بریکنگ نیوز: حوثیوں نے سعودی عرب میں ریاض اور جنوبی علاقوں میں دو کروز میزائلوں سے حملہ کیا لیکن دونوں کروز میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ حوثیوں کا داغا گیا ایک میزائل چلنے سے پہلے ہی ٹھس ہو گیا اور صوبہ البیضاء میں ’المسعود‘ دیہات کے قریب جا گرا۔
سعودی اتحاد نے آج بھی صنعا سمیت حوثیوں کے زیرقبضہ علاقوں پر فضائی حملے کئے ہیں. ڈرونز کے ذریعے حوثیوں کی گاڑیوں اور دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور اسلحہ ذخیروں کو بھی تباہ کیا گیا.
سعودی اور یمنی فورسز کے مشترکہ حملوں کی وجہ سے حوثی کمانڈرز شہر الحزم سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور الحزم اب یمنی فورسز کے کنٹرول میں آ گیا ہے. اب یمنی فوج نے مارب میں حوثی ملیشیا کے دہشتگردوں پر نئے حملوں کا اعلان کیا ہے۔
دوسری طرف ایران کے جزیرے قشم میں آج پھر دھماکے سنے گئے ہیں. امکانی طور پر یہ تیسرا حملہ ہے لیکن انقلابی امریکہ اور اسرائیل کو ان حملوں کا جواب نہیں دے رہے بلکہ ایک بار پھر ستو پی کر سو گئے ہیں البتہ اپنی بھڑاس نکالنے کیلئےکمرشل جہازوں پر حملے کر کے اپنی کمزور عسکری صلاحیت عیاں کر دیتے ہیں.
نوٹ: حالات کشیدگی کی طرف ہی بڑھتے نظر آ رہے ہیں اور کسی بہ قسم کے مذاکرات سے بہتری آنے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا.
مأرب میں مراد اور عبدیہ قبائل نے پنے ہزاروں ساتھیوں کے ساتھ ’آپریشن صبح الیمن' کی حمایت کر اعلان کر دیا اور یمنی فورسز کے شانہ بشانہ حوثی دہشتگردوں کیخلاف لڑنے کا اعلان کر دیا.
'فیصلے کی گھڑی'
ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملوں کا عندیہ دیا ہے اور انقلابیوں نے قطر کے ذریعے امریکہ کو ایٹمی معاملات پر نئی تجاویز پیش کی ہیں..... ورنہ پہلے وہ ایٹمی معاملات پر بات کرنے سے بھی انکاری تھے.
امریکہ نے ایران پر آج محدود حملہ کیا ہے اور ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے ایران کا نصب کیا گیا نیا دفاعی نظام تباہ کر دیا ہے. امریکہ کے گزشتہ دو حملوں کا انقلابیوں نے کوئی جواب نہیں دیا ہے بلکہ وہ قطر کی "سہولتکاری" میں مذاکرات کا ڈھونگ رچا رہے ہیں.
انقلابیوں کی کوششیں ہیں کہ "مذاکرات مذاکرات" کا کھیل جاری رہے کیونکہ انقلابیوں کی اب کوشش ہے کہ کسی طرح وہ جنوری تک اس معاملے کو گھسیٹ لیں تاکہ امریکی ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ہو جائے اور وہ ٹرمپ کو ایران پر حملے سے باز رکھ سکیں.
ڈونلڈ ٹرمپ ابتک آٹھ مہینے ضائع کر چکا ہے لیکن ایران سے مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ رہے اور نہ ہی پہنچیں گے بلکہ انقلابیوں نے ایک بہترین معاہدے کو بھی خراب کر دیا ہے اور اب تو انقلابیوں کے نمائندے دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے.
ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ شروع کرنے یا نہ کرنے پر پندرہ دن میں فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا ہے. ٹرمپ گزشتہ آٹھ مہینے سے اس معاملہ کو لٹکا رہا ہے اور اسی وجہ سے الیکشن بھی ہارا ہے. یہی جنگ اگر وو پہلے ہی مرحلے میں ختم کر چکا ہوتا تو اب تک مہنگائی کنٹرول ہو چکی ہوتی اور عوام میں بےچینی بھی نہ ہوتی لیکن اس کے فیصلہ نہ کرنے سے سب سے زیادہ نقصان بھی خود ٹرمپ اور امریکہ کو ہی ہوا ہے.
ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بات سمجھ لینی چاہئے کہ وہ دس سال بھی انتظار کرے گا تو انقلابی کسی بھی معاہدے تک نہیں پہنچیں گے اور انقلابیوں کو بھی یہ یقین کر لینا چاہئے کہ اگر وہ پچھلے تیس سال میں ایٹم بم نہیں بنا سکے تو وو اگلے تیس سال میں بھی ایٹم بم نہیں بنا سکیں گے.... یہ خیال انہیں اپنے دل سے ترک کر دینا چاہئے.
بہرحال فیصلے کی گھڑی آ چکی ہے اور یہ معاملہ اب جلد ہی کسی نہ کسی طرف چلا جائے گا. زیادہ امکان یہی ہے کہ دوبارہ جنگ شروع ہو جائے گی.
وفاقی حکومت نے نئی آٹو پالیسی (2026ء سے 2031ء) کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس پالیسی کی اہم تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:
• برآمدات کا ہدف: آئندہ 5 سال کے دوران گاڑیوں کی برآمدات موجودہ 20 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 6 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
• جرمانے: برآمدی ہدف پورا نہ کرنے والی مقامی کار ساز کمپنیوں اور برآمدات نہ کرنے والے مینوفیکچررز پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
الیکٹرک گاڑیاں (EVs) اور اسکوٹرز:
• اگلے 5 سال میں 30 فیصد گاڑیوں کو الیکٹرک پر منتقل کرنے کا ہدف ہے۔
• 15 ہزار ڈالر سے کم مالیت کی چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں پر کم ٹیرف کی تجویز دی گئی ہے۔
• الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔
• الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے لیے کسٹمز ڈیوٹی میں رعایت اور سیلز ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔
• خواتین اور طالبات کے لیے الیکٹرک اسکوٹرز کے استعمال کو خصوصی طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔
گاڑیوں کی قیمتیں اور ٹیکس:
• پالیسی کے تحت گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی لائی جائے گی۔
• 1000 سی سی تک کی پٹرول گاڑیوں کے ٹیکسز میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا اور 1000 سی سی سے کم گاڑیوں پر کوئی اضافی ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔
ایڈوانس کی حد:
کوئی بھی کار ساز کمپنی خریدار سے گاڑی کی کل قیمت کا 20 فیصد سے زیادہ ایڈوانس وصول نہیں کر سکے گی۔
حفاظتی معیار (Safety Standards): گاڑیوں کے معیار اور مسافروں کی حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے 45 نئے اضافی اسٹینڈرڈز اور سیفٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں۔
بریکنگ نیوز: امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈرایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک ٹاسک فورس کے قیام کی ہدایت کی ہے، جو ایران کو زمینی راستوں کے ذریعے جدید ہتھیار اور دیگر مواد کی نقل و حمل سے روکنے کے لیے امریکی حکومت کی جاری کوششوں میں معاونت کرے گی۔
'ٹاسک فورس آئرن گیٹ' تقریباً 20 سویلین اور فوجی اہلکاروں پر مشتمل ایک ٹیم ہے جو فلوریڈا کے شہر ٹمپا سے کام کرے گی۔ سینٹ کام (CENTCOM) کی یہ نئی ٹیم دیگر امریکی سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی تاکہ ایران کی زمینی سرحدوں اور بحیرہ کیسپیئن کے راستے جدید ہتھیاروں کے نظام، دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجیز، پابندی زدہ مواد اور غیر قانونی آمدنی کے ذرائع کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔
امریکی کمانڈر کے مطابق "ٹاسک فورس آئرن گیٹ کا قیام سمندر میں ایران کے خلاف انتہائی سخت ناکہ بندی کی کامیابی کو مزید تقویت دیتا ہے۔ امریکی سرکاری اداروں کے مابین تعاون کو مضبوط بنانے سے ایران کی ان صلاحیتوں پر مزید قدغن لگے گی جن کے ذریعے وہ دہشت گردی کی مالی معاونت کرتا ہے، ہتھیاروں کے کارخانوں کو دوبارہ تعمیر کرتا ہے اور اپنے عسکری ذخائر کو دوبارہ بھرتا ہے۔"
گزشتہ چند مہینوں کے دوران، امریکہ کی بحری ناکہ بندی نے ایران کو 25 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے خام تیل کی برآمد سے روکا ہے۔ ایرانی بندرگاہوں پر آنے والے یا وہاں سے روانہ ہونے والے تمام بحری جہازوں کے خلاف سمندر میں سخت نگرانی اور جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔
Courtsy @CENTCOM
بیس سے زائد بحری جہازوں پر سوار ہزاروں امریکی فوجی، ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں.... صرف ٹرمپ کے حکم کا انتظار ہے.
ٹرمپ نے دو ہفتوں میں جنگ کا فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا ہے لیکن ٹرمپ کچھ بھی کر سکتا ہے یعنی اچانک بھی حملہ شروع ہو سکتا ہے.
اچھی خبر: پیٹرول کی قیمتوں میں بڑی کمی. پٹرول 9 روپے 41 پیسے سستا اور ڈیزل کی قیمتوں میں 5 روپے 56 پیسے کمی.
پٹرول کی نئی قیمت 352 روپے اور ڈیزل کی نئی قیمت 382 روپے ہو گئی ہے
امریکی آئین سازوں کو داد دینا بنتی ہے.... ہر دو سال بعد عوام کو ووٹ ڈالنے کا حق بھی دیا ہے اور صدر کو کوئی بھی قانون ویٹو کرنے کا اختیار بھی دیا ہے تاکہ تسلسل برقرار رہے.... یعنی اگر کوئی صدر اکثریت کھو بھی دے تو وہ اپنی بقیہ صدارتی مدت تک اپنی پالیسیاں جاری رکھ سکتا ہے.
دو سال بعد ووٹ ڈال کر عوام کا کتھارسس بھی ہو جاتا ہے اور اگلے دو سال تک وہ سکون سے بیٹھ جاتے ہیں جبکہ امریکی صدر اپنے ملک کے مفاد میں اپنی وہی پالیسیاں جاری رکھتا ہے جنکی بنیاد پر عوام نے اسے مسترد کیا ہوتا ہے...... اسی لئے امریکہ سپرپاور ہے.
ٹرمپو نے ایوان میں اکثریت کھو دی ہے لیکن 20 جنوری 2029 تک عہدے پر برقرار رہے گا اور ایران کے حوالے سے اسکی پالیسیاں بھی جاری رہیں گی.... ایران پر آئندہ حملہ ہو گا، نہیں ہو گا اس کا فیصلہ ٹرمپ نے ہی کرنا ہے اور اس الیکشن کے نتائج سے اس پالیسی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا.
امریکی ایوان نمائندگان ٹرمپ کو مواخذے کے ذریعے بھی نہیں ہٹا سکیں گے کیونکہ سینٹ میں ڈیموکریٹس کو دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہے. ایران جنگ کے حوالے سے اب معاہدہ ہو گا یا دوبارہ جنگ ہو گی...... اس کا فیصلہ اب بہت جلد ہو جائے گا.
بریکنگ نیوز: 'آپریشن فجر الیمن' زبردست طریقے سے جاری ہے.... یمنی فورسز کے حوثی دہشتگردوں پر تابڑ توڑ حملے جاری ہیں. گزشتہ 24 گھنٹے میں حوثی دہشتگردوں پر 1208 حملے ہوئے ہیں اور 370 حوثی دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا ہے.
یمنی حکومت کے مطابق انقلابیوں نے ایران سے عالمی سطح پر مطلوب ’عبدالرضا شہلائی‘ کی قیادت میں 14 تربیت یافتہ کمانڈرز حوثیوں کی مدد کیلئے بھیجے ہوئے ہیں جبکہ حزب اللہ سے 7 کمانڈرز آئے ہیں جو سعودی عرب اور یمنی فورسز پر حملوں کیلئے حوثیوں کی رہنمائی کر رہے ہیں.
انقلابیوں کی بھرپور مدد کے باوجود حوثی دہشتگردوں کی زور و شور سے پٹائی ہو رہی ہے اور سعودی طیارے انہیں بھاری نقصان پہنچا رہے ہیں.
بریکنگ نیوز: پاکستان نے فضا سے فضا میں مار کرنے والا ’فاز‘ میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے. ’فاز‘ میزائل مکمل طور پر مقامی طور پر تیار کردہ ہے اور اسکی رینج بھی طویل ہے..... بھارت کو پریشان ہونا چاہئے.
اس بار فضائی جھڑپ ہوئی تو پاکستانی طیارے جے ایف 17 اور ’فاز‘ میزائل کے ذریعے بھارتی رافیل گرائیں گے.
بریکنگ نیوز: شامی حکام نے حزب الله کا خفیہ سیل پکڑا ہے جو شام کی حمص ریفائنری کو تباہ کرنا چاہتے تھے.... شامی سکیورٹی فورسز نے اس گروہ کی نگرانی کرنے کے بعد حملے کے لیے تیار کیے گئے دھماکہ خیز مواد کے 9 آلات برآمد کر لیے ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ حزب الله اور انقلابیوں کی لڑائی اسرائیل سے ہے لیکن ان کے سب حملے صرف مسلمان ملکوں پر ہی ہیں. اسرائیل کی آئل ریفائنری انہیں نظر نہیں آتی اور ان کے میزائل بھی اسرائیل کی طرف جانا بھول گئے ہیں.
بریکنگ نیوز: امریکہ نے رات کو علاقے کی نئی "سپرپاور" پر محدود حملہ کیا ہے لیکن خود کو سپرپاور سمجھنے والے انقلابیوں میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ ابھی تک امریکی بحری جہازوں پر حملہ کر سکیں البتہ نہتے کمرشل جہازوں پر حملے ابھی بھی جاری ہیں.
ایران پر امریکہ کے ایٹمی حملے کی افواہیں بھی زیرگردش ہیں لیکن انقلابی صرف ایرانی عوام کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کر رہے ہیں لیکن امریکہ اور اسرائیل کو سبق سکھانے کیلئے کوئی حملہ نہیں کر رہے... البتہ اپنی پراکسی حوسیوں سے سعودی عرب پر ڈرونز اور میزائل روزانہ چلوا رہے ہیں.
ہر روز یہ یقین پختہ ہوتا ہے کہ انقلابیوں کی ترجیح صرف اس خطے میں مستقل بدامنی پیدا کرنا ہے اور یہ کبھی بھی اس خطے میں امن نہیں آنے دیں گے.
بریکنگ نیوز: وزیراعلی پنجاب مریم نواز کا وفاقی وزیر چوہدری سالک کو ہرجانے کا نوٹس بھیجنے کا اعلان..... چوہدری سالک وفاقی وزیر ہیں، الزام لگانے کے بجائے ثبوت پیش کریں، اگر ان کے پاس ثبوت ہیں تو سامنے لائیں، ورنہ عدالت میں لے کر جاؤں گی۔
چودھری سالک نے الزام لگایا تھا کہ کرپشن کیسز سے الماریاں بھری ہوئی ہیں اور سرکاری جہاز کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے تھے...
نوٹ: پنجاب میں ہتک عزت قانون کے بعد اب بےبنیاد الزمات لگانا آسان نہیں ہے. چودھری سالک کو اب ثبوت پیش کرنا پڑیں گے یا پھر معذرت کرنی پڑے گی.
بریکنگ نیوز: یمنی فورسز کو بہت بڑی کامیابی.... حوثی سنائپرز یونٹ کا کمانڈرز محمد البرعی فضائی حملے میں ہلاک ہو گیا ہے.... حوثیوں کے اہم کمانڈرز ہلاک ہو رہے ہیں، اسی لئے حوثی دہشتگرد میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں.
یمن کی موجودہ صورتحال اس نقشے سے واضح ہے..... یمنی فورسز کی پیش قدمی بڑھتی جا رہی ہے.اس نقشہ میں جو سبز رنگ ہے وہ یمن کی قانونی حکومت کے پاس ہے اور جو سرخ رنگ ہے وہ حوثیوں کے زیرقبضہ علاقے ہیں.
سعودی اتحاد کی فضائی سپورٹ سے یمنی فورسز حوثیوں کو پیچھے دھکیلتے جا رہے ہیں.
مولانا فضل الرحمٰن کا آج کا یہ بیان بہت خطرناک ہے. مولانا کو اس غلط فہمی سے باہر نکل آنا چاہئے کہ وہ اسٹبلیشمنٹ کو ہرا سکتا ہے.... یہی غلط فہمی عمران خان کو ہوئی تھی اور آج عمران خان کا انجام سب کے سامنے ہے.
مولانا کو یہ بھی ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ مولانا کے پاس عمران خان جیسا سوشل میڈیا نہیں ہے. عمران خان کے سوشل میڈیا کو بیرونی قوتوں کی سہولت کاری بھی حاصل تھی لیکن آج اس سوشل میڈیا کا کیا حال ہے یہ مولانا کے سامنے ہے.
ٹی ایل پی والے بھی خود کو بہت طرم خان سمجھتے تھے. راستے بند کرنا اور سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلانے میں وہ بھی بہت تیز تھے... آج وہ کہاں ہیں یہ بھی مولانا کو پیش نظر رکھنا چاہئے.
مولانا کو عمر کے اس حصے میں فہم و دانش سے کام لینا چاہئے. ریاست کو چیلنج کرنا کسی طور درست نہیں.... اگر عمران خان ستر سال کی عمر میں جیل جا سکتا ہے تو مولانا بھی جا سکتا ہے.......
آصف زرداری اور شہبازشریف کو مولانا سے مل کر صورتحال پر قابو پانا چاہئے ورنہ نقصان پاکستان کا ہو گا.
امریکہ میں کل وسط مدتی انتخابات ہیں اور انقلابیوں کو ان سے بہت سی توقعات ہیں اور اسی لئے انہوں نے آئل ٹینکرز پر حملے شروع کئے ہوئے ہیں تاکہ تیل مہنگا ہو اور ٹرمپ الیکشن ہار جائے.
انقلابی اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ تین نومبر کے انتخابات سے ٹرمپ کی حیثیت پر معمولی فرق پڑے گا... امریکی وسط مدتی انتخابات سینیٹ کی صرف 7 نشستوں پر ہو رہے ہیں جبکہ ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر ہیں.
اگر ڈیموکریٹس تمام نشستیں بھی جیت جائیں( جس کا امکان بہت کم ہے) تب بھی ٹرمپ کے مواخذے کا کوئی امکان نہیں ہیں کیونکہ ٹرمپو کے مواخذے کیلئے ڈیموکریٹس کو کم از کم 67 نشستیں چاہئیں جبکہ ڈیموکریٹس زیادہ سے زیادہ 54 نشستوں تک پہنچ سکتے ہیں.
ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو معمولی برتری حاصل ہو بھی گئی تو بھی ٹرمپ کے پاس کسی بھی قانون کو مسترد کرنے کا "ویٹو" کا قانونی اختیار بھی موجود ہے.... اسلئے حالیہ انتخبات صرف امریکیوں کا اندرونی معاملہ ہے اور اس کا ایران پر دوبارہ حملے سے کچھ زیادہ تعلق نہیں ہے.
ٹرمپ اپنی بقیہ مدت پوری کرے گا اور امکان ہے کہ اس ہفتے میں ایران پر حملہ ہو سکتا ہے. اسرائیلی طیارے بھی جنگی تیاریاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایرانی سرحد تک انکی جنگی مشقیں جاری ہیں.
امریکہ ایران پر حملہ کرے یہ امکانات تو بہت واضح ہیں لیکن کیا امریکہ ایٹمی حملہ کرے گا.... یہ امکان نہ ہونے کے برابر ہے.
یمنی فیلڈ کمانڈر اعلان کر رہا ہے کہ یمنی فورسز نے ’حوشیان‘ کے اسٹریٹجک پہاڑی سلسلے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور اب حوثی ملیشیا کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
:بریکنگ نیوز: سعودی فضائیہ کے حوثیوں پر حملے جاری ہیں... حدیدہ میں حوثیوں کے زیرِ استعمال ایندھن کے ایک مرکزی ذخیرہ کرنے والے مرکز کو سعودی طیاروں نے تباہ کر دیا، اس کے علاوہ الحدیدہ میں حوثیوں کے میزائل لانچ پلیٹ فارم کو تباہ کر دیا.
آج آپریشن میں حوثی دہشتگردوں کے اہم وسائل کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کی مدد سے حوثی دہشتگرد یمن اور بحیرہ احمر کے جنوبی حصوں میں بحری جہازوں پر حملہ کرتے تھے. آج پھر حوثیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے.
حوثیوں نے آج پھر سعودی علاقوں میں بیلسٹک میزائل چلائے لیکن سعودی افواج نے انہیں فضا میں ہی تباہ کر دیا. خمیس مشیط اور ابہا میں الرٹ بھی جاری کئے گئے. دمام میں بھی دھوئیں کے بادل دیکھے گئے ہیں.
یمنی فوج نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 500 سے زائد حوثی دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا ہے جس میں دہشتگردوں کے کمانڈرز بھی شامل ہیں....
حوثی دہشتگرد سعودی عرب کی سلامتی کیلئے مسلسل خطرہ ہیں اور اسی لئے سعودی اتحاد نے تہیہ کر لیا ہے کہ ان حوثی دہشتگردوں کا خاتمہ ضروری ہے کیونکہ ان حوثیوں کے خاتمے تک سعودی عرب میں امن نہیں آئے گا.
یمن ان حوثیوں کے چنگل سے ضرور آزاد ہو گا اور خطے میں امن بھی آئے گا.









