکلاء کی غالب اکثریت (سب نہیں)کے مزاج، رویے ، برتاؤ، تعلیمی قابلیت، ڈگریوں کے ایشوز، قانون کے آگے ان کی اپنی عاجزی کا احوال، سیاسی وابستگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خیال آتا ہے کہ واقعی یہ جج بنائے جانے والا میٹیریل ہیں؟
499
27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کا بحران — آئین، آزادیِ عدلیہ اور نظامِ انصاف پر سنگین سوالات! یہ محض ججوں کے استعفے نہیں، نظامِ انصاف کے لیے ایک کڑا سوال اور اربابِ اختیار کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے استعفوں نے پاکستان کے آئینی و عدالتی ڈھانچے، عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے نہایت سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس شمس محمود مرزا، جسٹس راحیل کامران شیخ اور جسٹس محسن اختر کیانی کے استعفے اس بحران کی سنگینی کو نمایاں کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر جج اپنے آئینی حلف، عدالتی خودمختاری اور نظامِ انصاف کے مستقبل کے حوالے سے سنگین تحفظات کے باعث مستعفی ہونے پر مجبور محسوس کریں تو اس صورتِ حال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ آمریت کے ادوار میں بھی پاکستان کی عدلیہ نے دباؤ، مداخلت اور آئینی بحرانوں کا سامنا کیا، لیکن آج کے حالات پر اٹھنے والے سوالات کو محض ماضی کے واقعات سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر عدلیہ کی آزادی محدود ہو، اختیارات کی تقسیم متاثر ہو اور شہریوں کا اعتماد متزلزل ہونے لگے تو یہ پورے آئینی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ آج سب سے بڑا سوال یہ ہے: موجودہ نظام کے خلاف عدلیہ کے کون سے بڑے، مؤثر اور اصولی فیصلے سامنے آئے ہیں؟ یہ سوال کسی ایک فیصلے یا جج کے بارے میں نہیں، بلکہ عدلیہ کی مجموعی آئینی ذمہ داری، ادارہ جاتی خودمختاری اور عوام کو مؤثر انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت کے بارے میں ہے۔ اس کا جواب جذباتی نعروں کے بجائے عدالتی فیصلوں، آئینی اصولوں اور عملی ریکارڈ کی روشنی میں دیا جانا چاہیے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 4 ہر شہری کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک، آرٹیکل 9 زندگی اور آزادی کے تحفظ، آرٹیکل 10A منصفانہ ٹرائل اور آرٹیکل 175(3) عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ رکھنے کے آئینی اصول سے متعلق ہے۔ ان ضمانتوں کا حقیقی تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر ججوں کو اپنے منصب پر برقرار رہنے اور اپنے آئینی حلف کے تقاضے پورے کرنے کے درمیان ناقابلِ قبول کشمکش محسوس ہو، تو یہ صرف انفرادی استعفوں کا معاملہ نہیں رہتا؛ یہ پورے نظام کے احتساب کا سوال بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ پاکستان میں آئین بالادست ہے یا طاقت؟ قانون حاکم ہے یا مصلحت؟ اور عدالتیں شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہیں یا ان کے تحفظ کے لیے خود کسی مؤثر آئینی راستے کی منتظر ہیں؟ عدلیہ کا جنازہ نکلنے سے پہلے عدلیہ کو بچانا ہوگا۔ آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ teapawt.net/azharsiddique/status/2…
کسی ایک بھی بھی ائینی ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات لینے سے انکار نہیں کیا
5
505