عاصمہ جہانگیر نے تو بہت پہلے ہی بتا دیا تھا، بندوق کے زور پر عقل نہیں آسکتی، نفری کے زور پر ملک کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟
ان محافظوں کے ہوتے ہوئے پاکستانی عوام کی جان، مال، عزت و آبرو کی حفاظت کی کوئی گارنٹی نہیں
ملک کا آئین شہری اور ریاست کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس میں ریاست کے سرکاری نوکر، ملک اور ریاستی امور کو احسن طریقے سے چلانے اور شہریوں کو سہولیات دینے کے لئے تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ اسی پیسے سے عوام کی حفاظت پر مامور اہلکار ریاستی قوانین اور آئین کے پابند ہوتے ہیں۔ اگر ریاستی اہلکار قانون اور آئین کو توڑ دیں تو ریاست اور عوام کے درمیان یہ معاہدہ ختم ہو جاتا ہے، جس کے بعد انتشار اور بدامنی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، کیونکہ قانون کی پاسداری نہیں کی جاتی۔ دنیا کا ہر کھیل بھی کچھ اصول وضوابط کے تحت کھیلا جاتا ہے ورنہ ہر میدان جنگل کی طرح ہو جائے جہاں ہر طاقتور درندوں کی طرح کمزور کو کھا جاتا ہے، اسی لئے اصول اور قوانین بنائے جاتے ہیں
دنیاوی ضابطوں اور قوانین سے اوپر اللہ کا قانون ہے، جو ظالم سے جہاد کا حکم اور آنکھ کے بدلے آنکھ کا حکم دیتا ہے
افسوس پاکستان میں کوئی قانون نہیں اور یہ ملک اب جنگل بن چکا ہے جہاں اگر آپ درندوں کے ساتھی ہیں تو عام عوام کا شکار کرنے والوں کا بچا کھچا کھا کر بہت سے گِدھ بھی ہنسی خوشی زندگی گزار دیتے ہیں
جب پہلے دن کسی کسی بھی وردی والے یا سرکاری اہلکار نے قانون توڑا تھا تو اسی دن اس کا احتساب کیا جانا چاہئے تھا۔ اگر محلے کے کسی گھر کی چوکھٹ غیر قانونی طور پر عبور کی تو نامردوں کی طرح کھڑے رہنے اور بے حسوں کی طرح ویڈیو بنانے کی بجائے اہلکاروں کو وارننگ دینی چاہئے تھی کہ اگر قانون ہاتھ میں لیا گیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا، لیکن افسوس امن کی بانسری بجاتے بجاتے آج عوام اتنی کمزور اور اندرونی درندے اتنے مضبوط ہو گئے کہ اب آپ ہر سانس پر مجرم قرار دیئے جا سکتے ہیں اور کوئی ویگو ڈالا آپ کو اٹھا کر لے جائے گا۔ اب خون ان کے منہ کو لگ چکا ہے اور ہر طرح کے ظلم کو نارمل کردیا گیا ہے۔
اگر آج بھی ہم ہمت کریں اور ہر طرح کی لاقانونیت کے آگے ڈٹ جائیں تو کچھ قربانیوں کے بعد آزادی ضرور مل جائے گی، اللہ نے اسی لئے ظالم کے آگے سر نہ جھکانے کا کہا۔ یاد رکھیں ان بھیڑیوں سے رحم کی اپیلوں پر کچھ بھی نہیں ملے گا، انہیں بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال جیسے حالات میں لائیں گے تو یہ باز آئیں گے ورنہ آپ کی طاقت روز بروز کم ہوتی جائے گی اور پھر دہائیوں تک آپ اٹھ نہیں سکیں گے
Shahbaz Sherif - you are a desperate low value boot licker.
@CMShehbaz
President Donald Trump played a historic role in advancing peace in South Asia. His timely intervention helped bring Pakistan and India back from the brink and secure a ceasefire, that is holding till today.
In recognition of his outstanding contribution, Pakistan had nominated President Trump for the Nobel Peace Prize.
We sincerely hope President’s efforts to promote peace and prevent conflict in our region receive due recognition this time.
@realDonaldTrump @NobelPrize
انہوں نے ابھی تک عمران خان کی بہنوں کو اغواء کیا ہوا ہے۔
جس کسی کو بھی ان قابضوں سے بھلائی کی امید ہے وہ ابھی بھی بے وقوفی کر رہا ہے
نبئ کریم حضرت محمدٌ کا فرمان ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں کاٹا جاتا۔ یہ جرنیل پاکستانی عوام کے ساتھ تقریباً آٹھ دہائیوں سے جھوٹ بولتے آئے ہیں، ان پر بھروسہ بے وقوفی کے علاوہ کچھ نہیں۔ جب تک انہیں بندوق کی طاقت اور نچلے اہلکاروں کی اندھی اطاعت حاصل ہے، یہ کبھی بھی پاکستانیوں کو دھوکہ دینے سے باز نہیں آئیں گے۔ ان کے پیچھے طاغوتی قوتیں کارفرما ہیں جو کھلے طور پر اسلام دشمنی کررہی ہیں۔ ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ اسلامی ممالک کو اندرونی طور پر کھوکھلا کردیا جائے اور وہ یہودی قوتوں کے غلام بن کر زندگی گزاریں۔ افسوس پاکستانی جرنیل ان یہودیوں کے آلۂ کار بنے ہیں اور طاقت کے نشے میں چور ہیں۔ جان لیں کہ یہ کبھی شرافت کی زبان نہیں سمجھیں گے، یا تو بنگال کی طرح کا سلوک، اندرونی غیرت کا جاگنا یا پھر ضرورت پڑنے پر اور کام نکل جانے کے بعد بیرونی قوتوں کی مداخلت ہی انہیں اب ہٹانے میں کامیاب ہوگی۔ عوام کو جاگنا ہوگا اور ہر طرح کے سلوک کے لئے تیار رہنا ہوگا
قیادت باہر نکلی ہے تو اب عوام کو بھی نکلنا ہوگا۔ قیادت کو یہ پیغام بھی دینا چاہئے کہ اگر وہ لانگ مارچ کا حصہ نہیں بن سکتے تو اپنے اپنے علاقوں میں مین شاہراہوں پر پلان کے مطابق مارچ کریں۔
یاد رکھیں صرف چند لاکھ لوگ آپ پر مسلط ہیں اور اگر آپ اپنے اپنے شہروں میں اس انتظامیہ کو مصروف کردیں گے تو ان کا بس نہیں چلے گا اور وہ جلد ہتھیار ڈال دیں گے۔ ان کے پاس آپ کو خوف زدہ کرنے کا ہر منصوبہ بڑی تعداد میں لوگوں کے ہر طرف نکلنے سے مکمل طور پر ناکام ہو جائے گا۔ آپ ہر شہر میں اپنی مقامی قیادت کے پلان کے مطابق انتظامیہ کو مفلوج کردیں۔ یہ لوگ زیادہ دیر تک اور زیادہ دنوں تک آپ کی مستقل مزاجی کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے
یاد رکھیں جب غزوہ خندق میں دشمن بہت روز تک شہر کے باہر بیٹھا رہا تو ان کی ہوا اکھڑ گئی اور وہ اپنی ہی حالات سے تنگ ہو گئے۔ بالکل ویسے اگر اس انتظامیہ کے ساتھ بھی یہی کیا جائے تو مکمل طور پر اس جعلی حکومت کی جعل سازیوں کو گھٹنوں پر لایا جا سکتا ہے
@noshigilani
مُشکل ہے ناممکن تو نہیں ہے ، آپ ایک دفعہ باہر نکل آئیں ایک دفعہ ۔۔ آپ کا لیڈر جیل میں انتظار میں ہے کہ میری قوم میرا ساتھ دے گی
@ShahidkhattakSk
کبھی ہم ایک ملک تھے جہاں عوام ایک قوم بننے کی تگ و دو میں تھی، پھر ہمیں دشمن کہا گیا، دہشت گرد کہا گیا، غدار قرار دیا گیا۔ ہر اس شخص کو جو عمران خان کے نظریے پر کھڑے ہو کر ظالموں سے پُر امن طور پر انصاف کا مطالبہ کرتا اسے محافظوں کا دشمن قرار دیا جاتاہے
آج یہ عوام اپنا تشخص ڈھونڈ رہی ہے، کیا ہم پاکستانی ہیں، یا ہم ملک دشمن ہیں، یا ہم انصاف اور برابری مانگ کر پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں؟
یہ سب سوال اس لئے کھڑے ہیں کیونکہ 79 سال سے اس ملک میں انگریزوں کی باقیات ہم پر حکومت کرتی آئی اور انگریز کے چلن پر یہ ہمیں غلام سمجھتے آئے ہیں، لیکن آج ہم ان کے سامنے کھڑے ہیں، اب ہم ان کی غلامی نہیں کریں گے، کیونکہ پاکستان ہم سب کا ہے، یہ کسی بندوق والے کے باپ کی جاگیر نہیں، سرکاری ملازم جب سرکاری نفری اور سرکاری اسلحہ کے زور پر مسلط ہو جائے اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھ کر دوسروں کو غلام سمجھے تو جان لیں کہ اب دشمن باہر نہیں بلکہ اندرونی ہے اور ہم اس سے اپنی آزادی چھین کر لیں گے، انشاءاللہ
عمران خان ان کے راستے کی دیوار تھا جس کو ہٹانے کے لئے اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے عاصم منیر جیسے لوگوں کو طاقت ور کرسیوں پر بٹھایا، تاکہ ہر فیصلہ اپنے حق میں کروایا جا سکے
پاکستان کی سیاست میں صرف ایک لیڈر ہے اور وہ عمران خان ہے
پاکستان کی قوم کو جتنا پیار پاکستان سے ہے شاید اتنا کسی اور کی قسمت میں نہیں آیا
اللہ عمران خان کو زندگی، رہائی اور ایسی کامیابی عطا کرے جس سے اندرونی و بیرونی دشمنوں کا خاتمہ ہوجائے، آمین
لانگ مارچ کے آغاز سے ہی اس بات کا واضح ثبوت مل گیا کہ پاکستانی عوام عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔
عوام کو پاکستانی افواج کے جرنیلوں کی پالیسی سے مکمل طور پر اختلاف ہے، کیونکہ یہ دہشت گردی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان میں لائی جاتی رہی ہے، جس سے ایک طرف اندرونی طور پر مطلب کے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے تو دوسری طرف بین الاقوامی جذبات کی بنیاد پر دنیا سے ڈالر بٹورنا مقصود ہے۔
پاکستانیوں کو اپنے مقاصد، نسلوں کی آزادی اور پاکستان کی خودمختاری کے لئے ہر اندرونی و یرونی دشمن کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو جانا چاہئے
#سر_بکف_میدان_میں
مذاکراتی کمیٹی کو ایک مشورہ:
پاکستانی افواج کی پشت پناہی پر کھڑی کی گئی کسی ٹیم کے کسی مستقبل کے وعدے پر یقین نہ کریں
عمران خان سے متعلق ہر بات پر اپنے مؤقف پر ڈٹے رہیں، پاکستان کے سب سے بڑے لیڈر کی جان کو خطرہ ہے اور یہ رجیم صرف عمران خان کے مرنے کا سامان اور انتظار کررہے ہیں۔
آپ کسی بھی بات پر ان جھوٹوں پر اعتبار مت کریں، یہ لاتوں کے بھوت ہیں جنہیں بنگالیوں نے جب لاتیں ماریں تو یہ مانے۔ اب ان کے پیچھے بین الاقوامی اسٹبلشمنٹ کھڑی ہے اس لئے یہ عوام پر گولیاں بھی چلاتے ہیں۔ پُر امن طریقے سے لوگوں کو موبلائز کریں
عوام کو بھی چاہئے کہ اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے پوری طرح متحد ہوں اور اپنے گھروں سے نکلیں، کیونکہ اسٹبلشمنٹ آپ سے امید اور آزادی کی سوچ چھیننا چاہتی ہے، جمود کو توڑیں، شاید اس سے اداروں کے لوگوں میں بھی کوئی غیرت جاگ جائے
#سر_بکف_میدان_میں
کور کمانڈر کے گھر پر کم از کم سات مختلف قسم کی سیکیورٹی ہوتی ہے، ان کی موجودگی میں کوئی لاہور کے کور کمانڈر کے گھر پر کیسے دھاوا بول سکتا ہے؟
اسی لئے CCTV فوٹیج چرائی گئی تاکہ ثبوت غائب کئے جاسکیں۔
کیسے ایک ہی دن میں دس ہزار سے زائد لوگوں کو ان کے گھروں سے اٹھایا گیا؟
تغمے کی پوری کانفرنس ایسی تھی جیسے تحریک انصاف پر پاکستان کے ظلم کی داستان ہو جو بھارت کی بابت کشمیر پر سنائی گئی ہو
اپنے گریبان میں جھانکو
What a sh**, illogical and unnecessary news conference.
The institution is hostage to low intellect SPJ-Sense of Proportion & Judgement case personalities - what a pity, shame on you.
Why this news conference? Reason?
Infiltration in KP is the main pretext and basis to build this non-sense presser.
ڈی جی آئی ایس پی آر کی آج شام 5 بجے پریس کانفرنس
موضوع- عمران خان، تحریک انصاف کا لانگ مارچ ہی ہوگا
جس کسی کو ان جرنیلوں سے کسی بھی اچھائی کی امید ہے وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ ان جرنیلوں نے کبھی سچ نہیں بولا، یہ ہمیشہ ہر کسی سے جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ یہ طاقت کے حصول اور وسائل پر قبضے کے لئے نہتے لوگوں پر گولیاں چلانے سے بھی نہیں چوکتے
سمندر کا پانی نمکین ہے، یہ جاننے کے لیے پورا سمندر پینا ضروری نہیں ہوتا۔ 79 سال سے یہ پاکستان کو لوٹ کر کھا رہے ہیں، چار سال سے انہوں نے ملک میں سرکاری تشدد کو عام کردیا اور اگر اب بھی ان سے کوئی اچھائی کی امید لگائے تو اس سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں ہوگا
اگر پاکستانی اس دفعہ نکل آئے اور خود کے بت توڑ دیے تو یقین رکھیں کہ اس دفعہ اسٹبلشمنٹ کے اندر بھی ٹوٹ پھوٹ ہے، عاصم منیر جیسے فرعون بھی گھٹنوں پر آجائیں گے۔
اگر آپ کھڑے ہو گئے تو ان کے اندر غیرت جاگے یا نہ جاگے، انتشار ضرور شروع ہو جائے گا، حق کا ساتھ دینے والے اب اپنی ذلت پر تنگ آچکے ہیں وہ ضرور کھڑے ہوں گے۔ ریاستی اداروں میں بیٹھے بے غیرتوں اور میڈیا ٹاؤٹس کو منی چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی تو یہ بھاگ کھڑے ہونگے، صرف یہ ضرورت ہے کہ آپ اپنے گھر سے نکلیں، متحد ہو جائیں اور کسی جبر کی پرواہ نہ کریں، آزادی قیمت مانگتی ہے
پاکستان دنیا میں دہشت گردی سے متاثرہ ملکوں میں سرفہرست آگیا۔ کیونکہ ہمارے محافظ جرنیل، فوجی افسران و اہلکار، پولیس، عدالتیں، بیوروکریسی سب کے سب صرف عمران خان کی پارٹی کو کچلنے میں مصروف ہیں
79 سالوں میں کیا دیا ہمیں اس فوج نے؟
چار ہزار ارب سے زائد بجٹ، ہر کاروبار ریٹائرڈ فوجیوں کی ملکیت، پاکستان کے ہر ادارے پر ریٹائرڈ جرنیل براجمان، سیاست اور ہر ادارے پر قابض پاک فوج، حب الوطنی کے ترانے، شہداء کی حرمت کے نام پر تحریک انصاف سے ناانصافی، اسی دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے پوری دنیا سے ڈالر سمیٹنا، تو کیا یہ سوال نہیں بنتا کہ اس دہشت گردی کے پیچھے کون ہے؟
کس کو یہ دہشت گردی سوٹ کرتی ہے اور ان کا مفاد پورا کرتی ہے؟
کون اس دہشت گردی کی آڑ میں ملک پر اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں وہاں کے وسائل پر قابض ہے؟
اگر یہ دہشت گردی نہ ہو تو ان کی جیبیں کیسے بھریں؟
آٹھ دہائیوں میں دنیا میں اپنے آپ کو عقل کل اور نمبر ون سمجھنے والے آخر کیوں اس دہشت گردی پر قابو نہیں ہوسکے؟
ضرورت پڑنے پر کبھی کچے کے ڈاکو، کبھی خود کش دھماکہ، کبھی فتنۃ الہندوستان اور کبھی فتنۃ الخوارج جیسے خود ساختہ نام۔
جب بھی عمران خان کی پارٹی کا کوئی اعلان ہو، دہشت گردی شروع ہو جاتی ہے۔ آخر میرے جوان کہاں جاتے ہیں کہ انہیں صرف دہشت گرد کا شناختی کارڈ، خود کُش حملہ آور کی جیکٹ اور بقیہ ماندہ چیزیں ہی ملتی ہیں۔ کوئی ذرا بھی سوچے تو یہ سمجھ آتا ہے کہ یہ دہشت گردی کچھ خاندانوں اور ان کے پشت پناہوں کا مفاد پورا کرتی ہے، اسی لئے دس لاکھ کی فوج کے ہوتے ہوئے بھی پاکستان دنیا میں دہشت گردی میں نمبر ون ہے
پاکستان پر جانور قابض ہیں۔ یہ جانور پاکستان کی آزادی سے آج تک اس ملک پر قابض تھے، عمران خان نے ان کے کردار پر سے پردہ اٹھا دیا
اب عوام کی مرضی ہے کہ کیا وہ ان جانوروں کو اپنی نسلوں پر بھی مسلط دیکھنا چاہتے ہیں یا انہیں واپس ان کی جگہ پر بھیجنا ہے
منتیں، ترلے، شرم دلانا، قانون پڑھانا سب کر کے دیکھ لیا، اب اگر بار بار وہی دہرائیں گے تو نتیجہ وہی نکلے گا۔ جانور بہت تھوڑے ہیں اور عوام کی کثیر تعداد ہے، صرف یہ بات ہے کہ عوام شریف ہے اور جانور بے قابو اور اب تو ان کے منہ کو خون بھی لگ گیا ہے۔ کیا ہم خونخوار جانوروں کے ڈر سے گھروں میں بیٹھنے کو زندگی سمجھ لیں؟
یہ ویڈیو ایم این اے زبیر خان وزیر کے اغوا کے وقت ان کے 10 سالہ بچے نے بنائی، جسے واش روم میں بند کردیا گیا تھا۔
گھر کی خواتین اور بچوں کو مارنے گھسیٹنے رونے چلانے کی آوازوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ کس طرح جانوروں سے بدتر سلوک کررہے ہیں۔ انہوں نے بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا دیں ہیں، عدالتوں کو باندیاں بنا کر آئین و قانون سے کھلواڑ کررہے ہیں۔
#PakistanUnderFascism
عمران خان کا ایک ایک لفظ سنیں اور سوچیں کہ کیا آپ کیڑے مکوڑے ہیں کہ چند ہزار لوگ طاقت، نفری اور بندوق کے زور پر کروڑوں لوگوں کی سوچ اور زندگیوں پر کنٹرول کر سکتے ہیں؟
دو دن پہلے ایک صاحب ملے اور کہنے لگے کہ عمران خان نے عوام اور فوج میں دوریاں پیدا کیں اور فوج کے خلاف باتیں کی۔ میں نے انہیں کہا کہ عمران خان نے ان کی کرتوتوں پر ہمیشہ پردہ ڈالا کہ شائد غیرت آجائے، لیکن پچھلے چار سال میں انہوں نے خود ثابت کیا کہ انہیں جو بھی عزت مل رہی تھی وہ اس کے قابل نہیں تھے اور انہوں نے خود اپنے کردار سے پردہ اٹھایا
#LongMarchOnOctober4th
#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی










