Pinned Tweet
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بندے کی اصل خوبی تین عادات میں ہے اپنی تنگدستی کو اس حد تک چھپانا لوگ آپ کی خود داری کی وجہ سے آپ کو امیر سمجھیں غصے کو اتنا دبانا کہ لوگ سمجھیں آپ راضی ہیں اور اپنی تکلیف و پریشانی کو اس حد تک پوشیدہ رکھنا کہ لوگ سمجھیں آپ بڑے عیش و آرام میں ہیں
𝙄 𝙖𝙙𝙫𝙞𝙨𝙚 𝙮𝙤𝙪 retweeted
دوسروں کی غلطیوں سے سیکھو، تم اتنی لمبی عمر نہیں رکھتے کہ تمام غلطیاں خود کر کے دیکھو۔"
انہوں نے ایک ٹریفک چالان پر انہیں چار ماہ کی مشقت والی قید سنا دی۔
مئی 1960۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کو جارجیا میں الاباما کے ڈرائیونگ لائسنس پر گاڑی چلانے پر روکا جاتا ہے، حالانکہ ان کا لائسنس ابھی درست تھا۔ وہ معمولی جرمانہ ادا کر دیتے ہیں۔ کوئی انہیں نہیں بتاتا کہ انہیں پروبیشن پر رکھ دیا گیا ہے۔
اکتوبر 1960۔ کنگ اٹلانٹا میں صرف سفید فاموں کے لیے مخصوص ایک ریستوران میں طلبہ کے پُرامن دھرنے میں شامل ہوتے ہیں اور گرفتار ہو جاتے ہیں۔ ایک جج پرانے ٹریفک چالان کو بہانہ بناتا ہے، کہتا ہے کہ انہوں نے پروبیشن کی خلاف ورزی کی، اور انہیں چار ماہ کی مشقت والی قید سنا دیتا ہے۔
فجر سے پہلے انہیں زنجیروں میں جکڑ کر کوٹھری سے نکالا جاتا ہے اور 200 میل سے زیادہ دور ایک دور افتادہ جیل لے جایا جاتا ہے۔ ان کی اہلیہ کوریٹا، جو اپنے تیسرے بچے کی امید سے تھیں، ان کی جان کے لیے خوفزدہ ہیں۔
مگر پورا ملک دیکھ رہا ہے۔ غم و غصہ صدارتی انتخابی مہم تک پہنچ جاتا ہے، اور دو دن بعد وہ آزاد ہیں۔
تین سال بعد وہ واشنگٹن میں ڈھائی لاکھ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے خواب کی بات کرتے ہیں۔ اس کے ایک سال بعد انہیں نوبل امن انعام ملتا ہے، اور وہ قوانین ختم کر دیے جاتے ہیں جن کو چیلنج کرنے پر انہیں جیل بھیجا گیا تھا۔
آج @ImranKhanPTI قیدِ تنہائی میں ہیں، اور ان کی بہنیں بغیر کسی الزام کے جیل میں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم مان لیں کہ سب ختم ہو گیا۔
کنگ کے لیے کبھی کچھ ختم نہیں ہوا تھا۔ ہمارے لیے بھی ختم نہیں ہوا۔
#FreeImranAndFamily
انتہائی تشویشناک اور فوری!! کوٹ لکھپت جیل میں قید میری والدہ @DrUzma_KhanPK کے بارے میں میری خالہ روبینہ خان کا بیان:
"مجھے کوٹ لکھپت جیل کے اندر سے غیر رسمی ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ میری بہن عظمیٰ خان کا بلڈ پریشر بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور انہیں کوئی طبی علاج نہیں دیا جا رہا۔ یہ قدرتی نہیں ہے۔ اپنے باقی بہن بھائیوں کی طرح ان کا بلڈ پریشر بھی ہمیشہ موروثی طور پر کم سے نارمل رہا ہے۔ خاندان کو جیل حکام کی جانب سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ ان کے دل کا والو تبدیل ہو چکا ہے اور ان کی صحت پہلے ہی نازک ہے۔ انہیں فوری طور پر کسی ماہرِ امراضِ قلب کو دکھایا جانا چاہیے۔"
– روبینہ خان
یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ میری والدہ کے دل کا والو تبدیل ہو چکا ہے اور ان کا بلڈ پریشر بغیر کسی علاج کے بڑھ رہا ہے۔ حکام انہیں فوری طور پر ان کے اپنے ڈاکٹر سے ملنے دیں۔
@UNHumanRights @UN @amnesty @amnestysasia @hrw @HRCP87
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
مجھ پر درود بھیجا کرو، کیونکہ یہ تمہارے لیے باعث ِ طہارت ہے، اور اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کا سوال کیا کرو، یہ جنت کا سب سے بلند درجہ ہے، صرف ایک آدمی اس تک پہنچ سکے گا اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں
(مسنداحمد،۵۷۰۷)
𝙄 𝙖𝙙𝙫𝙞𝙨𝙚 𝙮𝙤𝙪 retweeted
Replying to @_robia
الحمد للہ میں اکثر پڑھتی ہوں..... کوئی شک نہیں ہے اس میں تہجد کا سکون آپکی بے سکونی ختم کر دیتا ہے
دن 46۔ میری والدہ @DrUzma_KhanPK اور میری خالائیں @Aleema_KhanPK اور @Noreen_KhanPK ، جن کی عمریں تقریباً 70 برس ہیں، ایم پی او کے تحت بغیر کسی الزام کے کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔
آج وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو ایم پی او کے تحت نظربندی کے مقدمات کی سماعت سے "تاحکمِ ثانی" روک دیا۔ عدالت کے سامنے دلیل یہ دی گئی کہ جہاں فوج کارروائی کر رہی ہو، وہاں ہائیکورٹ مداخلت نہیں کر سکتی۔
یہ عدالت 27ویں ترمیم کے ذریعے بنائی گئی – وہی ترمیم جس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز بنایا اور انہیں تاحیات فوجداری کارروائی سے استثنیٰ دیا۔ @UNHumanRights نے خبردار کیا تھا کہ یہ ترمیم عدلیہ کی آزادی کو "شدید نقصان" پہنچائے گی۔
یعنی ریاست ایم پی او کے تحت کسی کو بھی قید کر سکتی ہے، اور عدالتیں اس کے خلاف درخواست سن بھی نہیں سکتیں۔ لاہور میں میرے خاندان کی درخواست ایک تکنیکی بنیاد پر نمٹا دی گئی، جبکہ ان کی نظربندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی گئی۔ اور کل میری والدہ اور خالہ کی سماعت پر جج صاحب آئے ہی نہیں۔
یہ قانون کی حکمرانی نہیں۔ یہ ایک شخص کی حکمرانی ہے۔
ان پر فردِ جرم عائد کرو یا انہیں رہا کرو۔
#FreeImranKhanAndFamily
Day 46. My mother @DrUzma_KhanPK and my aunts @Aleema_KhanPK and @Noreen_KhanPK, all around 70, remain in Kot Lakhpat Jail without charge under the MPO.
Today the Federal Constitutional Court ordered the Peshawar High Court to stop hearing MPO detention cases "until further orders". The argument put to it: where the army operates, a High Court cannot interfere.
That court was created by the 27th Amendment – the same amendment that made Field Marshal Asim Munir Chief of Defence Forces and gave him immunity from criminal proceedings for life. @UNHumanRights warned it would "seriously undermine judicial independence".
So the state can detain anyone under the MPO, and the courts may not even hear the challenge. In Lahore, my family's petition was closed on a technicality after their detention was extended by another 30 days. Yesterday, the judge did not even show up for my mother's and aunt's hearing.
This is not the rule of law. It is rule by one man.
Charge them or release them.
#FreeImranKhanAndFamily
The British jailed two brothers for their politics.
Then their mother took their place.
In 1915, in the middle of the First World War, the British detained Mohammad Ali Jauhar and Shaukat Ali, two of the most popular Muslim leaders in India, for speaking and writing in support of Ottoman Turkey. They were held for four years without trial.
While her sons were locked away, their elderly mother, Abadi Bano Begum – known to everyone as "Bi Amman" – stepped into the struggle herself. In 1917 she addressed the All-India Muslim League, and she went on to travel the country, speaking, raising funds and rallying people to the cause. Gandhi called her mother.
The brothers were released in 1919, only to be put on trial in Karachi two years later for sedition. They did not deny the charge, and they were sent back to prison for another two years.
In 1930, at the Round Table Conference in London, Mohammad Ali told the British that if they would not give India its freedom, they would have to give him a grave there. He died in London two months later.
Seventeen years after that, the Raj was gone. In 1990, Pakistan honoured Bi Amman with a postage stamp.
Today, @ImranKhanPTI is in jail for his politics. His sisters took up his cause, and so the state jailed them too.
Empires that jail families do not last, but the families are remembered.
Will this regime be any different?
#FreeImranAndFamily
تہجد کی پابندی کریں، رات کے آخری پہر میں جو فیصلے ہوتے ہیں تو وہ سارے دن کی محنت سے بھی نہیں ہوتے۔ رات کے آخری پہر میں دعائیں بڑی جلدی فاصلہ طے کرتی ہیں
ولیم ارنسٹ ہینلی، "انوکٹس" (1875):
"کچھ فرق نہیں پڑتا کہ دروازہ کتنا تنگ ہے،
یا سزاؤں کی فہرست کتنی لمبی ہے،
میں اپنی تقدیر کا مالک ہوں:
میں اپنی روح کا کپتان ہوں۔"
نیلسن منڈیلا روبن آئی لینڈ کی جیل میں یہ نظم اپنے ساتھی قیدیوں کو سنایا کرتے تھے۔
وہ جتنی چاہیں کوشش کر لیں، دروازے جتنے تنگ کر دیں اور سزائیں جتنی بڑھا دیں، وہ عمران خان کے حوصلے کے مالک نہیں بن سکتے، اور نہ ہی انہیں توڑ سکتے ہیں۔
#FreeImranAndFamily
𝙄 𝙖𝙙𝙫𝙞𝙨𝙚 𝙮𝙤𝙪 retweeted
This high blood pressure is not normal, it is the direct result of this isolation.
If he is not freed soon he will die in this cell.
And Munir will be the killer.
Statement from Rubina Khan, sister of @ImranKhanPTI , 3 Nov 2026:
– On 2 Nov his lawyer was allowed a brief meeting at Adiala Jail, the first in 7 months.
– Khan reports his blood pressure spiked to 192. He never had high BP, and it was normal a year ago. The family's medical advisors say developing it suddenly at 70+ is virtually unheard of.
– He says the problems began only after more than a year of total isolation, and accuses those holding him of trying to kill him by withholding proper treatment.
– The family demands his immediate admission to an independent hospital in Islamabad, with his personal doctor present.
– A Supreme Court order from August 2026 for treatment at Shifa International Hospital has still not been implemented.
– He survived multiple attempts on his life before jail, including being shot several times in the leg, one bullet narrowly missing his femoral artery.
– If anything happens to him now, the family says, it will be cold-blooded murder.
The UN Working Group on Arbitrary Detention has declared his detention arbitrary. @UNHumanRights @UN_SPExperts @amnesty @amnestysasia
انہوں نے نیلسن منڈیلا کو 27 سال قید میں رکھا۔
پھر وہ ان کے خاندان کے پیچھے آئے۔
جون 1964۔ منڈیلا کو عمر قید کی سزا سنا کر روبن آئی لینڈ بھیج دیا جاتا ہے۔ وہ ایک چھوٹی سی کوٹھری کے فرش پر سوتے ہیں اور کان میں پتھر توڑتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں صرف ایک 30 منٹ کی ملاقات اور ایک خط کی اجازت ہے۔
1968۔ ان کی والدہ کا انتقال ہو جاتا ہے۔ ریاست انہیں جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دیتی۔
1969۔ ان کا بڑا بیٹا، تھیمبی، ایک کار حادثے میں جاں بحق ہو جاتا ہے۔ ایک بار پھر انکار۔
12 مئی 1969، سویٹو۔ پولیس فجر سے پہلے وِنی منڈیلا کے گھر پر دھاوا بولتی ہے اور انہیں ان کی نو اور دس سالہ بیٹیوں کے سامنے لے جاتی ہے۔ انہیں ایک ایسے قانون کے تحت رکھا جاتا ہے جو پولیس کو جب تک چاہے حراست میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے: 491 دن، جن کا بڑا حصہ قیدِ تنہائی میں گزرا۔
فروری 1970: عدالت انہیں بری کر دیتی ہے۔ رہا ہونے کے بجائے، انہیں دوبارہ حراست میں لے لیا جاتا ہے۔
ستمبر 1970: دوسری بار بری۔ رہائی، پھر پابندیاں، نظر بندی، اور 1977 میں ایک دور دراز قصبے میں جلاوطنی۔
منصوبہ سادہ ہے: خاندان کو اتنی سزا دو کہ آدمی ٹوٹ جائے۔
1985۔ حکومت منڈیلا کو رہائی کی پیشکش کرتی ہے، اس شرط پر کہ وہ تشدد ترک کرنے کا اعلان کریں۔ ان کی بیٹی زِنزی سویٹو کے کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم میں ان کا جواب پڑھ کر سناتی ہیں:
"آپ کی آزادی اور میری آزادی کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔"
11 فروری 1990: منڈیلا جیل سے باہر آتے ہیں۔ چار سال بعد، وہ ملک کے صدر ہیں۔
آج @ImranKhanPTI قیدِ تنہائی میں ہیں۔ ان کی تینوں بہنیں 1960 کے ایک نظربندی قانون کے تحت بغیر کسی الزام کے قید ہیں۔
اپارتھائیڈ دور کے جنوبی افریقہ سے مماثلت حیران کن ہے۔
منڈیلا نے ڈیل کر کے آزادی خریدنے سے انکار کر دیا۔ خان بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ کوئی ڈیل نہیں کریں گے۔
وہ منڈیلا کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں – اور منڈیلا کی طرح، وہ باہر آئیں گے اور اپنی قوم کو ایک ظالمانہ نظام سے آزاد کرائیں گے۔
کیا کسی رہنما کے خاندان کو قید کرنے سے کبھی کوئی تحریک ٹوٹی ہے؟
#FreeImranAndFamily
رسول اللہ صلی اللہ سلم کا فرمان ہے
جس نے خود پہ استغفار کرنا لازم کیا اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کی راہ اور ہر غم سے راحت کا سامان پیدا فرما دے گا
(سنن الترمذي : 484)
A regime cannot imprison everyone.
So it makes everyone afraid they might be next.
ANATOMY OF OPPRESSION | No. 2: Rule by fear
Chile, September 1973. General Augusto Pinochet seizes power in a military coup. Under his rule, more than 3,000 people are killed or forcibly disappeared. More than 27,000 are jailed for their politics, almost all of them tortured.
Why it works:
– Disappearances leave families with no body, no charge, no answer
– Extreme brutality early on means less of it is needed later
– Each citizen calculates that silence is safer, and silence spreads
In 1988, as his own constitution required, Pinochet faced a plebiscite: "Yes" for eight more years in power, "No" for elections. The regime expected a managed victory.
Why it failed:
– The opposition, from conservatives to the left, united behind one campaign
– The Church and civic groups went door to door. More than 92% of eligible Chileans registered, and 97% of them voted
– Volunteers organised to watch all 22,000 polling tables and ran their own count, so the result could not quietly be changed
– The campaign named fear as the real opponent, and answered it with hope: a rainbow, and a slogan, "Chile, la alegría ya viene" – Chile, joy is coming
On 5 October 1988, "No" won with 56%. The regime stalled for hours, until one of the junta's own commanders publicly conceded.
Fear depends on people believing they are alone. That is why regimes that rule by fear ban gatherings, break up protests and jail those who organise them. They fear the people far more than the people fear them.
Where have you seen this playbook?
#FreeImranAndFamily







