India’s Oldest & Largest Combined Circulated Urdu Daily. Bridging divides & forging unity since 1923.

New Delhi, India
Joined September 2021
ہم اپنے قارئین اور میلاپ کی ٹیم کے ہر رکن کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہماری قوم کی خدمت میں ہماری مدد کی۔ آج، جب ہم 100 سال مکمل کرتے ہیں تو ہم اپنے بانی اصولوں کو برقرار رکھنے اور اخلاقیات اور اقدار پر قائم رہنے کا عہد کرتے ہیں۔ @MilapNN @SuriNavin @RenuSuri15 @SureshRaiDhima1 @rishi_suri @tara_milap @ramesh_milap @mohamma61141631 @ZUBI_26 @AltafHussainKh1 @JavedShah_13 @Tabassumaziz11 @MIB_India
5
11
2
46
44,754
پاکستان میں معاشی استحکام کے دعوے بے اثر، 7 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے، مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی اسلام آباد: پاکستان میں معاشی استحکام کے حکومتی دعوؤں کے باوجود عام شہریوں کی زندگی میں بہتری کے آثار نمایاں نہیں ہو رہے۔ عالمی بینک کے تازہ تخمینوں کے مطابق ملک میں غربت کی شرح دوبارہ بڑھ کر تقریباً 29 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس کے نتیجے میں لگ بھگ سات کروڑ افراد قومی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 2001-02 میں 64.3 فیصد تھی، جو 2018-19 میں کم ہو کر 21.9 فیصد رہ گئی تھی۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران معاشی مشکلات، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور حقیقی آمدنی میں کمی نے غربت میں کمی کے سابقہ رجحان کو الٹ دیا ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ 2018-19 سے 2024-25 کے دوران پاکستانی کارکنوں کی حقیقی اجرت میں اوسطاً سالانہ 3.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ تنخواہوں میں بظاہر اضافے کے باوجود شہریوں کی قوتِ خرید مسلسل کم ہوتی رہی۔ ستمبر 2026 میں پاکستان میں مہنگائی کی سالانہ شرح 10.26 فیصد رہی، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے مالی سال 2026-27 کے لیے اوسط مہنگائی 9.9 فیصد رہنے کا تخمینہ پیش کیا ہے۔ اشیائے خورونوش، بجلی، گیس، پٹرول، ٹرانسپورٹ اور رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ بہت سے گھرانے گوشت، سبزیوں اور دیگر ضروری غذائی اشیا کی خریداری محدود کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ بچوں کی تعلیم اور علاج معالجے کے اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی کی شرح میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ اشیا کی قیمتیں پہلے والی سطح پر واپس آ گئی ہیں۔ گزشتہ برسوں میں ہونے والے مسلسل اضافوں نے گھریلو بجٹ پر جو بوجھ ڈالا ہے، وہ اب بھی برقرار ہے۔ پاکستانی روپے کی طویل مدتی قدر میں کمی نے بھی معاشی مشکلات بڑھائی ہیں۔ درآمدی ایندھن، مشینری اور صنعتی خام مال مہنگا ہونے سے پیداواری اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ زرعی پیداوار، سامان کی نقل و حمل اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں پر بھی پڑتے ہیں۔ پاکستان میں رہائش کے اخراجات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ستمبر 2026 میں رہائش، پانی، بجلی، گیس اور دیگر ایندھن پر مشتمل مجموعی زمرے کی قیمتوں میں سالانہ 12.39 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی اقتصادی ترقی 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اقتصادی ترقی کے اعدادوشمار اس وقت تک عام شہریوں کے لیے معنی نہیں رکھتے جب تک روزگار کے مواقع، حقیقی اجرتوں اور قوتِ خرید میں بہتری نہ آئے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود غذائی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے دوچار ہے۔ کسانوں کو کھاد، ایندھن اور نقل و حمل کے زیادہ اخراجات کا سامنا ہے، جبکہ صارفین کو بازاروں میں مہنگی خوراک خریدنا پڑ رہی ہے۔ ذخیرہ اندوزی، ناقص ترسیلی نظام اور زرعی منڈیوں کی کمزوریاں بھی اس مسئلے کو پیچیدہ بناتی ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کو صرف مالی خسارہ کم کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھنے اور قرضوں کی ادائیگی پر توجہ دینے کے بجائے پیداواری سرمایہ کاری، روزگار، تعلیم، صحت اور غربت میں کمی کو بھی معاشی پالیسی کا مرکزی حصہ بنانا ہوگا۔ پاکستان کی معیشت کا بنیادی مسئلہ اب یہ ہے کہ سرکاری اعدادوشمار میں استحکام کے باوجود کروڑوں شہریوں کو روزمرہ زندگی میں کوئی حقیقی معاشی ریلیف محسوس نہیں ہو رہا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاشی استحکام کے فوائد عام خاندانوں تک منتقل نہ ہوئے تو غربت، غذائی عدم تحفظ اور آمدنی میں عدم مساوات مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ #Pakistan #PakistanEconomicCrisis
🤖 Made with AI
7
پاکستان میں 15 لاکھ بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار، باپ کی جانب سے اپنے بچوں کی ویڈیوز فروخت کرنے کا انکشاف اسلام آباد: پاکستان میں بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ملک کے سماجی اور قانونی نظام میں سنگین خامیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ ایک تازہ تحقیق کے مطابق تقریباً 15 لاکھ پاکستانی بچے ایک سال کے دوران انٹرنیٹ کے ذریعے جنسی استحصال یا ہراسانی کا شکار ہوئے، جبکہ نصف سے زیادہ متاثرین نے خوف اور سماجی دباؤ کے باعث کسی کو اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کے بارے میں نہیں بتایا۔ ستمبر میں جاری ہونے والی یونیسف کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 12 سے 17 سال کی عمر کے ہر 16 بچوں میں سے تقریباً ایک کو آن لائن جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ حیران کن طور پر 85 فیصد واقعات میں مبینہ مجرم متاثرہ بچے کا پہلے سے جاننے والا شخص تھا۔ پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے حالیہ دنوں میں متعدد کارروائیوں کے دوران بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہونے کے شبہے میں کئی افراد کو گرفتار کیا ہے۔ سب سے تشویشناک واقعہ گلگت بلتستان کے علاقے اسکردو سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی گرفتاری ہے، جس پر اپنے ہی کم عمر بچوں کی جنسی استحصال پر مبنی ویڈیوز بنا کر بین الاقوامی نیٹ ورکس کو فروخت کرنے کا الزام ہے۔ حکام کے مطابق ملزم مبینہ طور پر ٹیلی گرام کے خفیہ گروپس کے ذریعے ویڈیوز فروخت کرتا تھا اور اس کے بدلے کرپٹو کرنسی میں ادائیگیاں وصول کرتا تھا۔ بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں کے تعاون سے اسے گرفتار کیا گیا، جبکہ دیگر ممکنہ سہولت کاروں کی تلاش جاری ہے۔ ایک دوسری کارروائی میں چار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، جن پر الزام ہے کہ وہ انسٹاگرام کے ذریعے چھ سے 14 سال کی عمر کے بچوں سے رابطہ کرتے، انہیں رقم کا لالچ دیتے اور ان سے نامناسب مواد حاصل کرکے واٹس ایپ گروپس میں فروخت کرتے تھے۔ کراچی میں بھی سائبر کرائم حکام نے تین ڈیجیٹل ڈیزائن کمپنیوں پر چھاپے مار کر ابتدائی طور پر 42 افراد کو حراست میں لیا۔ تحقیقات کے بعد 13 افراد کو مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ پر بھیجا گیا۔ ان کمپنیوں پر بچوں سے مشابہت رکھنے والے کرداروں کی جنسی نوعیت کی اینیمیٹڈ تصاویر اور ویڈیوز تیار کرنے کا شبہ ہے۔ تاہم تفتیش کاروں کے مطابق یہ مواد حقیقی بچوں کی ریکارڈنگ کے بجائے ڈیجیٹل طور پر تیار کیا گیا تھا۔ بعض ملازمین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں اپنے کام کی اصل نوعیت کا علم نہیں تھا۔ ان افراد کے خلاف الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ ایک اور واقعے میں کراچی کی 14 سالہ لڑکی کو ایک بین الاقوامی آن لائن نیٹ ورک کی مبینہ بلیک میلنگ سے بچایا گیا۔ حکام کے مطابق لڑکی کو آن لائن گیمنگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس نیٹ ورک سے متعلق تحقیقات میں امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ میں ممکنہ متاثرین کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ یونیسف کی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ آن لائن جنسی استحصال کا سامنا کرنے والے نصف سے زیادہ بچوں نے کسی کو واقعے کی اطلاع نہیں دی، جبکہ سروے میں شامل متاثرین میں سے کسی نے بھی پولیس، سماجی کارکنوں یا ہیلپ لائنز کے ذریعے باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی۔ ماہرین کے مطابق غربت، سماجی بدنامی کا خوف، والدین کی جانب سے نگرانی کی کمی اور ڈیجیٹل آگاہی کا فقدان بچوں کو آن لائن استحصال کے لیے مزید غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔ پاکستان میں سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے قوانین موجود ہیں، لیکن تربیت یافتہ تفتیش کاروں کی کمی، ڈیجیٹل شواہد جمع کرنے میں مشکلات، عدالتی کارروائیوں میں تاخیر اور مختلف اداروں کے درمیان کمزور رابطہ کاری مؤثر کارروائی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ بچوں کے حقوق کے ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی سطح پر خصوصی سائبر کرائم یونٹس قائم کیے جائیں، تعلیمی اداروں میں آن لائن تحفظ سے متعلق آگاہی بڑھائی جائے اور متاثرہ بچوں کے لیے محفوظ شکایتی نظام اور نفسیاتی بحالی کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ حالیہ گرفتاریوں کے باوجود پاکستان میں بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کا مسئلہ ایک سنگین قومی چیلنج بنا ہوا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ محض گرفتاریاں کافی نہیں ہوں گی، بلکہ بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون نافذ کرنے، بین الاقوامی تعاون اور سماجی رویوں میں تبدیلی کی بھی ضرورت ہے۔ #Pakistan #ChildAbuse
15
افغانستان میں زیادہ تر منشیات پاکستان سے اسمگل ہو رہی ہیں، طالبان کا الزام کابل: افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستان پر منشیات کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں داخل ہونے والی زیادہ تر روایتی اور مصنوعی منشیات پاکستانی سرحد سے افغانستان پہنچ رہی ہیں۔ طالبان کی وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانع نے کہا کہ پاکستانی حکام کو منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈالے تاکہ افغانستان اور دیگر ایشیائی ممالک میں منشیات کی غیر قانونی ترسیل کو روکا جا سکے۔ قانع کے مطابق طالبان فورسز نے سرحدی علاقوں میں منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں منشیات کی کاشت تقریباً ختم ہو چکی ہے اور طالبان انتظامیہ اس غیر قانونی کاروبار کے خلاف اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے۔ یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پوست کی کاشت میں اضافے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق افغانستان میں طالبان کی جانب سے پوست کی کاشت پر پابندی کے بعد بلوچستان کے کچھ علاقے اس فصل کی کاشت کے نئے مراکز بنتے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق افغانستان میں افیون کی پیداوار میں 95 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جولائی 2026 کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2022 تک افغانستان دنیا کی تقریباً 80 فیصد غیر قانونی افیون پیدا کرتا تھا، لیکن طالبان کی پابندیوں کے بعد پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں پوست کی کاشت کا رقبہ 2022 میں تقریباً 2 لاکھ 32 ہزار ہیکٹر تھا، جو 2025 میں گھٹ کر صرف 10 ہزار 200 ہیکٹر رہ گیا۔ اسی عرصے میں افیون کی پیداوار 6 ہزار 200 ٹن سے کم ہو کر تقریباً 296 ٹن رہ گئی۔ تاہم اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں پہلے سے موجود افیون کے ذخائر 2026 کے اختتام تک برقرار رہ سکتے ہیں، جس سے منشیات کی غیر قانونی تجارت مکمل طور پر ختم ہونے کا امکان نہیں ہے۔ پاکستانی حکام نے طالبان کی وزارت داخلہ کے تازہ الزامات پر تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان پہلے ہی سرحدی سلامتی، دہشت گردی اور دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق نئے الزامات دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں ایک اور مسئلے کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ طالبان کے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ افغانستان میں داخل ہونے والی زیادہ تر منشیات پاکستان سے آ رہی ہیں۔ تاہم بلوچستان میں پوست کی مبینہ بڑھتی ہوئی کاشت اور افغانستان میں اس کی پیداوار میں نمایاں کمی نے خطے میں منشیات کی اسمگلنگ کے بدلتے ہوئے راستوں سے متعلق نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ #Pakistan #Afghanistan
21
پاکستان کی بندرگاہوں پر ایران کے 18 ہزار کنٹینرز پھنس گئے، بھاری اخراجات سے تاجروں کو شدید نقصان تہران: پاکستان کی بندرگاہوں پر ایران کے تقریباً 18 ہزار تجارتی کنٹینرز کئی ماہ سے پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ بھاری اسٹوریج چارجز، تاخیر کے جرمانوں اور نقل و حمل کے اخراجات نے ایرانی تاجروں کے لیے اپنا سامان واپس حاصل کرنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ ایران کی بین الاقوامی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی انجمن کے بورڈ ممبر محمد علی کارگشا نے تہران چیمبر آف کامرس کے اجلاس میں بتایا کہ بعض کنٹینرز کو بندرگاہوں سے کلیئر کرانے اور ایران منتقل کرنے کی مجموعی لاگت 25 ہزار ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان کے مطابق کئی کنٹینرز میں موجود سامان کی مجموعی مالیت صرف 20 سے 30 ہزار ڈالر ہے، جس کا مطلب ہے کہ بعض تاجروں کو اپنا سامان واپس حاصل کرنے کے لیے تقریباً اس کی اصل قیمت کے برابر رقم ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ یہ بحران مارچ 2026 میں جنگ کے باعث سمندری نقل و حمل پر عائد پابندیوں کے بعد شروع ہوا تھا۔ متعدد ایرانی تجارتی جہازوں کا راستہ تبدیل ہونے کے نتیجے میں ان کا سامان پاکستانی بندرگاہوں پر اتار دیا گیا، لیکن مالی اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث اسے ایران منتقل نہیں کیا جا سکا۔ ایرانی حکام کے مطابق کنٹینرز کی کلیئرنس میں تاخیر کی اہم وجوہات میں ثالثی کمپنیوں کے نام پر جاری کردہ شپنگ دستاویزات، بین الاقوامی پابندیوں کا خوف اور غیر معمولی اخراجات شامل ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ 18 ہزار کنٹینرز میں سے صرف تقریباً ایک ہزار کے مالکان نے اب تک کلیئرنس کا عمل شروع کیا ہے۔ باقی ہزاروں کنٹینرز کی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔ تہران چیمبر آف کامرس کے ٹرانسپورٹ کمیشن کے سربراہ پیمان سنندجی نے بتایا کہ ایرانی وزارت خارجہ اور پاکستان میں ایرانی سفارت خانے کے تعاون سے مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کے مطابق سامان کے مالکان کی ایک نئی فہرست پاکستانی حکام کو فراہم کی جائے گی، جس میں ایران اور دیگر ممالک کے لیے جانے والی تجارتی کھیپوں کی الگ الگ نشاندہی کی جائے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بعض ایسی کمپنیاں، جنہیں پاکستانی حکام کی منظوری حاصل نہیں تھی، ایرانی تاجروں سے بھاری رقوم وصول کر چکی ہیں، لیکن کنٹینرز کی کلیئرنس کے لیے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ بین الاقوامی لاجسٹکس کمپنی کے سربراہ امیر نقیسہ نے بتایا کہ اخراجات میں 80 فیصد رعایت دینے کے حوالے سے پہلے ہونے والے مذاکرات کے باوجود اس فیصلے پر اب تک عمل درآمد نہیں ہوا۔ ایرانی نجی شعبے نے بحران کے حل کے لیے تجویز پیش کی ہے کہ پاکستانی بندرگاہوں پر موجود سامان کو 300 سے 400 کنٹینرز لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے چھوٹے بحری جہازوں کے ذریعے ایران کی چابہار بندرگاہ منتقل کیا جائے۔ تاہم اس منصوبے پر بھی ابھی عمل درآمد شروع نہیں ہو سکا، کیونکہ اس کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ رابطہ کاری اور نقل و حمل کے اخراجات پر باہمی اتفاق ضروری ہے۔ تجارتی حلقوں کے مطابق مسلسل تاخیر سے ایرانی درآمد کنندگان پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ کنٹینرز کی کلیئرنس میں مزید رکاوٹیں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی نقل و حمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ پاکستانی بندرگاہوں پر ہزاروں ایرانی کنٹینرز کا پھنسے رہنا خطے میں تجارتی راستوں کی مشکلات اور جنگ سے پیدا ہونے والی معاشی رکاوٹوں کی ایک نمایاں مثال بن گیا ہے۔ #Iran #Pakistan
23
بنگلہ دیش کے مدارس میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات، شکایت کرنے والے خاندان بھی دھمکیوں اور مقدمات کا شکار ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے مختلف مدارس میں بچوں کے مبینہ جنسی استحصال کے واقعات نے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ متاثرہ بچوں کے خاندانوں کو انصاف کی جدوجہد کے دوران جان سے مارنے کی دھمکیوں، تشدد اور جوابی مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ملک میں بچوں کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ غازی پور کے علاقے ٹونگی میں ایک سات سالہ بچی کے والد نے مدرسے کے استاد کے خلاف اپنی بیٹی کو مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کا نشانہ بنانے کی شکایت درج کرائی۔ ملزم استاد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے، جبکہ پولیس کے ابتدائی نتائج بچی کے الزامات کی تائید کرتے ہیں۔ تاہم مدرسے کی انتظامیہ نے بچی کے والد اور دیگر افراد کے خلاف عملے پر حملے، توڑ پھوڑ اور 17 لاکھ ٹکہ چوری کرنے کا مقدمہ درج کرا دیا۔ والد نے توڑ پھوڑ اور چوری کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں سوشل میڈیا سمیت مختلف ذرائع سے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد جمع کیے ہیں، گواہوں کے بیانات لیے ہیں اور بچی کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرایا ہے۔ تاہم تحقیقات ابھی جاری ہیں اور الزامات پر کوئی حتمی عدالتی فیصلہ نہیں ہوا۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ صرف 16 دنوں کے دوران بنگلہ دیش کے مدارس میں بچوں کے جنسی استحصال کے چھ مبینہ واقعات سامنے آئے ہیں۔ بعض متاثرہ بچوں کی عمریں محض سات سال بتائی گئی ہیں۔ ساور میں بھی ایک 13 سالہ طالبہ کے دادا نے مدرسے کے مالک اور ہیڈ ٹیچر کے خلاف بچی سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج کرایا۔ اس کے بعد مدرسے کے مالک کے بیٹے نے 21 افراد کے خلاف لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کی شکایت درج کرائی، جن میں متاثرہ بچی کے دادا بھی شامل تھے۔ پولیس کے مطابق مدرسے کی انتظامیہ کو دادا کا نام مقدمے میں شامل نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود انہیں نامزد کیا گیا۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات کے بغیر انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ نوکھالی میں ایک اور واقعے میں 14 سالہ طالبہ کے والد نے مدرسے کے سپرنٹنڈنٹ کے خلاف مبینہ زیادتی کی کوشش کا مقدمہ درج کرایا، جس کے بعد ان کے خاندان پر حملہ کیا گیا۔ ویڈیو شواہد میں حملہ آوروں کو گھر میں توڑ پھوڑ کرتے اور مقدمہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے دیکھا گیا۔ اس واقعے نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم جیسے سنگین الزامات کو بعض مقامات پر پولیس کے بجائے مقامی سطح پر مصالحت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کیوں کی جاتی ہے۔ انسانی حقوق اور بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مدارس سمیت تمام تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کی روک تھام کے مؤثر انتظامات کیے جائیں، شکایات درج کرانے کے محفوظ طریقے فراہم کیے جائیں اور متاثرہ بچوں کو طبی، نفسیاتی اور قانونی مدد دی جائے۔ ماہرین کے مطابق ملزمان کے خلاف الزامات اور خاندانوں پر لگائے گئے جوابی الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ تاہم کسی بھی تنازعے کے باعث بچوں کے جنسی استحصال کی اصل شکایت نظرانداز نہیں ہونی چاہیے۔ بنگلہ دیش میں ان واقعات نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے کہ جب والدین اپنے بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں اور ان کے خاندانوں کو تحفظ کون فراہم کرے گا؟ بچوں کے حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر شکایت کرنے والے خاندانوں کو دھمکیوں اور دباؤ سے تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو دیگر متاثرین بھی خوف کے باعث خاموش رہنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ #Bangladesh
24
شی جن پنگ کی انسدادِ بدعنوانی مہم سے چین کی قیادت میں بحران، اعلیٰ عہدوں کے لیے تجربہ کار رہنماؤں کی کمی بیجنگ: چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے بدعنوانی کے خلاف جاری وسیع کارروائیوں نے ملک کے سیاسی اور فوجی نظام میں غیر معمولی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کے متعدد اعلیٰ عہدیداروں کی برطرفیوں اور تحقیقات کے نتیجے میں اہم سرکاری عہدے خالی ہو گئے ہیں، جبکہ 2027 میں ہونے والی قیادت کی تبدیلیوں کے لیے موزوں امیدواروں کی تلاش مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ تازہ اعدادوشمار کے مطابق چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے تقریباً 23 فیصد ارکان موجودہ اجلاس میں شرکت کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ یہ صورتحال اعلیٰ قیادت میں ہونے والی بڑے پیمانے کی تبدیلیوں اور برطرفیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ شی جن پنگ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد صوبائی پارٹی سربراہوں کی اوسط مدتِ ملازمت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے ابتدائی دور میں یہ مدت تقریباً 43 ماہ تھی، جو تیسری مدتِ اقتدار میں گھٹ کر 26.5 ماہ رہ گئی ہے۔ سب سے زیادہ اثر چین کی فوجی قیادت پر پڑا ہے۔ سینٹرل ملٹری کمیشن، جس میں موجودہ مدت کے آغاز پر سات ارکان شامل تھے، اب صرف دو ارکان تک محدود رہ گیا ہے، جن میں خود شی جن پنگ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی کے طاقتور پولٹ بیورو کے تین ارکان بھی اپنے عہدوں سے ہٹائے جا چکے ہیں۔ چینی فوج میں اعلیٰ سطح کی برطرفیوں نے دفاعی فیصلہ سازی اور قیادت کے تسلسل سے متعلق سوالات پیدا کیے ہیں۔ متعدد سینئر جرنیلوں کے خلاف بدعنوانی اور سیاسی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت کارروائیاں کی گئی ہیں۔ 2027 میں ہونے والی کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس اس صورتحال میں خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ اگر پارٹی میں ریٹائرمنٹ سے متعلق روایتی عمر کی حدود پر عمل کیا گیا تو پولٹ بیورو کی سات رکنی قائمہ کمیٹی کے پانچ ارکان کو تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل برطرفیوں نے تجربہ کار رہنماؤں کی دستیابی محدود کر دی ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو کے پروفیسر وکٹر شیہ کا کہنا ہے کہ انسدادِ بدعنوانی مہم نے صدر کے قریبی حلقوں کو بھی متاثر کیا ہے، جس سے اعلیٰ عہدوں کے لیے نئے امیدواروں کا انتخاب پیچیدہ ہو گیا ہے۔ 73 سالہ شی جن پنگ نے اقتدار چھوڑنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کی توقع ہے کہ وہ 2027 میں کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کی ایک اور پانچ سالہ مدت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم ان کے سامنے نئی قیادت کی تشکیل اور خالی عہدوں پر تقرریوں کا اہم چیلنج موجود ہے۔ چینی حکومت انسدادِ بدعنوانی مہم کو پارٹی میں نظم و ضبط، شفافیت اور بہتر حکمرانی کے لیے ضروری قرار دیتی ہے۔ دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے کہ اس مہم نے شی جن پنگ کے ہاتھوں میں سیاسی اختیار کو مزید مرتکز کیا ہے اور اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان غیر یقینی صورتحال بڑھائی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال کے اثرات صرف کمیونسٹ پارٹی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ فوجی قیادت، اقتصادی پالیسیوں اور اہم حکومتی فیصلوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ چین کی قیادت کے لیے اب بنیادی چیلنج یہ ہے کہ بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں کو جاری رکھتے ہوئے تجربہ کار عہدیداروں کی کمی کیسے پوری کی جائے اور 2027 کی قیادتی تبدیلیوں سے قبل سیاسی و انتظامی تسلسل کیسے برقرار رکھا جائے۔ #China #CCP #XiJinping
25
چین کا ہمالیہ میں عظیم ڈیم بھارت اور بنگلہ دیش کے لیے خطرہ، زلزلوں اور تباہ کن سیلاب کا خدشہ نئی دہلی: چین کی جانب سے تبت میں دریائے یارلنگ سانگپو پر تعمیر کیے جانے والے دنیا کے سب سے بڑے پن بجلی منصوبوں میں سے ایک نے جنوبی ایشیا میں سنگین ماحولیاتی، ارضیاتی اور تزویراتی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تقریباً 170 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ منصوبہ بھارت اور بنگلہ دیش کے کروڑوں باشندوں کے لیے خطرات بڑھا سکتا ہے۔ چین نے جولائی 2025 میں اس منصوبے کا آغاز کیا تھا، جس کے تحت پانچ بڑے پن بجلی گھر تعمیر کیے جائیں گے۔ ان سے سالانہ تقریباً 300 ارب کلوواٹ گھنٹے بجلی پیدا ہونے کا تخمینہ ہے، جو چین کے مشہور تھری گورجز ڈیم کی پیداوار سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ اس منصوبے کے حوالے سے تشویش ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب 22 اکتوبر کو تبت میں 7.0 شدت کے زلزلے سے کم از کم 16 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اگست میں نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب گلیشیئر اور چٹانیں گرنے سے تقریباً 100 کلومیٹر تک تباہ کن سیلابی ریلہ پھیل گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق ہمالیہ دنیا کے انتہائی زلزلہ خیز علاقوں میں شامل ہے۔ یہاں بڑے ڈیموں کی تعمیر سے زلزلوں، لینڈ سلائیڈنگ، گلیشیئر ٹوٹنے اور اچانک سیلاب کے خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ان واقعات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ زیر تعمیر چینی ڈیم لازماً ناکام ہوگا۔ بھارت کے لیے سب سے بڑی تشویش دریائے برہم پترا کے پانی پر چین کا بڑھتا ہوا کنٹرول ہے۔ یارلنگ سانگپو بھارت میں داخل ہو کر برہم پترا کہلاتا ہے اور بعد میں بنگلہ دیش سے گزرتا ہے۔ اس دریا پر لاکھوں خاندانوں کی زراعت، ماہی گیری اور روزگار کا انحصار ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ چین کی جانب سے پانی کے بہاؤ میں تبدیلی، ذخیرہ شدہ پانی کا اچانک اخراج یا کسی قدرتی آفت کے نتیجے میں آسام، اروناچل پردیش اور بنگلہ دیش کے نشیبی علاقوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بھارت نے بھی اس صورتحال کے پیش نظر برہم پترا کے طاس میں پن بجلی اور پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں پر توجہ بڑھائی ہے۔ اکتوبر 2025 میں سامنے آنے والے منصوبے کے مطابق بھارت 77 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے 208 بڑے پن بجلی منصوبوں اور متعلقہ ترسیلی نظام کو ترقی دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان آبی وسائل پر بڑھتی ہوئی مسابقت ماحولیاتی خطرات میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئر پگھلنے اور پہاڑی ڈھلوانوں کے غیر مستحکم ہونے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق چین، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان پانی کے بہاؤ، ڈیموں کی حفاظت، سائنسی معلومات کے تبادلے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مؤثر علاقائی نظام قائم کرنا ضروری ہے۔ چین اپنے منصوبے کو صاف توانائی اور اقتصادی ترقی کا اہم ذریعہ قرار دیتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے منصوبے کے ممکنہ سرحد پار اثرات کا جامع جائزہ اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون ناگزیر ہے۔ اس منصوبے سے متعلق بنیادی سوال صرف بجلی کی پیداوار نہیں بلکہ کروڑوں افراد کی آبی سلامتی، ماحولیات اور مستقبل کے تحفظ کا بھی ہے۔ #China
28
چین کا رئیل اسٹیٹ بحران مزید سنگین، سرکاری کمپنی 62 ارب ڈالر کے قرضوں کے بوجھ تلے دب گئی بیجنگ: چین کے رئیل اسٹیٹ شعبے میں جاری بحران نے ایک اور بڑی سرکاری کمپنی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ کی معروف کمپنی ژوہائی ہوافا گروپ تقریباً 62 ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، جس سے چینی معیشت اور سرکاری اداروں کی مالی صورتحال پر نئے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کمپنی حال ہی میں دو ٹرسٹ مالیاتی مصنوعات کی واجب الادا رقوم ادا کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ اس نے کم از کم تین بینکوں سے قرضوں کی واپسی کی مدت بڑھانے کی درخواست کی ہے۔ ژوہائی ہوافا چین کی بڑی سرکاری کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور ملک بھر میں 200 سے زائد رہائشی منصوبے تیار کر چکی ہے۔ کمپنی نے 330 میٹر بلند ژوہائی ٹاور کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ مارچ 2026 تک اس کے سودی قرضوں کا حجم تقریباً 413 ارب یوآن، یعنی 62 ارب ڈالر تھا۔ مالی مشکلات کی خبریں سامنے آنے کے بعد کمپنی کے حصص اور بانڈز کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ شنگھائی اسٹاک مارکیٹ میں اس کے پراپرٹی شعبے کے حصص تقریباً 8.9 فیصد تک گر گئے، جبکہ ایک بیرون ملک جاری کردہ بانڈ کی قیمت میں 17 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ کمپنی نے گزشتہ سال تقریباً 16.9 ارب یوآن کا خسارہ ظاہر کیا تھا۔ اس کی آمدنی کا تقریباً نصف حصہ جائیدادوں کی تعمیر اور شہری ترقی کے منصوبوں سے حاصل ہوتا ہے، جو چین میں مسلسل گرتی ہوئی پراپرٹی مارکیٹ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہوافا مکمل طور پر سرکاری ملکیت میں ہے، جس میں ژوہائی کی مقامی حکومت کا تقریباً 93.5 فیصد حصہ ہے۔ اس کے باوجود کمپنی کو قرضوں کی ادائیگی میں مشکلات پیش آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چین کا پراپرٹی بحران اب صرف نجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہا۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق کمزور رہائشی طلب، جائیدادوں کی فروخت میں کمی اور مقامی حکومتوں کے محدود مالی وسائل سرکاری تعمیراتی کمپنیوں کے لیے بھی سنگین مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ علاقائی معیشت میں ہوافا کی اہمیت کے پیش نظر حکومت اسے مالی مدد فراہم کر سکتی ہے۔ چینی حکومت نے پراپرٹی مارکیٹ کو سہارا دینے کے لیے قرضوں کی پالیسی میں نرمی اور رہائشی قرضوں پر مراعات جیسے اقدامات کیے ہیں، لیکن تازہ بحران ظاہر کرتا ہے کہ ملک کے تعمیراتی شعبے میں مالی دباؤ بدستور برقرار ہے۔ ہوافا کی مشکلات چین کی معیشت کے لیے ایک اہم انتباہ سمجھی جا رہی ہیں، کیونکہ پراپرٹی شعبے میں طویل بحران بینکاری نظام، مقامی حکومتوں کی آمدنی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ #China
🤖 Made with AI
30
بحرہند میں بھارت کی قیادت میں کواڈ کا مشترکہ سمندری مشن، آسٹریلیا، جاپان اور امریکہ کی شرکت نئی دہلی: بحرہند میں سمندری سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے بھارت، آسٹریلیا، جاپان اور امریکہ نے کواڈ کے تحت مشترکہ سمندری مشن مکمل کیا ہے۔ آسٹریلین بارڈر فورس کے اہلکاروں نے بھارتی کوسٹ گارڈ کے جہاز پر سوار ہو کر 13 روزہ سفر میں حصہ لیا، جس کا مقصد چاروں ممالک کے درمیان عملی تعاون، تربیت اور سمندری نگرانی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا تھا۔ بھارتی کوسٹ گارڈ کا جہاز آئی سی جی ایس شونک 25 ستمبر کو چنئی سے روانہ ہوا اور 7 اکتوبر کو مغربی آسٹریلیا کی بندرگاہ فریمنٹل پہنچا۔ اس مشن میں چاروں ممالک کے سمندری سلامتی کے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس مشترکہ سرگرمی کے دوران سمندری کارروائیوں، پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری پر خصوصی توجہ دی گئی۔ فریمنٹل میں بھارتی اور آسٹریلوی حکام نے مشترکہ تربیتی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔ یہ مشن بحرہند و بحرالکاہل خطے میں کواڈ ممالک کے بڑھتے ہوئے تعاون کی ایک اہم مثال ہے۔ چاروں ممالک غیر قانونی سمندری سرگرمیوں کی روک تھام، بحری راستوں کے تحفظ اور سمندری نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان دفاعی تعلقات بھی مسلسل وسعت اختیار کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے رواں سال سمندری سلامتی، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کارروائیوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس مشن سے بحرہند میں بھارت کے بڑھتے ہوئے تزویراتی کردار کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔ بھارتی کوسٹ گارڈ کے جہاز پر چار ممالک کے اہلکاروں کی مشترکہ شرکت خطے میں سلامتی اور استحکام کے لیے نئی دہلی کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ #India #Australia @TheAusToday @IndiaCoastGuard @AusHCIndia
2
2
45
جاپان کا بھارت میں اینٹی شپ میزائل مشقوں کا منصوبہ، دفاعی تعاون میں مزید وسعت کا امکان نئی دہلی: جاپان نے تصدیق کی ہے کہ اس نے بھارت میں اینٹی شپ میزائلوں اور چھوٹے حملہ آور ڈرونز کی ممکنہ فوجی مشقوں کا جائزہ لینے کے لیے اپنے دفاعی اہلکار بھیجے ہیں۔ اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ جاپانی زمینی دفاعی افواج کے سربراہ جنرل ماسایوشی آرائی نے 27 اکتوبر کو بتایا کہ جاپانی حکام نے بھارت میں فوجی تربیتی سہولتوں اور میزائل تجرباتی مقامات کا جائزہ لیا ہے۔ ان کے مطابق طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی عملی تربیت کے لیے مناسب مقامات کی دستیابی ایک بڑا چیلنج ہے۔ جاپان نے حال ہی میں ٹائپ 25 اینٹی شپ میزائل اپنے دفاعی نظام میں شامل کیا ہے، جس کی ممکنہ مار تقریباً ایک ہزار کلومیٹر ہے۔ اس کے مقابلے میں پرانے ٹائپ 12 میزائل کی مار تقریباً 200 کلومیٹر تھی۔ جاپان اپنی نئی میزائل صلاحیتوں کی مؤثر تربیت کے لیے بیرون ملک سہولتوں کے استعمال پر غور کر رہا ہے۔ جنرل آرائی نے بھارت کو بحرہند و بحرالکاہل خطے میں ایک اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ پیچیدہ سلامتی صورتحال میں نئی دہلی کے ساتھ دفاعی تعاون اور فوجی تبادلوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔ بھارت اور جاپان پہلے ہی مشترکہ فوجی مشقوں اور کواڈ کے ذریعے دفاعی تعاون کر رہے ہیں۔ چین کی بڑھتی ہوئی سمندری سرگرمیوں کے تناظر میں دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ تاہم جاپانی حکام نے واضح کیا ہے کہ بھارت میں میزائل مشقوں کے انعقاد، مقام یا تاریخ کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ دفاعی ماہرین کے نزدیک یہ پیش رفت بھارت کی بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت اور جدید فوجی تربیت کے شعبے میں بین الاقوامی شراکت داری کے امکانات کو ظاہر کرتی ہے۔ #Japan #India @JapaninIndia
2
3
58
کشمیریت کے تحفظ کے لیے کشمیری عوام نے بھارتی فوج کا ساتھ دیا، دہشت گردی کے متاثرین کی تنظیم کا بیان سری نگر: دہشت گردی کے متاثرین کی ایک تنظیم کی چیئرپرسن نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام نے مشکل حالات میں بھارتی فوج کے ساتھ مل کر کشمیریت، امن اور اپنی تہذیبی شناخت کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق کشمیر میں دہشت گردی نے عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا، لیکن عوام نے تشدد اور خوف کے ماحول کے باوجود امن اور بھائی چارے کی روایات کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریت کی اصل بنیاد مذہبی رواداری، باہمی احترام اور مختلف برادریوں کے درمیان ہم آہنگی ہے۔ دہشت گردی کے باعث ان روایات کو نقصان پہنچا، تاہم کشمیری معاشرے کے مختلف طبقات نے انہیں محفوظ رکھنے میں کردار ادا کیا۔ تنظیم کی چیئرپرسن کے مطابق بھارتی فوج اور مقامی آبادی کے درمیان تعاون نے دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو تقویت دی اور خطے میں معمولاتِ زندگی کی بحالی میں مدد فراہم کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے متاثرین کی قربانیوں اور مشکلات کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق امن کے قیام کے ساتھ متاثرہ خاندانوں کو انصاف، تحفظ اور بہتر مستقبل کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی حقیقی طاقت اس کے عوام، ان کی مشترکہ تہذیبی شناخت اور امن کے ساتھ زندگی گزارنے کے عزم میں مضمر ہے۔ #Kashmir #India @tasleemakashmir
🤖 Made with AI
2
2
131
پاکستان میں آزادیٔ صحافت کا بحران سنگین، سنسرشپ اور قانونی ہراسانی کے خلاف صحافی متحد اسلام آباد: پاکستان میں آزادیٔ صحافت پر بڑھتی ہوئی پابندیوں، سنسرشپ، قانونی ہراسانی اور صحافیوں کے خلاف کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک کی سرکردہ صحافتی تنظیموں، سینئر صحافیوں، سیاسی نمائندوں اور سول سوسائٹی نے مشترکہ جدوجہد شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ ایک اہم گول میز کانفرنس میں شرکا نے خبردار کیا کہ پاکستان میں آزاد صحافت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ سائبر کرائم قوانین، معاشی مشکلات اور ڈیجیٹل رابطوں پر پابندیاں آزادیٔ اظہار کو مزید محدود کر رہی ہیں۔ اجلاس کی صدارت سینئر صحافی ناصر زیدی نے کی، جبکہ کارروائی کی نظامت منیزے جہانگیر نے انجام دی۔ شرکا نے صحافتی آزادیوں کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے اور مشترکہ مطالبات مرتب کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ معروف صحافی حامد میر نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت صحافیوں کے خلاف مقدمات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تجویز دی کہ آزادیٔ اظہار پر پابندیوں اور ان قوانین کی منظوری میں سیاسی جماعتوں کے کردار سے متعلق وائٹ پیپر تیار کیا جائے۔ سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ صرف قوانین کی کمی نہیں بلکہ موجودہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد کا فقدان بھی ہے۔ نجم سیٹھی نے سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی ہیں۔ ان کے مطابق خود ساختہ سنسرشپ اور میڈیا مالکان کے تجارتی دباؤ نے آزاد صحافت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ صحافی عاصمہ شیرازی نے خواتین صحافیوں کے خلاف آن لائن ہراسانی اور منظم مہمات پر تشویش ظاہر کی، جبکہ عارفہ نور نے صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی اور میڈیا پر عائد پابندیوں کا منظم ریکارڈ تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا، پنجاب، پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے سکیورٹی خطرات، معاشی دباؤ اور آزادانہ رپورٹنگ میں بڑھتی ہوئی مشکلات کی نشاندہی کی۔ خیبر پختونخوا کے صحافتی رہنما ناصر حسین نے بتایا کہ نائن الیون کے بعد سے صوبے میں 30 سے زائد صحافی قتل ہو چکے ہیں، جبکہ صرف 2025 میں 22 صحافیوں کو دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے تجویز دی کہ صحافتی اتحاد سیاسی جماعتوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرے اور نگرانی، ذاتی معلومات کے غلط استعمال اور آزادیٔ اظہار پر پابندیوں کے خلاف واضح مطالبات پیش کرے۔ اجلاس میں پیکا قانون میں ترامیم، ہتکِ عزت سے متعلق قوانین، صحافیوں کی تنخواہوں میں تاخیر اور میڈیا اداروں کی مالی مشکلات پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سائبر کرائم قوانین میں ترامیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر دھمکیوں، ہراسانی اور بلیک میلنگ سے نمٹنے کے لیے قانونی اقدامات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد آزادیٔ اظہار کو محدود کرنا نہیں ہے۔ صحافتی نمائندوں نے خبردار کیا کہ اگر سنسرشپ، قانونی دباؤ اور صحافیوں کے تحفظ سے متعلق مسائل حل نہ کیے گئے تو پاکستان میں آزاد صحافت اور شہریوں کے معلومات تک رسائی کے حق کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ #Pakistan #PressFreedom
2
2
123
پاکستان کے راولپنڈی میں بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا، چھ سے آٹھ گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے عوام پریشان راولپنڈی: پاکستان کے شہر راولپنڈی میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ مختلف علاقوں میں روزانہ چھ سے آٹھ گھنٹے تک بجلی کی بندش سے گھریلو زندگی، تعلیمی سرگرمیاں اور کاروبار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ شہریوں کے مطابق سرد موسم کی آمد کے باوجود بجلی کی بندش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) پیشگی اطلاع دیے بغیر بجلی منقطع کر رہی ہے۔ آئیسکو کا کہنا ہے کہ بجلی کی طلب اور رسد میں فرق پورا کرنے کے لیے روزانہ دو گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کی جا رہی ہے، تاہم شہریوں کا دعویٰ ہے کہ عملی طور پر کئی علاقوں میں چھ سے آٹھ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے۔ فیصل کالونی کے رہائشی محمد اویس نے بتایا کہ ان کے علاقے میں صبح آٹھ بجے سے دوپہر دو بجے تک مسلسل چھ گھنٹے بجلی بند رہی، جبکہ چند روز بعد دوبارہ بغیر اطلاع بجلی منقطع کر دی گئی۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے طلبہ، ملازمت پیشہ افراد اور گھریلو خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شاہ خالد کالونی کے رہائشی محمد فرحان نے شکایت کی کہ بجلی کی کم کھپت کے باوجود ماہانہ بل دس ہزار پاکستانی روپے سے تجاوز کر رہے ہیں، جبکہ صارفین کو مسلسل لوڈشیڈنگ برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ میڈیا ٹاؤن کے رہائشی سہیل راجہ کے مطابق شام اور رات کے اوقات میں بھی بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے۔ شکایت کرنے پر انہیں بتایا گیا کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ ڈھوک رتہ کے رہائشی عبدالرحمان نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور بجلی کی مسلسل بندش نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔ دوسری جانب تاجروں نے بھی بجلی کی طویل بندش سے کاروباری نقصان کی شکایت کی ہے۔ راجہ بازار کے دکانداروں کے مطابق انہیں دکانیں روشن رکھنے اور کاروبار جاری رکھنے کے لیے جنریٹر استعمال کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ آئیسکو کے ترجمان راجہ عاصم نے بتایا کہ اٹک سے جہلم تک بجلی کے ٹرانسفارمرز، فیڈرز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی سالانہ مرمت کا کام شروع ہو چکا ہے، جس کے باعث بعض علاقوں میں عارضی طور پر بجلی بند کی جا رہی ہے۔ تاہم کمپنی نے ایک الگ بیان میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مرمت اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے بجلی کی بندش کا شیڈول پیشگی جاری کیا جاتا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ بجلی کی بندش سے کم از کم ایک دن پہلے اطلاع دی جائے اور طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ فوری طور پر ختم کیا جائے۔ #Rawalpindi #Pakistan
2
2
79
بلوچستان کے ضلع کیچ میں پاکستانی فورسز پر خواتین اور بچوں پر تشدد کا الزام، گھروں پر چھاپوں کے دوران قیمتی سامان ضبط کوئٹہ: پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں سکیورٹی فورسز پر گھروں میں چھاپوں کے دوران خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے، اہل خانہ کو ہراساں کرنے اور موبائل فون سمیت قیمتی سامان ضبط کرنے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان واقعات نے بلوچستان میں جاری سکیورٹی کارروائیوں اور جبری گمشدگیوں کے حوالے سے انسانی حقوق کی صورتحال پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ضلع کیچ کی تحصیل تمپ کے علاقے گومازی میں پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں نے رات کے وقت متعدد گھروں پر چھاپے مارے۔ الزام ہے کہ کارروائی کے دوران خواتین کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ اہلکار موبائل فون اور دیگر قیمتی اشیا اپنے ساتھ لے گئے۔ رپورٹس کے مطابق گومازی میں ہونے والی کارروائی کے دوران کسی گرفتاری یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ایک الگ واقعے میں ضلع کیچ کے علاقے سرنکن میں پاکستانی فورسز نے مبینہ طور پر دو جبری لاپتہ بھائیوں، عدنان بلوچ اور ادہم بلوچ، کے خاندانی گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی۔ مقامی ذرائع کا الزام ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے پوچھ گچھ کے دوران گھر میں موجود خواتین اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے موبائل فون ضبط کر لیے۔ اطلاعات کے مطابق ادہم بلوچ کو 19 اور 20 اکتوبر کی درمیانی شب ایک مسلح گروہ نے ان کے گھر سے مبینہ طور پر اغوا کیا تھا۔ مقامی ذرائع اس گروہ کو ریاستی سرپرستی حاصل ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ ادہم بلوچ کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ان کے چھوٹے بھائی عدنان بلوچ کو 19 اگست 2026 کو پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں نے ہیرآباد ہوٹل سے مبینہ طور پر حراست میں لیا تھا۔ اس کے بعد سے ان کے بارے میں بھی کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں۔ دونوں بھائی محمد ابراہیم کے بیٹے ہیں۔ مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان کی جبری گمشدگیوں سے پہلے بھی خاندان کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا اور ان کے گھر پر تین مختلف مواقع پر دستی بموں سے حملے کیے گئے تھے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، گھروں پر چھاپوں اور شہریوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے واقعات پہلے ہی انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ تازہ واقعات کے بعد متاثرہ خاندانوں کی سلامتی اور لاپتہ افراد کی صورتحال پر مزید سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ پاکستانی حکام نے ان چھاپوں، خواتین اور بچوں پر مبینہ تشدد اور عدنان و ادہم بلوچ کی جبری گمشدگیوں کے الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہو سکی ہے۔ #Kech #Balochistan #Pakistan
2
2
107
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج پر انسانی حقوق کمیشن کی شدید تنقید، پاکستان میں جمہوریت کو سنگین خطرہ قرار لاہور: انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وفاقی حکومت کے اقدامات جمہوری اداروں، بنیادی انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں کے لیے سنگین خطرہ بن رہے ہیں۔ کمیشن نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ ملک کے واحد اپوزیشن کے زیرِ اقتدار صوبے میں منتخب حکومت کو معطل کرنا اور منتخب وزیراعلیٰ کو حراست میں رکھنا جمہوری اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایچ آر سی پی کے مطابق خیبر پختونخوا میں سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں، عوامی اجتماعات پر پابندیوں اور سکیورٹی کارروائیوں کے نتیجے میں شہری آزادیوں کو مسلسل محدود کیا جا رہا ہے۔ پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی خواتین کارکنوں سمیت منتخب نمائندوں کی گرفتاریوں کو بھی سیاسی سرگرمیوں کے خلاف وسیع کارروائی کا حصہ قرار دیا گیا۔ کمیشن نے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو اجتماعی سزا، طاقت کے غیر ضروری استعمال یا شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ بیان میں کہا گیا کہ فوجی کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے خدشات موجود ہیں، جبکہ محض فوجی طاقت کے ذریعے پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ انسانی حقوق کمیشن نے شمالی اور جنوبی وزیرستان، بنوں اور میران شاہ میں کرفیو اور فوجی تعیناتی کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ کمیشن نے مطالبہ کیا کہ حکومت شہری ہلاکتوں کی تفصیلات جاری کرے اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرے۔ کمیشن کے مطابق پشاور، سوات اور خیبر میں تحریک انصاف کے کارکنوں کے گھروں پر پولیس چھاپوں اور عوامی اجتماعات کو منتشر کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی ابتدائی بندش پر تنقید کرتے ہوئے کمیشن نے کہا کہ رابطوں کی معطلی سے شہریوں کی تعلیم، روزگار، معلومات تک رسائی اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔ ایچ آر سی پی نے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے افراد کو فوری رہا کیا جائے، گرفتار شہریوں کو وکلا اور اہل خانہ تک رسائی دی جائے اور انہیں مقررہ قانونی مدت میں عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ کمیشن نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج ختم کرنے، منتخب وزیراعلیٰ کی رہائی اور صوبائی اسمبلی کی بحالی کا مطالبہ بھی دہرایا۔ بیان میں وفاقی حکومت اور تحریک انصاف سے اپیل کی گئی کہ وہ سیاسی مذاکرات دوبارہ شروع کریں اور دہشت گردی، بنیادی حقوق اور صوبے کے قدرتی وسائل سے متعلق معاملات میں مقامی آبادی اور سول سوسائٹی کو شریک کریں۔ انسانی حقوق کمیشن نے خبردار کیا کہ سیاسی اتفاقِ رائے کے بجائے ایمرجنسی اختیارات کے ذریعے حکومت چلانے کی روش پاکستان کے جمہوری نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ #KhyberPakhtunkhwa #Pakistan #ImranKhan #AsimMunir @PTIKPOfficial @HRCP87
2
2
128
تائیوانی سیاست دان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے لیے چین پر دھمکیوں اور دباؤ کی مہم چلانے کا الزام تائی پے: چین پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ تائیوان کے ایک اہم سیاست دان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے کے لیے دھمکیوں، سفارتی دباؤ اور اقتصادی اثر و رسوخ کا استعمال کر رہا ہے۔ اس معاملے نے ایک مرتبہ پھر تائیوان کی سیاسی آزادی اور بین الاقوامی سرگرمیوں میں چین کی مداخلت سے متعلق خدشات کو نمایاں کر دیا ہے۔ تائیوانی حکام کے مطابق بیجنگ کی کوششوں کا مقصد تائیوان کے سیاسی نمائندوں کی بیرونِ ملک سرگرمیوں کو محدود کرنا اور عالمی برادری کے ساتھ ان کے روابط کو کمزور کرنا ہے۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اس کی علیحدہ بین الاقوامی شناخت کی مخالفت کرتا ہے، جبکہ تائیوان کی منتخب حکومت اپنے سیاسی نظام اور بین الاقوامی تعلقات برقرار رکھنے کے حق پر زور دیتی ہے۔ چین اور تائیوان کے درمیان کشیدگی صرف فوجی اور سفارتی معاملات تک محدود نہیں رہی بلکہ اب سیاسی شخصیات کی بین الاقوامی سرگرمیاں بھی تنازع کا حصہ بن رہی ہیں۔ تائیوان میں ان اقدامات کو سیاسی دباؤ کی ایک وسیع مہم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے ذریعے بیجنگ ان ممالک اور اداروں کو بھی پیغام دینا چاہتا ہے جو تائیوانی نمائندوں کے ساتھ روابط برقرار رکھتے ہیں۔ اس تنازع کا بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا چین کے دباؤ کے باوجود تائیوان کے منتخب نمائندے عالمی سطح پر آزادانہ سیاسی روابط برقرار رکھ سکیں گے۔ #China #Taiwan
🤖 Made with AI
2
3
110
تبت اور اویغور مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر چین سے جواب طلب، جنیوا مذاکرات میں سوئٹزرلینڈ نے سنگین خدشات اٹھائے جنیوا: سوئٹزرلینڈ نے چین کے ساتھ دوطرفہ انسانی حقوق کے مذاکرات میں تبت اور سنکیانگ میں مذہبی، ثقافتی اور لسانی آزادیوں پر عائد پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مذاکرات میں اویغور مسلمانوں، تبتی باشندوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ 19 اور 20 اکتوبر کو جنیوا میں منعقدہ سوئٹزرلینڈ اور چین کے درمیان انسانی حقوق کے مذاکرات کے 19ویں دور میں تبت، سنکیانگ اور ہانگ کانگ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سوئس وزارت خارجہ کے مطابق مذاکرات میں چین کے مجوزہ نسلی اتحاد اور ترقی کے قانون کے ممکنہ اثرات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اس قانون کے ذریعے اقلیتی برادریوں کی زبان، ثقافت اور مذہبی شناخت پر مزید پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔ جنیوا میں قائم تبتی بیورو نے سوئٹزرلینڈ کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ چین میں اقلیتوں کی صورتحال کو بین الاقوامی سفارتی ایجنڈے پر برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ تبتی نمائندوں کے مطابق چین میں تبتی زبان کی تعلیم، ثقافتی اظہار اور مذہبی آزادی پر مسلسل پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نئی چینی قانون سازی اقلیتی برادریوں کی منفرد شناخت اور روایات کے تحفظ کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ مذاکرات میں سوئس وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے امن اور انسانی حقوق کے شعبے کی نائب سربراہ ڈاگمار شمٹ ٹارٹاگلی نے کی، جبکہ چینی وفد کی سربراہی وزارت خارجہ کے محکمہ بین الاقوامی تنظیموں اور کانفرنسوں کی نائب ڈائریکٹر جنرل یوان یوان نے کی۔ دونوں ممالک نے شہری، سیاسی، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے علاوہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں میں تعاون، مصنوعی ذہانت کے انسانی حقوق پر اثرات اور نظامِ انصاف سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ مذاکرات کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق انفرادی معاملات بھی اٹھائے گئے۔ تبتی بیورو نے کہا کہ چین کی نسلی اتحاد سے متعلق پالیسیوں کے تحت اقلیتوں کی الگ شناخت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب تبتی زبان کی تعلیم اور مذہبی سرگرمیوں پر پہلے ہی پابندیوں کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ بیورو نے سوئٹزرلینڈ سے مطالبہ کیا کہ وہ بیجنگ کے ساتھ آئندہ مذاکرات میں بھی تبت اور دیگر اقلیتی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال کو ترجیح دے۔ تبتی نمائندوں کے مطابق بین الاقوامی برادری کی مسلسل نگرانی اور مؤثر سفارتی اقدامات ہی تبت کے مذہبی، ثقافتی اور لسانی ورثے کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جنیوا میں ہونے والے ان مذاکرات نے ایک مرتبہ پھر چین میں اویغور مسلمانوں اور تبتی باشندوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی تشویش کو نمایاں کیا ہے۔ #China #Tibet #Xinjiang #EastTurkistan #Uyghur
🤖 Made with AI
2
2
105
عالمی اقدامات کے ذریعے چین کی دنیا کا نظام بدلنے کی کوشش، بیجنگ کے عزائم پر سوالات ہانگ کانگ: چین کی کمیونسٹ حکومت عالمی ترقی، سلامتی، تہذیبی تعاون اور بین الاقوامی حکمرانی کے نام پر چار بڑے اقدامات کے ذریعے موجودہ عالمی نظام کو تبدیل کرنے اور اپنا سیاسی و اقتصادی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق صدر شی جن پنگ کی ان پالیسیوں کا مقصد امریکی بالادستی کو چیلنج کرنا اور چین کے مفادات سے ہم آہنگ عالمی نظام قائم کرنا ہے۔ برطانیہ کی کونسل آن جیواسٹریٹجی سے وابستہ ماہر چارلس پارٹن نے اپنی رپورٹ میں چین کے چار عالمی اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ ترقی پذیر ممالک کے سامنے خود کو اقتصادی ترقی، امن اور تعاون کے حامی کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن اس کے اقدامات کے پیچھے عالمی سیاست میں اپنا اثر بڑھانے کی خواہش بھی نمایاں ہے۔ چین نے ستمبر 2021 میں گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو متعارف کرایا تھا، جس کا مقصد پائیدار ترقی کو فروغ دینا بتایا گیا۔ بیجنگ کے مطابق 130 سے زائد ممالک اور تنظیمیں اس کی حمایت کرتی ہیں، جبکہ جون 2026 تک 23 ارب ڈالر سے زیادہ ترقیاتی وسائل جمع کیے گئے اور 1,800 سے زائد منصوبے شروع ہوئے۔ تاہم ماہرین نے چینی امداد کی نوعیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو دی جانے والی مالی معاونت میں تجارتی قرضوں کا کردار نمایاں ہے، جس سے ان کا چین پر اقتصادی انحصار بڑھ سکتا ہے۔ اپریل 2022 میں متعارف کرائے گئے گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو کے تحت چین قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن ناقدین کے مطابق جنوبی بحیرہ چین میں فلپائن کے ساتھ بیجنگ کا رویہ ان اصولوں سے متصادم ہے۔ مارچ 2023 میں پیش کیے گئے گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو میں تہذیبی تنوع اور ثقافتی تعاون پر زور دیا گیا۔ تاہم تبت اور سنکیانگ میں مذہبی و ثقافتی آزادیوں پر پابندیوں اور اویغور مسلمانوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے چین کو مسلسل بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے۔ چین کا چوتھا منصوبہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو ستمبر 2025 میں متعارف کرایا گیا، جس میں بین الاقوامی قانون، ریاستوں کی مساوات اور عالمی اداروں میں اصلاحات کی حمایت کی گئی۔ تاہم ماہرین نے یاد دلایا کہ چین نے 2016 میں جنوبی بحیرہ چین سے متعلق بین الاقوامی ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کر دیا تھا۔ چارلس پارٹن کے مطابق چین ان اقدامات کے ذریعے امریکہ کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے، کمیونسٹ پارٹی کے سیاسی نظام کو عالمی سطح پر زیادہ قابل قبول بنانے اور بین الاقوامی اداروں میں اپنا کردار مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین اقوام متحدہ، برکس اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے۔ تاہم چینی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، اہم معدنی وسائل اور مصنوعی ذہانت پر بڑھتا ہوا انحصار بعض ممالک کی آزادانہ فیصلہ سازی کو متاثر کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق چین کے عالمی اقدامات کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا وہ واقعی مساوی شراکت داری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو فروغ دیتے ہیں یا بیجنگ انہیں عالمی طاقت کا توازن اپنے حق میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ رپورٹ کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ چین صرف عالمی نظام میں زیادہ حصہ داری نہیں چاہتا بلکہ اسے اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کے مطابق نئی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ #China
🤖 Made with AI
3
3
118
مصنوعی ذہانت میں بھاری سرمایہ کاری کے باوجود چین کی معیشت کو محدود فائدہ، کمزور داخلی طلب ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ: فچ ریٹنگز نئی دہلی: عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ ریٹنگز نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں چین کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے باوجود ملکی معیشت کو فوری طور پر وسیع فوائد حاصل ہونے کے امکانات محدود ہیں۔ کمزور گھریلو طلب، صارفین کے اعتماد میں کمی اور نئی ٹیکنالوجی سے خاطر خواہ تجارتی منافع حاصل نہ ہونے جیسے عوامل چین کی اقتصادی ترقی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ فچ ریٹنگز کی تازہ رپورٹ کے مطابق چین مصنوعی ذہانت کو اپنی اقتصادی ترقی کا ایک نیا محرک بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے سیمی کنڈکٹرز، کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، صنعتی آٹومیشن، بجلی کی پیداوار اور کاروباری سافٹ ویئر سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھائی جا رہی ہے۔ تاہم ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان سرمایہ کاریوں سے پیداوار میں اضافے، کمپنیوں کی آمدنی بہتر ہونے اور مجموعی اقتصادی ترقی جیسے فوائد سامنے آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ چینی حکومت اپنے ’اے آئی پلس‘ (AI+) منصوبے کے تحت مصنوعی ذہانت کو صنعتوں، خدمات، صارفین کی سرگرمیوں اور سرکاری شعبے میں وسیع پیمانے پر متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن فچ کے مطابق موجودہ سرمایہ کاری کا بڑا حصہ بنیادی ڈھانچے، ہارڈ ویئر اور صنعتی سپلائی چین تک محدود ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت سے مستقل تجارتی آمدنی حاصل کرنے کا عمل ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو کم لاگت اور اوپن ویٹ ماڈلز کی دستیابی کے باعث بعض مسابقتی فوائد حاصل ہیں۔ تاہم شدید کاروباری مقابلے کے نتیجے میں ان کمپنیوں کے لیے اپنی خدمات کی مناسب قیمت وصول کرنا اور سرمایہ کاری پر مطلوبہ منافع حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ فچ نے چین اور امریکہ کے مصنوعی ذہانت کے شعبوں کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا ہے۔ اس کے مطابق چینی کمپنیاں کم لاگت پر اے آئی ٹیکنالوجی فراہم کرنے اور قیمت کے حوالے سے حساس منڈیوں میں اپنی موجودگی بڑھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کے برعکس امریکی کمپنیاں جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، عالمی کلاؤڈ انفراسٹرکچر، بڑے کاروباری صارفین تک رسائی اور ٹیکنالوجی سے آمدنی حاصل کرنے کی صلاحیت میں نسبتاً مضبوط پوزیشن رکھتی ہیں۔ فچ نے چین کی معیشت میں موجود بنیادی عدم توازن کی بھی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق برآمدات، صنعتی پیداوار اور حکومتی سرپرستی میں ہونے والی سرمایہ کاری اقتصادی سرگرمیوں کو سہارا دے رہی ہیں، لیکن گھریلو صارفین کی کمزور قوت خرید، قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ، نجی سرمایہ کاری میں سست روی اور پراپرٹی سیکٹر کے مسائل مجموعی ترقی کو متاثر کر رہے ہیں۔ ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اس معاشی عدم توازن کو مزید نمایاں کر سکتی ہے۔ حکومتی حمایت یافتہ اور برآمدات پر انحصار کرنے والی صنعتیں اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں، جبکہ مقامی صارفین پر انحصار کرنے والے کاروبار اور جائیداد کے شعبے سے وابستہ کمپنیاں مالی مشکلات کا سامنا کرتی رہ سکتی ہیں۔ چین کی معیشت کو پہلے ہی رئیل اسٹیٹ کے بحران، مقامی حکومتوں کے قرضوں اور صارفین کے کمزور اعتماد جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں محض جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اقتصادی بحالی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ فچ کے مطابق چین کے لیے اصل چیلنج مصنوعی ذہانت پر بڑھتے ہوئے اخراجات کو حقیقی پیداواری فوائد، کمپنیوں کے بہتر منافع اور وسیع تر گھریلو طلب میں تبدیل کرنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو چین کی اقتصادی ترقی کا پائیدار ذریعہ بنانے کے لیے ضروری ہوگا کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال صرف بڑی صنعتوں اور حکومتی منصوبوں تک محدود نہ رہے بلکہ چھوٹے کاروباروں، خدمات کے شعبے اور مجموعی معیشت تک بھی اس کے فوائد پہنچیں۔ فچ کے اس جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کی تکنیکی ترقی اور اس کی مجموعی اقتصادی صحت کے درمیان ایک نمایاں فرق موجود ہے۔ مصنوعی ذہانت میں کامیابیاں اہم ہونے کے باوجود کمزور داخلی طلب اور ساختی اقتصادی مسائل کے حل کے بغیر ان کا مکمل فائدہ حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ #China #AI
🤖 Made with AI
2
2
122
بھارتی پائلٹ کی بہادری کو عالمی سطح پر خراجِ تحسین، متحدہ عرب امارات کا اعلیٰ اعزاز، اسرائیل اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے ہیرو قرار دیا دبئی: فلائی دبئی کے بھارتی پائلٹ کیپٹن سمیت مچھڑ (Smit Machchhar) کی غیر معمولی بہادری کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ دورانِ پرواز کاک پٹ میں حملے کے باوجود مسافروں کی جانیں بچانے والے بھارتی پائلٹ کو متحدہ عرب امارات نے اعلیٰ اعزاز سے نوازا ہے، جبکہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ کے رہنماؤں نے بھی ان کی جرات اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 کے کاک پٹ میں ایک حملہ آور نے کیپٹن سمیت مچھڑ کو شدید زخمی کر دیا تھا۔ سر پر گہری چوٹ لگنے اور بار بار بے ہوش ہونے کے باوجود بھارتی پائلٹ نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد عملے اور مسافروں نے حملہ آور پر قابو پایا۔ طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک کی جانب موڑ دیا گیا، جہاں اسے بحفاظت اتار لیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے اس واقعے میں بہادری کا مظاہرہ کرنے والے فلائی دبئی کے عملے کو آرڈر آف زاید دوم، فرسٹ کلاس سے نوازا۔ دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے یہ اعزازات پیش کیے۔ شیخ حمدان نے 3 اکتوبر کو زخمی بھارتی پائلٹ کی عیادت بھی کی تھی اور کہا تھا کہ کیپٹن سمیت نے انسانی زندگیوں کے تحفظ کے لیے غیر معمولی جرات، ذمہ داری اور فرض شناسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کیپٹن سمیت مچھڑ کو ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے دوسروں کی جانیں بچانے کے لیے بے مثال حوصلے اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ وزیراعظم نے ان کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھارتی پائلٹ کو عالمی ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بہادری نے فضا میں ایک بڑے سانحے کو روکنے میں مدد دی۔ نیتن یاہو نے انہیں اسرائیل کے دورے کی دعوت بھی دی اور آئندہ مئی میں اسرائیل کے یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کی خواہش ظاہر کی۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اعلان کیا کہ صحت یابی کے بعد کیپٹن سمیت مچھڑ کو اسرائیل کا صدارتی اعزاز برائے شہری بہادری دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی پائلٹ کی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت نے ایک بڑے فضائی حادثے کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسرائیل نے ان چھ مسافروں کو بھی شہری بہادری کے صدارتی اعزاز سے نوازا جنہوں نے حملہ آور کو قابو کرنے اور ہنگامی صورتحال پر قابو پانے میں مدد کی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بھارتی پائلٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھولنا ایک بہادرانہ اقدام تھا۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے قرارداد نمبر 1612 کے ذریعے کیپٹن سمیت، طیارے کے عملے اور مدد کرنے والے مسافروں کی جرات کو تسلیم کیا اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس واقعے کے دوران طیارے میں موجود اسرائیلی دندان ساز ڈاکٹر شوٹا موسائیف نے زخمی پائلٹ کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ ان کے مطابق انہوں نے خون بہنے سے روکنے اور پائلٹ کا بلڈ پریشر مستحکم کرنے میں مدد کی۔ کیپٹن سمیت مچھڑ نے بعد میں ایک انٹرویو میں بتایا کہ کاک پٹ میں بیٹھے ہوئے اچانک ان کے سر کے پچھلے حصے پر زوردار ضرب لگی اور وہ بار بار ہوش کھوتے رہے۔ تاہم انہوں نے خود کو سنبھالا اور فیصلہ کیا کہ انہیں ہر صورت کچھ کرنا ہوگا۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارتی برادری نے بھی کیپٹن سمیت کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ابوظہبی کے بی اے پی ایس ہندو مندر میں ان کی جلد صحت یابی کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔ کیپٹن سمیت مچھڑ کی بہادری کو بھارت کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور انسانی زندگی کے تحفظ کے لیے اس کے شہریوں کے عزم کی ایک نمایاں مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے یہ بھی ظاہر کیا کہ غیر معمولی بحران کے دوران مختلف ممالک کے مسافروں اور عملے کی مشترکہ کوششیں کس طرح ایک بڑے سانحے کو روک سکتی ہیں۔ #India #UAE #SmitMachchhar @UAEembassyIndia
3
3
212