Sharafat Rana retweeted
آج صبح کا دلچسپ واقعہ 😁
میں آج صبح 04:30 پر شاپ سے گھر جا رہا تھا
کینال روڈ پر کیونکہ اب انڈر پاسز میں بھی سپیڈ کیمرے لگ گئے ہیں
تو 60 کی سست ترین رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا
جیسے ہی رفتار بڑھانے لگتا
یا سپیڈ کیمرہ آ جاتا
یا انڈر پاس آ جاتا
میں مسلم ٹاؤن کے انڈر پاس سے گزر
+
Sharafat Rana retweeted
🚨🚨
پی ٹی آئی کی قیادت کچھ دلیری پیپلز پارٹی سے ہی سیکھ لے!!!
جب ایک بار آئی جی سندھ مشتاق مہر کے ساتھ مبینہ غیرمناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا تو پوری سندھ پولیس چھٹی پر چلی گئی اور @BBhuttoZardari صاحب نے ایسا زبردست احتجاج کیا کہ اَس وقت کی اعلی ترین سیاسی و غیرسیاسی قیادت نے بلاول صاحب سے فوراٌ رابطہ کرکے صورتحال کو کنٹرول کیا اور پیپلز پارٹی کا احتجاج فیصلہ کَن ثابت ہوا۔
لیکن پی ٹی آئی کی اس نامعقول قیادت کی بزدلی کا عالم دیکھیئے کہ یہ آج تک اپنے منتخب وزیراعلی کو برآمد یا بازیاب نہ کرواسکے نہ آواز اٹھا سکے۔
عمران خان آپ کی تنظیم سازی پر میں حیران ہوں۔ اگر اس ٹیم کو لیکر آپ ۹۲ کا ورلڈ کپ کھیلتے تو پہلے میچ میں آپ کی ٹیم گھر چلی جاتی.
Sharafat Rana retweeted
لاڑکانہ اور اطراف کے اضلاع کے عوام کے لیے آج صحت کے شعبے میں ایک نئے دور کی بنیاد رکھی ہے، پرانے چانڈکا سول اسپتال کی جگہ تعمیر ہونے والا 600 بستروں کا پانچ منزلہ اسپتال اس خطے میں گزشتہ نصف صدی کا سب سے بڑا صحت کا منصوبہ ہے۔
پہلے مرحلے میں 371 بستروں، آٹھ آپریشن تھیٹرز، جدید ایمرجنسی، انتہائی نگہداشت اور تشخیصی سہولتوں کے ساتھ یہ اسپتال لاڑکانہ اور گردونواح کے اضلاع میں علاج کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرے گا اور علاج کی یہ تمام سہولیات عوام کے لئے بالکل مفت ہوں گی۔
اس اسپتال کی بنیاد رکھتے ہوئے مجھے ان خاندانوں کا خیال آیا جن کے لیے کسی اپنے کی صحت یابی پوری دنیا کی خوشی سے بڑھ کر ہوتی ہے، ہماری محنت تب رنگ لائے گی جب یہاں آنے والا ہر مریض شفایاب ہو اور اس کے گھر والوں کو اطمینان ہو، عوام نے ہمیں اپنے اعتماد کی طاقت دی ہے اور اس طاقت کا سب سے مثبت استعمال کسی کی زندگی بچانا ہے۔
Sharafat Rana retweeted
جب تک انتخابات میں شفافیت نہیں ہو گی جمہوریت پھل پھول نہیں سکتی اور 80 سال میں ہم شفاف الیکشن کروانے کے قابل نہیں ہو سکے، جمہوریت تو بہت دُور کی بات ہے۔
ہاں جمہوریت کا ٹیمو ورژن ضرور ہم نے اپنا رکھا ہے۔۔۔
Sharafat Rana retweeted
🚨🔵 بریکنگ 🔵🚨
📍 آج نیو نیوز کے پروگرام میں معروف اینکر شاہزیب خانزادہ نے بلاسفیمی بزنس گروپ کے جھوٹ، پروپیگنڈے اور من گھڑت بیانیے کو نہایت مدلل انداز میں زمین بوس کر دیا۔
📍وہی عدالتی فیصلہ، جو بلاسفیمی بزنس گروپ نے بطور ثبوت شاہزیب خانزادہ کو فراہم کیا تھا، آج خود ان کے جھوٹ کی سب سے بڑی دلیل بن گیا۔
پروگرام میں واضح کر دیا گیا کہ کوئی رپورٹ من گھڑت نہیں تھی، جعلی بیانیہ خود بلاسفیمی بزنس گروپ کا تھا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جن افسران نے بلاسفیمی بزنس گروپ کو کلین چٹ دی، وہ دونوں افسران خود اپنے ادارے میں متنازعہ ثابت ہوئے۔
یہ کلین چٹ دینے والے ٹوٹل تین نام تھے:
1۔ جسٹس ریٹائرڈ چودھری عبدالعزیز
2۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر چودھری سرفراز لاہور
3۔ ڈپٹی ڈائریکٹر سلمان اعوان راولپنڈی
📍ان میں سے ایک استعفیٰ دے چکا، جبکہ باقی دو پر کرپشن کے سنگین مقدمات موجود ہیں۔ کروڑوں کی کرپشن کے الزامات میں گھرے ہوئے یہ افراد پاکستانیوں کی زندگیاں، عزتیں اور ایمان تولنے بیٹھے تھے۔
📍لاہور تبادلے اور چٹ منگنی پٹ بیاہ کے مصداق ارجنٹ رٹ پیٹیشن میں چودھری عبد العزیز کی کورٹ میں عثمان وڑائچ صاحب کے ساتھ آنکھوں دیکھا حال یہ تھا 👇۔
📍سماعت کے دوران کھلا تعصب نظر آیا۔ پورا جھکاؤ بلاسفیمی بزنس گروپ کے حق میں تھا، یہاں تک کہ ان کے وکلا کو لقمے دیے جا رہے تھے۔ سپیشل برانچ کے افسر سے جج صاحب نے خود سوالات کئے گئے اور اپنی مرضی کے جوابات نکلوانے کی کوشش کی گئی۔
📍اصل کہانی کچھ یوں ہے:
جب جسٹس چودھری عبدالعزیز راولپنڈی بینچ میں تعینات تھے تو بلاسفیمی بزنس گروپ نے رپورٹس چیلنج کرنے کے لیے انہی کی عدالت میں رٹ دائر کی۔ بعد ازاں چودھری عبدالعزیز کا تبادلہ ملتان ہو گیا، تو بلاسفیمی بزنس گروپ کو انتظار کرنا پڑا۔ کیوں کہ کسی اور کی عدالت میں جاتے تو مطلوبہ نتائج ملنا مشکل تھا ۔
📍جیسے ہی جسٹس چودھری عبد العزیز کا تبادلہ لاہور ہوا، بلاسفیمی بزنس گروپ نے فوراً لاہور میں انہی کے سامنے نئی پٹیشن دائر کر دی، ساتھ ہی تحریری طور پر خصوصی استدعا کی کہ کیس نہ صرف ارجنٹ بنیادوں پر سنا جائے بلکہ چودھری عبدالعزیز ہی کے پاس مقرر کیا جائے۔
📍نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر، لاہور ٹرانسفر کے فوراً بعد، پٹیشن ارجنٹ بنیادوں پر فکس بھی ہو گئی، تاریخ بھی آ گئی اور کیس وہیں لگا جہاں مطلوب تھا۔
📍اصل دباؤ اسلام آباد میں تھا، جہاں جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے سامنے متاثرہ فیملیز کی رٹ زیرِ سماعت تھی اور بلاسفیمی بزنس گروپ وہاں سے خوفزدہ تھا۔ اسی لیے جلدی میں چودھری عبدالعزیز کے ذریعے رپورٹس کالعدم کروانے کی کوشش کی گئی۔
📍لاہور میں سماعتیں غیر معمولی تیزی سے ہوئیں، روز تاریخ پڑتی رہی۔ جب ہمارے وکلا نے تیاری کے لیے وقت مانگا تو صاف انکار کر دیا گیا م۔ وکلا نے کہاکہ سر وکالت ناموں پر فیملیز کے سائن کروانے ہیں اور پھر برانچ میں جمع کروانے ہیں تو جواب ملا کہ برانچ کو چھوڑیں یہاں ڈائریکٹ مجھے کی جمع کروائیں ٹائم کم ہے اور کاغذات بعد میں دے دینا، ابھی کھڑے ہو کر دلائل شروع کریں۔
📍یہ ساری عجلت اس لیے تھی کہ کہیں جسٹس سردار اعجاز اسحاق کی طرف سے کوئی مؤثر حکم نہ آ جائے۔ بعد ازاں جب متاثرہ خاندان اپنے وکلا کے ذریعے لاہور میں بھی فریق بن گئے تو معاملہ لٹک گیا۔ کیوں کہ حیران کن طور پر دوسری طرف NCHR کو بھی نوٹس تک جاری نہیں کیے گئے۔ کیوں کہ ان کی رپورٹ کو بھی چیلنج کیا گیا تھا اور ان کا موقف سننا بھی ضروری تھا اس کے بغیر فیصلہ دینا اب ممکن نہیں دیا تھا ۔
📍 اس دوران روزانہ کے عبوری احکامات اور سپیشل برانچ کے افسر فیصل راجہ کے بیانات کو اپنے حساب سے بنیاد بنا کر رپورٹس کو متنازع بنانے کی ناکام کوششیں جاری رہیں، حالانکہ سپیشل برانچ نے واضح کیا تھا کہ ان کی رپورٹس انٹیلی جنس اور مصدقہ ذرائع پر مبنی ہوتی ہیں۔
📍پھر چودھری عبدالعزیز کا دوبارہ راولپنڈی تبادلہ ہوا، انہوں نے استعفیٰ دے دیا، اور استعفے کے چند دن بعد ہی ایک فیصلہ جاری کر دیا گیا، جو بذاتِ خود ایک سوالیہ نشان ہے۔
📍 بلاسفیمی بزنس گروپ نے ایک پوری عمارت جھوٹ کی بنیاد پر کھڑی کی تھی، جو آج عوام کے سامنے منہدم ہو چکی ہے۔
🔵📍 یہ کھیل کیسے کھیلا گیا؟
👈پسندیدہ جج کے پاس رٹ پیٹیشن اور ارجنٹ فکسنگ
سماعت میں غیر معمولی عجلت
👈فریقین کو مناسب وقتنہ دینا
👈 افسران کے بیانات کو اپنے حساب سے ہیر پھیر کرکے ہتھیار بنانا
📍یہ سب ایک منظم اسکرپٹ تھا، جو آج خود اپنے تضادات میں دفن ہو چکا ہے۔
Aaj Shahzeb Khanzada Kay Saath Geo News Urdu
#StopBlasphemyBusiness #ShahzaibKhanzada #GeoNews
facebook.com/share/p/1EwZQJA…
Sharafat Rana retweeted
اس کا ایک پہلو یہ کہ ایوارڈ یافتہ منسٹرز اور لاتعداد مشیر جو پروٹوکول اور مراعات لے رہے وہ وزیراعظم کو یہ تک نہی بتا سکے کہ ستر روپے فی لیٹر پیٹرول پر تیل مافیا لوٹ رہا اور حکومت یہ رقم عوام کی جیب سے نکال کر سیٹھ کو دے رہی ہے اس چیز کو بھی جماعت اسلامی کو سمجھانا پڑا
یہ کس بات کی تجربہ کار حکومت ہے ؟
حکومت وزرات خزانہ اور ساری بیوروکریسی مل کر ریفائنری والوں کو ستر اسی روپے کا منافع دے رہے تھے وہ بھی اس غریب عوام کی جیب سے نکال کر جس کو جماعت اسلامی کی ٹیم نے افشاں کیا اور وزیراعظم کو بتایا کہ پیٹرول ایسے سستا ہو سکتا،
اندازہ لگائیں یہ بیوروکریسی کتنی اہل ہے کہ اس سے جو نہیں ہو رہا تھا وہ جماعت اسلامی کی ایک ٹیم نے کر دیا...!
Sharafat Rana retweeted
معصوم سا سوال دل میں ہے، کیا بیوراکریسی سیاسی قیادت سے زیادہ سیانی ہوتی ہے؟ جہاں تک میرا جواب ہے — ہر گز نہیں!
پھر پنجاب حکومت چار وزرا اور چالیس بیوراکریٹس پر کیوں انحصار کرتی ہے ؟
Sharafat Rana retweeted
وفاقی حکومت نے وزیر خزانہ اورنگ زیب رمدے کے برادر نسبتی اور چچا زاد بھائی، مصطفی رمدے کو پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) بورڈ کا چیئرمین مقرر کر دیا۔ مصطفی رمدے سابق جسٹس سپریم کورٹ خلیل الرحمن رمدے کے صاحبزادے، سابق چئیرمین پی آئی اے چوہدری احمد سعید کے داماد، وفاقی سیکرٹری عامر علی احمد اور سابق وفاقی وزیر ملک امین اسلم کے ہم زلف ہیں۔ اس سے پہلے 2013 میں شہباز شریف نے انہیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بھی مقرر کیا تھا۔
Sharafat Rana retweeted
سرجی آپ اس خوش قسمت لاڈلے بزنس مین/فرنٹ مین کو ڈھونڈیں جسے اس بلڈنگ کا کنٹرول دینا ہے جو اسے ہوٹل بنا کر چلائے گا۔ حیرانی ہے جو عمارت سیکورٹی خدشات پر غیرقانونی تھی وہاں اب فائیو اسٹار ہوٹل چلے گا۔ ہزاروں لوگ آیا جایا کریں گے۔
عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں کہ اس کے پیچھے لاہور کے کون سے گروپ اور پارٹیاں ہیں۔ کچھ دن صبر۔۔ سب کچھ سامنے آجائے گا۔
”اصل سوال یہ ہے کہ اگر عمارت کی اجازت غلط دی گئی تھی تو یہ اجازت کس نےدی اور کیوں دی؟ حکومت کی منظوری دیکھ کر عام شہری اپنی زندگی کی جمع پونجی سرمایہ کاری میں لگا دیتے ہیں لیکن بعد میں جب تعمیرات غیر قانونی قرار پاتی ہیں تو سارا نقصان سرمایہ کاروں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ کراچی کے نیسلہ ٹاور سمیت کئی عمارتیں اس کی مثال ہیں، جہاں لوگوں کو معاوضہ بھی نہیں ملا۔ اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی اور حکومت پہلے ایسی منظوریوں کو روکنے میں ناکام کیوں رہتی ہے؟“
سینیٹر علی ظفر
#TeamAliZafar
Sharafat Rana retweeted
ٹکرز
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قادر مندوخیل کا وزارتِ صحت میں ساڑھے 10 ارب روپے کے مبینہ ویکسین ٹھیکہ اسکینڈل پر شدید ردعمل
وزارتِ صحت میں ساڑھے 10 ارب کا میگا کرپشن اسکینڈل وفاقی حکومت کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے، قادر مندوخیل
ساڑھے 10 ارب روپے کے میگا اسکینڈل
Sharafat Rana retweeted
Often mocked for not conforming to a colonial elitest, Senator Sehar Kamran is raising one of the most important issues at the most appropriate forum. Cotton output has fallen from its 14 bales during the last PPP federal government by about 60% under successive PMLN, PTI Ladla regimes.
Sindh has overtaken Punjab in cotton output since 2023.
In today’s National Assembly Question Hour, I asked why 391 seed company registrations were cancelled yet the Ministry could not cite a single conviction or penalty collected. I also highlighted that, as per various market surveys, around 90% of cotton continues to be sown with unapproved and substandard seed.
The reply completely ignored this reality and offered no explanation for why farmers are still not receiving certified seed. On fertiliser, the Parliamentary Secretary only blamed the Middle East crisis for high DAP and urea prices, while remaining silent on the billions in profits earned by fertiliser companies that continue to receive heavily subsidised gas, yet no relief for farmers.
The ground reality is stark: cotton area has already fallen over 12% in just one year and overall production is down nearly 60% in the last decade. Textile mills are closing and thousands of jobs are at risk.
Farmers are paying higher input costs and getting lower yields. The reply offered no accountability, no data on enforcement outcomes, and no concrete plan to protect either the farmer or the textile value chain.
We need answers, not excuses.
@NAofPakistan @GovtofPakistan @APTMAofficial
@FoodSecurityPK
@PresOfPakistan @CMShehbaz
#CottonCrisis #FarmersRights #TextileIndustry #NationalAssembly
Sharafat Rana retweeted
دیامر بھاشا ڈیم کی لاگت 489 ارب سے بڑھ کر 1121 ارب، داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کی لاگت 486 ارب سے بڑھ کر 1740 ارب روپے ہو چکی ہے
تاخیر اور حکومت کی مجرمانہ غفلت کا خمیازہ عوام ٹیکسز اور مہنگی بجلی کی صورت میں بھگت رہے ہیں، کسی کو کچھ خبر؟
راول پنڈی رنگ روڈ کی بھی کہیں کوئی خبر نہیں ملتی جس کی لاگت میں دو گنا سے زائد اضافہ ہوا ہے اور چھ مرتبہ افتتاح کی تاریخ بھی آگے بڑھی ہے، لاگت کا ابتدائی تخمینہ 26 ارب تھا اب 58 ارب پر ہے
اربوں روپے کی یہ نااہلی اور لاگت میں اضافہ کس کا قصور ہے؟ سندھ حکومت کا نہیں ہے اس لئے انسانی اور مشینی اسکرینوں پر خاموشی چھائی ہے
سادہ تختیوں پر جب کوئی درج کرے گا تب شور ہو گا۔
سینئر صحافی اکرم خان کی فیس بک وال سے لی گئی تحریر۔
@AKRAMJANG
Sharafat Rana retweeted
جب پنجاب میں پہلے خواتین تہمبند پہنتی تھی۔ وقت کے ساتھ کھیتی باڑی میں مردوں کی مدد اور گھریلو کام کاج میں شلوار قمیض ذیادہ بہتر لگی تو وہ کلچر بنا۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے لگی تو عبایا ایک حصہ بن کر سامنے آیا۔ اب سکوٹی والی بچیاں ٹروزر اور کھلی شرٹس کو prefer کر رہی تو یہ خواتین کا کمفرٹ زون ہے وہ کام کے لحاظ سے جو مناسب لگتا وہ کپڑے پہن رہی
Sharafat Rana retweeted
مجھے اگر کسی بات یا اس کے مختلف پہلوؤں کا علم نہ ہو تو میں نہیں لکھتا جب تک کہ جان سمجھ نہ لوں
لیکن تقریبا تمام ہی معروف تجربہ کاروں میں یہ گنگا الٹی بہتی ہے
خالی ڈبہ زور کی آواز
ساکھ اور وقار گیا تیل لینے
Sharafat Rana retweeted
یہ دلیل تو آپ نے رد کر دی تھی جب ملتان میں بچے کو کچلنے والے کو راتوں رات سی سی ڈی سے مروادیااس نے کہا تھا کہ اس کی نیت بچہ مارنے کی نہی تھی صرف پیچھا کر رہا تھا وہ نہی مانی گئی
آج اس کو سی سی ڈی سے مارنے کی حمایت کرنے والے کہہ رہے پتلو کی نیت لوگ مارنے کی نہی تھی
قانون نیت نہی نتائج پر چلتا ہے
کاش یہ سب کچھ حفیظ اللہ نیازی کو بلاول بھٹو زرداری بختاور بھٹو زرداری اور اصفہ بھٹو زرداری جب دودھ پینے کی اور لڑکپن کی عمر میں تھے اس بات کا احساس ہو جاتا
نورین نیازی کی ہسپتال منتقلی: خاندان پر کیا گزری؟نائب وزیرِ داخلہ طلال چوہدری کی غلط بیانیاں۔
نورین نیازی کی جیل سے ہسپتال منتقلی، دو راتوں کا قیام اور آج جیل واپسی بارے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس دوران اُس کی بیٹیوں پر کیا گزری؟ چونکہ مملکت اذیت پسندوں (SADISTS) کے قبضے میں، بزرگ خواتین بچوں کی تکالیف میں بھی آسودگی ملنی ہے۔
جھوٹوں کا انبار لگا دیا گیا چنانچہ وضاحت ضروری ہے۔ اپ ڈیٹڈ سافٹ ویئر کے ساتھ طلال چوہدری کا دعویٰ کہ نورین نیازی کے اہلِ خانہ کو فوراً اطلاع دی گئی اور ہسپتال بلوا لیا، سفید جھوٹ ہے۔بیٹا جیل میں اور جیل سے باہر دو بیٹیوں کو میڈیا سے معلوم ہوا۔ میری بیٹیاں والدہ کو ملنے اورڈاکٹروں سے رابطے کی ناکام کوشش کرتی رہیں کہ والدہ کی حالتِ زار معلوم ہو سکے۔
28 اکتوبر شام چھ سات بجے ہسپتال منتقلی کی خبر کی تصدیق ہوئی تو دونوں بیٹیاں فورا" ہسپتال پہنچ گئیں، آج 30 اکتوبر شام چھ بجے دو دنوں سے ہسپتال کی راہداریوں میں بھٹکتی رہیں۔ درجنوں دفعہ دونوں بہنوں کی پولیس نےسرزنش کی کہ ہسپتال کی حدود سے باہر نکل جائیں۔ بیٹیوں کی ایک ہی درخواست تھی کہ انہیں والدہ کو دیکھنے دیا جائے یا علاج کرنے والے ڈاکٹر سے بات کروا دی جائے مگر ان کی آہ و بکا بےکار رہی۔
صد افسوس! طلال چوہدری درجنوں ٹھوکریں کھانے اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہونے کے بعد جب سے نیا پیشہ اختیار کیا ہے، وہاں جھوٹ اختیاری نہیں بلکہ لازمی مضمون ہے۔ طلال کی تصحیح کے لیے کہ فیملی جو اس وقت فقط دو بیٹیوں پر مشتمل ہے، نورین نیازی کی ہسپتال آمد اور علاج بارے لاعلم رکھا گیا۔ دونوں بہنیں ساری رات اندھیرے میں تیر چلاتی رہیں کہ کوئی ڈاکٹر ملے اور ماں کی صحت بارے کچھ معلوم کر سکیں۔ چونکہ خاصا میڈیا اکٹھا تھا، زبردستی نکالنے کی جرأت نہ تھی۔
24 گھنٹوں کے بعد اگلے دن 29 کی شام کو جب بیٹیوں نے مجبور کیا تو میں نے ایک بھلے مانس اللہ کے بندے کی منت سماجت کی تو اس کی مہربانی بڑی بیٹی کی ملاقات کی صورت پیدا ہوئی۔ آدھی رات سے کچھ پہلے بڑی بیٹی کو ماں تک رسائی ملی، وہاں ماں کی ڈھلکی صحت دیکھ کر بڑی بیٹی ابھی تک صدمے میں ہے۔ والدہ کی خواہش کہ چھوٹی بیٹی کو بھی ملوا دیا جائے جو چند گزوں کے فاصلے پر موجود تھی اور ماں کو ملنے کے لیے تڑپ رہی تھی۔ جب بڑی بہن ماں کے پاس تھی تو چھوٹی بیٹی بار بار مجھے فون کرکے بلک رہی تھی کہ ’’ابا مجھے بھی اماں سے ملوا دیں‘‘، مگر بے بسی تھی۔ اگلے دن کوشش کی کہ دوسری بیٹی، یا دونوں بیٹیاں، والدہ سے مل لیں، مگر اجازت نہ ملی۔ جب نورین نیازی کو ہسپتال سے جیل منتقل کیا جا رہا تھا توچھوٹی بیٹی نے ماں کو دور سے دیکھا تو اس کی حالت صدمے سے غیر ہو گئی، دونوں بیٹیوں پر دو دن جو بیتی ہے اور جس صدمہ میں ہیں ،جزوی حال درج کر دیاہے۔
طلال چوہدری فرما رہے ہیں کہ خاندان کو فوراً بلا لیا گیا تھا سراسر جھوٹ ہے۔ سوچتا ہوں ماضی میں طلال چوہدری کی جودرگت بنی اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہوا، میرے پر بیتی ہوتی تو میں بھی آٹو پائلٹ پر بلال چوہدری کی طرح جھوٹ پرچار کرتا ، فرماں بردار ہوتا۔
بڑی بیٹی کی اس ایک ملاقات کے لیے مجھے کتنی منت سماجت کرنا پڑی، میں جانتا ہوں۔ طلال چوہدری! براہ مہربانی اسے حکومتی کارکردگی نہ بتائیں۔
ظلم خدا کا، MPOکے تحت نظربند خاتون کو مکمل صحت یاب ہونے سے پہلے ہی آناً فاناً دوبارہ جیل جمع کروا دینا،سفاکیت اور اذیت پسندی کی بدترین مثال ہے۔
نورین ایک گھریلو اور introvert خاتون ہیں، جنہوں نے ہمیشہ نجی زندگی گزاری ہے۔ ساڑھے تین سال سے اپنے اکلوتے بھائی اوراپنے اکلوتے بیٹے کی دس سالہ غیر قانونی قید نے اس پر قیامت ڈھا رکھی ہے ،جذبات نے مغلوب کر رکھا ہے۔
ازراہِ تفنن اور ازراہِ تعفن ’’حکومتی مؤقف کہ ایم پی او کے تحت اس لیے حراست میں لیا گیا کہ وہ ۲۷ ستمبر کو اسلام آباد آنے والے جلوس کی قیادت کر سکتی تھیں‘‘۔ بفرضِ محال یہ مؤقف مان لیا جائے تو 27 ستمبر گزرنے کے بعد اور جبکہ گورنر راج نافذ، خواتین کو جیل میں نظربند رکھنا بے شرمی، بے حیائی کے علاوہ کچھ نہیں؟ خواتین کو آخر کب تک، کس بنیاد پر قید رکھا جائے گا؟ نورین کابیٹا حسّان نیازی اسی جیل میں قید ، والدہ کو ہسپتال لے جاتے وقت اسے چند منٹ کے لیے ملوا دینے میں کیا حرج تھا؟
میری آسودگی؛ انہی حرکتوں سے 25 کروڑ عوام کے دلوں میں حکمرانوں خلاف نفرت، غصہ اور دوری مزید بڑھنی ہے۔
طلال صاحب! بیمار خاتون کی تکلیف اور اسکےساتھ پیش آنے والے سلوک پر غلط بیانی نہ کیجیے۔
مجھ پر لازم ہو گیا کہ اصل واقعات سامنے لاؤں تاکہ اذیت پسند حکمرانوں کی سفاکیت عیاں ہو۔ وقت ایک سا نہیں رہتا، ماضی کے کئی ظالم حکمران قبروں میں یا زندہ ہیں مگر اقتدار سے باہر عبرت کا نشان، ان کے انجام دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، کاش آج کے حکمران سبق سیکھتے۔
اسٹیبلشمنٹ کے نمک میں اثر نہیں ؟ اسٹیبلشمنٹ یہ نمک گھر سے لائی تھی ؟ یہ نمک کس کا تھا ؟ یہ نمک اس غریب قوم کی کمائی ہے یا اس پر چڑھا قرض، جو وہ اتارتی رہے گی۔
حیرت کا لفظ چھوٹا ہے کہ وہ قوم زیر بحث ہی نہیں نہ کوئی ماتم کرنے کو باقی ہے کہ دراصل یہ قوم ہے جس کے نمک میں برکت نہیں۔ اس قدر لاعلمی، اس قدر بے حسی، اس درجے کی بے بسی ؟
رسمی طور پر بھی اب قوم کا کوئی مسلہ زیربحث نہیں، مہنگائی ایسی کہ سبزی دال تک خواب ہوئی، بیروزگاری، بجلی کے بل، آتی سردی میں غریب کا بچاو ؟ کوئی خبر نہیں۔ بس اشراف کی خبریں، چیختی چلاتی تقریریں جو ایک طاقتور دوسرے کے خلاف کرتا ہے یا اس کا جواب۔
قوم کا پیسہ ہے یہ جو مالک ہے اس ملک کی مگر اب یہ کس کو یاد ہے ؟ اس قوم تک کو نہیں جو حق ملکیت کھو چکی۔
Sharafat Rana retweeted
کتابوں سے علم نہیں تصویر بنانا سکھایا ہے
مریم نے کالج کو بھی دربار بنایا ہے!
@NadeemAfzalChan




























