ایک طرف عمران خان، بشری بی بی اور بہنیں قید و بند، مقدمات اور بدترین فسطائیت کا سامنا کر رہے ہیں اور دوسری طرف ان کے نام پر عہدے، نشستیں اور سیاسی حیثیت حاصل کرنے والوں کو اپنی انا، گروہ بندیوں اور ذاتی لڑائیوں سے فرصت نہیں!
اسمبلی میں ایک گلابی پلے کارڈ اٹھا کر احتجاج کی خانہ پُری پھر مکمل خاموشی! ٹی وی پروگرامز اور سوشل میڈیا پر البتہ ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے کا سلسلہ پوری آب و تاب سے جاری ہے۔ جیسے خان کی مشکلات نہیں، آپ کی ذاتی سیاست اور تماشے زیادہ اہم ہوں!
شرم کیجیے! جس شخص کے نام پر آپ کی سیاسی دکانیں چل رہی ہیں، کم از کم اس کے لیے احساسِ ذمہ داری تو پیدا کریں۔
صرف ایک لمحے کے لیے تصور کیجیے کہ خان اور ان کے خاندان پر جو گزر رہی ہے، وہ آپ اور آپ کے اہلِ خانہ پر گزر رہی ہوتی۔ کیا تب بھی آپ کی ترجیحات یہی ہوتیں؟ کیا تب بھی یہ بےحسی، یہ خاموشی اور یہ تماشے جاری رہتے؟
خان نے آپ کو سیاسی شناخت دی، آپ نے جواب میں انہیں کیا دیا؟ عہدوں کی بندر بانٹ، آپس کی لڑائیاں اور مجرمانہ خاموشی؟
یہ حقیقت ہر کوئی جانتا اور سمجھتا ہے کہ عمران خان کی بہنوں کا سب سے بڑا جرم صرف یہ ہے کہ وہ عمران خان کی بہنیں ہیں۔ ان پر دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگانا انتہائی شرمناک بات ہے۔ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے کو سیاسی انتقام کا جواز بنانا آخر کہاں کی انسانیت ہے؟ ہر 30 روز بعد ان کی نظربندی میں توسیع آخر کس قانون کے تحت کی جا رہی ہے؟ کیا یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ انہیں سیاسی انتقام کا کھلا لائسنس مل چکا ہے؟ یاد رکھیں، خدا کی لاٹھی بےآواز ہوتی ہے
عمران خان قید میں ہیں، ان کی اہلیہ، بہنیں قید میں ہیں، وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور جنید اکبر سمیت اہم رہنما زیرِ حراست ہیں، مگر یہاں باہمی لڑائیوں، الزام تراشی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ آخر یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے؟ کیا قیادت کو حالات کی سنگینی کا ذرا بھی احساس ہے؟ یہ وقت ذاتی انا، گروہ بندی اور بچگانہ بحثوں کا نہیں، سیاسی بصیرت، سنجیدگی اور اجتماعی ذمہ داری کا ہے۔ خدارا اپنی توانائیاں آپس کی محاذ آرائی کے بجائے عمران خان اور دیگر زیرِ حراست ساتھیوں کی رہائی، آئینی حقوق کے تحفظ اور ایک واضح، مؤثر اور مشترکہ حکمتِ عملی پر صرف کریں۔ قوم آپ سے قیادت کی توقع رکھتی ہے، تماشے کی نہیں۔
خیبرپختونخوا میں دو تہائی اکثریت رکھنے والی منتخب اسمبلی کو گھر بھیج کر ایمرجنسی نافذ کرنا انتہائی غیر دانشمندانہ اور خطرناک اقدام ہے۔ ملکی تاریخ گواہ ہے کہ ایسے فیصلوں نے مسائل حل کرنے کے بجائے نفرتوں، محرومیوں اور بحرانوں کو جنم دیا ہے۔ ملک پہلے ہی شدید سیاسی و اقتصادی انتشار کا شکار ہے، جلتی پر تیل ڈالنے سے مزید گھڑمس ہوگا۔ خدارا! ذاتی انا اور ضد سے نکلیں، ملک اور وفاق کے مستقبل کا سوچیں۔
پاکستان کے عظیم لیڈر عمران خان کو سالگرہ مبارک۔
آپ کی جدوجہد، قربانی، حوصلہ اور ثابت قدمی پوری قوم کے لیے امید اور مزاحمت کی علامت بن چکی ہے۔ اللّہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین
اپنے بھائی کے مشکل ترین وقت میں اس کی ڈھال بن کر کھڑی رہنے والی عمران خان کی تینوں بہنیں آج کئی روز سے غیرقانونی حراست میں ہیں۔ ان کی قربانی، وفا اور بے مثال ثابت قدمی کو سلام
گورنر راج لگا کر بھی شوق پورا کر لیں لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ اصل راج عوام کا ہوتا ہے۔ عوام کے دلوں پہ جو راج کرتا ہے، لوگ اسی کی بات سنتے ہیں، سمجھتے ہیں، مانتے ہیں۔ فیصلہ آپ کا ہے، مگر ہر فیصلے کا ایک نتیجہ بھی ہوتا ہے اور وہ عوام نے ہی کرنا ہوتا ہے جلد یا بدیر۔لہذا عوام کے مینڈیٹ کا احترام کریں، یہی اس ملک کیلۓ بہترین ہے۔لہذا مشورہ ہے کہ یہ گندا کام مت کریں۔
پاکستان تحریکِ انصاف ایک پُرامن سیاسی جماعت ہے اور ہماری جدوجہد بھی مکمل طور پر پُرامن ہے۔ پنجاب میں سب سے زیادہ پولیس نفری اٹک، بالخصوص حضرو چھچھ میں تعینات کی گئی ہے۔ ہم نے تمام ساتھیوں سے کہا ہے کہ ان کے لیے اپنے دروازے کھولیں، کھانے پینے اور رہائش کا خیال رکھیں اور خندہ پیشانی سے پیش آئیں۔ یہ ہمارے اپنے بھائی اور بیٹے ہیں ان کی خدمت مہمان نوازی ہمارا اخلاقی فرض ہے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے بعد کیا اب ان کے پورے خاندان کو قید کیا جائے گا؟ سیاسی اختلاف ہم نے پہلے بھی دیکھے ہیں، مگر خواتین کے احترام، تحفظ اور وقار کی جو حد اس دور میں بار بار پامال ہو رہی ہے، اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ جبر اور فسطائیت کے یہ پے در پے واقعات ہمارے سیاسی رویّوں، طرزِعمل پر نہایت سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں۔
پمز سانحہ اس بوسیدہ اور بے حس نظام کے مکمل زوال کی علامت ہے۔ ادارے تباہ ہوں، نظام مفلوج ہو، قیمتی جانیں چلی جائیں، یہاں کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے، بس اقتدار قائم رہے چاہے اس کی قیمت عوام اپنے بچوں کی جانوں سے ہی کیوں نہ ادا کریں!
تم اسے توڑنے چلے تھے، وہ پوری قوم کو مضبوطی سے کھڑا ہونا سکھا گیا۔
تمہارا ظلم اپنی حد کو پہنچا اور ہار گیا، عمران خان ثابت قدم رہا جیت گیا
اعصاب کی جنگ ہو، صبر کی آزمائش ہو یا استقامت کا امتحان : عمران خان نے ثابت کر دیا کہ اسے توڑا نہیں جا سکتا
کروڑوں پاکستانی اپنے قائد عمران خان کی صحت کے لیے دعاگو ہیں۔ شفا ہسپتال منتقلی کے حکم پر فوری عمل کیا جائے۔ اللّہ کریم خان صاحب کو صحت، سلامتی اور لمبی زندگی عطا فرما۔ آمین
میڈیکل رپورٹ نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ پاکستانیوں کے واحد مقبول لیڈر کو علاج کی سہولت سے محروم رکھنا اور مسلسل قیدِ تنہائی میں رکھنا پاگل پن نہیں تو اور کیا ہے۔ عمران خان کو فوری ہسپتال منتقل کیا جائے اور ان کی قیدِ تنہائی ختم کی جائے۔
سہیل آفریدی عمران خان کے ہی نامزد کردہ ہیں، اس لیے اسوقت سب کو ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ یہ باہمی لڑائیوں اور اختلافات کا وقت نہیں۔ ہماری واحد ترجیح عمران خان تک ان کے اہلِ خانہ اور ذاتی معالجین کی فوری رسائی، اور خان کے خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی ہونی چاہیے۔
جو بحث عمران خان کی رہائی، صحت اور ان تک رسائی کے بنیادی مطالبے سے توجہ ہٹائے، اسے اس وقت مرکزی موضوع نہیں بننا چاہیے۔ کارکنوں اور قیادت کا مؤقف ایک، واضح اور غیر مبہم ہو: پہلے عمران خان، باقی معاملات بعد میں
بہت ہو چکا۔اب موج میلے، رسمی سیاست اور روایتی بیانات بند ہونے چاہییں۔ آپ سب کی سیاست عمران خان کے نام، ووٹ اور جدوجہد کی مرہونِ منت ہے۔ خان کی صحت کے حوالے سے تشویش موجود ہے، اس لیے اب ایک ہی مطالبہ ہونا چاہیے: جب تک عمران خان تک فوری اور قابلِ اعتماد رسائی نہیں دی جاتی، کسی صورت پیچھے نہ ہٹا جائے
عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش ناک خبریں بھی آپ خود دے رہے ہیں اور عملی جدوجہد کے لیے تاریخ بھی دو ماہ بعد کی دے رہے ہیں۔ یہ کیسی سنجیدگی ہے؟
چار سال ملک کی تباہی پھیرنے کے بعد بھی سوچ بدلی نہیں اسے تو بس اعترافِ جرم ہی سمجھیں۔ صرف اپنی مرضی کے قوانین بدلنے سے یا آئینی ترامیم کرنے سے یا صوبے بنانے سے ملک نہیں چلا کرتے۔ ملک تب چلتا ہے جب عوام کی رائے کو تسلیم کیا جائے، عوام کی تائید و حمایت کے بغیر کوئی نظام نہیں چل سکتا۔
کشمیر کے لوگ ہمارے اپنے ہیں، ہمارے بھائی ہیں۔ نہ وہ ہم سے الگ ہیں، نہ ہم ان سے الگ ہو سکتے ہیں۔ اختلافات یا حالات چاہے جیسے بھی ہوں، ان کا حل اپنے ہی لوگوں پر طاقت کے استعمال میں نہیں ہو سکتا۔ ریاستوں کی طاقت اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہوتی ہے، ان کے خلاف نہیں۔ امید ہے کہ معاملات کو دانش، تحمل اور مکالمے سے حل کیا جائے گا، کیونکہ خون بہانے سے کبھی پائیدار امن قائم نہیں ہوتا۔
کشمیر زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

