آپ تمام احباب کو دعوت دی جاتی ہے کہ آج جمعہ ملتان میں میری کتابوں کی تقریبِ رونمائی میں ضرور شرکت کریں۔
بالخصوص طلبہ و طالبات کو خصوصی دعوت دی جاتی ہے کہ وہ تشریف لائیں تاکہ ان کے ساتھ ایک بھرپور اور بامقصد انٹرایکٹو نشست کا انعقاد کیا جا سکے۔
People of Multan & South Punjab should visit the book fair & purchase books of their choice.
Multan International Book Fair, 6, 7 , 8 November 2026
My books comprising the governance model are also available at Multan Kitab Ghar Both 26 to 33.
In my book The Bureaucratic Coup, I have argued that an independent commission should be established to investigate the assets of every bureaucrat and determine how they accumulated their wealth.
I have explained in my book how bureaucracy is betraying the nation!
Mahmood Tariq Awan retweeted
چھ نومبر بروز جمعہ کو شام ساڑھے سات بجے ریپبلک پالیسی کی کتاب " Beyond Four Provinces" کی ملتان انٹرنیشنل بک فیئر میں Inauguration Ceremony ہو گی۔
اس تقریب میں ہم فیڈرل یونٹس، انتظامی یونٹس اور مقامی حکومتوں کے کردار پر بات کریں گے۔
جنوبی پنجاب کے دوستوں سے شرکت کی اپیل ہے۔
چھ نومبر بروز جمعہ کو شام ساڑھے سات بجے میری کتاب " Beyond Four Provinces" کی ملتان انٹرنیشنل بک فیئر میں Inauguration Ceremony ہو گی۔
اس تقریب میں ہم فیڈرل یونٹس، انتظامی یونٹس اور مقامی حکومتوں کے کردار پر کھل کر بات کریں گے۔
جنوبی پنجاب کے دوستوں سے شرکت کی اپیل ہے۔
Mahmood Tariq Awan retweeted
چھ نومبر بروز جمعہ کو شام ساڑھے پانچ بجے ریپبلک پالیسی کی کتاب " دی بیوروکریٹک کو" کی ملتان انٹرنیشنل بک فیئر میں Inauguration Ceremony میں شرکت کریں۔
اس تقریب میں ہم پاکستانی ریاست اور بیوروکریسی کی کردار پر بات کریں گے۔
جنوبی پنجاب کے سٹوڈنٹس, ایکڈیمیا اور عوام شرکت کریں۔
چھ نومبر بروز جمعہ کو شام ساڑھے پانچ بجے ریپبلک پالیسی کی کتاب " دی بیوروکریٹک کو" کی ملتان انٹرنیشنل بک فیئر میں Inauguration Ceremony میں شرکت کریں۔
اس تقریب میں ہم پاکستانی ریاست اور بیوروکریسی کی کردار پر بات کریں گے۔
جنوبی پنجاب کے دوست و احباب شرکت کریں۔
ڈپٹی کمشنرز کی تعیناتی کے معیار (Merit Criteria) کے حوالے سے میں نے چیف سیکرٹری پنجاب کو خط لکھا ہے کہ وہ مجھے قواعد و ضوابط فراہم کریں جن کی بنیاد پر DCs تعینات کیے جاتے ہیں۔
مجھے سول سروس میں پندرہ سال ہو چکے ہیں، لیکن آج تک مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ میرٹ کی تعریف کیا ہے؟
Israel and the USA are at war, yet they have held free and fair elections.
There is a lesson to be learnt here. Nations that ensure free and fair elections, even in times of emergency, are destined to grow.
Mahmood Tariq Awan retweeted
The debate over Pakistan’s governance must begin with a more fundamental question: does the structure of the state reflect the constitutional identity of the country?
republicpolicy.com/pakistan-…
Mahmood Tariq Awan retweeted
ایک سول سرونٹ نے وزیرِاعلیٰ پنجاب، مریم نواز صاحبہ کو ایک خط تحریر کیا ہے، جس میں سول سروس کے آئینی فراڈ اور ایسے نظامِ حکمرانی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جو قانون " لیجیسلیشن " کے بجائے قواعدِ کار (Rules of Business) کی بنیاد پر غیر آئینی طریقے سےچلایا جا رہا ہے۔
مزید برآں، انہوں نے درخواست کی ہے کہ انکی اس تحریری درخواست کو پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) کو بھجوایا جائے تاکہ اس معاملے کا پارلیمانی سطح پر جائزہ لیا جا سکے۔
میں نے وزیرِاعلیٰ پنجاب، مریم نواز صاحبہ کو ایک خط تحریر کیا ہے، جس میں سول سروس کے آئینی فراڈ اور ایسے نظامِ حکمرانی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جو قانون " لیجیسلین " کے بجائے قواعدِ کار (Rules of Business) کی بنیاد پر غیر آئینی طریقے سےچلایا جا رہا ہے۔
Mahmood Tariq Awan retweeted
Team Republic Policy is participating at Multan International Book Fair from 6th November to 8th November, 2026.
Please visit us at Multan Kitab Ghar. Booth are from 27 to 33.
Mahmood Tariq Awan retweeted
پاکستان میں قانون سازوں کی بے بسی اور بیوروکریسی کی غیر معمولی طاقت کا ایک بنیادی سبب معلومات پر اس کا کنٹرول ہے۔ بیوروکریسی فائل، اعداد و شمار اور پالیسی کے عمل پر دسترس رکھتی ہے، جبکہ منتخب نمائندے اکثر قانون سازی اور پالیسی سازی کے لیے اسی انتظامی ڈھانچے سے حاصل ہونے والی معلومات پر انحصار کرتے ہیں۔ یوں غیر منتخب انتظامی قوت فیصلہ سازی میں منتخب سیاسی قیادت پر سبقت لے جاتی ہے۔
چوہدری افتخار چھچھڑ، رکن پنجاب اسمبلی، نے ریپبلک پالیسی کے پلیٹ فارم سے گفتگو کرتے ہوئے قانون سازوں کی استعدادِ کار اور بیوروکریسی کی بالادستی کے اسی اہم مسئلے کی نشاندہی کی۔
ریپبلک پالیسی کی کتاب *Fixing the Legislative Branch of Government in Pakistan* میں بھی قانون ساز اداروں کی استعدادِ کار، بیوروکریسی کی بڑھتی ہوئی طاقت اور سیاسی قیادت کی پالیسی سازی کی صلاحیت جیسے بنیادی سوالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اس اہم موضوع کو مزید سمجھنے کے لیے ریپبلک پالیسی کی کتاب کا مطالعہ کیجیے۔
0341-4222501
Article misses the fundamental question of administrative federalism. Each tier of government must have it's own civil services.
Then, the colonial scheme of reserving posts for one cadre must end.
The civil services must correspond to their political executive & legislature.
Pakistan does not need another elite bureaucratic layer in the form of a National Executive Service (NES). It needs fundamental civil-service redesign:
Dismantle PAS and devolve administration to local governments (LGs).
Establish a new Finance & Economy (F&E) cadre alongside specialised vertical professional streams.
Protect tenures and introduce measurable KPIs.
Devolve policing to LGs.
Merge FIA and IB into a Federal Intelligence and Investigation Bureau (FIIB).
Reform must change the architecture of governance, not merely rearrange its occupants.
My detailed research paper, Civil Service ReDesign, is available on The Pakistan Plan website (linked in the following post). @CMShehbaz @betterpakistan @SenatorSaleem @BBhuttoZardari @Financegovpk @nadeemhaque @rogueonomist @DrIkramulHaq @OfficialDGISPR @dawn_com
dawn.com/news/2041140/
Mahmood Tariq Awan retweeted
وفاقی یونٹس یا انتظامی یونٹس! میری کتاب Beyond Four Provinces کا بنیادی استدال
میری کتاب Beyond Four Provinces میں پیش کردہ گورننس ماڈل کی بنیاد پاکستان کے ریاستی فلسفے پر ہے، جس کی وضاحت آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 1 میں موجود ہے۔ میں نے اس ماڈل کو بنیادی طور پر دو سیاسی و آئینی تصورات، یعنی وفاقیت (Federalism) اور جمہوریہ (Republicanism) کے تناظر میں مرتب کیا ہے۔
پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے، اس لیے اس کی تشکیل محض انتظامی اکائیوں کے بجائے وفاقی اکائیوں (Federal Units) کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ وفاقی اکائیوں اور انتظامی اکائیوں ( Administrative Units)کے تصورات میں بنیادی فرق ہے۔ وفاقی اکائیاں آئینی، سیاسی اور انتظامی خودمختاری کی حامل ہوتی ہیں اور وفاق کی تشکیل میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں، جبکہ انتظامی اکائیاں وفاقی یا صوبائی اکائیوں کے اندر انتظامی سہولت، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے قائم کی جاتی ہیں۔
انتظامی اکائیوں کی تشکیل اور مقامی حکومتوں کا قیام دراصل اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی (Devolution) کے تصورات کا حصہ ہیں۔ اس کے برعکس وفاقیت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ وفاق اپنے آئینی وفاقی یونٹس کے ذریعے تشکیل پاتا ہے، نہ کہ محض انتظامی تقسیم کے ذریعے۔
میری کتاب کا بنیادی موضوع یہی ہے کہ پاکستان میں وفاقی اکائیوں اور ان کے اندر انتظامی اکائیوں کا آئینی، سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ کیسا ہونا چاہیے، تاکہ وفاقیت، جمہوریت، اختیارات کی تقسیم اور عوامی حکمرانی کے اصولوں کو حقیقی معنوں میں نافذ کیا جا سکے۔
اس موضوع کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے میری کتاب *Beyond Four Provinces* ضرور پڑھیے۔ یہ وینگارڈ بکس پر دستیاب ہے اور ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
+92 341 4222501
وفاقی یونٹس یا انتظامی یونٹس! میری کتاب Beyond Four Provinces کا بنیادی استدال
میں نے کتاب کو پاکستانی ریاست کے دو سیاسی و آئینی تصورات، یعنی وفاقیت (Federalism) اور جمہوریہ (Republicanism) کے تناظر میں مرتب کیا ہے اور وفاقی اور انتظامی یونٹس کے درمیان فرق کو واضح کیا ہے۔
Mahmood Tariq Awan retweeted
Meet Republic Policy Authors & purchase their books at Mulan International Book fair.
Republic Policy Think Tank is holding a National Book Reading Movement & invite the students, readers & public to visit Multan international book fair & purchase books of their choice.
#nationalbookreadingmovement
Mahmood Tariq Awan retweeted
Op-ed: Pakistan Needs New Federal Units, Not Administrative Divisions
A few days ago, Interior Minister Mohsin Naqvi was asked about progress on the creation of new provinces. Against the backdrop of political uncertainty in Khyber Pakhtunkhwa, including the reported imposition of Governor’s Rule and questions surrounding the provincial government, the future of the proposed administrative changes has become increasingly uncertain. Naqvi responded that the process was advancing, with documentation and other formalities under way, and that new administrative units would be created.
But the central question is not simply whether Pakistan should create more administrative units. It is what kind of units the country needs—and what problems they are expected to solve.
Read more: republicpolicy.com/pakistan-…


























