Pinned Tweet
اس تصویر کو دیکھ کر آپ حیران ہونگے کہ یہ کون ہے؟
جناب یہ پختون خواہ کے مشیر اطلاعات شفیع جان ہیں۔ جو آج سے سات سال پہلے ٹرانسجینڈر کمیونٹی کا صدر تھا۔ اور ٹرانسجینڈر گل چاہت کا شاگرد خاص بھی تھا۔
اب شفیع جان اپنے اس تصویر سے انکار بھی نہیں کرسکتا۔ یہی لڑکا آج ٹی وی پر بیٹھ کر ہر سیاسی رہنما کی تضحیک کرتا ہے۔
@ShafiJanPTI
افغان کمشنریٹ پشاور کی املاک پر قبضہ اور افغان شہریوں کو بھاری رقوم کے عوض پاکستانی شہریت دلوانے کا خفیہ نیٹ ورک منظر عام پر ۔ فضل الرحمٰن کو اب جواب دینا ہوگا!
پی ڈی ایم کے دورِ حکومت میں افغان ریفیوجیز کمشنریٹ کی اہم سرکاری املاک فضل الرحمٰن کے قریبی حلقوں کے زیرِ استعمال کیسے رہیں جہاں بھاری رقوم حاصل کرکے افغانیوں کو پاکستانی شہریت دینے کا خطرناک کھیل کھیلا جاتا تھا
حیات آباد فیز 5 کے سرکاری بنگلے نمبر 4 اور 5 کن قانونی تقاضوں کے تحت قاری رؤف، قاری حیات اللہ، مامون احمد جان اور ضیاء الرحمٰن کے برادرِ نسبتی کے زیرِ استعمال رہے؟
مصدقہ اطلاعات کے مطابق افغان شہریوں کو بھاری رقم کے عوض پاکستانی شناخت اور شہریت دلوانے کے لیے انہی سرکاری بنگلوں کو ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا
افغان ریفیوجیز کمشنریٹ کے سرکاری وسائل، سہولیات اور انتظامی مشینری
فضل الرحمن اور اسکے بھائی ضیاء الرحمن کے اشاروں پر مخصوص افراد کے لیے استعمال ہوتی رہی
فضل الرحمن یہ بتائے کے
سلیم خان کو عہدے سے ہٹا کر عباس خان کو اضافی چارج دینے کے پیچھے اصل مقاصد کیا تھے؟ کیا اس انتظامی تبدیلی نے غیر قانونی سرگرمیوں کی راہ ہموار نہیں کی؟
ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کے فضل الرحمٰن کے سیاسی اثر و رسوخ کو سرکاری اداروں اور وسائل تک غیر معمولی رسائی کے لیے بے دردی سے استعمال کیا جاتا رہا
فضل الرحمن یہ بھی بتائے کے
بنگلوں کی ملکیت، الاٹمنٹ، استعمال اور وہاں مقیم افراد کے کوائف کی مکمل تحقیقات کیوں نہ ہوں؟
فضل الرحمٰن جواب دیں: کیا ان کے قریبی حلقوں کو سرکاری املاک اور افغان شہریوں کی پاکستانی شہریت کے غیر قانونی نیٹ ورک میں کوئی سہولت کاری حاصل تھی؟
معاملے کی شفاف تحقیقات، افغان ریفیوجیز کمشنریٹ کے ریکارڈ کی جانچ اور متعلقہ افسران و اہلکاروں کے احتساب کو یقینی بنایا جائے اور متعلقہ ادارے حقائق عوام کے سامنے رکھیں
گئی بھینس پانی میں ۔۔۔۔ 🔥🔥🔥
مولانا فضلا الرحمان کے بیٹے اور سابقہ وزیر مواصلات اسعد محمود کے ساتھ ایک مدرسہ میں جنسی زیادتی ہوئی تھی میں اسکا گواہ ہوں ۔
اصل کہانی تو اب سامنے آئی 🔥🔥🔥
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اسد محمود کی مبینہ نازیبا حرکات، CCTV فوٹیج سامنے آگئیں!
ویڈیو میں اسد محمود کو اسلام آباد کے سیکٹر F-10 میں اپنی محبوبہ کے فلیٹ پر قابلِ اعتراض حرکات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو دین کے نام پر سیاست کرتے ہیں، خود کو مولانا کہتے ہیں اور دین کی خدمت کے دعوے کرتے ہیں، لیکن ان کا کردار کتنا گندہ ہے آپ دیکھ سکتے ہیں۔
ان بیہودہ لوگوں کے خلاف کاروائی آخر کب ہو گی!!
سہولت یا نئی الجھن؟
کراچی کی یونیورسٹی روڈ پر نئے یوٹرن کے غیرمعمولی ڈیزائن پر شہری سوال اٹھانے لگے۔
ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی افتتاح سے نہیں، عوام کو ملنے والی آسانی سے جانچی جانی چاہیے!
#Karachi #UniversityRoad #RedLineBRT #UrbanPlanning #PublicAccountability
🚨 7 کروڑ روپے، 3 سال کا انتظار، اور نتیجہ صفر؟
#NewUnitsPublicDebate #Sindh #Accountability
نوشہرو فیروز کا تعلیمی منصوبہ التواء کا شکار! عوام کے کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود تعلیمی سہولیات کی فراہمی میں تاخیر کیوں؟ سندھ حکومت جواب دے، آخر نگرانی کا نظام کہاں ہے؟ کیا بہتر انتظامی نظام اور نئے یونٹس پر سنجیدہ بحث اب ناگزیر نہیں؟
فضلو کے مدرسے سے بھاگے بچے نے ساری حقیقت بے نقاب کر دی!
⭕ فضلو کے مدرسے میں بچوں کو دین کی تعلیم کی آڑ میں ذاتی سیاست اور گندے کاموں کیلئے استعمال کیاجاتا ہے۔
⭕ آئے دن مدراس کے بچوں کو جلسوں اور احتجاجوں کیلئے سڑکوں پر نکالا جاتا ہے۔
⭕ بچوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ اگر وہ فضلو کے مذموم ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے مارے گئے تو شہید کہلائیں گے۔
یہ سیاست نہیں بلکہ سراسر بھونڈا اور گھٹیا پن ہے۔
فضل الرحمان کے مدارس میں معصوم بچوں کے ج نسی استحصال کے شرمناک واقعات
فضل الرحمان کے مدارس کے بچے نہ صرف سیاسی مقاصد کیلئےاستعمال ہوتے ہیں بلکہ جنسی استحصال کابھی شکارہوتے ہیں
جے یو آئی (ف)کے مدارس میں طلبہ کیساتھ زیادتی اورجنسی درندگی کے متعدد شرمناک واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں
ملکی وغیرملکی جرائد نے بھی جے یو آئی (ف) کے مدارس میں بچوں کیساتھ زیادتی کے واقعات کو رپورٹ کیا
جے یو آئی (ف)کے مفتی عزیز الرحمان اور قاری شمس الدین کی معصوم بچوں سے جنسی درندگی کےواقعات رپورٹ ہوئے
ستم ظریقی یہ ہےکہ جے یو آئی (ف) سے منسلک مدرسے کے طالبعلم سے جنسی درندگی کرنے والے مولوی کیخلاف فضل الرحمان نے منہ تک نہ کھولا
جے یو آئی (ف) کے رہنمامفتی کفایت اللہ نے مانسہرہ زیادتی کے مجرم قاری شمس الدین کوڈھٹائی کیساتھ اپنے پاس پناہ دے رکھی تھی
مدرسہ کے طلبہ کیساتھ جنسی درندگی میں ملوث تمام درندوں کیخلاف فوری، بے رحم اور سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے
ماشاللہ صدرالدین ہاشوانی کے اس پرسنل خانصامے @IrshadBhatti336کو کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں کہ یہ بدقمعاش عدلیہ کی توہین کرتا رہے لیکن اس پر توہین عدالت کا کیس نہیں ہو سکتا۔
جج صاحبان اس کو صحافی سمجھ کر مت چھوڑیں، یہ صحافی نہیں بلکہ وین پاون آلی ماسی کا میراثی پتر ہے۔ اس کو تن کر رکھیں
اسد الرحمان کا عاشق بھی نکل آیا۔
اس کے مطابق پہلے پہل اسد الرحمان اس کے پاس آتا بھی تھا اور بچپن میں child abuse کے قصے بھی سناتا تھا۔ جبکا بڑا ہوا تو اپنے پرانے دوستوں کو بھول گیا
ضیاء الرحمٰن کی سرکاری ملازمت کے پوشیدہ اوراق
قسط نمبر ۸
فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود کی وزارت میں ڈی آئی خان کی 5 سڑکوں پر بے ضابطگیاں رپورٹ
سی ایس آر رپورٹ کے مطابق اپریل 2022 سے اگست 2023 تک پانچ منصوبوں کی دوبارہ ٹینڈرنگ میں نظرثانی شدہ نرخ غیرمعمولی بڑھے
سی ایس آر 2014 کا مجموعی تخمینہ تقریباً *1 ارب 61 کروڑ روپے* تھا، جس پر سنگین مالی سوالات اٹھے
رپورٹ کے مطابق، پانچ منصوبوں کے منظور شدہ ٹھیکے تقریباً *6 ارب 71 کروڑ روپے* کی بھاری مالیت تک پہنچے
تخمینوں اور ٹھیکوں میں تقریباً *5 ارب 10 کروڑ روپے* کے بھاری فرق نے مالی شفافیت پر سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں
رپورٹ میں چار منصوبوں کی بولیاں 55 فیصد زائد ہونے کا دعویٰ مالی نگرانی کے نظام پر سنگین شکوک و شبہات پیدا کر دیے
پانچویں منصوبے میں دیے گئے اعداد کے مطابق سی ایس آر 2014 کے تخمینے سے تقریباً 427.5 فیصد اضافہ سنگین تحفظات کو جنم دیا
این ایچ 55 پر قریشی موڑ تا مڑیالی منصوبے کا ابتدائی تخمینہ *14 کروڑ 52 لاکھ روپے* تھا
رپورٹ کے مطابق، قریشی موڑ تا مڑیالی منصوبے کا منظور شدہ ٹھیکہ *76 کروڑ 59 لاکھ 3 ہزار روپے* تک پہنچا
اسی منصوبے کے تخمینے اور ٹھیکے کی رقم میں *62 کروڑ 7 لاکھ 3 ہزار روپے* کا فرق سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے
*ایف آئی اے نے مولانا اسعد محمود کو انکوائری کا باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے 10 نومبر کو نیب راولپنڈی طلب کرلیا*
فضل الرحمان سے متعلق پہلی بار منظرِ عام پر آنے والی تہلکہ خیز معلومات
متحدہ عرب امارات میں فضل الرحمٰن کے مالیاتی نیٹ ورک کے اہم انکشافات، فرنٹ مین کے ذریعے بھاری رقوم کی منتقلی کا شبہ
فضل الرحمٰن کے بیرونِ ملک مبینہ مالیاتی معاملات اور اثاثوں کے حوالے سے ایک نیا اہم سوال سامنے آ رہا ہے۔ مصدقہ معلومات کے مطابق، فضل جمیل نامی شخص متحدہ عرب امارات میں فضل الرحمٰن کے مبینہ فرنٹ مین کے طور پر کام کر رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فضل جمیل متحدہ عرب امارات میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر بھی ہیں
ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں اسی شخص کے ذریعے فضل الرحمٰن کے لیے بڑی مقدار میں غیر ملکی کرنسی (Foreign Currency) جمع اور منتقل کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا فضل جمیل محض جماعتی عہدیدار ہیں یا ان کے ذریعے کوئی ایسا مالیاتی نظام بھی چلایا جا رہا ہے جس کی تفصیلات اور ذرائع آمدن عوام کے سامنے نہیں آئے؟
فضل الرحمٰن جو طویل عرصے سے ملکی سیاست میں ایک مفاد پرست سیاست دان ہونے کا فائدہ اٹھاتے رہے ہیں، ان کے لیے یہ سوالات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ حالیہ ماضی میں بھی ان کے اثاثوں، مالی بے ضابطگیوں، سیاسی اثرورسوخ کے استعمال اور خاندان کے مالی معاملات پر مختلف سوالات اور الزامات سامنے آتے رہے ہیں جنکا تا وقت جواب نہیں دیا گیا
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ فضل جمیل اور فضل الرحمٰن کے درمیان مالی و کاروباری روابط کی مکمل چھان بین کی جائے۔ بالخصوص یہ معلوم کیا جائے کہ متحدہ عرب امارات میں کون سے مالیاتی ذرائع استعمال ہو رہے ہیں، غیر ملکی کرنسی کہاں سے حاصل ہوتی ہے، اس کی منتقلی کا طریقۂ کار کیا ہے اور کیا متعلقہ رقوم پاکستانی قوانین کے مطابق ظاہر کی گئی ہیں؟
جن اہم سوالات کے جواب ضروری ہیں وہ یہ ہیں:
1. فضل جمیل کے فضل الرحمٰن کے ساتھ مالی اور کاروباری تعلقات کی اصل نوعیت کیا ہے؟
2. کیا فضل جمیل متحدہ عرب امارات میں فضل الرحمٰن کے مالی معاملات بھی دیکھتے ہیں؟
3. اگر بڑی مقدار میں غیر ملکی کرنسی جمع یا منتقل کی جا رہی ہے تو اس کا اصل ذریعہ آمدن کیا ہے؟
4. کیا ان مالی معاملات کی تفصیلات پاکستان یا متحدہ عرب امارات کے متعلقہ اداروں کے سامنے ظاہر کی گئی ہیں؟
5. کیا فضل الرحمٰن اور ان کے متعلقہ افراد کے بیرونِ ملک مالیاتی مفادات اور اثاثوں کی مکمل تفصیلات دستیاب ہیں؟
عوامی عہدوں پر فائز سیاسی قیادت سے مالی شفافیت اور جواب دہی کا تقاضا کرنا عوام کا حق ہے۔ فضل الرحمٰن اور فضل جمیل دونوں کو ان سوالات کا دستاویزی جواب دینا چاہیے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور کسی بھی ممکنہ مالی بے ضابطگی کی آزادانہ تحقیقات ہو سکیں
کرم سیکٹر میں پاک افـغـان سرحد کے قریب پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افـغـان سیکیورٹی کےایک اہلکار کو گرفتار کرلیا ہے۔
گرفتار اہلکار قاری وقاص عرف قدوس افغانستان میں سپین غر کا رہائشی ہے۔
اطلاعات کے مطابق گرفتاری کے وقت مذکورہ اہلکار نے خود کو سیکیورٹی فورسز کے سامنے سـریـنڈر کیا اور اپنا ایس ایم جی اس*لحہ بھی جمع کرا دیا۔
گرفتار افغان اہلکار کی جانب سے کھانے پینے کی درخواست پر پاکستانی سیکیورٹی نے اسے سہولت فراہم کی۔
السلام علیکم جمعہ مبارک !!
سورۃ الکہف کی تلاوت لازمی کریں !!!
التماس دعا !!! 🤲🏻
#JummahMubarak
فضل الرحمن کی کرپشن کے تہلکہ خیز اور خوفناک انکشافات کا سلسلہ جاری🔥🔥🔥🔥
سینیٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کی خرید و فروخت، فضل الرحمن کے سیاسی ٹکٹوں کا کاروبار بے نقاب
سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ نظریاتی وابستگی اور سیاسی خدمات کی بجائے بھاری مالی ادائیگیوں کے عوض تقسیم کیے جانے کا سنگین معاملہ سامنے آگیا
دستیاب معلومات اور سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمن کے دور میں سینیٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹوں کی خرید و فروخت کا ایک منظم سلسلہ جاری رہا، جس میں بھاری رقوم بطور مالی مراعات وصول کی گئیں
ان میں متعدد افراد کے نام سامنے آئے ہیں، جن میں ٹھیکیداروں اور کاروباری شخصیات سمیت سیاسی حلقوں سے وابستہ افراد شامل ہیں
تفصیلات کے مطابق بلوچستان سے سینیٹ کا ٹکٹ احمد خان نامی ٹھیکیدار کو ایک ارب روپے کی ادائیگی کے عوض دیا گیا۔ اس معاملے میں اسد محمود کے ڈیل طے کرانے کا ذکر بھی سامنے آیا ہے
اسی طرح عبدل شکور نامی ٹھیکیدار پر الزام ہے کہ اس نے ایران کے ساتھ سرحد پار تجارتی منصوبے میں سہولت کاری کے عوض سینیٹ کا ٹکٹ حاصل کیا
خیبر پختونخوا میں بھی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے فضل الرحمن کے بھائی عطاء الرحمن کا نام سامنے آیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مختلف حلقوں میں انتخابی کامیابی کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹکٹوں کی قیمتیں مقرر کی جاتی تھیں، یعنی جس امیدوار کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہوتے، اس سے زیادہ رقم طلب کی جاتی تھی
نوشکی سے تعلق رکھنے والے ٹھیکیدار عثمان بدینی کے حوالے سے بھی ایک سنگین انکشاف سامنے آیا ہے۔ عثمان بادینی نے قومی اسمبلی کی نشست کے حصول کے لیے پہلے ہی ادائیگی کر دی تھی، لیکن ٹکٹ کی حتمی تصدیق کے لیے مزید ایک ارب روپے ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا
یہ سنگین کرپشن محض سیاسی بے ضابطگی نہیں بلکہ جمہوری نظام، انتخابی عمل اور جمعیت علما اسلام کی ساکھ پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے
چند اہم سوالات جو فوراً جواب طلب ہیں:
* کیا ایک اسلامی نظریاتی سیاسی جماعت کے ٹکٹ نظریاتی کارکنوں کی بجائے بھاری مالی ادائیگی کرنے والے ٹھیکیداروں اور کاروباری شخصیات کو دیے جاتے رہے؟
* بلوچستان کے سینیٹ ٹکٹ کے عوض ایک ارب روپے کی ادائیگی کس کو اور کس طریقہ کار سے کی گئی؟
* اسد محمود کا ڈیل میں کیا کردار تھا؟
* کیا عطاء الرحمن خیبر پختونخوا میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹوں کی قیمتیں اور معاملات طے کرتے رہے؟
* عثمان بدینی سے مزید ایک ارب روپے کس نے اور کس بنیاد پر طلب کیے؟
اب وقت آگیا ہے کہ ان تمام الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں اور متعلقہ افراد سامنے آکر اپنی پوزیشن واضح کریں ۔ احتساب کرنے والے اداروں کو ان سنگین انکشافات کی فوری تفتیش کرنی چاہئے
معید حرامزادے کے بدلتے رنگ
2022 تک معید پیرزادہ ففتھ جنریشن وار کے سپہ سالار تھے۔ 2022 سے پہلے پاکستان فوج کی طرف سے لڑی جانے والی تمام جنگوں میں پاکستان کو فتحیاب قرار دیتے تھے۔ اچانک لفافہ بند ہوا تو اپنی قبل از وقت پیدائش کا ذمہ دار بھی پاکستان فوج کو کہنے لگ گئے۔
ان کا بچپن بھی کوئی قابل ستائش نہیں کیونکہ سارہ بچپن قوم لوط والی غلاظت میں گزرا۔ جوانی میں بھی عقل کرنے کی بجائے اسی بے غیرتی پر ڈھٹائی کے ساتھ ڈٹے رہے۔
باپ مر گیا تو اسی معید پیرزادہ نے مرے باپ کے انگوٹھے کاغذات پر لگا کر اس کی کچھ بچی کھچی جائیداد اپنے نام کرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش میں پکڑے گئے اور امارات کی حکومت نے جیل میں ڈال دیا، فیض حمید نے دبئی سے خصوصی درخواست کر کے چھڑوایا۔
اس کے بعد بھی بے غیرتی نہیں چھوڑی بلکہ اس نے اپنے دوست کی بیوی نجمہ کو سکالرشپ کے بہانے بیرون ملک بلوا کر شادی کا جھانسہ دے کر اس کا استعمال کیا ہے اور بعد میں یہی نجمہ استعمال کے لیے عمران نیازی کے حوالے کر دی اور بدلے میں معید پیرزادہ کی ویب سائٹ گلوبل ویلج کو 156 ملین تحریک انصاف حکومت نے جاری کیے۔۔
معید حرامزادے کو امید تھی کہ فیض در فیض ملتے رہیں گے لیکن ایسا ہوا نہیں اس لیے اب یہ امریکہ میں بیٹھ کر بے فیض ہی رہیں گے۔
@MoeedNj
پشاور سے سوات سیر کے لیے آنے والی خاتون سے پولیس اہلکاروں کی مبینہ زیادتی
بحرین سے واپسی پر میاں بیوی کو مینگورہ اینگروڈھیری چوک پر تفتیش کے بہانے روکا گیا اور بائی پاس روڈ پر ہوٹل لے جاکر خاتون کو زبردستی مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا
رحیم آباد پولیس نے متاثرہ خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کرتے ہوئے دونوں پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا
@KP_Police1
صدف احسان جیت گئی فضل الرحمن ہار گئے
مولانا حمداللہ کا صدف احسان کو مبارک باد دینا ثابت کرتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے صدف احسان کے سیٹ کے عوض بھاری رقم وصول کی تھی
@iHafizHamdullah
@ziaurrehman76 @MoulanaOfficial
سات کروڑ کا سودا پکڑا گیا: مولانا نے اپنی ہی نشست بیچ دی #ڈیزل_کو_شکست 🚨🚨
یہ پاکستان کی سیاست کا وہ منفرد کیس ہے جو نہ صرف قانون کی عدالت میں لڑا گیا بلکہ اخلاقیات اور سیاسی ایمانداری کی عدالت میں بھی کھل کر سامنے آ گیا۔
صدف احسان جمعیت علمائے اسلام (ف) کی مخصوص نشست پر منتخب ہوئیں۔ الیکشن کمیشن نے انہیں نوٹیفائی کیا، عدالتوں نے بار بار ان کی حیثیت تسلیم کی، اور آج وفاقی آئینی عدالت نے بھی جمعیت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔ مگر فضل الرحمان اور ان کی جماعت نے دو سال سے زیادہ عرصے تک اسی خاتون کو “اجنبی”، “نامعلوم” اور “پارٹی سے باہر کی شخصیت” قرار دے کر ہٹانے کی کوشش جاری رکھی۔
سوال یہ ہے کہ جب صدف احسان خود جمعیت سے تعلق رکھتی ہیں تو پھر مولانا کی یہ لڑائی کیوں؟
جواب صاف ہے۔ صدف احسان کے مقابلے میں جس خاتون کو مخصوص نشست پر لانا مقصود تھا، اسی نشست کے عوض "کامران مرتضیٰ" سات کروڑ روپے ایڈوانس وصول کر چکے تھے۔ پیسے وصول ہو چکے تھے، وعدہ ہو چکا تھا، اور اس لیے مولانا ڈیزل صدف احسان کو ہٹا کر اپنی پسندیدہ خاتون کو لانا چاہتے تھے۔ جب عدالت نے ان کے خلاف فیصلہ دے دیا تو وہی لوگ جو خود کو دین و سیاست کے محافظ سمجھتے ہیں، آج خود اخلاقی طور پر بے نقاب ہو گئے۔
یہ صرف ایک نشست کا معاملہ نہیں۔ یہ اس طرزِ سیاست کی تصویر ہے جہاں مخصوص نشستیں نظریے، قابلیت یا جماعتی وفاداری کے بجائے ایڈوانس رقم کے حساب سے طے کی جاتی ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام جیسی جماعت جو برسوں سے “دین کی بالادستی” کا نعرہ لگاتی رہی ہے، آج خود اس الزام کے سامنے کھڑی ہے کہ اس کے اندر مخصوص نشستیں بھی سودے بازی کا سامان بن چکی ہیں۔
آج عدالت نے انصاف کر دیا۔ مگر عوام کے سامنے یہ سوال کھلا رہ گیا ہے کہ جب جماعت خود اپنی نشست کو پیسوں کے بدلے فروخت کرنے پر تیار ہو تو پھر عوام سے کیے گئے وعدوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟
یہ فیصلہ صرف صدف احسان کی فتح نہیں۔ یہ اس سیاست کے خلاف ایک واضح پیغام ہے جس میں نشستیں بیچی جاتی ہیں اور پھر انصاف کو روکنے کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے جاتے ہیں۔
@ziaurrehman76 @KhawajaMAsif @TararAttaullah @MohsinnaqviC42
@KamranM69045926 @MoulanaOfficial
🚨 والدین کے لیے لمحۂ فکریہ!
#BetterGovernanceBetterFuture
#Karachi #NCCIA #ParentsAwareness
ماں باپ کم از کم اتنی تحقیق ضرور کریں کہ ان کے بچے کہاں ملازمت کرتے ہیں، کس نوعیت کا کام کرتے ہیں اور کس ماحول میں روزگار کما رہے ہیں۔ صرف اچھی تنخواہ دیکھنا کافی نہیں، کام کی قانونی حیثیت اور ادارے کی ساکھ جاننا بھی ضروری ہے۔ بچوں کے مستقبل سے بڑھ کر کچھ نہیں!
این سی سی آئی اے (NCCIA) نے گزشتہ رات کراچی کے علاقے ٹیپو سلطان میں واقع ایک کال سینٹر پر چھاپہ مارا.











