Saif UrRehman retweeted
اَللّٰھُمَّ صَلِِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ
کَماصَلَّيتَ عَلٰی اِبْراھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبْراھِيمَ اِنَّكَ حَمِيدُ مَّجِيدُُ اَللَّھُمَّ بَارِك عَلٰی مُحَمَّدٍوَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍکَمَا بَارکتَ عَلٰی اِبراھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبراھيمَ اِنَّك حَمِيدُ مَّجِيد
ﷺ❣️
یہ ہیں علیمہ خانم کے بیٹے شیرشاہ خان اور شاہ ریز خان
انکے پاس چترال مائن اینڈ منرلز(معدنیات) کا ٹھیکہ ہے جسکے لائسنس پختونخواہ حکومت کی طرف جاری ہوئے ہیں
پختونخواہ حکومت نے اپنے ہینڈلرز اور انوسٹرز کو 300+ لائسنسس جاری کئے ہوۓ ہیں
ہیلتھ کا ٹھیکہ نوشیروان برکی اور منرلز کا ٹھیکہ اپنے بھانجوں کو دینے والے نے اپنے بے وقوف و نالائق یوتھیوں کو صرف نعروں کے پیچھے لگایا ہوا ھیں۔
انشاءﷲ اب حساب کتاب کی باری ہے 🙂
بیگم کے ساتھ فلم یا سیریز دیکھنا ایک الگ نوعیت کا سیاپا ہوتا ہے۔یوں لگتا ہے جیسے وہ فلم یا سیریز آپ پر ہی بنی ہوئی ہے۔ کچھ دن پہلے ایسی ہی ایک فلم ہم دونوں دیکھ رہے تھے۔ اس کا مرکزی کردار اپنی بیوی کو بھی تحائف دے کر خوش رکھتا ہے اور باہر بھی اس کے کافی چکر چل رہے ہوتے ہیں۔ یکدم بیگم کی آواز آئی” بغیرت انسان، بیوی کو بھی خوش رکھا ہوا اور باہر بھی چکر چلانے سے باز نہیں آیا۔”۔ میں نے اس کی جانب دیکھا تو وہ میری جانب ہی دیکھ رہی تھی۔ میں نے اگنور کر دیا کہ شاید ہیرو پر اپنی رائے دے رہی ہے۔
کچھ دیر گزری تو پھر ایسے ہی کسی سین پر بولی” چیپسٹر، بیویوں کے ساتھ بھی لولو پوپو کرتے ہیں اور موبائل پر گرل فرینڈ کے ساتھ بھی لگے رہتے ہیں۔”۔ میں نے پھر گردن گھما کے اُسے دیکھا۔وہ اب کے ٹی وی سکرین کی جانب دیکھ رہی تھی۔
پھر کچھ دن بعد ایسے ہی ایک بھارتی سیریز دیکھی۔جس کی مرکزی کردار ایک عورت تھی جو شوہر کی ڈانٹ ڈپٹ کا شکار رہ کر ذہنی مریضہ بن چکی تھی۔ اچانک بیگم کی آواز آئی “ خدمتیں جتنی مرضی کر لو ان کی یہ مینٹل ٹارچر کرنے سے باز نہیں آتے۔سستے انسان۔”۔ میں نے اسے دیکھا تو اس نے منہ موڑ لیا۔ پھر ایک سین میں ایک اور کردار سفر سے واپس گھر آتے ہی اپنی بیوی کے لیے پھولوں کا گلدستہ لاتا ہے۔ فوراً مدھم سی آواز میں بولی “ کہاں ہوتے ہیں ایسے شوہر آجکل بھلا ؟”۔ میں نے اسے کہا “ اتنا غصہ کس بات پر ہے؟ وہ بس فکشن سیریز ہے۔”۔ جواباً گرجدار آواز آئی “ آپ کیوں چڑ رہے ہیں جیسے آپ کو کہا ہو ؟۔” میں نے صبر کا گھونٹ بھرا اور سو گیا۔
میں سفر سے واپس آیا تو بیگم نے Squid Game کا دوسرا سیزن لگا لیا۔ اچھا بھلا دیکھ رہے تھے۔ اچانک بولی “ میرا دل کر رہا میں ساؤتھ کوریا جاؤں”۔ میں سمجھا شو سے متاثر ہو کر کہہ رہی ہے۔ میں نے پوچھا کیوں ؟۔ بولی “ وہاں جا کر ان کو کہوں کہ پلیز سکوئڈ گیم کی لسٹ میں میرے ہسبنڈ کا نام بھی شامل کریں۔”
ایک انگریزی سیریز دیکھ رہے تھے جو مشہورِ زمانہ امریکی ڈاکو Billy the Kid کی سوانح حیات پر بنی ہے۔ دیکھتے دیکھتے بولی “ یہ فلموں میں غلط لوگوں کو کیوں گلوریفائی کرتے ہیں ؟”۔ میں نے کہا “ ہر تشدد پر مائل انسان کے پیچھے ایک ہسٹری ہوتی ہے۔ پھولن دیوی ہو گئی یا یہ بلی دی کِڈ ہو گیا۔ کوئی اپنے شوق سے اسلحہ نہیں اُٹھاتا۔ ظلم و جبر سے تنگ آ کر لوگ اسلحہ اُٹھاتے ہیں۔”۔ بولی “ مجھے بھی آپ اسلحہ اُٹھانے پر مجبور نہ کیجئیے گا۔”
ایک تو مجھے پتہ نہیں کس کیڑے نے کاٹا کہ بیگم صاحبہ کے سامنے دانشوری جھاڑنے لگا۔ میرا مشورہ یہی ہے کہ آپ ہو سکے تو الگ الگ فلم دیکھا کریں۔ یہ بیگمات چاہے کسی بھی رنگ، نسل، خطے سے تعلق رکھتیں ہوں مگر ہوتیں مزاجاً ایک سی ہیں۔آج ساتھ ٹی وی دیکھنے سے تنگ آ کر میں ابھی موبائل پر ایک ڈاکومنٹری “پلانٹ ارتھ تھری” دیکھ رہا تھا۔ہلکی بھوک لگی تو ساتھ نمکو کا پیکٹ کھول لیا۔ اس میں Sir David Attenborough پانڈا کے متعلق بتا رہے تھے کہ پانڈا اگر جاگ رہا ہو تو کھاتا رہتا ہے یا پھر سویا ہی رہتا ہے۔ پانڈا ارد گرد کچرا پھیلاتا رہتا ہے۔پانڈا اکیلا رہنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ پانڈا اداس رہتا ہے۔ اس کو آواز آ رہی تھی۔ یکدم بولی “کئیں شوہر بھی پانڈا ہوتے ہیں۔”
میرا حتمی مشورہ یہ ہے کہ آپ ہو سکے تو جو کچھ بھی دیکھنا ہو گھر سے باہر دیکھ لیا کریں۔
Saif UrRehman retweeted
میں نے مراثیوں کے منہ سے بھی اتنی تعریفیں نہیں سنیں، جتنی عمران خان کے منہ سے جنرل قمر جاوید باجوہ کی سنیں، 🤣😂
خواجہ آصف
فنِ مانگت میں جتنا تجربہ ہمارا ہے دنیا کے کسی ملک کا نہیں۔ ہم مقروض ممالک کے لیے بہترین کنسلٹنٹ ہیں۔
ایک صاحب کا بلا بہت ہی افلاطون تھا۔ اس نے محلے کی کوئی بلی نہ چھوڑی تھی۔ جب لوگوں کی شکایات کا انبار لگ گیا تو بلے کا مالک تنگ آ کر کلینک لے گیا اور اسے ٹیکے لگوا کر ناکارہ بنا دیا۔ ایک دن صاحب گھر آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کا بلا سامنے بیٹھا دیکھ رہا ہے اور ایک جوڑا اس کے سامنے آپس میں رومانس میں مبتلا ہے۔ صاحب نے اپنے بلے کو کہا " یہ کیا ہو رہا ہے ؟ " ۔ بلا بولا " باس ! آجکل کنسلٹنسی کر رہا ہوں"۔
گیٹ نمبر چار کی سول ترجمانی کی بھاری ذمہ داری شیخ رشید صاحب نے اُٹھا رکھی تھی مگر حالات نے کروٹ لی اور شیخ صاحب خود چالیس روزہ چلا کاٹنے کو غائب ہو گئے۔ واپس آنے کے بعد ان کو چپ لگی ہے اور اب وہ لال حویلی کے اطراف لگے بازار میں ناشتے کی ریڑھیوں پر پائے نان کھاتے نظر آتے ہیں۔ دلچسپ کردار رہے سٹوڈنٹ پالیٹیکس میں شیدا ٹلی سے ترقی پا کر شیخ رشید بنے اور سات بار وزیر بھی بنے۔ شیخ رشید کے انخلاء سے پیدا ہونے والے خلا کو فیصل واؤڈا بھرپور انداز میں پورا کر رہے ہیں۔ وہ اس گلے سڑے نظام پر لعنت بھیجتے ہیں۔ گیٹ نمبر چار کے فضائل بیان کرتے ہیں۔ تاریخ کا ستم دیکھئیے کہ وہ اسی نظام کا حصہ ہیں جس پر لعنت بھیجتے ہیں اور اسی پارٹی کے ووٹ سے منتخب ہوئے جو روٹی کپڑا مکان کے نعرے کے ساتھ خود کو آئین پاکستان کی موجد و محافظ کہتی ہے۔
فیصل واؤڈا کا پہلا تعارف ایک بزنس مین کے طور پر سامنے آیا جب انہوں نے تحریک انصاف کا علم اُٹھا کر سیاست میں قدم رکھا۔ ان کے کاروبار پر شکوک و شبہات پہلے بھی تھے لیکن اس وقت زیادہ گہرے ہوئے جب برطانیہ سے چوری شدہ قیمتی گاڑیاں برطانوی ادارے ٹریس کرتے کراچی پہنچ گئے اور وہ واؤڈا صاحب کے گیراج سے مل گئیں۔ بہرحال، اس وقت واؤڈا صاحب صاف چلی شفاف چلی سیاسی لانڈری کا حصہ تھے لہذا بات آئی گئی ہو گئی۔ ایسی ارب پتی کاروباریوں کے تعلقات بہت اوپر تک ہوتے ہیں یہ اس ملک کے پتھریلے حقائق ہیں۔ اوپر والوں کے ساتھ ہی سیٹنگ تھی اور اسی سیٹنگ سے ان کو سیاسی جماعت میں بھرتی کرا کے لانچ کیا گیا۔
ترجمانی تو ایسی بھرپور کرتے ہیں کہ ایک روز پہلے ہی تمام میڈیا چینلز پر ٹکر چلنے شروع ہو جاتے ہیں کہ کل فیصل واؤڈا اہم پریس کانفرنس کریں گے۔ گویا سارا نشریاتی شعبہ ریڈ الرٹ ہو جاتا ہے۔ پھر کانفرنس لائیو نشر بھی ہوتی ہے اور اس پر کئی گھنٹے ٹاک شوز بھی ہوتے ہیں۔ اس بحث میں جانا بیکار ہے انہوں نے کیا پیغام دیا۔ اہم بات یہ ہے انہوں نے کس کا پیغام دیا اور کس کس کو دیا۔ پیغام صاف تھا کہ سب اپنی صفیں درست کریں اور امام صاحب کے پیچھے نماز نیت لیں بصورت دیگر جبری اعتکاف پر بٹھا دیا جائے گا۔
مستقبل کے معاملات تو رب ہی جانے لیکن تاریخ کا ایک سبق یہ ہے کہ شیدا ٹلی سے شیخ رشید اور شیخ رشید سے شیخو بننے تک ایک دائرہ کا سفر ہے۔ حالات نے جب بھی کروٹ لی واؤڈا صاحب نجانے کیا بنیں گے۔ فی الحال تو ان کی آن بان اور شان کو دیکھتے ہوئے مجھے خدا کی شان یاد آ جاتی ہے۔ اصولِ پرواز کی تعریف کے مطابق بطخ یا مرغی کی طرح مکھی کو بھی نہیں اڑنا چاہیے کیونکہ مکھی کا وزن اس کے پروں کے حجم اور وزن سہارنے کی طاقت سے کہیں زیادہ ہے۔ مگر صاحبو یہاں بس مکھی اڑ رہی ہے اور کمال اڑ رہی ہے۔ تو یہ ہے خدا کی شان۔
کل تک لہجہ یہ تھا کہ ’’تیرا باپ بھی دے گا، تیرا باپ بھی نہیں روک سکتا، کسی کا باپ بھی نہیں لگا سکتا، سومنات کی طرح حملے کریں گے، بیس لاکھ لوگ ہیں، پہلی گولی میں کھاؤں گا، ان میں اتنی ہمت نہیں، ہمت ہے تو لگا کر دکھاؤ۔‘‘ ہر طرف للکار، ہر طرف دھمکی، ہر طرف فتح کے دعوے۔ پھر جب دوسری طرف سے طاقت کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے تو اچانک لہجہ بدل جاتا ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ سب کو کمزوروں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہئیے، کمزوروں پر تنقید نہیں کرتے، مظلوم کا ساتھ دینا چاہیے اور طاقتور کے سامنے بولنا آسان نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ۔۔
بھائی، پہلے یہ تو طے کر لو کہ آپ ہو کون؟ طاقتور یا کمزور؟ فاتح یا مظلوم؟ انقلاب لانے والے یا حالات کے ہاتھوں بے بس؟ اگر طاقتور ہو تو پھر یہ رونا دھونا کس بات کا ہے؟ وہ بیس لاکھ لوگ کہاں گئے؟ وہ سومنات پر حملے کا عزم کہاں گیا؟ وہ پہلی گولی کھانے کا اعلان کرنے والے کہاں ہیں؟ اور اگر کمزور ہو تو پھر بار بار اپنی طاقت کے ڈھول پیٹ کر خود کو اور اپنے کارکنوں کو کس خوش فہمی میں مبتلا کرتے رہے ہو؟
قابل تشویش بات میرے لیے یہ ہے کہ لانگ مارچ کے بیس لاکھ شرکاء کو یزیدیوں نے کہاں غائب کر دیا ہے۔ کیا ان کو خدانخواستہ پگھلا تو نہیں دیا گیا۔ آخر لاکھوں کا مجمع اچانک کہاں غائب ہو سکتا ہے۔ اور پشاور سمیت پورے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد جو مزید لاکھوں لوگ نکلے ان کے اجسام کہاں ہیں ؟۔ اس کا جواب دینا ہو گا۔ میں نے شہباز گل، وقار ملک، صابر شاکر، عادل راجہ وغیرہ کے ویلاگز بھی دیکھے کہ شاید وہی بتا سکیں کہ لاکھوں لوگ کہاں غائب کر دیے گئے ہیں مگر وہ بھی تاحال کچھ نہیں بول رہے۔ شاید کل تک صورتحال واضح ہو کہ لاکھوں لوگ کہاں گئے ہیں۔ اگر سسٹم نے ان کو غائب کر دیا ہے تو یہ اس صدی کا سب سے بڑا انسانی المیہ ہو گا۔
پی ٹی آئی اب سیاسی پارٹی نہیں رہی بلکہ ایک ہجوم بن چکی ہے جس کی باگیں باہر بیٹھے یوٹیوبرز کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جدھر چاہتے ہیں باگیں موڑ دیتے ہیں۔ ملک کے اندر تو پارٹی کو خان صاحب نے خود محمود خان اچکزئی کو ٹھیکے پر دے دیا ہے۔ اب اچکزئی کیوں چاہے گا کہ خان صاحب رہا ہو جائیں؟
ایک پاکستانی لڑکا ہے جو عدنان مسافر کے نام سے ٹریول وی لاگ بناتا ہے۔ جنگ سے قبل بھی وہ ایران گیا تھا اور اب حالیہ دورے میں وہ روزانہ ایران کے بازاروں اور پبلک مقامات کی فلم بندی کر کے پاکستانیوں کو شرم دلاتا رہا کہ جنگ کے باوجود ایران میں مہنگائی نہیں ہے، لوگ بھرپور زندگی جی رہے ہیں اور سیر و سیاحت کر رہے ہیں۔
کل وہ ایک پاسداران کے ہاتھ چڑھ گیا۔ چار گھنٹے کی تفتیش اور سخت ذہنی اذیت دینے کے بعد جب کچھ نہ ملا تو الٹا معافی مانگنے کے بجائے اگلے شہر تک سفر کے دوران اس کے ساتھ ایک بندہ لگا دیا۔
اور ذلت کی انتہا دیکھیں کہ بس والوں کو اسے سیٹ دینے سے منع کیا گیا اور اسے فرش پر بیٹھ کر پورا سفر کرنے پر مجبور کیا گیا۔
یہ ہیں خمینی کے ایران میں پاکستانیوں کی کل اوقات۔ جن کے لیے 99 فیصد پاکستان پاگل بنے ہوئے ہیں۔
ابرار نامی ایک اور پاکستانی سیاح ہے جو وائلڈ لینز کے نام سے وی لاگ بناتا ہے۔ اس کے پاس جرمن شہریت بھی ہے۔ وہ موٹر سائیکل پر دنیا کی سیر کرتا ہے۔ غالباً پچھلے سال وہ افغانستان اور وسطی ایشیا سے ہوتا ہوا روس جا پہنچا۔
اس کے بقول روسی بارڈر والوں نے اس کے ساتھ جو سلوک کیا وہ زندگی بھر یاد رہے گا، کیونکہ اس کے پاسپورٹ پر افغانستان کا اسٹیمپ تھا، حالانکہ روس واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا ہوا ہے۔
روس کے بعد وہ منگولیا گیا اور وہاں سے اس نے چین کے ویزے کے لیے اپلائی کیا تو وہاں چینی ایمبیسی نے افغانستان کا اسٹیمپ دیکھ کر اسے بتایا کہ آپ کے ویزے میں کم از کم تین ماہ لگیں گے اور پھر بھی مشکل ہے کہ مل جائے۔ جس کے بعد وہ جرمن پاسپورٹ کی بنیاد پر بغیر ویزے کے دو ہفتوں کے لیے چین میں داخل ہوا۔
روس اور چین اس وقت افغانستان اور ایران کے سب سے بڑے خیر خواہ بنے ہوئے ہیں، لیکن حالت یہ ہے کہ آپ کے پاسپورٹ پر ان ممالک کی اسٹیمپ لگی ہو تو یہ آپ کو اپنے ملک میں داخل ہونے نہیں دیتے۔
طالبان نے چین تک رسائی کے لیے واہ خان کی پٹی پر سڑک بنا دی، لیکن چین خوشی کی بجائے تحفظات کا اظہار کر رہا ہے۔ یہ ہوتی ہے غیر ذمہ دار اور ناکام ریاست کی نشانی۔
دوسری جانب وہی چین پاکستان کے سی پیک کے لیے اپنی پوری توانائیاں صرف کر رہا ہے۔
اور ایک پاکستانی زومبیز ہیں جو کھاتے پیتے اور رہتے پاکستان میں ہیں لیکن ان کی ہمدردیاں ایران اور افغانستان کے ساتھ ہیں۔
روزگار عربوں سے چاہیے لیکن دل ایران کے لیے دھڑکتا ہے۔
ویزہ مغرب اور امریکہ کا چاہیے لیکن گیت تالبان کے گا رہے ہیں۔
اب اس مخلوق کا کیا کرنا ہے؟
نانا پاٹیکر کے آخری الفاظ
پاکستانیوں بھول نہ جانا ایک بے گناہ شخص تمہارے بچوں کے مستقبل کی خاطر جیل کاٹ رہا ہے🥹😭
ایک یوتھیے کے وال سے
Saif UrRehman retweeted
ہوشاپ گرونک بلوچی بازار کے رہائشی پیرجان ولد چارشمبئے نے پریس کانفرنس میں اپنے بھائی دیدگ سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اس کے کسی قول و فعل کا ذمہ دار خاندان نہیں ہوگا۔
Saif UrRehman retweeted
منشیات کی بین الاقوامی اسمگلنگ کی بڑی کوشش ناکام، اے این ایف حکام کے مطابق جوہسک، کیچ میں واقع یہ کمپاؤنڈ افغانستان سے لائی گئی منشیات کو عارضی طور پر ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہو رہا تھا، جسے سمندر کے راستے بیرونِ ملک منتقل کیا جانا تھا۔
#ANF #Balochistan #AntiDrugs #Kech
Saif UrRehman retweeted
#خارجی_مارچ_نامنظور #فتنہ_سیاسی_خوارج_ختم_کرو
🚨بابا جی نے نیازی کو تن دیا
مدینہ کی ریاست کے دعویدار نے ملک کو ناچ گانے پر لگا دیا
Saif UrRehman retweeted
بہت عرصے بعد یہ مناظر دیکھنے کو ملے ہیں زندگی بور اور پھیکی پھیکی سی لگنے لگی تھی
شکریہ یوتھیو
😂😂😂😂
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اقرار کر رہے ہیں کہ ہمارے مذاکرات دہشت گردی کے معاملات پر ناکام ہو گئے ہیں۔ جو جماعت دہشت گردی کے معاملے میں ریاست کی بجائے دہشت گردوں کے ساتھ کھڑی ہو، اس پر دہشت گردوں کی طرح پابندی لگانی چاہیے۔
سہیل آفریدی نے اپنا مارچ خیبر پختون خواہ کے ان جنوبی اضلاع سے شروع کیا جہاں اس وقت دہشت گردی عروج پر ہے اور عام لوگوں کے لیے دن کے وقت بھی یہ علاقہ غیر محفوظ ہے، لیکن پی ٹی آئی کا قافلہ بغیر کسی سیکیورٹی کے رات کو بھی مکمل سکون سے سفر کر سکتا ہے۔
اس وقت آفریدی کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ ایمرجنسی یا گورنر راج لگا کر اسے سیاسی شہادت کے درجے پر فائز کیا جائے، لیکن ن لیگ اور پیپلز پارٹی جیسی گھاگ جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ذرا اسے کھیلنے دیا جائے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، تمام تر سرکاری وسائل کے باوجود مارچ میں شرکا کی تعداد توقع سے انتہائی کم ہے، اور تین دن بعد جب یہ صوابی انٹر چینج پہنچیں گے تو سوائے دہاڑی دار مزدوروں اور چند افغانوں یا ٹی ٹی پی کے پیادوں کے علاوہ عام کارکن نہ ہونے کے برابر رہ جائیں گے۔ اس مایوس کن صورت حال میں اگر وہ مارچ کو ملتوی یا کینسل کرتے ہیں تو یہ اس پارٹی کی سیاست میں آخری کیل ثابت ہوگی، جس کے بعد یہ کسی بڑے سرکس کے قابل نہیں رہیں گے۔
اور اگر یہ اپنے چند سرپھروں کو لے کر آگے بڑھتے ہیں تو پنجاب میں داخل ہونے کے بعد پیچھے ایمرجنسی لگا دی جائے گی، اور سہیل آفریدی اپنے سیکیورٹی پروٹوکول ہی میں ہاتھوں گرفتار ہوں گے۔
ان کے خلاف ریاست مخالف اور دہشت گردی کے مکمل کیسز تیار پڑے ہوئے ہیں، جس کے بعد سہیل آفریدی اور ان کے سرپھرے کئی سالوں تک سلاخوں کے پیچھے ہی رہیں گے۔
یوں اس جماعت کے سرپھرے گروپ کا مکمل خاتمہ ہوگا۔
ان کا اسد قیصر نامی دانشور، دھمکی دے رہا ہے کہ:
"ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر یہ گورنر راج یا ایمرجنسی لگاتے ہیں یا سہیل آفریدی کو نااہل کرتے ہیں تو ہم تمام اسمبلیوں سے استعفے دے کر نظام سے نکل جائیں گے۔"
اگر ان لوگوں نے یہ کام کر دیا تو اس سے بڑی خوشی کی بات اور کیا ہوگی کہ پورا نظام اس گند سے صاف ہو جائے گا۔
ضمنی الیکشن میں ان کی سیٹیں کم ہو سکتی ہیں، زیادہ تو نہیں ہو سکتیں۔ ویسے بھی پنجاب میں مشکل سے ان کو کوئی جیتنے دے، اور کوئی فیض حمید بھی نہیں جو کے پی کے میں ان کو پھر سے جتوا دے۔
گنڈا پور ہو یا سہیل آفریدی، صرف صوبائی وسائل کے بل بوتے پر آئے روز یہ تماشے کرتے آرہے ہیں، ورنہ باقی تینوں صوبوں میں ان کے احتجاجی سیاست کا جنازہ کب سے نکل چکا ہے۔
اب استعفے دے کر یہ خود ہی فاتحہ پڑھیں گے۔
آگے بس تاریخ کا کوڑہ دان ہے۔









