رابطہ عالم اسلامی، اسلامی تنوع کے درمیان مؤثر اور نتیجہ خیز مفاہمت کو فروغ دینے والے ’’تعمیری مکالمے‘‘ کے دائرے میں اختلاف کے آداب کو راسخ کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ کاوش ’’اسلامی مکاتب فکر کے درمیان پل قائم کرنے کے چارٹر‘‘ کے مندرجات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہے، تاکہ مسلکی تنوع کے بارے میں شعور کو مزید گہرا کیا جا سکے، اس کے ساتھ حکمت ودانائی سے تعامل کا رجحان فروغ پائے، اور مشترکہ اقدار کی روشنی میں اخوت کے رشتوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
رابطہ عالم اسلامی ایمانی اقدار پر کاربند اور انتہا پسندانہ افکار سے محفوظ نسلوں کی تربیت میں خاندان اور تعلیمی اداروں کے باہمی تعاون پر مبنی کردار کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔
اسی تناظر میں، رابطہ حکومتوں کے ساتھ تعاون اور ان کی براہِ راست نگرانی میں نافذ کیے جانے والے معیاری پروگراموں اور اقدامات کے ذریعے تعلیم کے فروغ، اساتذہ کی تربیت اور ان کو بااختیار بنانے کی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے؛ تاکہ اپنے معاشروں کی خدمت کرنے والی اور ان کی ترقی وخوشحالی میں کردار ادا کرنے والی فعال نسلوں کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا جا سکے۔
انسانوں کے مابین مذاہب اور ثقافتوں کا تنوع واختلاف ایک سنتِ الٰہی ہے، اور اسلامی تعلیمات نے اس تنوع کے ساتھ عدل، احسان اور انسانی کرامت کے تمام تر تقاضوں پر مبنی تعامل کے منہج کو راسخ کیا ہے۔
اسی تناظر میں میثاق مکہ مکرمہ سامنے آیا، جسے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، حفظہ اللہ کی سرپرستی حاصل رہی اور جو رابطہ عالم اسلامی کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا؛ تاکہ مذہبی وثقافتی تنوع کے احترام کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے اور ہماری دنیا کے امن نیز اس کے معاشروں کی باہمی ہم آہنگی کے لیے جامع مشترکات کو فروغ دیا جا سکے۔
اس تاریخی میثاق پر 1200 سے زائد علمائے کرام ومفتیانِ عظام اور 4500 سے زائد اسلامی مفکرین نے دستخط کیے، جو تمام اسلامی مسالک اور مکاتبِ فکر کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے قبلہٴ واحد مکہ مکرمہ میں جمع ہوئے تھے۔ نیز اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے بھی اپنے دینی، تعلیمی اور ثقافتی اداروں میں اس کے مضامین ونکات سے استفادہ کرنے کے لیے اسے باضابطہ منظور کیا؛ اور یہ پہلی ایسی دستاویز ہے جسے تنظیم نے اپنی اور اقوامِ متحدہ کی دستاویزات کے علاوہ کسی بین الاقوامی فورم کی دستاویز کے طور پر منظور کیا ہے۔
حفظِ قرآن کا دو سالہ سفر.. اور نور پھیلانے والا دائمی اثر:
حافظ ’’احسنی فضلی الہی‘‘ نے دو سال کے قلیل عرصے میں مکمل قرآنِ کریم حفظ کر کے ایک
تابناک تاریخ رقم کی؛ ان کی یہ داستان رابطہ عالم اسلامی کی جانب سے قرآنِ کریم
اور اس کے حاملین کی خدمت کے لیے کی جانے والی کوششوں کے اثرات کی ایک روشن مثال
ہے۔
’’اسلامی صفوں میں اتحاد‘‘
فضیلۃ الشیخ محمد حنیف جالندھری، ناظم اعلی، وفاق المدارس العربیہ، پاکستان، کو مملکت سعودی عرب میں اسلامی مقدسات اور شہری تنصیبات کے خلاف حوثی دہشت گرد ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت اور اس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملاحظہ کیجیے:
’’اسلامی صفوں میں اتحاد‘‘
ڈاکٹر مصطفیٰ تسیرچ، صدر، مرکزِ وسطیت برائے مکالمہ، بوسنیا وہرزیگووینا، کو مملکت سعودی عرب میں اسلامی مقدسات اور شہری تنصیبات کے خلاف حوثی دہشت گرد ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت اور اس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملاحظہ کیجیے:
مسلم ورلڈ لیگ retweeted
میثاق مکہ مکرمہ کانفرنس کی مکالماتی نشستوں کی قرادادوں نے، جس میں رابطہ عالم اسلامی کے زیرِ اہتمام قبلہٴ جامع کے سائے تلے 1200 سے زائد علمائے کرام ومفتیانِ عظام جمع ہوئے، ایک متفقہ اسلامی موقف کی توثیق کی ہے جو کسی بھی ذریعے یا عنوان کے تحت اسلام کو بطورِ دین اور مسلمانوں كو بطورِ پیروکار کو نشانہ بنانے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
چنانچہ یہ بات کسی طور قابلِ قبول یا عقل سلیم کے مطابق نہیں کہ ایک ایسے دین کی توہین کی جائے جس کے ماننے والے دو ارب سے زائد انسان ہیں،اور پھر بعد ازاں ایسی تاویلات کے ذریعے اس توہین کی ذمہ داری سے گریز کی کوشش کی جائے جن میں یہ کہا جائے کہ مقصود مذہبی تصورات میں پایا جانے والا انتہا پسندی کا عنصر، یا سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کا استعمال تھا، جسے ’’اسلام ازم‘‘ (Islamism)، ’’اسلامسٹ‘‘ (Islamists) اور’’مذہب کی سیاسی کاری‘‘ (politicization of religion) جیسے عنوانات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اگر ایسی وضاحت قبول بھی کر لی جائے، تو حقیقت میں یہ توہین سے رجوع کے مترادف ہے، جس پر صریح معذرت ضروری ہے۔ محض ایسی تاویل کافی نہیں جو کہنے والوں کو اپنے بیان کی ذمہ داری سے بری نہیں کرتی، اور نہ ہی اس بنیاد پر اسلام اور مسلمانوں کی توہین جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کرنے والے بری الذمہ قرار دیے جا سکتے ہیں؛ خصوصاً ایسی تاویل کی بنیاد پر جو، خواہ اسے ’’درست‘‘ اور ’’سچا‘‘ تسلیم کر لیا جائے، اس وقت واضح بھی نہیں کی گئی تھی۔
رابطہ عالم اسلامی نے اسلامی اقوام کے اعلیٰ دینی مرجع کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے گزشتہ چند برسوں کے دوران ایسے متعدد قابلِ مذمت طریقوں کی نشان دہی کی ہے، جو بعض رپورٹوں، تجزیاتی مضامین اور فکری مراکز کی مطبوعات میں بار بار سامنے آتے رہے ہیں۔ ان طریقوں میں آزادی کے تصور کی توہین، نفرت انگیز بیانیے کو ہوا دینا اور مذاہب وتہذیبوں کے تصادم کے رجحانات کو فروغ دینا شامل ہے۔
’’اسلامی صفوں میں اتحاد‘‘
شیخ ڈاکٹر حافظ عبدالکریم قادر بخش، رکنِ سینیٹ ومرکزی امیر ،مرکزی جمیعت اہل حدیث پاکستان، کو مملکت سعودی عرب میں اسلامی مقدسات اور شہری تنصیبات کے خلاف حوثی دہشت گرد ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت اور اس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملاحظہ کیجیے:
امریکی جریدے ’’فارن پالیسی‘‘(FP Analytics) کی رپورٹ ’’مصنوعی ذہانت سب کے لیے‘‘ میں رابطہ عالم اسلامی کی جانب سے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ تقریب کے اہم نکات اور نتائج کے بارے میں جانیے۔
امریکی جریدے ’’فارن پالیسی‘‘(FP Analytics) نے ’’مصنوعی ذہانت سب کے لیے‘‘ کے عنوان سے ایک جامع رپورٹ شائع کی ہے، جس میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر رابطہ عالم اسلامی کے زیرِ اہتمام منعقدہ تقریب کے اہم نتائج کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس تقریب میں مذہبی رہنماؤں، پالیسی سازوں، امریکہ کی بڑی مصنوعی ذہانت کمپنیوں اور ممتاز امریکی جامعات کے نمائندوں، عالمی بینک کے عہدیداروں اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے نمایاں امیدواروں نے شرکت کی۔
رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اصولوں، ان کے فروغ میں مذہبی اداروں کے کردار اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اس ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں سے استفادے کا دائرہ وسیع کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے، تاکہ دنیا بھر کی مختلف اقوام، ثقافتوں اور معاشروں کو ان سے فائدہ پہنچ سکے۔
رپورٹ اور مزید تفصیلات کے لیے:
fpanalytics.foreignpolicy.co…
مسلم ورلڈ لیگ retweeted
امریکی جریدے ’’فارن پالیسی‘‘ (FP Analytics) میں شائع ہونے والی ایک تفصیلی رپورٹ میں ’’سب کے لیے مصنوعی ذہانت‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس تقریب کے نتائج اور سفارشات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس تقریب کا اہتمام رابطہ عالم اسلامی نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر اقوامِ متحدہ کی حمایت اور شرکت سے کیا تھا۔
تقریب میں مذہبی رہنماؤں، پالیسی سازوں، مصنوعی ذہانت کی متعدد بڑی کمپنیوں کے نمائندوں، امریکہ کی ممتاز جامعات اور عالمی بینک کے عہدیداروں نے شرکت کی۔
رپورٹ میں تقریب کے دوران مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اخلاقی اصولوں کو مستحکم کرنے اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اس کی صلاحیتوں سے استفادے کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے اعلان کردہ متعدد اہم اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ درج ذیل لنک پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے:
fpanalytics.foreignpolicy.co…
مسلم ورلڈ لیگ retweeted
اللہ پر یقین کا مطلب یہ نہیں کہ مومن کی زندگی ہمیشہ اس کی خواہشات کے مطابق گزرے، یا جب بھی وہ کچھ چاہے، اس کے لیے تمام اسباب آسانی سے مہیا ہو جائیں؛ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا دل اپنے رب کے فیصلے پر مطمئن اور اس کے علم وحُسنِ تدبیر پر پُراعتماد رہے، خواہ اس کی حکمت اس پر واضح نہ ہو۔
بسا اوقات کسی دیرینہ آرزو کی تکمیل میں تاخیر ہو جاتی ہے، کوئی ایسا دروازہ بند ہو جاتا ہے جس سے اسے اپنی مطلوبہ چیز ملنے کی امید ہوتی ہے، اور حالات اس کی منصوبہ بندی اور اندازوں کے برعکس بدل جاتے ہیں۔ تاہم؛ مومن یہ سمجھتا ہے کہ اس کا علم محدود ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ وہ کچھ جانتا ہے جو وہ نہیں جانتا۔ چنانچہ وہ حالات کے اتار چڑھاؤ کو اپنے ایمان کی مضبوطی اور یقین کی پختگی پر اثرانداز نہیں ہونے دیتا اور نہ ہی اپنی فطری عجلت پسندی کے آگے ہتھیار ڈالتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:” انسان جلد باز پیدا کیا گیا ہے“۔ اور ایک دوسرے مقام پرارشاد فرمایا:” اور انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے“۔
ایسے حالات اور ان جیسے دیگر مواقع میں توکل کی حقیقی روح نمایاں ہوتی ہے: یعنی اسباب ووسائل اختیار کرنا، مسلسل دعا کرتے رہنا اور اللہ تعالی پرایسا پختہ اعتماد رکھنا جسے زندگی کے اتار چڑھاؤ متزلزل نہ کر سکیں ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ”اور جو اللہ پر توکل کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔ بے شک اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے“۔
اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کا حکم نافذ ہو کر رہتا ہے اور اس نے اپنی کامل حکمت اور محیط علم کے مطابق ہر چیز کے لیے ایک اندازہ اور وقت مقرر کر رکھا ہے۔ پس جو وہ چاہتا ہے، وہ ہو کر رہتا ہے، اور جو وہ نہیں چاہتا، وہ نہیں ہوتا۔ اس کے ہاں ہر چیز ایک مقررہ اندازے کے مطابق ہے۔ کوئی چیز اس کے علم اور لوحِ محفوظ میں درج اس کے فیصلے کے خلاف واقع نہیں ہوتی، بلکہ سب کچھ اس کی تقدیر کی عظمت اور اس کے مقرر کردہ وقت کی حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔ جسے اللہ نے مؤخر کیا ہو، وہ وقت سے پہلے نہیں آسکتا اور جسے اس نے مقدم کیا ہو، وہ پیچھے نہیں رہ سکتا۔ وہی خوب جاننے والا، ہر چیز سے باخبر، کمالِ حکمت والا، سب کچھ جاننے والا اور کامل قدرت رکھنے والا ہے۔
جب بھی کوئی مسلمان ان معانی پرغور وتدبر کرتا ہےتو اپنی فطری عجلت پسندی پر قابو پاتاہے، اپنے علم کی محدودیت کو تسلیم کر لیتا ہے، اپنے دل کو شیطان کے وسوسوں سے پاک رکھتا ہے، اور اپنے رب کی حکمت پر اطمینان، اس کی رحمت کی امید اور اس کے حسنِ تدبیر پر کامل بھروسے کے ساتھ خود کو مکمل طور پر اس کے فیصلے کے سپرد کر دیتا ہے۔
’’اسلامی صفوں میں اتحاد‘‘
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر محمد تقی عثمانی، مفتی، اسلامی جمہوریہ پاکستان، کو مملکت سعودی عرب میں اسلامی مقدسات اور شہری تنصیبات کے خلاف حوثی دہشت گرد ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت اور اس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملاحظہ کیجیے:
’’اسلامی صفوں میں اتحاد‘‘
جناب ڈاکٹر حسین ابو بکر مدوور، مدیر، جامعہ اسلامیہ ملیبار، کیرالہ، ہند، کو مملکت سعودی عرب میں اسلامی مقدسات اور شہری تنصیبات کے خلاف حوثی دہشت گرد ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت اور اس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملاحظہ کیجیے:
’’اسلامی صفوں میں اتحاد‘‘
عزت مآب پروفیسر ڈاکٹر سامی الشریف، سیکرٹری جنرل، رابطہ جامعاتِ اسلامیہ، کو مملکت سعودی عرب میں اسلامی مقدسات اور شہری تنصیبات کے خلاف حوثی دہشت گرد ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت اور اس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملاحظہ کیجیے:
’’اسلامی صفوں میں اتحاد‘‘
فضیلۃ الشیخ، فضل الرحمن بن مفتی محمود، امیر، جمعیت علمائے اسلام، پاکستان، کو مملکت سعودی عرب میں اسلامی مقدسات اور شہری تنصیبات کے خلاف حوثی دہشت گرد ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت اور اس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملاحظہ کیجیے:

















