بلوچستان میں کہیں بھی دہشتگردوں کی نقل و حرکت محفوظ نہیں ہے،ہر جگہ وہ نگرانی میں آجاتے ہیں اور پھر جب کارروائی ہوتی ہے تو فرار کی کوشش کرتے ہیں جو ناکام ہوجاتی ہے اور مارے جاتے ہیں۔
گوادر کے عوام نے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے سوشل میڈیا مواد سازی کی منصوبہ بندی کو بھی ناکام بنادیا ہے۔
معمول سے ہٹ کر عوام باہر نکلے ہیں،معمولات زندگی رواں دواں ہیں،کہیں دہشتگردوں کا ڈر نظر نہیں آرہا۔
تربت سے تعلق رکھنے والی اس خاتون نے پریس کانفرنس کرکے بتایا ہے کہ اُس کا بھائی تعلیم کے حصول کے لئے گھر سے گیا تھا لیکن بعد میں لاپتہ ہوگیا،پھر پتہ چلا کہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں شامل ہوچکا ہے۔
بی ایل اے ایسے ہی بلوچ نوجوانوں کو نشے پر لگاکر گمراہ کرکے بلوچ شناخت کو داغدار کررہی ہے،اُن کی نسل کو تباہی کے دہانے پر لیکر جارہی ہے،لیکن خوش آئند امر یہ ہے کہ بلوچ عوام اس کے خلاف اب باقاعدہ کھڑے ہوچکے ہیں۔
بلوچستان کا پاکستان سے الحاق کیسے ہوا؟تینوں ریاستوں نے بغیر کسی ملٹری ایکشن کے الحاق نامے پر دستخط کیے،کسی قسم کی دھمکی بھی نہیں دی گئی،خان آف قلات تو اپنی سوانح حیات میں لکھ کر گئے ہیں کہ وہ قائداعظم کو سونے میں توُلتے تھے،معروف تاریخ دان حسن جعفری کی زبانی
بی ایل اے کے کارندے جہاں بھی چھپے ہوتے ہیں سیکیورٹی فورسز کے پاس ایسی ٹیکنالوجی اور وسائل ہیں کہ انہیں تلاش کرلیتے ہیں،مستونگ میں خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا گیا جہاں بی ایل اے کا خفیہ ٹھکانہ تباہ کردیا گیا اور 3 کارندوں کو ہلاک کردیا گیا
آپ پنجگور کے اس بچے کی گفتگو سنیں آپ کی روح کانپ اٹھے گی۔
نابالغ بچوں کو ٹک ٹاک سے بی ایل اے نے ورغلایا،اپنے پاس پہاڑوں پر لیکر گئے،جنسی استحصال کیا گیا،بلیک میل کیا گیا،خود کش،چوری ڈکیتی پر مجبور کیا گیا۔
یہ ہے بی ایل اے کا اصل چہرہ جو بلوچ حقوق کے نام پر بلوچ شناخت اور نسل کی دھجیاں اڑارہے ہیں۔
بلیدہ کا سلمان نشے کا عادی تھا،بی ایل اے ایسے شکار تلاش کرتی ہے،سلمان کو بھی بی ایل اے نے شارٹ لسٹ کیا اور آہستہ آہستہ اپنے چُنگل میں پھنسایا،نشے کا مزید عادی بنایا اور اب پہاڑوں پر لے گئے ہیں۔
جیسے ہی کسی بلوچ نوجوان کو گمراہ کرکے پہاڑوں پر لیکر جاتے ہیں دوسری جانب بی وائے سی جیسے پلیٹ فارمز سے لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کرکے پروپیگنڈہ شروع کردیا جاتا ہے۔
لیکن آج تربت پریس کلب میں سلمان کے والد نے بتایا ہے کہ اُس کے بیٹے کو بلوچ شناخت کے دشمن گمراہ کرکے پہاڑوں پر لے گئے ہیں،میرا اب اُس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
گوادر میں بی ایل ایف کے حملوں کو ناکام بنانے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشن مکمل کرلیا،10 دہشتگرد ہلاک۔
کل رات گوادر میں گبد بارڈر کراسنگ اور گوادر شہر کے مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی کوشش کی گئی
عوامی مقامات،املاک کو نقصان پہنچایا گیا،آگ لگائی گئی،گاڑیاں جلائی گئیں،ایک مقامی بلوچ شہری کو بھی شہید کردیا۔
سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں ایک خاتون خودکش حملہ آور جو دھماکہ کرنے میں ناکام رہی اُس سمیت 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے،تاہم سیکیورٹی فورسز کا کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
مقامی بلوچ عمائدین نے کہا ہے کہ حملے میں بی ایل ایف کی جانب سے بلوچ خاتون کو زبردستی استعمال کرنا بلوچ خواتین کی حرمت پر حملہ اور اُن کا کھلم کھلا استحصال ہے۔
🚨گوادر سمیت بلوچستان کے مختلف حصوں سے والدین نے اپنی بچیوں کے لاپتہ ہونے کی رپورٹس درج کرائی تھیں،کل گوادر حملے میں بی ایل ایف نے خود سامنے آنے کی بجائے خواتین کو سامنے کیا،ویڈیوز میں ایک دو لڑکیوں کو بندوق کیساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔
یہ وہی لڑکیاں ہیں جن کے والدین نے رپورٹس درج کرائی تھیں کہ ان کی بیٹیاں ذہنی تناؤ کا شکار تھیں،الجھن کا شکار تھیں،انہیں کسی قسم کی بلیک میلنگ کا سامنا تھا یا پھر وہ کسی پروپیگنڈے کا شکار ہوچکی تھیں۔
بی وائی سی کے زیادہ تر اجتماع گوادر میں ہوتے تھے،کوئٹہ چھوڑ کر گوادر میں دھرنے دیے جاتے تھے،آج اُن دھرنوں کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بلوچ بچیاں استحصال سہہ کر بندوق پکڑ کر بی ایل ایف جیسے گروہ کی معاونت کررہی ہیں
گوادر میں بی ایل ایف کے حملے کو ناکام بنانے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشن میں مزید 7 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا ہے۔
بی ایل ایف نے کل گوادر میں دو چار حملہ آور بھجوائے،جنہیں سیکیورٹی فورسز نے موقع پر ہلاک کردیا،جبکہ دوسری جانب افغانستان میں کسی نامعلوم مقام پرپروپیگنڈے اور سوشل میڈیا کے لئے مواد سازی کی گئی۔
کسی خالی کمپاؤنڈ میں ویڈیو شوٹنگ کی گئی،یہ کیسا مقابلہ چل رہا ہے جس میں دوسری جانب سے فائرنگ ہی نہیں ہورہی؟کوئی جوابی فائرنگ ہی نہیں کررہا؟
اپڈیٹ
دہشتگردوں نے کُل 4 مقامات پر حملہ کیا جسے ناکام بنادیا گیا،حملے میں بارود سے بھری گاڑی بھی استعمال کی گئی لیکن دہشتگرد کسی ایک بھی ٹارگٹ پر کامیاب نہ ہوسکے۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق تین سے زائد دہشتگرد مارے گئے۔
البتہ بلوچ مزدوروں اور ٹرک ڈرائیوروں کا نقصان ضرور کرکے فرار ہوئے ہیں دو مزدوروں اور ایک ٹرک ڈرائیور کو شہید کرگئے ہیں اور ان کے ٹرک جلادیے
آج جیوانی میں بی ایل ایف کے کارندوں نے بلوچ املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جسے ناکام بنادیا گیا ہے،بی ایل ایف کے تین کارندے ہلاک کردیے گئے ہیں
یہ کنٹینر بلوچ عوام کی روزمرہ ضرورت کی اشیاء کی ترسیل کرتے ہیں،بی ایل اے کے کارندے گن پوائنٹ پر اِن کنٹینرز کو روک کر لوٹ مار کررہے ہیں
بلوچستان کے ضلع واشک میں سیکیورٹی فورسز نے مقامی آبادی کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور اغواء برائے تاوان کی کارروائیوں میں ملوث بی ایل اے کے کارندے کو ہلاک کردیا۔
بی ایل اے نے جھل مگسی میں سرکاری اسکول کے ملازم کو اغواء کیا،تاوان مانگا،عدم عدائیگی پر قتل کردیا۔
بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں اغوا ہونے والے سرکاری اسکول کے ملازم کو پر تاوان ادا نہ کرنے پر قتل کردیا گیا۔
بی ایل اے نے سرکاری اسکول کے ملازم عبدالرشید کی رہائی کے بدلے تاوان طلب کیا تھا، تاہم تاوان کی عدم ادائیگی پر 22 اکتوبر کی صبح تقریباً 7 بجے انہیں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔
بلوچستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے،یہاں ایک ضلع تک جانے میں 10 گھنٹے لگ جاتے ہیں،خضدار میں دھماکہ ہوا،ڈپٹی کمشنر کو وہاں پہچنے میں 9 گھنٹے لگے،اچھی بات یہ ہے کہ کم از کم بحث شروع ہوگئی کہ پاکستان میں گورننس کے ماڈلز کی تشکیل نو ہونی چاہیے،وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی
سیکیورٹی فورسز نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کی چمن سرحد سے دراندازی ناکام بنادی ہے،ڈرون کے ذریعے نگرانی کی گئی،6 ٹی ٹی پی کارندے ہلاک ہوگئے۔
سیکیورٹی فورسز کی گزشتہ 48 گھنٹوں میں دوسری بڑی کامیابی!
خضدار میں ماربل فیکٹری کے اغواء کیے گئے 24 مقامی مزدوروں کو بازیاب کرالیا گیا۔
اس سے قبل مستونگ میں پولیس اہلکاروں کو بھی بازیاب کرایا گیا تھا۔
مولانا ہدایت الرحمان بتارہے ہیں کہ میں 1300 بلوچ بچوں کی کفالت کرتا ہوں جن میں سے 1000 ہزار بچوں کے تعلیمی اخراجات میرے پنجاب کے بھائی ادا کرتے ہیں۔
لیکن مولانا ہدایت الرحمان نے خیربخش مری،سردار عطاءاللہ مینگل،اکبر بگٹی کی اولاد سے سوال کیا کہ آپ نے اپنے باپ دادا کے نام پر کوئی ایک ہسپتال یا تعلیمی اداروں کیوں نہیں بنایا ؟
اِس ایک سوال پر مولانا ہدایت الرحمان پر مخصوص ایجنڈے پر تعینات سوشل میڈیا ٹرولز نے انہیں گالیاں دیں۔









