جنگیں صرف مشکلات لاتی ہیں۔
وصی نامہ۔۔
آج پاکستانی تجویز پر تہران میں چار ملکی اجلاس ہوا، فیلڈ مارشل عاصم منیر ، سعودی وزیر دفاع پرنس خالد بن سلمان ، ترک انٹیلی جنس چیف ابراہیم کالن شریک ہوئے ۔ اجلاس کی سربراہی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونس سے سیکرٹری بریگیڈیر جنرل محسن رضائی
1/6
وزارت دفاع کو اجازت دے دی کہ اگر سعودی عرب کو ضرورت ہو تو اس کے دفاع کے لیے فوجی دستے فراہم کیے جائے گے۔۔
درحقیقت یہ جنگ ہمیں لے دے بیٹھی ہے ، انرجی کی قیمتوں کو آگ لگی ہوئی ہے، ہمارے چابو آئی ایم ایف سے الگ پریشان اور سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں کوئی کسر باقی تھی
5/6
بڑے فیصلے ہونے جا رھے ہیں۔۔
تہران میں ایران کی میزبانی میں چار ملکی اجلاس ۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی، سعودی وزیر دفاع، ترکیہ انٹیلیجنس سربراہ اور ایرانی وزیر خارجہ و دیگر حکام شریک ۔۔
خطے میں پائیدار امن کے حوالے سے اہم فیصلے ہوںے جا رھے ہیں۔
کیسی کیسی آڈیو لیک ہو رہی ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آتا چل کیا رہا ھے۔ ایک طبقہ اس کال کو فیک بول رہا ھے جبکہ کچھ لوگ بول رھے یہ فیک نہیں ھے۔
اب اللہ ہی بہتر جانتا ھے
جسکو نمک حراموں کی زیادہ فکر ھے وہ افغانستان چلا جائے لیکن میری حکومت سے ریکوئسٹ ھے کہ افغان بارڈر کسی صورت نہیں کھلنا چاہیے۔ ہم تو مینیج کر لیں گے اور کر رھے ہیں۔ لیکن افغانستان مینیج نہیں کر پائے گا۔ اس کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ھے۔ ایک تو افغانستان کے تاجر
1/3
حضرات کا افغان حکومت پر پریشر بڑھتا جا رہا ھے۔ افغانی عوام بھی اپنی ہی حکومت کے خلاف کھڑی ہو رہی ھے۔
افغانستان کے لوگ پاکستان علاج کے لئے آتے ہیں وہ بھی مکمل بند کریں ہر طرح کا تعاون بلکل ختم کر دیں۔ ایسا کرنے کے بعد ہی ان نمک حراموں کو ہوش آئے گی۔ جو مال ہمیں اور پاکستان
2/3
کے راستے دیگر ممالک کو بھیجا جاتا تھا۔ پاک، افغان بارڈر بند ہونے کے بعد افغانی تاجروں کو وہی مال دوسرے ممالک کو بھیجنے کے لیے تین گنا کرایہ اور وقت بھی بہت زیادہ لگ رہا ھے۔۔
یہ سلسلہ مکمل طور پر بند رکھنا چاہیے ہم
اپنی افواج اور اپنے عوام کی لاشوں پر کھڑے ہو کر پیسہ نہیں کمانا چاہتے۔
ہمیں ہر شے سے مقدم اپنے افواج اور عوام کی زندگیاں ہیں۔۔
3/3
جہاں کرپشن ہو وہاں مولانہ کے خاندان کا نام۔
جہاں پرمٹ کی بات ہو وہاں مولانہ کا اپنا نام۔
جہاں وزارتوں کا مسئلہ ہو وہاں مولانہ کا نام۔
پختونخوا کے گورنر کی بات ہو وہاں مولانہ کا نام۔
آخر مولانہ اور انکے خاندان کا پیٹ کیوں نہیں بھرتا؟؟
یہ کب سدھرے گے؟؟
#ڈیزل_کا_خاندان_چور
حسد اور جلن بہت خطرناک چیز ھے
ڈسکہ کی رہائشی زہرہ قدیر کی یہ دل دہلا دینے والی کہانی ہے یہ سال 2024 کاواقعہ ہے۔ زہرہ ایک نیک سیرت خاتون تھیں جن کی عادت تھی کہ وہ روزانہ متعدد بار اپنے والد اور بیرون ملک سعودی عرب میں مقیم شوہر سے فون پر بات کر کے ان کی خیریت معلوم کرتی
1/11
ٹکڑے ملے، جن کا پوسٹ مارٹم کروانے کے بعد باقیات والد شبیر احمد کے سپرد کی گئیں۔۔
وہ المناک منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب زہرہ کے مسخ شدہ جسم کے ٹکڑوں کو غسل دینے والی خواتین کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی پوری
10/11







