Pinned Tweet
وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ ۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ﴾
اور (مومنو)مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں خدا ان سے بےخبر ہے۔وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی
Baba G retweeted
ارمانڈو جونز ، یاوو ، جوزفینا ، کیویا ، کنگ مو ، منہہ تونگ ، ڈنگ نوگوین ، ڈیوڈ جونئیر اور اتی تن جنگ آئی ایس پی آر کے لیے شدید افسردہ ہیں۔ یہ ہوتی ہے اصل عالمی پذیرائی۔
Baba G retweeted
The mindset of an average Pakistani Army soldier. No wonder the old allegations about former DG ISI Lt. Gen. Faiz Hameed being shot by his wife keep resurfacing.
Baba G retweeted
💚ڈاکٹر شہباز گل پی ٹی آئی کی قیادت میں سے واحد اور طاقتور آواز ہیں.۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں۔
😂اور سارے ٹاؤٹ مل کر اُن کے خلاف چیخ رہے ہیں
😢مجھے بہت افسوس ہے کہ میں کیوں @MuzzammilAslam3 کو فولو کرتی تھی
👈خیر غلطیاں تو ہو جاتی ہے
@SHABAZGIL
Baba G retweeted
سیالکوٹ میں رکشہ ڈرائیور کو2 ہزار کے چالان پر نہر میں کود کر خودکشی کر لی...
یہ حال کر دیا ہے پنجاب کا۔۔
Baba G retweeted
🚨🚨 سینیٹر بن سکتا تھا مشیر بن سکتا تھا ڈیل پر خود ساختہ پوش ہو سکتا تھا ٹرانسفرنگ پوسٹنگ لوٹ مار کر سکتا تھا پارٹی پالیسی کے پیچھے چھپ سکتا تھا--
مگر سب کچھ داؤ پر لگا کر جب کبھی عمران خان پر وار کیا جاتا ہے شہباز گل ڈھال بند کر کھڑا ہو جاتا ہے❤️
Baba G retweeted
ڈاکٹر شہباز گِل کی ہر بات سے اتفاق ضروری نہیں، ان کے اندازِ گفتگو سے بھی اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اوورسیز میں رہتے ہوئے عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے سب سے توانا اور مؤثر آواز انہی کی ہے وہ مسلسل عمران خان کے حق میں آواز بلند کر اور پارٹی کے بیانیے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور ان سوالات کو سامنے لا رہے ہیں جو عام کارکنوں کے دلوں میں عرصے سے موجود ہیں۔ موجودہ رجیم کو ان کی آواز سے کتنی تکلیف ہے، یہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔بلکہ اس رجیم کی ہر دو نمبری اور جھوٹ کو سب سے زیادہ ایکسپوز بھی ڈاکٹر شہباز گل نے ہی کیا ہے
ذرا حالات پر غور کریں۔ پہلے لانگ مارچ عمران خان کی رہائی کے لیے نکالنے کی بات ہوتی تھی، پھر نوبت یہاں تک پہنچی کہ عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج کے لیے لانگ مارچ کی ضرورت پیش آئی۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگ چکی ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور صوبائی صدر جنید اکبر حبس بیجا میں ہیں ، صوبائی حکومت بھی ہاتھ سے نکل گئی، لیکن ایسا تاثر ملتا ہے جیسے سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہو۔ آخر یہ سب کچھ کب تک نظرانداز کیا جاتا رہے گا؟
آج عام کارکن پوچھ رہا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر جدوجہد کہاں ہے؟ ان کی صحت، علاج اور ملاقات کے لیے عملی کوششیں کہاں نظر آ رہی ہیں؟ خیبر پختونخوا میں جو حالات پیدا ہوئے، ان پر کارکنوں کے خدشات اور سوالات کا جواب کون دے گا؟ یہ سوالات کسی ایک شخص کے نہیں، ان تمام کارکنوں کے ہیں جو آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، مشکلات برداشت کر رہے ہیں اور اپنی قیادت سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر شہباز گِل انہی کارکنوں کے جذبات کو الفاظ دے رہے ہیں۔ وہ وہی باتیں سامنے لا رہے ہیں جو عام کارکن اپنے حلقوں میں، اپنی محفلوں میں اور آپس کی گفتگو میں کرتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ ان سوالات کو کھل کر بیان کر رہے ہیں۔
اور یاد رکھیے، تنقید کرنے والے کو خاموش کر دینے سے مسئلہ ختم نہیں ہوتا
اگر ہم اپنی کمزوریوں کو تسلیم نہیں کریں گے اپنی غلطیوں کا خود احتساب نہیں کریں گے اور ہر مشکل صورتِ حال کو نظرانداز کرکے مفاہمت کا راستہ اختیار کرتے رہیں گے، تو بہتری کیسے آئے گی؟ آج کے حالات ہمیں واضح پیغام دے رہے ہیں کہ مسائل سے آنکھیں چرانے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈاکٹر شہباز گِل کے سوالات پر تنقید کے بجائے ان پر غور کیا جائے۔ اگر ان کی تنقید میں کوئی بات غلط ہے تو دلیل کے ساتھ واضح کریں، لیکن اگر وہ کسی حقیقی کمزوری اور دو نمبری کی نشاندہی کر رہے ہیں تو بلکل ٹھیک کر رہے ہیں
ڈاکٹر شہباز گِل صاحب! آپ اپنا مؤقف پیش کرتے رہیے اور کارکنوں کے سوالات کو زبان دیتے رہیے۔ اختلافات اپنی جگہ، لیکن سچ بولنے اور سوال اٹھانے کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔
کیونکہ تحریکیں صرف خاموشی، مصلحت اور ہر چیز کو درست قرار دینے سے مضبوط نہیں ہوتیں۔ تحریکیں خود احتسابی، سچائی اور اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرکے انہیں دور کرنے سے مضبوط ہوتی ہیں۔
اور جو لوگ ڈاکٹر شہباز گِل کی تنقید سے اختلاف رکھتے ہیں، ان سے صرف اتنی گزارش ہے: ان کے انداز پر بات کرنے سے پہلے ان سوالات کا جواب دیجیے جو آج لاکھوں کارکنوں کے دلوں میں موجود ہیں۔
@SHABAZGIL




















