Human Rights Council of Pakistan @HRCPakistan is Non Government, Non Political & Non Profitable (registered) Org. Chairman @Jamshed_hrc

Pakistan
Joined May 2020
یومِ تاسیس آزاد جموں و کشمیر — 24 اکتوبر ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) کی جانب سے کشمیری عوام کو یومِ تاسیس مبارک۔ چیئرمین جمشید حسین کا پیغام ہے کہ آزادی کا حقیقی ثمر انسانی وقار، انصاف اور بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ ہم کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ مسئلۂ جموں و کشمیر کا پُرامن اور منصفانہ حل اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ آزاد کشمیر میں بھی آزادیٔ اظہار، تعلیم، صحت اور انصاف تک مساوی رسائی یقینی بنائی جائے۔ کشمیری عوام کے حقوق، وقار اور پُرامن مستقبل کے لیے یکجہتی۔ #HRCPakistan #AJKFoundationDay #Kashmir #HumanRights
455
عالمی یومِ پولیو — 24 اکتوبر ہر بچے کا حق ہے: صحت مند زندگی اور پولیو سے محفوظ مستقبل۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان والدین سے اپیل کرتی ہے کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہر پولیو مہم میں حفاظتی قطرے ضرور پلوائیں اور معمول کی ویکسینیشن مکمل کروائیں۔ پولیو ورکرز کے ساتھ تعاون کریں؛ ان کی سلامتی اور عزت کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ آئیے، مل کر پولیو سے پاک پاکستان بنائیں! #WorldPolioDay #EndPolio #HRCPPakistan #ChildRights
3
504
Four Years Without Justice — 23rd October 2022 to 23rd October 2026 On 23rd October 2022, my whole world was taken away from me. My husband, journalist Arshad Sharif, was extra-judicially killed in Kenya, far from home, far from us. Since then, I have lived four years in courtrooms and corridors, carrying his files as if I am carrying his coffin all over again. I faced worst harassment online and hardships on ground. In Kenya: On 8th July 2024, the Kajiado High Court finally said the truth Justice Stella Mutuku ruled that Arshad's killing was unconstitutional, arbitrary, and a violation of his Right to Life under Article 26. She ordered action against the officers who killed him. But in June 2026, Kenya's Supreme Court broke my heart again. A 5-judge bench reaffirmed that his right to life was violated, yet dismissed our appeal seeking prosecution of those officers. They said they cannot compel the Director of Public Prosecutions to prosecute. So today: No officer has been arrested. No apology has been given. As I said that day a declaration without accountability is not justice. In Pakistan: On 3rd February 2026, Pakistan's Federal Constitutional Court closed the suo motu case that began in December 2022. Court wrote that no further judicial oversight is needed because an MLA agreement has been signed between Pakistan and Kenya and investigations are taking "due course." Due course? It has been four years. Four years, two Supreme Courts, two Nations, two Governments and still: No arrests. No charges. No justice. Former UN Special Rapporteur on Freedom of Expression, Ms. Irene Khan, had the courage to take cognizance of Arshad's extrajudicial killing. I now humbly request the new Special Rapporteur, Mr. Leopoldo Maldonado Gutiérrez, please don't let this case be forgotten. Please continue to look into his case, to ensure justice and accountability for freedom of expression. Arshad is gone. But I am still here, asking the same question. Javeria Siddique Journalist and Columnist IFJ Gender Coordinator for Asia Pacific Wife of Shaheed Arshad Sharif
5
147
3
428
3,437
صحافت جرم نہیں—ارشد شریف کے لیے انصاف انسانی حقوق کا سوال ہے ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے چیئرمین جمشید حسین نے ارشد شریف کی چوتھی برسی کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقِ زندگی، آزادیٔ اظہار اور انصاف تک رسائی ہر انسان کے بنیادی حقوق ہیں۔ کسی صحافی کا قتل ان حقوق پر حملہ ہے اور معاشرے کے سچ جاننے کے حق کو بھی مجروح کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوال پوچھنا، حقائق سامنے لانا اور طاقتور حلقوں کا احتساب کرنا صحافت کی ذمہ داری ہے۔ صحافت جرم نہیں، اختلافِ رائے دشمنی نہیں، اور کسی صحافی کی آواز بند کرنے کے لیے دھمکی، جلاوطنی یا تشدد کا استعمال ناقابلِ قبول ہے۔ جمشید حسین نے کہا کہ اس سانحے کا انتہائی دردناک پہلو یہ ہے کہ ارشد شریف کی والدہ رفعت آرا علوی اپنے بیٹے کے لیے انصاف کی جدوجہد کرتے ہوئے اکتوبر 2025 میں دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ وہ اپنی زندگی میں بیٹے کے قتل پر انصاف ہوتا نہ دیکھ سکیں۔ ’’ایک ماں بیٹے کے قتل کا حساب مانگتے مانگتے دنیا سے چلی گئی۔ اس کی فریاد ہمارے نظامِ انصاف کے ضمیر پر ایک سوال چھوڑ گئی ہے۔ کسی اور ماں کی زندگی انصاف کے انتظار میں ختم نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق پاکستان اور کینیا میں قانونی جدوجہد کرتی رہیں اور پاکستان میں محدود سماعتوں اور مقدمے کی سست روی پر اپنی مایوسی بھی بیان کی۔ متاثرہ خاندان کو برسوں غیر یقینی میں رکھنا اس کے دکھ کو مزید گہرا کرتا ہے۔ فروری 2026 میں وفاقی آئینی عدالت نے جاری تحقیقات کی عدالتی نگرانی کو قانونی طور پر نامناسب قرار دیتے ہوئے ازخود نوٹس کی کارروائی نمٹا دی تھی۔ کونسل سمجھتی ہے کہ اس کے باوجود ریاست کی مؤثر تحقیقات اور خاندان کو انصاف تک رسائی فراہم کرنے کی ذمہ داری برقرار ہے۔ قانونی کارروائی کا مقصد متاثرہ خاندان کو مؤثر داد رسی دینا ہونا چاہیے؛ برسوں کی بے نتیجہ پیش رفت عوام کے اعتماد کو کمزور کرتی ہے۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ پاکستان اور کینیا کے حکام شفاف تحقیقات، شواہد کے تحفظ اور مؤثر قانونی تعاون کے ذریعے تمام ذمہ داروں کا تعین کریں اور انہیں منصفانہ عدالتی کارروائی کے تحت جواب دہ ٹھہرائیں۔ خاندان کو پیش رفت سے باقاعدہ آگاہ رکھا جائے اور صحافیوں کے خلاف دھمکیوں اور تشدد کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ’’ارشد شریف کے لیے انصاف ایک خاندان کا مطالبہ بھی ہے اور ہر اس صحافی کے تحفظ کا سوال بھی، جو عوام تک سچ پہنچانے کے لیے کام کرتا ہے۔ صحافیوں کی جان محفوظ ہوگی تو معاشرے کا حقِ آگاہی محفوظ ہوگا @javerias @jamshed_hrc #JusticeForArshadSharif #JournalismIsNotACrime #HRCPPakistan #HumanRights #PressFreedom #EndImpunity
8
162
2
336
3,197
وسیم عباس کو انصاف دو! ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے چیئرمین جمشید حسین نے ملتان میں 15 سالہ وسیم عباس کو کام چھوڑنے پر مبینہ طور پر گاڑی تلے کچل کر قتل کیے جانے کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کم عمر بچے کی زندگی کا اس طرح چھن جانا انتہائی دل دہلا دینے والا سانحہ ہے۔ غربت کسی بچے کی عزت، آزادی اور زندگی چھیننے کا جواز نہیں بن سکتی۔ ہنر سکھانے یا روزگار دینے کے نام پر بچوں پر جبر اور تشدد ناقابلِ قبول ہے۔ ہم پنجاب حکومت اور ملتان پولیس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کیے جائیں، شفاف اور غیر جانب دار تفتیش یقینی بنائی جائے اور جرم ثابت ہونے پر ذمہ دار کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ اہلِ خانہ کو قانونی معاونت اور تحفظ فراہم کیا جائے، جبکہ کم عمر کارکنوں کے استحصال کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں اور آنکھوں میں خواب ہونے چاہییں، خوف نہیں۔ جمشید حسین @jamshed_hrc چیئرمین، ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان #JusticeForWaseemAbbas #HRCPPakistan #ChildProtection #Multan @OfficialShehr
33
261
8
536
6,496
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی حراست اور ان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ ان کے حفاظتی تحویل میں ہونے کی اطلاعات اور بازیابی کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہونے کے بعد حکومت کی ذمہ داری ہے کہ صورتحال پوری طرح واضح کرے۔ کونسل حکومت اور متعلقہ حکام سے سوال کرتی ہے: سہیل آفریدی اس وقت کہاں ہیں، کس ادارے کی تحویل میں ہیں اور انہیں کس قانونی بنیاد پر رکھا گیا ہے؟ اگر وہ زیرِ حراست ہیں تو انہیں عدالت کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا جا رہا؟ ان کی سلامتی، اہلخانہ سے رابطے اور وکیل تک رسائی کے بارے میں واضح معلومات کیوں فراہم نہیں کی جا رہیں؟ کسی صوبے کے سابق وزیراعلیٰ کی موجودگی اور قانونی حیثیت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر سنگین تشویش پیدا کر سکتی ہے۔ جب ایک نمایاں عوامی نمائندے کے حوالے سے ایسے سوالات جواب طلب ہوں تو عام شہری اپنے تحفظ کے بارے میں کیا اطمینان رکھے؟ ’’حفاظتی تحویل‘‘ کی اصطلاح عدالتی نگرانی، شفافیت اور جواب دہی کی ضرورت ختم نہیں کرتی۔ سیاسی اختلاف کسی بھی شخص کو بنیادی حقوق سے محروم کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ سہیل آفریدی کی موجودگی، صحت اور حراست کی قانونی بنیاد فوری طور پر واضح کی جائے، انہیں بلا تاخیر مجاز عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور اہلخانہ و وکلا سے ملاقات یقینی بنائی جائے۔ اگر ان کی حراست کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تو انہیں فوری رہا کیا جائے۔ عوام کو خاموشی نہیں، واضح جواب چاہیے۔ ہر شہری کی آزادی، عزت اور سلامتی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ترجمان ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) #HRCPakistan #SohailAfridi #HumanRights #RuleOfLaw
50
1,432
26
3,022
32,515
عالمی یومِ انسدادِ غربت — 17 اکتوبر 2026 ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) کے چیئرمین جمشید حسین نے عالمی یومِ انسدادِ غربت کے موقع پر کہا ہے کہ غربت صرف آمدن کی کمی نہیں؛ یہ لوگوں کو مناسب رہائش، خوراک، تعلیم، صحت، باعزت روزگار اور بنیادی تحفظ سے محروم کر دیتی ہے۔ غربت کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ پالیسیوں کے مرکز میں لوگوں کی عزت، حقوق اور ضروریات رکھی جائیں۔ ورلڈ بینک کی اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی 47.9 فیصد آبادی 2024–25 میں کم متوسط آمدنی والے ممالک کے لیے مقررہ روزانہ 4.20 بین الاقوامی ڈالر (PPP) کی غربت کی حد سے نیچے تھی۔ رپورٹ میں انتہائی غربت کی 3 ڈالر روزانہ والی حد کے تحت شرح 23 فیصد بتائی گئی ہے۔ یہ بین الاقوامی پیمانے ہیں؛ پاکستان کی قومی غربت کی لکیر کے مطابق حکومت کا تخمینہ 28.9 فیصد ہے۔ ان شرحوں کا فرق مختلف غربت کی لکیروں اور پیمائش کے طریقوں کی وجہ سے ہے۔ عالمی بینک نے بتایا ہے کہ 2018–19 سے 2024–25 کے دوران 4.20 ڈالر والی حد پر غربت کی شرح 44.7 فیصد سے بڑھ کر 47.9 فیصد ہوئی۔ اسی عرصے میں حقیقی اجرتوں میں کمی، آبادی کے بڑے حصے کی حقیقی کھپت میں نقصان اور آمدنی کے عدم مساوات میں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد غربت کے خاتمے کے لیے فوری اور مستقل اقدامات کی ضرورت واضح کرتے ہیں۔ HRCPakistan مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے مؤثر سماجی تحفظ یقینی بنائے، روزگار کے مواقع اور منصفانہ اجرتیں بڑھائے، بنیادی تعلیم و صحت تک رسائی بہتر کرے، اور مہنگائی و قدرتی آفات سے متاثرہ خاندانوں کے لیے بروقت مدد فراہم کرے۔ محفوظ اور باعزت رہائش بھی غربت کے خاتمے کی کوششوں کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔ اقوامِ متحدہ نے 2026 کے عالمی دن کے لیے “سب کے لیے محفوظ گھر” کا موضوع رکھا ہے، جو امن اور انسانی حقوق کے وسیع تر موضوع “امن اور انسانی حقوق کے لیے متحد” سے جڑا ہے۔ ہر شخص کو محفوظ گھر اور باعزت زندگی کا حق حاصل ہے؛ غربت کے خاتمے کے لیے یہ حق عملی طور پر یقینی بنانا ہوگا۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) جمشید حسین، چیئرمین #عالمی_یوم_انسداد_غربت #غربت_کا_خاتمہ #پاکستان #محفوظ_گھر_سب_کے_لیے #انسانی_حقوق #EndPoverty #PovertyInPakistan #SafeHomesForAll #HRCPakistan #17October
5
15
705
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں 29 افراد کو ایک سول ڈیفنس احاطے میں رکھے جانے کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق 3 اکتوبر کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے عدالت کی ہدایت پر کارروائی کرتے ہوئے شیر زمان اور 28 دیگر افراد کو وہاں سے بازیاب کیا۔ بازیاب افراد میں ایک خاتون بھی شامل تھیں، جنہیں مردوں کے ساتھ رکھا گیا تھا اور موقع پر کوئی خاتون پولیس اہلکار یا خاتون عملے کی رکن موجود نہیں تھی۔ مجسٹریٹ کی رپورٹ کے مطابق متعلقہ مقام ایس آئی یو یا اے وی سی سی کا باقاعدہ یا نوٹیفائیڈ حراستی مرکز نہیں تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ موقع پر موجود اہلکار ابتدائی طور پر گرفتاری یا حراست کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کر سکے۔ بعد ازاں ایس آئی یو کے ایس ایچ او نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ افراد کو ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 54 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا اور ریکارڈ بھی جمع کرایا۔ درخواست گزار کی جانب سے مزید کارروائی نہ کرنے پر عدالت نے درخواست نمٹا دی۔ ان مختلف پیش رفتوں کی روشنی میں ضروری ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی غیر جانب دارانہ جانچ ہو۔ HRCPakistan سندھ حکومت کی جانب سے انکوائری کمیٹی بنانے کے اقدام کا نوٹس لیتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ کمیٹی بازیاب افراد کے بیانات، گرفتاری کے ریکارڈ، روزنامچہ اندراجات، طبی معائنے اور متعلقہ اہلکاروں کے کردار کی مکمل جانچ کرے۔ تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جائے کہ حراست کے دوران کسی شخص کے ساتھ بدسلوکی یا تشدد تو نہیں ہوا، اور خاتون کی حفاظت و ضروری طبی سہولتوں کا انتظام کیوں موجود نہیں تھا۔ بازیاب افراد اور شکایت کنندگان کو دباؤ یا انتقامی کارروائی سے تحفظ دیا جائے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ہر گرفتاری اور حراست قانونی طریقۂ کار کے مطابق، قابلِ تصدیق ریکارڈ کے ساتھ اور انسانی وقار کا احترام کرتے ہوئے ہو۔ اگر تحقیقات میں کسی اہلکار کی جانب سے قانون شکنی ثابت ہو تو اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، اور انکوائری کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan)
5
6
741
بھارت میں اقلیتوں کے خلاف امتیاز اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے رجحان پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ اس پس منظر کو بیان میں شامل کردیا ہے۔ مذہبی نفرت اور تقسیم انسانی وقار اور آزادیٔ صحافت کے لیے سنگین خطرہ ہے ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) بھارت میں مسلمان خواتین صحافیوں کے خلاف مبینہ تشدد، دھمکیوں، آن لائن ہراسانی اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ دہلی کی صحافی بہنوں شاہین خان اور نفیسہ خان کی جانب سے پولیس پر تشدد، مذہبی تضحیک اور بار بار مانگنے کے باوجود پانی نہ دینے کے الزامات انتہائی سنگین ہیں۔ پولیس نے تشدد اور مذہبی بنیاد پر نشانہ بنانے کی تردید کی ہے؛ اس لیے آزادانہ تحقیقات اور متعلقہ شواہد کا تحفظ ناگزیر ہے۔ کونسل سمجھتی ہے کہ اس معاملے کو بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی تقسیم اور اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت کے وسیع تناظر میں بھی دیکھنا ضروری ہے۔ مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ، امتیازی سلوک اور خوف کا ماحول انتہائی تشویش ناک ہے۔ ایسے رویوں پر مؤثر کارروائی نہ ہونا تعصب کو تقویت دیتا اور شہریوں کا ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور کرتا ہے۔ کسی شہری کا نام، لباس یا مذہب اس کے حقوق کم کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ خواتین صحافیوں کو بیک وقت صنفی اور مذہبی تعصب کا سامنا ہو تو ان کی سلامتی، روزگار اور آزادانہ رپورٹنگ سب متاثر ہوتے ہیں۔ یہ صورتِ حال عوام کے حقِ معلومات کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ پانی مانگنے والے انسان سے اس کا مذہب نہیں پوچھا جاتا۔ انسانی عزت اور بنیادی ضروریات تک رسائی ہر شخص کا حق ہے۔ ہم بھارتی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ صحافیوں کے الزامات کی غیر جانب دار تحقیقات کرائی جائیں، سی سی ٹی وی اور طبی شواہد محفوظ کیے جائیں، اور الزامات ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ہو۔ اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور تشدد پر اکسانے والوں کا احتساب کیا جائے، جبکہ متاثرہ صحافیوں کو تحفظ اور انصاف دیا جائے۔ جمہوریت کی ساکھ اسی وقت قائم رہتی ہے جب اقلیتیں محفوظ ہوں، صحافی بلاخوف سوال کرسکیں اور قانون ہر شہری کو یکساں تحفظ دے۔ ترجمان ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) #HRCPakistan #PressFreedom #ProtectJournalists #MinorityRights #StopReligiousDiscrimination #HumanRights
1
4
13
798
حنا جاوید قتل کیس: اہلخانہ کے تحفظات دور کیے جائیں، آزادانہ تحقیقات یقینی بنائی جائیں ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) حنا جاوید قتل کیس میں اہلخانہ کی جانب سے تفتیش پر عدم اعتماد اور مبینہ شواہد سے چھیڑ چھاڑ کے الزامات پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ بی بی سی اُردو کے مطابق تفتیشی ٹیم نے مقتولہ کے شوہر کو بے گناہ اور گھریلو ملازم کو مرکزی ملزم قرار دیا ہے، جبکہ اہلخانہ نے تفتیش کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ تفتیشی ٹیم کا مؤقف ہے کہ اس نے دستیاب شواہد اور ڈی این اے رپورٹس کی بنیاد پر تحقیقات کی ہیں۔ کونسل مطالبہ کرتی ہے کہ موجودہ تفتیش سے الگ، غیر جانب دار اور بااختیار ٹیم کے ذریعے ان الزامات کی جانچ کرائی جائے۔ تمام فرانزک شواہد، ڈی این اے نمونے، میڈیکل رپورٹس اور متعلقہ ریکارڈ محفوظ کیے جائیں، اور شواہد جمع کرنے، محفوظ رکھنے اور منتقل کرنے کے عمل کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔ اہلخانہ کو قانون کے مطابق تفتیش کی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے اور ان کے تحفظات کا شواہد کی بنیاد پر جواب دیا جائے۔ کسی شخص کا سماجی مقام یا پیشہ اسے رعایت دینے کی بنیاد نہیں بن سکتا، اور کسی ملزم کی ذمہ داری بھی قابلِ اعتماد شواہد اور منصفانہ عدالتی کارروائی کے ذریعے ہی طے ہونی چاہیے۔ حنا جاوید کے لیے انصاف، شفاف تفتیش اور جواب دہی سے ہی ممکن ہے۔ ترجمان ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان #JusticeForHinaJaved #HRCPakistan #WomenRights #FairInvestigation #JusticeForWomen
4
11
26
1,684
بچے تعلیم حاصل کرنے گئے تھے، اپنی جانیں گنوانے نہیں! ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے معصوم بچوں اور ایک استاد کے جاں بحق ہونے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتی ہے۔ یہ قومی المیہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ پورے معاشرے کا دکھ ہے۔ کونسل سوال کرتی ہے کہ اسکول کی عمارت کتنی محفوظ تھی؟ آخری مرتبہ اس کا معائنہ کب ہوا؟ کیا عمارت کی مضبوطی کا مستند سرٹیفکیٹ موجود تھا؟ اسکول کی رجسٹریشن اور تجدید کرتے وقت متعلقہ حکام نے کن بنیادوں پر اطمینان کیا؟ تعلیم کے نام پر فیسیں وصول کرنے والے اداروں پر بچوں کی جان، سلامتی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ جہاں تعلیم کو محض منافع کمانے کا کاروبار بنا کر حفاظتی تقاضے نظرانداز کیے جائیں، وہاں اسکول انتظامیہ کے ساتھ نگرانی کرنے والے اداروں سے بھی جواب طلب ہونا چاہیے۔ رہائشی یا غیر تجارتی عمارت میں اسکول قائم ہونے کی صورت میں متعلقہ اجازت، عمارت کی تعلیمی استعمال کے لیے موزونیت، طلبہ کی گنجائش اور ہنگامی انخلا کے انتظامات کی جانچ ضروری ہے۔ اس واقعے میں بھی ان تمام امور کا ریکارڈ سامنے لایا جائے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ: • آزادانہ تکنیکی تحقیقات کرکے رپورٹ اور آخری معائنے کا ریکارڈ عوام کے سامنے رکھا جائے، اور ثابت شدہ غفلت کے ذمہ دار مالکان، انتظامیہ یا متعلقہ اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی ہو۔ • ملک بھر میں سرکاری و نجی اسکولوں اور ٹیوشن سینٹرز کی عمارتوں کا مقررہ مدت میں حفاظتی معائنہ کیا جائے۔ غیر محفوظ عمارتوں میں تدریس روک کر بچوں کے لیے محفوظ متبادل فراہم کیے جائیں۔ • ہر اسکول میں مضبوط عمارت، محفوظ بجلی، صاف پانی، بیت الخلا، ہوا و روشنی، آگ سے تحفظ اور ہنگامی راستوں کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ • زخمیوں کا مکمل علاج، متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت اور زندہ بچ جانے والے بچوں کو نفسیاتی مدد فراہم کی جائے۔ تعزیتی بیانات کے بعد خاموشی اختیار کرنا قابلِ قبول نہیں۔ والدین اپنے بچے اسکولوں کے سپرد کرتے ہیں؛ ان بچوں کو بحفاظت گھر واپس پہنچانا ایک بنیادی ذمہ داری ہے۔ ترجمان ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) #HRCPakistan #Peshawar #SchoolSafety #ChildRights #SafeSchools #RightToEducation @fkkundi @GovtofKPK
4
41
93
1,334
حجاب کا انتخاب خواتین کا حق ہے، تعلیم سے محرومی کا جواز نہیں ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) آذربائیجان کے تعلیمی اداروں میں حجاب سے متعلق پابندیوں اور طالبات و خواتین اساتذہ کو داخلے سے روکے جانے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ کونسل کا مؤقف ہے کہ ریاست کا سیکولر تشخص مذہبی آزادی، خواتین کے وقار اور ان کے لباس کے آزادانہ انتخاب کے احترام کے ساتھ برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اپنی مرضی سے حجاب پہننے والی کسی طالبہ یا استانی کو تعلیم یا روزگار سے محروم کرنا قابلِ قبول نہیں۔ خواتین پر حجاب مسلط کرنا اور انہیں زبردستی حجاب اتارنے پر مجبور کرنا، دونوں ان کے اختیار اور شخصی آزادی کے منافی ہیں۔ بیرونی اثرورسوخ یا سلامتی سے متعلق خدشات کا جواب شواہد اور منصفانہ قانونی کارروائی سے دیا جانا چاہیے؛ محض مذہبی لباس کو خطرے کی علامت قرار دینا امتیازی رویوں کو تقویت دے سکتا ہے۔ ہم آذربائیجان کے حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حجاب کی بنیاد پر تعلیمی رسائی یا تدریسی خدمات میں رکاوٹ ڈالنے والی پابندیوں پر نظرثانی کریں، متاثرہ طالبات اور اساتذہ کی واپسی یقینی بنائیں، اور پُرامن احتجاج و اظہارِ رائے کے حق کا احترام کریں۔ ترجمان ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) #HRCPakistan #Azerbaijan #ReligiousFreedom #RightToEducation #WomensRights
8
41
892
دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) جیو نیوز کی رپورٹ میں سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، جنید اکبر اور دیگر رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں لینے کی تفصیلات پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکار سہیل آفریدی کے کمرے کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے اور انہیں تحویل میں لیا۔ اگر یہ اطلاع درست ہے تو یہ انتہائی افسوسناک اقدام ہے، جس کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں۔ حکومت واضح کرے کہ دروازہ توڑنے اور اس انداز میں کارروائی کرنے کی ضرورت اور قانونی بنیاد کیا تھی؟ کسی شخص کو ہتھکڑی نہ لگانا یا عام گاڑی میں منتقل کرنا اس کی آزادی محدود کرنے کا جواز نہیں بنتا۔ انسانی وقار، شخصی آزادی اور قانونی تحفظ ہر شہری کا حق ہیں۔ کونسل مطالبہ کرتی ہے کہ دروازہ توڑ کر داخل ہونے کے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں، تمام زیرِ تحویل افراد کی حراست کی قانونی بنیاد واضح کی جائے اور اہلِ خانہ، وکلا اور عدالت تک رسائی یقینی بنائی جائے۔ قانونی جواز کے بغیر زیرِ تحویل افراد کو فوری رہا کیا جائے۔ سیاسی بحران کا حل بامقصد مذاکرات اور قانون کی پاسداری ہے۔ ترجمان ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان #HRCPakistan #HumanRights #SohailAfridi #KhyberPakhtunkhwa #RuleOfLaw
44
771
13
1,644
69,598
مسافروں کی جانوں کا حساب کون دے گا؟ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) 13 اکتوبر کو کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کے شیر شاہ، ملتان کے قریب حادثے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ دستیاب میڈیا رپورٹس میں 5 سے 7 مسافروں کی اموات اور تقریباً 47 سے 50 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ہم سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔ میڈیا میں سامنے آنے والی ابتدائی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دوسری کوچ کے نیچے لٹکتا ہوا آہنی پرزہ ریلوے کراسنگ میں پھنس گیا، جس کے بعد بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ یہ ابتدائی نتیجہ ہے؛ غفلت اور انفرادی ذمہ داری کا حتمی تعین مکمل تحقیقات سے ہوگا۔ تاہم یہ سنگین سوال ضرور پیدا ہوتا ہے: کوچ کی روانگی سے پہلے جانچ کس نے کی؟ آخری مرمت کب ہوئی؟ کیا کوئی خرابی پہلے رپورٹ ہوئی تھی؟ اور حفاظتی معائنے میں ایسی خامی کیوں سامنے نہ آ سکی؟ ریلوے انتظامیہ کو باور کراتے ہیں کہ مسافروں کی جان و سلامتی اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ٹکٹ خریدنے والا ہر شہری محفوظ سفر کا حق رکھتا ہے۔ تعزیتی بیانات اور تحقیقات کے اعلانات کے ساتھ عملی جواب دہی بھی ضروری ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں: • مقررہ مدت میں شفاف تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ عوام کے سامنے رکھی جائے۔ • کوچ کی مرمت، حفاظتی جانچ اور سفر کے دوران معائنے کا مکمل ریکارڈ محفوظ کرکے جانچا جائے۔ • غفلت ثابت ہونے پر متعلقہ اہلکاروں اور نگران افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ • زخمیوں کا مکمل علاج، ضرورت کے مطابق بحالی اور متاثرہ خاندانوں کو بروقت معاوضہ فراہم کیا جائے۔ • تمام مسافر ٹرینوں کی کوچز اور حفاظتی نظام کا فوری تکنیکی معائنہ کیا جائے اور غیر محفوظ کوچز کو درست ہونے تک سروس سے ہٹایا جائے۔ • جاں بحق اور زخمی افراد کی مصدقہ تعداد جاری کی جائے، تاکہ خاندانوں کو درست معلومات مل سکیں۔ انسانی جان کی قیمت محض معاوضہ نہیں؛ حقیقی انصاف ذمہ داری کے تعین اور آئندہ حادثات کی روک تھام سے ملے گا۔ ترجمان ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان HRCPakistan #HRCPakistan #RehmanBabaExpress #PakistanRailways #RailwaySafety #Multan #HumanRights #Accountability
5
36
1
89
2,058
بھوک اور افلاس کے سائے میں پانچ زندگیاں خاموش ہوگئیں کراچی کے بن قاسم میں دو کم سن بچیوں سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی المناک موت پر ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) گہرے دکھ کا اظہار کرتی ہے۔ ابتدائی رپورٹس میں خاندان کی شدید مالی تنگی اور بے روزگاری کا ذکر سامنے آیا ہے؛ اموات کی حتمی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔ اگر ایک خاندان بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی محروم تھا تو یہ ہمارے سماجی تحفظ کے نظام اور حکومتی ترجیحات پر سنگین سوال ہے۔ روٹی، روزگار اور باوقار زندگی ہر انسان کا حق ہے۔ کسی گھر کی فاقہ کشی کو محض اس کا ذاتی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہم سندھ حکومت سے شفاف تحقیقات، متاثرہ لواحقین کی فوری مدد اور ضرورت مند خاندانوں تک خوراک، مالی امداد اور ذہنی صحت کی سہولتیں پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مدد ایسے سانحات سے پہلے پہنچنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔ #HRCPakistan #انسانی_حقوق #غربت #بھوک #کراچی #سماجی_تحفظ
4
29
48
1,448
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان، خیبر پختونخوا، باڑہ، ضلع خیبر میں پاکستان تحریکِ انصاف کے پُرامن احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے مبینہ ہوائی فائرنگ کی شدید مذمت کرتی ہے۔ صوبے میں ایمرجنسی، گورنر راج اور دفعہ 144 کے نفاذ کے موجودہ حالات میں شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ مزید اہم ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 16 پُرامن اجتماع کا حق تسلیم کرتا ہے۔ امن و امان کے نام پر غیر ضروری طاقت کا استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ سرکاری اسلحہ عوام کے تحفظ کے لیے ہے، نہ کہ انہیں خوف زدہ کرنے کے لیے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور مظاہرین کی جان و سلامتی یقینی بنائی جائے۔ اختلافِ رائے کا جواب طاقت نہیں بلکہ مکالمہ اور قانون کی بالادستی ہونا چاہیے۔ ترجمان ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان #HumanRights #HRCP #KhyberPakhtunkhwa #Bara #KhyberDistrict #RightToProtest #FreedomOfAssembly #RuleOfLaw #HumanDignity #PeacefulProtest
29
575
10
1,176
20,124
ہیومن رائٹس کونسل پاکستان کو کوئٹہ کے قریب پاک فوج کے مشاق تربیتی طیارے کے حادثے میں میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور کیپٹن عبدالصمد کی شہادت پر گہرا دکھ اور افسوس ہے۔ کونسل دونوں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔ فرائض کی انجام دہی کے دوران ان افسران کی شہادت ایک المناک نقصان ہے؛ ہم ان کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ کونسل حادثے کی جامع تحقیقات اور تربیتی پروازوں میں حفاظتی انتظامات مزید مؤثر بنانے پر زور دیتی ہے، تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔ ہیومن رائٹس کونسل پاکستان #HRCPakistan #PakistanArmy #Quetta #Condolences @OfficialDGISPR
4
3
6
730
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) کے چیئرمین جمشید حسین نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک پاکستانی شہری کی ہلاکت اور 11 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جمشید حسین نے کہا کہ شہریوں اور شہری ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانا انسانی وقار اور بنیادی انسانی حقوق پر حملہ ہے۔ خطے میں بڑھتا ہوا تشدد بے گناہ انسانوں کی زندگیوں اور امن کو سنگین خطرات سے دوچار کر رہا ہے۔ کونسل سعودی عوام اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ پاکستانی سفارت خانے کے ذریعے جاں بحق شہری کے اہلِ خانہ کو فوری معاونت، میت کی وطن واپسی اور متاثرہ پاکستانیوں کو ضروری مدد فراہم کی جائے۔ ہم حملے کی شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے احتساب اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے فوری سفارتی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جمشید حسین @jamshed_hrc چیئرمین، ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان #HRCPofficial #RiyadhAirport #ProtectCivilians #HumanRights #Pakistan #SaudiArabia #Peace
5
20
855
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے چیئرمین جمشید حسین نے اقرار الحسن @iqrarulhassan کو گھر سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام فوری طور پر گرفتاری کی وجہ، قانونی بنیاد اور ان کے موجودہ مقام کی وضاحت کریں۔ اہلِ خانہ کی جانب سے گھر میں زبردستی داخل ہونے، دھکا مکی اور موبائل فون قبضے میں لینے کے الزامات کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ کسی بھی کارروائی میں گھر کی حرمت اور خواتین کے وقار کو پامال کرنا قابلِ قبول نہیں۔ اقرار الحسن کی سلامتی، وکیل اور اہلِ خانہ تک رسائی اور منصفانہ قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔ اگر حراست کی کوئی قانونی بنیاد نہیں تو انہیں فوری رہا کیا جائے۔ انسانی حقوق کا تحفظ سیاسی وابستگی یا اختلافِ رائے سے مشروط نہیں۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ جمشید حسین @jamshed_hrc چیئرمین، ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان #IqrarUlHassan #HumanRights #DueProcess #FreedomOfExpression #HRCPOfficial #hrcpakistan
6
37
2
78
2,686
لائبہ اعجاز کی موت: شفاف تحقیقات اور خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) اسلام آباد میں طالبہ لائبہ اعجاز کی المناک موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتی ہے اور ان کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتی ہے۔ کونسل کے چیئرمین جمشید حسین نے کہا کہ لائبہ کے ساتھ بیرونِ ملک تعلیم کے نام پر مبینہ فراڈ کی اطلاعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔ نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کی محنت کی کمائی ہتھیانے والوں کا قانون کے مطابق احتساب ہونا چاہیے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ موت کے تمام حالات اور مبینہ فراڈ کی فوری، غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات کی جائیں، شواہد محفوظ کیے جائیں اور جرم ثابت ہونے پر ذمہ دار افراد کو سزا دی جائے۔ متاثرہ خاندان کو قانونی معاونت، تحفظ اور رقم کی بازیابی کے لیے مؤثر مدد فراہم کی جائے۔ حکومت تعلیمی اور ویزا کنسلٹنٹس کی نگرانی، ان کی حیثیت کی آسان تصدیق اور شکایات کے فوری ازالے کا نظام مضبوط کرے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کے لیے رازداری کے ساتھ قابلِ رسائی نفسیاتی مشاورت بھی یقینی بنائی جائے۔ کونسل میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کرتی ہے کہ لائبہ اور ان کے خاندان کے وقار و رازداری کا احترام کریں اور غیر مصدقہ تفصیلات پھیلانے سے گریز کریں۔ محض نوٹس کافی نہیں؛ خاندان کو انصاف اور نوجوانوں کو تحفظ چاہیے۔ جمشید حسین چیئرمین، ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان #JusticeForLaiba #HRCPakistan #StudentsRights #StopFraud #Islamabad #HumanRights
2
8
20
897