The official Twitter account of the Govt. of Balochistan.

Quetta, Pakistan
Joined January 2018
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت تعلیمی شعبے میں انقلابی اقدامات جاری ہیں، جہاں ہزاروں بچوں کو دوبارہ اسکولوں میں داخل کیا جا رہا ہے اور بند اسکولوں کو فعال بنا کر نئی نسل کے لیے روشن اور باعلم مستقبل کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ #LiteracyForAll #Balochistan #CMVision
30
19
5
59
14,475
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کا ڈی ایچ کیو ہسپتال اور بی ایچ یو کا دورہ۔
275
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ دُکی کی زیرِ صدارت PPHI کا ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
215
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے محکموں کی ماہانہ کارگردگی کے جائزہ اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔
199
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کی زیرِ صدارت زیارت میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت جاری۔
228
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کے زیرِاہتمام لورالائی میں اسپورٹس ویک کے اختتام پر طلبہ میں انعامات تقسیم کئے گئے۔
226
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ خضدار کی جانب سے ہسپتال میں نئی طبی سہولیات کا آغاز کیا گیا۔
227
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کا دُکی میں BSDI منصوبوں کا دورہ۔
237
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر گرانفروشی کے خلاف کاروائی، دوکانیں سیل، مالکان گرفتار۔
250
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر سوراب میں ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت اور تعمیراتی معیار کا جائزہ لیا گیا۔
236
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر عوام کو ریلیف کی فراہمی، سوراب بازار میں گرانفروشی اور خلاف ورزیوں پر کاروائیاں۔
257
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر چمن میں ریلی کا انعقاد کیا جارہا ہے۔
251
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر کھوسٹ میں کُھلی کچہری، عوامی مسائل کے فوری حل کیلیئے اقدامات۔
263
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر لائیو اسٹاک ہسپتال اسکیم پر کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔
247
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر اظہارِ افسوس۔ جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال کی خبر سن کر دلی رنج و غم ہوا، جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کی ملک و قوم اور پاک فوج کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، مرحوم جنرل عبدالوحید کاکڑ ایک ممتاز عسکری شخصیت تھے جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قیادت سے پاک فوج میں اہم خدمات انجام دیں۔ جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال سے ملک ایک قابل احترام اور تجربہ کار عسکری شخصیت سے محروم ہوگیا، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو صبر و استقامت دے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی۔
300
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی زیرِصدارت اجلاس، 10 سرکاری محکموں میں سمریز کی ڈیجیٹلائزیشن کا آغاز۔
281
بلوچستان کی نوجوان نسل ثقافتی ورثے کے تحفظ اور روشن مستقبل کی ضامن ہے، نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی۔ ڈائریکٹوریٹ آف کلچر بلوچستان کے زیرِ اہتمام ’’بلوچستان یوتھ کلچرل ہارمنی فیسٹیول‘‘ آج نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس، اسپنی روڈ کوئٹہ میں منعقد ہوا، جس کا مقصد صوبے کی ثقافتی روایات کے فروغ، مختلف قومیتوں کے درمیان ہم آہنگی، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے شعور بیدار کرنا تھا۔ فیسٹیول میں پینل ڈسکشن، مباحثے، ثقافتی اسٹالز اور موسیقی کی محفل سمیت مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ جس کے مہمان خصوصی پارلیمانی سیکرٹری نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی تھے۔ فیسٹیول کے پینل ڈسکشن میں پارلیمانی سیکرٹری برائےقانون, سیاحت و ثقافت نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی،پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ لیاقت لہڑی, رکن صوبائی اسمبلی خیر جان بلوچ، بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر برکت شاہ، ادیب ولکھاری یار جان بادینی اور نوجوانوں کی نمائندگی کرنے والی مس حفصہ اور ظہور اللہ الکوزئی نے شرکت کی اور بلوچستان کی ثقافت، نوجوانوں کے کردار، سماجی ہم آہنگی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی نے کہا کہ بلوچستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب تقریباً 71 فیصد ہے، جو صوبے کا ایک بڑا اثاثہ اور مستقبل کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گزشتہ پندرہ سے بیس برسوں کے دوران ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے اپنی ثقافتی شناخت اور روایات کو بھی برقرار رکھیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور روایات کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے، جہاں بلوچ، پشتون، پنجابی، ہزارہ اور دیگر کمیونٹیز آباد ہیں۔ صوبے کی یہی ثقافتی و لسانی رنگا رنگی ہماری اجتماعی شناخت اور سماجی ہم آہنگی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ثقافت محض رسم و رواج کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات اور طرزِ عمل ہے، جسے بلوچی زبان میں ’’بلوچیت‘‘ کے تصور سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ ہماری روایات، اقدار، باہمی احترام اور معاشرتی اصول ہماری ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی نے کہا کہ صوبائی حکومت بلوچستان کے ثقافتی ورثے، تاریخی مقامات اور آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں صوبائی اسمبلی سے قرارداد بھی منظور کرائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی ورثے کی حفاظت کے لیے حکومتی کوششوں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے تمام طبقات، بالخصوص نوجوانوں کی عملی شمولیت ناگزیر ہے۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ ثقافتی ورثے کی دو اہم اقسام، یعنی مادی ثقافت (Tangible Culture) اور غیر مادی ثقافت (Intangible Culture)، کے تحفظ کے لیے نوجوان سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔ مادی ثقافت میں تاریخی عمارتیں، آثارقدیمہ اور دیگر تاریخی اشیا شامل ہیں، جبکہ غیر مادی ثقافت میں زبانیں، لوک ادب، موسیقی، روایات، فنون اور رسم و رواج شامل ہیں۔ نوجوان نسل کو ان دونوں پہلوؤں کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور انہیں اپنے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔نوابزادہ زرین مگسی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کی ثقافتی، تعلیمی اور تخلیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گی اور ثقافت کے فروغ و تحفظ کے لیے ان کی بھرپور معاونت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیسٹیولز نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار، مختلف ثقافتوں کو سمجھنے، باہمی احترام کو فروغ دینے اور بلوچستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔فیسٹیول کے دوران پینل ڈسکشن، مباحثے، ثقافتی اسٹالز اور موسیقی کی سرگرمیوں کے ذریعے بلوچستان کی ثقافتی رنگا رنگی، نوجوانوں کی صلاحیتوں اور بین الثقافتی ہم آہنگی کو اجاگر کیا گیا۔ پروگرام کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ نوجوانوں کی مؤثر شمولیت، ثقافتی شناخت کا احترام اور اجتماعی کوششیں بلوچستان کے ثقافتی ورثے کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
256
انگلینڈ کے خلاف قومی کرکٹ ٹیم کی سنسنی خیز فتح پاکستانی کھلاڑیوں کے عزم، حوصلے اور صلاحیتوں کا مظہر ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے انگلینڈ کے خلاف ایک وکٹ سے کامیابی حاصل کرنے پر قومی کرکٹ ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں نے مشکل صورتحال میں غیر معمولی حوصلے، مہارت اور آخری لمحے تک مقابلہ کرنے کے جذبے کا مظاہرہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سنسنی خیز مقابلے میں قومی ٹیم کی کامیابی کھلاڑیوں کی محنت، عزم اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ دباؤ کے باوجود اعتماد اور یکسوئی کے ساتھ کھیل جاری رکھنا قومی کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے شاداب خان کی شاندار سنچری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی عمدہ اننگز نے پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ حارث رؤف کے ساتھ آخری وکٹ پر فیصلہ کن شراکت نے میچ کا رخ تبدیل کرکے قومی ٹیم کو یادگار فتح سے ہمکنار کیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کی اس کامیابی نے ملک بھر میں کرکٹ شائقین کو خوشی کا موقع فراہم کیا ہے۔ کھیل کے میدان میں کھلاڑیوں کا جذبہ، ثابت قدمی اور اجتماعی جدوجہد نوجوانوں کے لیے ایک مثبت مثال ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ مشکل حالات میں حوصلہ برقرار رکھتے ہوئے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے سہ ملکی کرکٹ سیریز میں قومی ٹیم کی مجموعی کارکردگی کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کی محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور باہمی ہم آہنگی پاکستان کرکٹ کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ امید ہے کہ قومی ٹیم آئندہ مقابلوں میں بھی اسی جذبے اور محنت کے ساتھ اپنی کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھے گی۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی اور قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستانی ٹیم مستقبل میں بھی ملک کا نام روشن کرے گی۔
1
1
428
سیکریٹری ثقافت و سیاحت حمیداللہ خان ناصر کا ڈائریکٹوریٹ آف کلچر بلوچستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ ’’بلوچستان یوتھ کلچرل ہارمنی فیسٹیول‘‘ کے موقع پر اظہارِ خیال۔
1
4
820
بلوچستان کی نوجوان نسل ثقافتی ورثے کے تحفظ اور روشن مستقبل کی ضامن ہے، نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی کوئٹہ: ڈائریکٹوریٹ آف کلچر بلوچستان کے زیرِ اہتمام ’’بلوچستان یوتھ کلچرل ہارمنی فیسٹیول‘‘ آج نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس، اسپنی روڈ کوئٹہ میں منعقد ہوا، جس کا مقصد صوبے کی ثقافتی روایات کے فروغ، مختلف قومیتوں کے درمیان ہم آہنگی، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے شعور بیدار کرنا تھا۔ فیسٹیول میں پینل ڈسکشن، مباحثے، ثقافتی اسٹالز اور موسیقی کی محفل سمیت مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ جس کے مہمان خصوصی پارلیمانی سیکرٹری نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی تھے۔ فیسٹیول کے پینل ڈسکشن میں پارلیمانی سیکرٹری برائےقانون, سیاحت و ثقافت نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی،پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ لیاقت لہڑی, رکن صوبائی اسمبلی خیر جان بلوچ، بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر برکت شاہ، ادیب ولکھاری یار جان بادینی اور نوجوانوں کی نمائندگی کرنے والی مس حفصہ اور ظہور اللہ الکوزئی نے شرکت کی اور بلوچستان کی ثقافت، نوجوانوں کے کردار، سماجی ہم آہنگی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی نے کہا کہ بلوچستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب تقریباً 71 فیصد ہے، جو صوبے کا ایک بڑا اثاثہ اور مستقبل کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گزشتہ پندرہ سے بیس برسوں کے دوران ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے اپنی ثقافتی شناخت اور روایات کو بھی برقرار رکھیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور روایات کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے، جہاں بلوچ، پشتون، پنجابی، ہزارہ اور دیگر کمیونٹیز آباد ہیں۔ صوبے کی یہی ثقافتی و لسانی رنگا رنگی ہماری اجتماعی شناخت اور سماجی ہم آہنگی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ثقافت محض رسم و رواج کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات اور طرزِ عمل ہے، جسے بلوچی زبان میں ’’بلوچیت‘‘ کے تصور سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ ہماری روایات، اقدار، باہمی احترام اور معاشرتی اصول ہماری ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی نے کہا کہ صوبائی حکومت بلوچستان کے ثقافتی ورثے، تاریخی مقامات اور آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں صوبائی اسمبلی سے قرارداد بھی منظور کرائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی ورثے کی حفاظت کے لیے حکومتی کوششوں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے تمام طبقات، بالخصوص نوجوانوں کی عملی شمولیت ناگزیر ہے۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ ثقافتی ورثے کی دو اہم اقسام، یعنی مادی ثقافت (Tangible Culture) اور غیر مادی ثقافت (Intangible Culture)، کے تحفظ کے لیے نوجوان سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔ مادی ثقافت میں تاریخی عمارتیں، آثارقدیمہ اور دیگر تاریخی اشیا شامل ہیں، جبکہ غیر مادی ثقافت میں زبانیں، لوک ادب، موسیقی، روایات، فنون اور رسم و رواج شامل ہیں۔ نوجوان نسل کو ان دونوں پہلوؤں کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور انہیں اپنے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔نوابزادہ زرین مگسی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کی ثقافتی، تعلیمی اور تخلیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گی اور ثقافت کے فروغ و تحفظ کے لیے ان کی بھرپور معاونت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیسٹیولز نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار، مختلف ثقافتوں کو سمجھنے، باہمی احترام کو فروغ دینے اور بلوچستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔فیسٹیول کے دوران پینل ڈسکشن، مباحثے، ثقافتی اسٹالز اور موسیقی کی سرگرمیوں کے ذریعے بلوچستان کی ثقافتی رنگا رنگی، نوجوانوں کی صلاحیتوں اور بین الثقافتی ہم آہنگی کو اجاگر کیا گیا۔ پروگرام کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ نوجوانوں کی مؤثر شمولیت، ثقافتی شناخت کا احترام اور اجتماعی کوششیں بلوچستان کے ثقافتی ورثے کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
3
1,568
قلعہ سیف اللہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے اہم دہشت گرد کمانڈر کی ہلاکت سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کا مظہر ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں اور خدمات قابلِ تحسین ہیں، بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کی عکاس ہیں، دہشت گرد کمانڈر کے خلاف کارروائی سے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر اقدامات کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ بلوچستان میں امن و استحکام کے لیے دہشت گردوں، ان کے مالی معاونین اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں ناگزیر ہیں، سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی بدولت دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے، پوری قوم اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑی ہے، دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ تک جدوجہد جاری رہے گی، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی۔
1
562