Mir Bugti retweeted
فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیمیں کم سن لڑکوں کو کیوں بھرتی کرتی ہیں؟
کیا یہ کم سن نوجوانوں کو کسی روحانی مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں؟
یا انہیں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کا جسمانی وسیلہ بناتے ہیں؟
#viralreelsシ #viralpost #Balochistan #BalochistanRejectsTerrorism
Mir Bugti retweeted
صحافی حماد حسن کی خبر درست ثابت ھوئی بنوں میں پولیس اور امن کمیٹی والوں نے خوارج کے خلاف ملکر مقابلہ کرنے کا اعلان کر دیا ھے یقین کریں باجوڑ ،بنوں لکی مروت میں لوگ ایسے ھی سیکورٹی فورسز کا ساتھ دیں خوارج کی اطلاع دیں تو دو چار ہفتوں میں ان سب کا صفایا ھو جائے گا کھانے پینے کی چیزیں خوارج افغانستان سے اپنے ساتھ تو لیکر نہیں آتے سب کچھ مقامی طور پر ھی حاصل کرتے ہیں مقامی لوگوں کو انکے ٹھکانوں کا اچھی طرح علم ھوتا
تحریک انصاف کی حکومت خوارج کی حمایتی ھے خوارج خلاف پولیس کو کاروائی کرنے سے روکتی ھے اُسکا نتیجہ اب یہ نکلا ھے کہ سنئیر صحافی حسن خان کے مطابق مطابق پولیس نے بنوں اور لکی مروت میں اپنی کمیٹیاں بنائی ہیں اور یہ فیصلہ کیا ھے کہ جہاں بھی خوارج کی اطلاع ملے گی پولیس بنا کسی کی اجازت کے انکے خلاف کارروائی کرے گی پولیس والا وردی میں ھو یا بنا وری کے ھو اسے خوارج کو شُف شُف کرنے کا اختیار حاصل ھو گا
Mir Bugti retweeted
گزشتہ روز پاکستان نے امریکہ، ایران، سعودیہ اور خلیج کے دیگر ممالک سمیت چین اور روس سے دن میں تین مرتبہ رابطے کئے.
رابطوں کی پہلی قسط صبح سویر سے لیکر تقریباً دس بجے تک جاری رہی
دوسری قسط شام کو تقریباً چھ بجے سے لیکر رات 9:30 بجے تک
اور آخری رابطے 11 بج کر 45 منٹ پر شروع ہوئے جو صبح 4 بجے تک جاری رہے
ان روابط میں وزیر اعظم پاکستان، وزیر خارجہ اور چیف آف ڈیفنس فورسز براہ راست مشغول تھے
جبکہ وزارت خارجہ، راولپنڈی میں موجود سینئر ملٹری قیادت اور کئی خاموش مجاہد (مارخور) خاموشی لیکن انتہائی ذمہ داری اور رازداری سے اس سارے عمل کا حصہ رہے.
سب کی محنتوں کو اللہ تعالیٰ پاکستان، خطے اور امت کے حق میں بہتر فرمائے
Mir Bugti retweeted
حکومتِ بلوچستان کا شاندار اقدام‼️‼️
2024 میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان @PakSarfrazbugti نے دہشت گردی کے خلاف ایک صوبائی ایکشن پلان پیش کیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے صوبے کی تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی اپنی ذمہ داریاں خود انجام دیں اور سیکیورٹی معاملات کو صرف مسلح افواج کے حوالے نہ کریں۔
وزیرِ اعلیٰ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے صوبائی محکموں نے تاریخی کارکردگی دکھائی اور 1000 سے زائد دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور منشیات فروشوں کو چوتھے شیڈول میں شامل کیا گیا، جبکہ اس سے پہلے یہ تعداد زیادہ سے زیادہ 300 ہوتی تھی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہائی کورٹ نے ان میں سے کسی ایک کیس کو بھی خارج نہیں کیا، جو ان مقدمات کی پیشہ ورانہ مہارت اور مضبوط بنیادوں کا واضح ثبوت ہے۔
Mir Bugti retweeted
پاکستان کی سفارتی پختگی کا واضح اعتراف
جے ڈی وینس اور قلباف اور کی جانب سے پاکستان کا بیک وقت ذکر محض رسمی سفارتی جملہ نہیں، بلکہ پاکستان کی سفارتی صلاحیت، سنجیدہ قیادت اور معاملہ فہمی کا اعتراف۔
ایران عدم اعتماد کے ماحول کے ساتھ مذاکرات میں آیا، جبکہ امریکہ دباؤ اور کشیدگی کے پس منظر میں شامل ہوا۔ دونوں فریق محتاط تھے، لیکن اس کے باوجود: پاکستان کا کھلے عام اعتراف کیا گیا
پاکستان کی سہولت کاری کو سراہا گیا
مذاکرات کے تسلسل میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا گیا
یہ صرف غیرجانبداری پر اعتماد نہیں یہ پاکستان کی سفارتی قابلیت پر یقین ہے۔
اس صورتحال سے ہوتا ہے کہ پاکستان نہ صرف حساس مذاکرات سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ مخالف کیمپوں کے درمیان بھی اپنی ساکھ برقرار رکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
یہ سفارتی پختگی قیادت کی سطح پر بھی نظر آئی:
سیاسی قیادت جس نے مکالمے کا ماحول بنایا
اور تزویراتی اعتماد کی بنیاد بنی
سفارتی رابطہ کاری اور تسلسل
ایک مکمل ریاستی اپروچ تھی جہاں سیاست، تزویراتی اقدام اور سفارت ایک صفحے پر نظر آئے۔
پاکستان کی کامیابی کی وجہ صرف ثالثی نہیں بلکہ دونوں فریقوں کے خدشات، دباؤ اور علاقائی حقیقتوں کی سمجھ تھی۔
عام طور پر ایسے مذاکرات میں ثالث پر سوال اٹھتے ہیں، اعتماد کمزور ہوتا ہے، اور عمل رک جاتا ہے۔ لیکن یہاں:
ایران نے بھی پاکستان کو سراہا
امریکہ نے بھی پاکستان کو تسلیم کیا اور مذاکرات جاری رہے
یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے جہاں مخالف فریق ایک ہی ثالث پر متفق ہوں۔
پاکستان صرف ایک ثالث نہیں بلکہ ایک سنجیدہ، قابلِ اعتماد اور باوقار سفارتی کردار کے طور پر سامنے آیا ہے۔
اور یہ اعتراف دونوں جانب سے آیا ہے، جو حقیقی سفارتی کامیابی کی علامت ہے۔
Mir Bugti retweeted
عمران کا ہیرو وہ مجیب ہے جو اگرتلہ سے پاکستان کا غدار ہوا، بنگلہ دیش بننے کے بعد اسے اسکے ہی لوگوں نے اہلخانہ سمیت قتل کردیا
اور آج نئی نسل اس پر پیشاب کررہی ہے
#NationHatesImranNiazi
#nation_spits_ذہنی_مریض
Mir Bugti retweeted
طالبان انٹیلیجنس کے لیے ایک بڑا دھچکا ۔
کابل: این آر ایف کا طالبان انٹیلیجنس ہیڈکوارٹر پر حملہ، 15 طالبان ہلاک؛
حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے این آر ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ افغانستان کو طالبان کے قبضے سے آزاد کروانے تک حملے جاری رکھے گی
Mir Bugti retweeted
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
کا فرمان مبارک ہے
دشمن سے ملی ہوئی سرحدوں پر ایک دن اور رات پہرہ دینا ایک ماہ کے روزوں اور قیام اللیل سے بہتر ہے.
صحیح مسلم
⚔️🇵🇰⚔️
Mir Bugti retweeted
#HappyWomensDay
پاکستان کی لیڈی آفیسرز میڈل پریڈ میں دوسرے ممالک کی افسران کے شانہ بشانہ وقار، حوصلہ اور پیشہ ورانہ مہارت کی روشن مثال۔
یہ منظر صرف ایک تقریب نہیں بلکہ عزم، محنت اور قومی وقار کی ترجمانی ہے۔ ہمارے وطن کی بیٹیاں عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتی ہوئی، اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتی نظر آتی ہیں۔ ان کے قدموں کی مضبوطی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی خواتین کسی سے کم نہیں۔
یہ پریڈ صرف تمغوں کی نمائش نہیں، بلکہ قربانی، ذمہ داری اور ڈیوٹی سے غیرمتزلزل وابستگی کا اظہار ہے۔ سبز ہلالی پرچم کی نمائندگی کرتے ہوئے جب ہماری لیڈی آفیسرز عالمی برادری کے درمیان کھڑی ہوتی ہیں تو پورا پاکستان فخر سے سر بلند کر لیتا ہے۔
Mir Bugti retweeted
🚨بریکنگ نیوز
بلیدہ میناز میں دہشت گرد تنظیم بی ایل اے نے مقامی بلوچ گلوکار طالب نزیر کو صرف اس لیے قتل کر دیا کہ اس نے پاکستان کے حق میں ایک نغمہ گایا تھا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اسے دھمکیاں دی گئیں کہ نغمہ حذف کرے اور بی ایل اے کے لیے جاسوسی کرے۔ طالب نزیر نے دباؤ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے مؤقف پر قائم رہا۔ اسی جرات کی پاداش میں اسے قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ بی ایل اے بلوچ عوام کی نمائندہ نہیں بلکہ ان کی آواز دبانے والی ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ بلوچستان کے محبِ وطن لوگوں کو خوف اور تشدد سے خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔
#Balochistan
Mir Bugti retweeted
غازی کیپٹن آشان، زخـمـی ہونے کے باوجود فرنٹ لائن پر بے خوف کھڑے رہے اور دشمن کے پوسٹ پر پاکستان کا پرچم لہرایا. وہ زخمی تھا، مگر پھر بھی کئی خوارجیوں کو ہلاک کر دیا۔ ایسے بہادر بیٹے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے۔ 🇵🇰💚
#Pakistan
#Saudiarab
Mir Bugti retweeted
صرف تین گھنٹے میں انڈیا اور ایک رات میں پانچ ہزار سالہ تاریخ والوں کی تاریخ سیدھی کرنے والے جوانوں کو
دنیا پاک فوج کے نام سے جانتی ہے
⚔️🇵🇰⚔️
Mir Bugti retweeted
Pakistani forces struke Afghan posts at Tarkhobi Camp and BP-14, resulted in killing 5 Afghan Taliban soldiers.
Mir Bugti retweeted
🚨 نیوز الرٹ
آج صبح خاران میں افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مسلح افراد نے یونیورسٹی کیمپس کے سامنے فائرنگ کر کے پروفیسر دلاور بلوچ کو شہید کر دیا، جبکہ پروفیسر بلال گچکی شدید زخمی ہوگئے۔
زخمی پروفیسر کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں تعلیمی اداروں اور علمی شخصیات کو نشانہ بنا کر معاشرے کے مستقبل پر حملہ کرتی ہیں۔ اساتذہ کسی بھی قوم کا فکری سرمایہ ہوتے ہیں؛ ان پر حملہ دراصل تعلیم، شعور اور ترقی پر حملہ ہے۔
بی ایل اے کی کارروائیاں ماضی میں بھی عام شہریوں، مزدوروں، اساتذہ اور طلبہ کو نشانہ بناتی رہی ہیں، جس سے یہ سوال مزید گہرا ہوتا ہے کہ ایسی حکمتِ عملی کس طرح بلوچ معاشرے کے مفاد میں ہو سکتی ہے؟ اگر کسی تنظیم کے اقدامات سے عام بلوچ شہری، طلبہ اور خواتین عدم تحفظ کا شکار ہوں تو اس بیانیے کا تنقیدی جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
مزید افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بعض حلقوں میں اس تنظیم کو رومانوی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جبکہ زمینی حقائق میں خون، خوف اور تعلیمی تباہی نظر آتی ہے۔ میڈیا اور رائے ساز طبقات کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی مسلح گروہ کے بارے میں رپورٹنگ کرتے وقت حقائق، انسانی جانوں کے تحفظ اور معاشرتی ذمہ داری کو مقدم رکھیں۔
تعلیم دشمنی کسی بھی قوم کو اندھیرے میں دھکیل دیتی ہے۔ بلوچستان کی ترقی اسلحے سے نہیں بلکہ کتاب، قلم اور مکالمے سے ممکن ہے۔ ایسے واقعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ معاشرہ متحد ہو کر اساتذہ، طلبہ اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے آواز بلند کرے، تاکہ خوف کے سائے ختم ہوں اور علم کا چراغ بجھنے نہ پائے۔
Mir Bugti retweeted
🚨🚨🚨
کوئٹہ میں کالعدم بی ایل اے کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے نائب تحصیلدار شیر دل ابڑو کی شہادت صرف ایک شخص کا قتل نہیں بلکہ ریاست اور معاشرے کے خلاف ایک اور سنگین دہشتگردی ہے۔
یہ وہی عناصر ہیں جنہیں بعض نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار “آزادی کے جنگجو” قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ آزادی کی نہیں بلکہ خوف، دہشت اور انسانی نسل کشی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
بی ایل اے جیسے گروہ نہ صرف سرکاری ملازمین اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں بلکہ معصوم لوگوں کے قتل، اغوا اور ظلم کی ایسی داستانیں چھوڑ جاتے ہیں جنہیں سن کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
بوڑھے اور ضعیف افراد کو گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے، نوجوانوں کو ان کی ماؤں کے سامنے قتل کیا جاتا ہے، اور معصوم خاندانوں کو خوف کے سائے میں زندہ رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان اور بیرونِ ملک موجود بعض نام نہاد انسانی حقوق کے ٹھیکیدار اس سفاکیت پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
جو لوگ ہر معمولی واقعے پر انسانی حقوق کے لیکچر دیتے ہیں، وہ بلوچ عوام کے قتل پر کیوں خاموش ہیں؟
اسی طرح فیمنزم کے علمبردار بھی اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے نظر نہیں آتے، حالانکہ دہشتگردی کا سب سے زیادہ بوجھ عورتوں، بچوں اور خاندانوں پر ہی پڑتا ہے۔
یہ خاموشی صرف ایک سوال پیدا کرتی ہے:
کیا انسانی حقوق کا معیار صرف مخصوص سیاسی بیانیوں تک محدود ہے؟
کیا ایک سرکاری ملازم یا عام بلوچ شہری کی جان کی کوئی قیمت نہیں؟
نائب تحصیلدار شیر دل ابڑو کی شہادت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ دہشتگردی کو کسی بھی نام سے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ جنگ آزادی کی نہیں بلکہ پاکستان اور بلوچستان کے عام انسان کے خلاف جنگ ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ سچ کو سچ کہا جائے اور دہشتگردی کو کسی بھی نظریاتی یا سیاسی لبادے میں چھپانے کی اجازت نہ دی جائے۔
📢
@OfficialDGISPR
@GovtofPakistan
@CMShehbaz
@jyebhutto
@HRCP87

























