
#AbdullahGagrana #VONPAk Pakistani Content Creator Spreading , faith, & culture , Islamic posts #TickTok #FB
Abdul Hakim Punjab
Joined October 2011
- Tweets29.2K
- Following6.2K
- Followers30.5K
- Likes19K
Pinned Tweet
مایوس اورغمزدہ نا ہوجائیں
اللہ کی رحمت سے بیمارشفایاب ہو جائینگے
دکھ کی گھڑیاں گزر جائینگی
گناہ بخش دیے جائینگے
جدائی وصال میں بدل جائیگی اورخوشیاں بھی جم کر برسیں گی
تم نے دیکھا نہی کالی گھٹائیں بھی چھٹ ہی جاتی ہیں
اندھیری رات سویرے میں بدل جاتی ہے
اللہ تعالٰی پریقین کامل رکھیں
مطلب 2018 والوں پر آپ ایمان رکھتے ہیں
کہتا رہا کہ تحریک انصاف کو الیکشن جیتنے نہیں دیا جائے گا کیوں کہ عمران خان نے لڑائی فوج کے ساتھ لے لی ہے، الیکشن 2024 بلاشبہ دھاندلی زدہ تھے اور ان کا مقصد تحریک انصاف کو ہرانا تھا، قبولیت نہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کو اقتدار نہ ملا اور فارم 47 نے قبولیت کے فارمولے کو حقیقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انصار عباسی
تیرے جیسے بغیرت ہر جگہ ہوتے ہیں جن کا کام صرف انتشار پھیلانا ہوتا ہے ہم مسلمان انکو شیطان کہتے ہیں
یہ شیطان ہر ملک ہر جگہ ہر گھر میں ہوتے ہیں
انکا کام صرف بکواس کرنا اور انسان کو الٹے سیدھے راستے دکھانا ہوتا ہےمگر یہ بھول جاتے ہیں ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے
آپ جاری رکھو بےشرم
پاکستان تباہی کے دہانے پر!
المرصاد، دوسری قسط
پہلے بھی ذکر گیا تھا کہ پاکستان کے زوال کی ایک بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام تھی، اور دوسری وجہ اُن عالمی طاقتوں کے اسٹریٹجک مفادات کا خاتمہ تھی جنہوں نے پاکستان کو اپنے مخصوص مقاصد کے لیے وجود بخشا تھا۔ چونکہ دنیا ہمیشہ تغیر پذیر ہے، اس لیے عالمی سلطنتیں اور طاقتیں بھی وقت کے ساتھ بدلتی ہیں، اور اپنے اہداف کو نئی ضرورتوں کے مطابق ڈھال لیتی ہیں۔
پاکستان کو برطانوی عظیم سلطنت نے اُس وقت وجود بخشا جب ان کی طاقت اپنے عروج پر تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ عظیم ہندوستان انگریز سلطنت کے لیے دردِ سر نہ بنے، اور عظیم افغانستان جس نے انگریزوں کے ساتھ کئی بار جنگیں کی تھیں؛ اب ان کے راستے میں رکاوٹ نہ رہے۔ اسی لیے برطانیہ نے ان دونوں خطوں کو تقسیم کر دیا۔
اگر واقعی پاکستان کے قیام کا مقصد مسلمانوں کو ظلم و ستم سے نجات دلانا ہوتا، تو پھر انگریزوں نے وہ علاقے افغانستان ساتھ کیوں نہ ملائے؟
درحقیقت، پاکستان کی تخلیق کا منصوبہ انگریزوں نے ایک بڑے اور مضبوط ملک کے اُبھرنے کو روکنے کے لیے بنایا تھا، اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو مختلف حصوں میں بانٹ دیا جائے تاکہ وہ دوبارہ متحد ہو کر ہندوستان میں حکومت نہ قائم کر سکیں۔
پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد نہ صرف یہ کہ مسلمانوں نے ہندوستان میں حکومت حاصل نہیں کی، بلکہ وہ مسلمان جو بھارت میں رہ گئے، آج تک اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ اور جب برطانوی سلطنت کا سورج غروب ہوا، تو اس کے ساتھ ہی پاکستان کے وجود کی اصل فلسفیانہ بنیاد بھی بے معنی ہو گئی۔
گزشتہ نصف صدی میں پاکستان ایک عرصے تک امریکی سپر پاور کے لیے روس کے مقابلے میں اور چین کے لیے ہندوستان کے خلاف ایک مفید آلہ کار کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ مگر جب یوکرین کی جنگ شروع ہوئی، تو امریکہ خود مغرب میں روس کے خلاف الجھ گیا، اور اب پاکستان اس کے لیے فائدے کے بجائے بوجھ بن چکا ہے۔ اسی طرح چین کے خلاف امریکہ کے بڑے حریف کے طور پر ہندوستان اب امریکہ کے لیے زیادہ موزوں اور مضبوط اتحادی بن سکتا ہے۔ چنانچہ مغرب کے نزدیک پاکستان نامی یہ منصوبہ اب نفع کے بجائے نقصان کا باعث بن گیا ہے۔
پاکستان کے خاتمے کا خطرہ اُس وقت مزید بڑھ گیا جب چین اور ہندوستان کے تعلقات بہتر ہونے لگے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آ گئے تو پاکستان چین کے لیے بھی غیرضروری ہو جائے گا۔ اب جبکہ پاکستان سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی انتہا کو پہنچ چکا ہے، عالمی طاقتیں اُس سے ہاتھ کھینچ رہی ہیں۔ اور وہ پاکستان، جس کی بنیاد ہمیشہ بیرونی طاقتوں کے سہارے پر قائم تھی، اب ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جب کوئی ملک سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے، تو اُسے صرف قوم کی وحدت یا جغرافیائی حیثیت بچا سکتی ہے۔ مگر پاکستان میں کوئی ایسی مضبوط قومی یکجہتی نہیں۔ وہاں کے عوام مختلف نسلی، فکری اور لسانی گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ اگرچہ پاکستان کے عوام مسلمان ہیں، لیکن اس کا نظامِ حکومت اور قانون غیر اسلامی ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے بھی پاکستان کے پاس کوئی حقیقی ملکیت نہیں۔ یہ ملک غصب شدہ زمینوں پر قائم ہوا ہے، اور آج بھی ان علاقوں کے اصل مالکان اپنے حقوق کے دعویدار ہیں۔
پاکستان کو ٹوٹنے سے بچانے کا واحد راستہ ایک خالص اسلامی نظام کا قیام ہے۔ یہی نظام اس کے شیرازے کو بکھرنے سے کچھ عرصے کے لیے روک سکتا ہے۔
تیرے جیسے جرنلسٹ کو بندہ چوک میں کھڑا کرے اور ہر بندہ 10 چھتر مار کے گزرے
بے شرم انکا موقف درست ہے کہ دہشتگردوں سے کبھی بات نہیں ہوگی اور افغان طالبان کیلیئے راستہ ہے اگر وہ چاہیں
آپ طالبان کو دہشت گرد سمجھتے ہو تو کرتے رہو ہم نے TTP کیلیئے دروازہ بند کیا ہے
ایک زبان اور دو باتیں!
کل تک کہتے تھے طالبان سے مذاکرات نہیں کریں گے،
اور آج خود کہتے ہیں کہ مسئلہ بات چیت سے حل ہونا چاہیے۔ 😊
سو چھتر اور سو پیاز کھانے کے بعد عقل ٹھکانے آئی۔
@Parizaad_reborn
@soldierspeaks
نقشہ پر ہی علاقے فتح کرنے ہیں تو روس یوکرائن ازبک چائنا کوریا ایران سارا عرب اسرائیل امریکہ برطانیہ کینیڈا افریقہ سب شامل کر لو کچھ بڑا دیکھو
پورے افغان میں آئینہ ہو تو زرا خود کو اور اپنی قوم کو دکھا دو
This Post is from a suspended account. Learn more
جس سپیڈ سے افغانستان نقشہ پر پھیل رہا ہے مجھے امید ہے نومبر کے اینڈ تک انڈیا چائنا ایران ازبک تاج ترکمان روس فتح ہو جائیں گے اور دسمبر کے اینڈ تک برطانیہ امریکہ کوریا افریقہ آسٹریلیا سب افغانستان کا حصہ ہونگے
اسرائیل تو انکی ویسے جیب میں ہے
''تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ قیامت والے دن نہ تو(نرم لہجے میں ) کلام کریں گے، نہ ان کی طرف (نظر رحمت سے) دیکھیں گے اور نہ ہی ان کو (گناہوں ) سے پاک کریں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے بدبخت اور خسارہ اُٹھانے والے کون ہیں
نوجوانوں نے عمران کو صرف اس وجہ سے سپورٹ کیا کہ وہ تبدیلی کا نعرہ لگا رہا رھا تھا
اس نے نوجوانوں کا صرف استعمال کیا اور آج بھی کر رہا ہے
پاکستان کے جوان آج بھی اس دھوکے میں ہیں کہ عمران نجات دہندہ ثابت ہوگا
اقرار بھائی جس پارٹی کا زکر کر رہے ہیں وہ عام پاکستانی کی پارٹی ہوگی ا
عادل راجہ ایک مستند و سرٹیفائیڈ قسم کا بےغیرت و بےشرم انسان ہے یہ جب پیدا ہونے کے قریب تھا اسکو زرائع بتاتے تھے کہ یہ کنفرم برطانیہ کے کسی گورے کے گھر پیدا ہو گا کچھ ذرائع نے اسے انڈین پرائم منسٹر کا بیٹا بتایا تھا
اسکی ماں نے تمام زرائع غلط بنا دیے یہ کنجر پاکستان میں پیداہوگیا
پاکستان فوج کے سابق میجر عادل راجہ نے اپنے ایک ٹویٹ میں داعش کے بارے میں ایک مستند رپورٹ شائع کی ہے، جسے میں بالکل ویسے ہی آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔👇
🚨باخبر ذرائع کے مطابق، گزشتہ ماہ کے دوران داعش خراسان کے میڈیا انچارج سلطان عزیز عزام ➖️ جو افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے رہائشی ہیں، نے پاکستانی خفیہ اداروں کے ساتھ متعدد مسلسل ملاقاتیں کی ہیں، اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق، عزام اس وقت پاکستانی خفیہ اداروں کے زیرِ انتظام ایک نجی گیسٹ ہاؤس (سیف ہاوس) میں مقیم ہیں۔
یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب داعش خراسان گزشتہ دو برسوں سے مکمل طور پر پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں موجود ہے۔ افغان حکام کے بقول، ان کے پاس اطلاعات ہیں کہ داعش کو افغانستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اور اس پر پاکستان کا مکمل اثر و رسوخ قائم ہے۔
اس تناظر میں، یہ ملاقاتیں افغانستان اور خطے کے ممالک کے لیے نہایت اہم پیغام رکھتی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ملاقاتیں اُس وقت سے زیادہ تواتر اور مقصدیت کے ساتھ جاری ہیں جب رواں ماہ کی 9 تاریخ کو پاکستان نے کابل میں فضائی حملہ کیا، جس کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں مزید بڑھ گئی ہیں جب پاکستان عملاً افغانستان کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے۔




















