
Journalist at @Samaatv | IR Scholar | Geopolitics & Diplomacy Analyst | Pakistan & Regional Affairs
Pakistan
Joined April 2022
- Tweets4.8K
- Following452
- Followers4K
- Likes254
پشاور میں ریاست غیر قانونی تجاوزات کا خاتمہ کرنا چاہ رہی ہے مگر سرکاری نوٹس ملنے پر جمعیت علمائے اسلام کے رہنما عطاء الرحمن نے دھمکی دی کہ کسی کی جرات ہے تو وہ سرکاری زمین پر بنے مفتی محمود سینٹر کو گرا کر دکھائے۔ رضوی برادران بھی ایسے دھمکیوں کیساتھ جوش دکھاتے تھے۔ کیونکہ ان کو لگتا تھا کہ ہم مذہبی لوگ ہیں تو جذبات کو ابھار کر ریاست پر چڑھ دوڑیں گے ایک سال ہوگیا ہے کسی کو نظر تک نہیں آئے۔ لال مسجد آپریشن میں بھی ان کو یہی لگتا تھا کہ ریاست کچھ نہیں بگاڑ سکتی پھر وقت نے دکھایا کہ برقع پہن کر فرار کی کوشش کر رہے تھے۔
ثمر ہارون بلور کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد سب سے پہلا اقدام مدارس کو رجسٹرڈ کرنا ہے۔ عمران خان اس تاریخی کام کو انجام نہیں دے سکے کیونکہ مدارس کی بلیک میلنگ آڑے ہاتھوں آگئی تھی۔ مگر اس وقت پاور جن کے ہاتھ میں ہے ان کا یہ فیصلہ بہترین اور تاریخی ہوگا کہ وہ مدارس سسٹم کو رجسٹریشن میں لیکر آئیں۔ مولوی حضرات اس نظام کے خلاف اس وجہ ہیں کیونکہ رجسڑیشن میں آمد و خرچ کا حساب کتاب ہوتا ہے۔ جو یہ دینا نہیں چاہ رہے یہ بھی ریاست کی غلط پالیسی کی وجہ سے ہوا تھا کہ سرکاری زمینوں پر ہر جگہ مدارس بنائے گئے اب یہ رواج اتنا چل چکا ہے جس کے پاس دو مرلہ زمین ہو وہ اپنی دوکان کھول لیتا ہے اور ریاست کو جرأت نہیں ہوتی کہ اس کو روک سکے یا رجسڑیشن کے عمل میں لا سکے۔
مولانا فضل الرحمان مدارس کی رجسٹریشن کیخلاف ہیں۔ عمران خان نے ان سے بات چیت کی تھی کہ بجلی کا بل حکومت ادا کرے گی۔مدارس کو رجسڑیشن کے عمل سے گزارنا ہوگا۔ مدرس کو تنخواہیں اخراجات اور آمد کا حساب کتاب ریاست کو دینا ہوگا۔ ان مدارس میں ایجوکیشن سسٹم کا کوئی میکانزم نہیں ہے پاکستان کے کئی لوگ سعودی عرب، قطر ، متحدہ عرب امارات اور مصر سے پڑھ کر آئے ہیں ان کے نصاب میں اور پاکستان و انڈیا کے نصاب میں زمین آسمان کا فرق ہے یہاں دو سال تک بچے کو عامہ کا امتحان نہیں دینے دیا جاتا فارسی پڑھائی جاتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان ریاست سے ٹکرا رہے ہیں تو پھر ان کا بھی وہی حال کرنا چاہیے جو رضوی برادران کا ہوا ہے اسی فارمولے کے تحت سب کیساتھ نمٹا جائے اور مذہبی بلیک میلنگ کا راستہ بند کیا جائے۔ ریاست کو یہ تفریق ختم کرنی ہوگی کہ کسی غریب کی دوکان بیچ میں آ جائے تو قانون نافذ ہوگا اگر کسی مذہبی جماعت کی دھمکی آئے تو باہمی احترام کا جواز پیش کیا جائے۔ مذہب ایک بےجان چیز ہے جس کو شاطر لوگ عوامی جذبات کو ابھار کر اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ کسی اسلامی ملک میں کسی مذہبی ٹچ والوں کو جرات نہیں ہوتی کہ وہ ریاست پر چڑھائی کریں مگر پاکستان میں ہر بندہ شیر ہے۔ اسلامی قوانین بھی غیر مسلم ریاست کے قانون کی پاسداری کا حکم دیتے ہیں یہاں سرکاری زمین پر قبضہ کرنا ہے تو مدرسہ بنا دیں یا مسجد بنا دیں۔ یا رشوت دیکر اپنے نام کروا لیں۔ اس سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔
تحریر: فرحان ملک
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آسیان وزرائے دفاع کے اجلاس میں امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ سے ملاقات کے دوران پاکستان کے F-16 لڑاکا بیڑے کے لیے امریکی فوجی تعاون پر نئی دہلی کی تشویش کا اظہار کیا۔ یہ اعتراضات پاکستان کے F-16 بحری بیڑے کے لیے 686 ملین امریکی ڈالر کے تحفظ اور جدید کاری کے پیکج کے حوالے سے اٹھایا گیا۔ اس اپ گریڈیشن کا اعلان دسمبر 2025 میں کیا گیا تھا، جس میں ایویونکس اپ گریڈ، کرپٹوگرافک سسٹمز اور لنک-16 ٹیکٹیکل ڈیٹا سسٹم شامل ہیں۔
پاکستان اور انڈیا کی جنگ کے بعد پاکستان کو پہلا دعوت نامہ آگیا ہے بھارت نے پاکستان کے نیشنل ہیریٹیج اور کلچر کے وزیر اورنگزیب خان کھچی کو نئی دہلی میں ہونے والے پہلے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) سویلین ڈائیلاگ فورم میں مدعو کیا ہے۔ یہ پروگرام 20-22 نومبر 2026 کو دہلی کے پرانا قلعہ میں مقرر ہے، اور اس کا افتتاح نریندر مودی کریں گے۔ یہ مئی 2023 میں گوا میں ایس سی او کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کسی پاکستانی وزیر کو پہلی دعوت ہے، اور مئی 2025 کے فوجی تنازعے کے بعد پہلی دعوت ہے۔
آریانا نیوز کے مطابق افغانستان کی عبوری حکومت کی وزارت دفاع نے بتایا کہ افغان فورسز نے صوبہ پکتیکا سے پاکستان کے ملٹری بیسز اور سرحدی چوکیوں پر حملے شروع کر دیے ہیں، ان حملوں کو انگور اڈہ کے قریب مبینہ پاکستانی ڈرون حملوں کا جوابی کارروائی کہا اور دعویٰ کیا کہ متعدد پاکستانی فوجی اہلکار مارے گئے یا زخمی ہوئے اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔
Farhan Malik retweeted
نورین خانم کی طبعیت میں بہتری، تمام میڈیکل رپورٹس تسلی بخش آنے پر دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقل
لاہور: کوٹ لکھپت جیل میں قید نورین خانم کی طبیعت اچانک بگڑنے پر انہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ ذرائع کے مطابق انہیں سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا تھا جس کے بعد ان میں دمے (Asthma) کے دورے کی تشخیص ہوئی۔
طبی عملے نے صورتحال کے پیش نظر ان کا مکمل طبی معائنہ کیا اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کروائے۔ ہسپتال و میڈیکل بورڈ کے مطابق نورین خانم کی تمام رپورٹس بالکل تسلی بخش (کلیئر) آئی ہیں اور ان کے اہم اعضاء معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
ڈاکٹرز کی جانب سے صحت کو خطرے سے باہر قرار دیے جانے اور کلیئرنس جاری ہونے کے بعد جیل انتظامیہ نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات میں انہیں دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا ہے۔ جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل کے اندر بھی ان کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری طبی سہولت فراہم کی جا سکے۔
اس ملک نے جس کو بھی عزت، دولت اور شہرت دی ہے اس نے ان بلندیوں پر پہنچ کر اسی ریاست کو گالیاں دیں۔ اس ملک کو لوٹنے میں اگر کسی کا کردار نہیں ہے تو وہ بندہ ہے جس کا ہاتھ نہیں پہنچا۔ مولانا اپنی گفتگو پر شرمندگی کی بجائے ہنستے ہوئے فرما رہے ہیں کہ اس ریاست نے انھیں کیا دیا ہے؟ مولانا اسمبلی، سینیٹ، کئی سال اقتدار کے مزے اور جائیدادیں حاصل کرنے کے بعد ایسا کیا رہ گیا ہے جو مولانا حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ریاست ماں کو تھو کہہ رہے ہیں؟
بڑوں سے سنا تھا کہ خاندانی لوگ وضع دار ہوتے ہیں۔مولانا اتنا کچھ حاصل کرنے کے باوجود بھی گلے شکوے کر رہے ہیں۔ اور اخلاقیات سے ماوارئے گفتگو کر رہے صرف اس وجہ سے کہ حکومت میں کہیں حصہ نہیں ملا اور ریٹ درست نہیں لگا؟
پاکستان نے بڑا اقدام اٹھا لیا ہے تو کیا پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات سرد مہری کا شکار ہوگئے ہیں؟کمنٹ سیکشن میں رائے دیجئے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ون چائنا پالیسی کی حمایت میں تائیوان کی ایئر لائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے چائنہ کی ون چائنا پالیسی کی حمایت میں پابندی عائد کی ہے۔ یہ اقدام چائنہ کے سفارتی موقف کو تقویت دے رہا ہے کہ تائیوان چین کا اٹوٹ انگ ہے۔
ایران بارڈر کھول دیا گیا ہے پاکستانی پانی میں امریکی ملٹری موومنٹ بند ہوگئی ہے۔ سعودی عرب اور ترکیہ کو پاکستان کا ملٹری چیف ایران لیکر پہنچ گیا۔ وہاں علاقائی تعاون پر بات چیت کی گئی کل سے ایرانی بھی دو اہم میٹنگ کرچکے ہیں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی بار بار علاقائی تعاون پر زور دے رہے ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے بھی ریجنل سیکیورٹی کے استحکام پر نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیرکٹری محسن رضائی سے بات کی اور تعاون کا کہا۔
چائنہ اور پاکستانی وفد کی دو اہم میٹنگ ہوچکی ہیں جن کی تصدیق کل چائنیز حکام نے بھی کی ہے۔ چائنیز مندوب نے بھی اقوام متحدہ میں امریکہ کو خبردار کیا۔ ایرانی دورے کے بعد عدن میں سعودی ملٹری کارگو کی موومنٹ تیز ہو رہی ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ون چائنا پالیسی کی حمایت میں تائیوان کی ایئر لائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے چائنہ کی ون چائنا پالیسی کی حمایت میں پابندی عائد کی ہے۔ یہ اقدام اس دیرینہ سفارتی موقف کو مزید تقویت دیتا ہے کہ تائیوان چین کا اٹوٹ انگ ہے۔
مکہ ڈیفنس جوائنٹ ایگریمنٹ میں ایران شامل ہوسکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کے جواب کی تلاش میں ہر شخص تھا۔ 6 دن قبل ڈان نیوز نے اپنے ارٹیکل میں مکہ معاہدے کی 16 شق کو شائع کر دیا جس سے ایک چیز بالکل واضح ہوگئی ہے۔ یہ معاہدہ Extended Deterrence نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں نیو کلیئر چھتری کی فراہم کے متعلق کچھ بھی سامنے نہیں آیا۔ امریکہ نے جرمنی اور جنوبی کوریا کو Extended Deterrence فراہم کیا ہوا ہے۔ اگر ان پر کوئی حملہ کرتا ہے تو ان کی ڈاکٹرائن پالیسی کے مطابق امریکہ ان کو نیو کلیئر کی چھتری فراہم کرے گا۔ پاکستان ترکیہ اور سعودی عرب کے اس معاہدے کو Collective Deterrence کا میکانزم کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ اس میں ریاست اپنے اتحادی کو کسی ممکنہ حملہ آور کو حملے سے باز رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ جس کا عملی نمونہ پاکستان اور ترکیہ دکھا چکے ہیں۔ پاکستان نے کئی بار ایران کو سعودی عرب پر حملے کرنے سے باز رہنے کا کہا۔ اس کی تصدیق وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی کرچکے ہیں۔
مکہ معاہدے کی شق نمبر 7 مشترکہ دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے تعاون سے متعلق ہے۔شق 2 کے مطابق ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ رکن ملک پر حملے کی صورت میں دوسرے دفاع میں مدد دینے کا عہد کرتے ہیں۔ یہ Collective Defence ہے۔ شق نمبر 1میں بارڈر کا تحفظ ہے۔ اگر خطرہ ہوا تو تینوں ممالک تحفظ فراہم کریں گے۔ شق نمبر 3 تینوں ممالک دفاع، دفاعی صنعت اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کریں گے، شق نمبر 4 تینوں ممالک بین الاقوامی سلامتی پر مشاورت کریں گے۔ شق نمبر 5 انسداد دہشت گردی میں تینوں ممالک تعاون کریں گے۔ شق نمبر 6 مشترکہ فوجی تربیت اور مشقیں ہوں گی۔
شق نمبر 8 تینوں ممالک ایک اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی قائم کریں گے، ہر ملک کا وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور ملٹری چیف ہوگا۔ سال میں دو بار اجلاس ہوگا میزبانی بدلتی جائے گی، کمیٹیاں قائم ہوں گی، پروٹوکول اور انتظامات طے ہوں گے، نئے ممالک کی شمولیت کے اصول اتفاق رائے سے طے ہوں گے۔ سعودی میں سیکریٹریٹ ہوگا۔ سیکریٹری جنرل تین سال کیلئے ہوگا اور تینوں ممالک کی باری آئے گی، پہلا سیکریٹری جنرل پاکستان سے ہوگا۔ شق نمبر 9 انٹیلی جنس کا تبادلہ ہوگا اس کو خفیہ رکھنا پڑے گا۔ شق نمبر 10 لاجسٹک اور فوجی سازوسامان کی فراہمی کی جائے گی جس میں ہتھیار، گولہ بارود، فیول، اسپیئر پارٹس اور ملٹری سازوسامان فراہم کرنا ہوگا۔ شق نمبر 11 قانونی طریقہ ہے کہ اپنے ملک اور انٹرنیشنل لاء کے تابع اس کو جوائن کریں گے۔
شق نمبر 12 پہلے سے تینوں ممالک کے بین الاقوامی معاہدے متاثر نہیں ہوں گے، شق نمبر 13 خفیہ معلومات کا تحفظ سب پر فرض ہوگا، کسی غیر رکن ریاست، کمپنی یا فرد کو انفارمیشن نہیں دی جائے گی بلکہ ضرورت اور سکیورٹی کلیئرنس کی رسائی مجاز شخص تک ہوگی اور اپنے متعلقہ ملکی قوانین کی پابندی کرے گا۔ شق نمبر 14 اختلاف کی صورت میں مشاورت ضروری ہوگی۔ شق نمبر 15 میں ترمیم کے متعلق بھی سب کی مشاورت ہوگی، شق نمبر 16 کے مطابق معاہدہ غیر معینہ مدت تک نافذ رہے گا۔10 سال بعد کوئی الگ ہونا چاہئے گا تو 3 ماہ پہلے سفارتی چینل کے ذریعے ریٹن لکھ کر دے گا۔ معاہدے کے خاتمے یا کسی کی علیحدگی سے چلنے والے منصوبے ختم نہیں ہوں گے خفیہ معلومات کی راز داری ضروری ہوگی چاہے الگ بھی ہوجائیں۔ ترکش، عربی اور انگریزی زبان میں نسخے موجود ہیں اختلاف کی صورت میں انگریزی کو فوقیت حاصل ہوگی۔
مکہ ڈیفنس جوائنٹ ایگریمنٹ کو اوپن رکھا گیا ہے۔ اس میں ممکنہ طور پر دس فیصد امکان ہے کہ ایران بھی شامل ہوسکتا ہے۔ اگر Extended Deterrence ہوتا جس میں نیو کلیئر کی چھتری بھی شامل ہوتی تو ایران کی کسی صورت میں شمولیت ممکن نہیں ہوسکتی تھی۔ کیونکہ مڈل ایسٹ میں ترکیہ، متحدہ عرب امارات ، سعودی اور ایران نیو کلیئر کی دوڑ میں تھے۔ ترکیہ نیٹو کا ممبر بھی اس بنیاد پر بنا تھا۔ امریکہ ایران کو نیو کلیئر پاور اس وجہ سے نہیں بننے دے رہا کیونکہ اس کے اتحادی بھی پریشر بلٹ کریں گے۔ اور نیو کلیئر عام ہو جائے گا۔ ایران کے نیو کلیئر پروگرام کو روس اور چائنہ بھی سپورٹ نہیں کرتے۔ روس 2010 میں اس کا فزیکلی ایران کیخلاف ووٹ دیکر کردار ادا کرچکا ہے۔ بدر ایگریمنٹ کو دیکھتے ہوئے پاکستان اگر ایران کیساتھ کسی معاہدے میں جائے گا تو وہ مکہ ڈیفنس جوائنٹ ایگریمنٹ کی طرز کا نہیں ہوگا۔ کیونکہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے ملٹری میکانزم ایران سے بہت مختلف ہیں۔
تحریر:فرحان ملک
#farhanmalik #Geopolitics #MJDA #Pakistan
Farhan Malik retweeted
قصور: تھانہ الہ آباد پولیس کی مبینہ جانبداری؛ سابق ایس ایچ او کے ایما پر دو جھوٹے مقدمات درج کرنے کا الزام، وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی سے نوٹس کا مطالبہ
قصور :ضلع قصور کے تھانہ الہ آباد کی حدود میں پولیس کے مبینہ ناروا اور یکطرفہ رویے کے خلاف سنگین شکایات سامنے آئی ہیں۔ متاثرہ فریق کے مطابق تھانہ الہ آباد پولیس نے تھانہ پتوکی کے سابق ایس ایچ او معروف خاں کے مبینہ اثر و رسوخ اور ایما پر دو من گھڑت اور بے بنیاد مقدمات درج کر لیے ہیں۔
متاثرین کا مؤقف ہے کہ پولیس نے ضابطہ اخلاق اور میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور حقائق کی چھان بین کیے بغیر بلاجواز قانونی کارروائی عمل میں لائی۔
اس مبینہ ناانصافی کے خلاف اعلیٰ حکام کو فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) پنجاب اور ڈی پی او قصور سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ:
* اس یکطرفہ کارروائی کا فوری نوٹس لے کر غیر جانبدارانہ اعلیٰ سطحی انکوائری تشکیل دی جائے۔
* تھانہ الہ آباد کے متعلقہ عملے اور سابق ایس ایچ او کے مبینہ گٹھ جوڑ کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔
* اختیارات سے تجاوز کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ و قانونی ایکشن لیا جائے اور انتقامی بنیادوں پر درج دونوں جھوٹے مقدمات فوری طور پر خارج کیے جائیں۔
@Police_Kasur
@RSheikhupura
@OfficialDPRPP
@MaryamNSharif
@GovtofPunjabPK
@MohsinnaqviC42
امریکہ ایران پر بمباری کے لیے طالبان کے فضائی اڈوں کا استعمال کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ مسلسل افغانستان پر پریشر دے رہا ہے کہ وہ اس جنگ کا حصہ بنیں۔ اور انہیں افغان سرزمین سے ایران پر فضائی حملے کرنے کی اجازت دیں۔ اگر امریکہ افغان طالبان کو ایران کیخلاف انگیج کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو امریکی طیارے باآسانی ایران کے ان علاقوں میں پہنچ کر ائیر سٹرائیک کر سکتے ہیں، جو خلیجی ساحل سے کافی دور ہیں کیونکہ افغانستان ایران کی مشرقی سرحد پر ہے۔ امریکہ میں تھنک ٹینکس بھی یہ تجویز دے رہے ہیں کہ طالبان کے ساتھ امن قائم کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ میں کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔
امریکی انخلاء کے وقت امریکی جہازوں پر جو افغان مہاجرین سوار ہو کر نکل گئے تھے امریکہ ان مہاجرین کو واپسی افغانستان میں لانے کا پلان بھی کر رہا ہے اس پلان سے افغانستان اور پاکستان کو بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ امریکی جہازوں میں ان لوگوں کو پاکستان پہنچایا جائے گا اور پاکستان سے ان کو افغانستان بھیجا جائے گا۔ ممکنہ طور پر یہ افغان طالبان کو پریشر میں لانے کیلئے اقدام کیا جا رہا ہو۔ امریکی حکام افغان طالبان کی امداد میں کٹوتی کا بھی پلان کر رہے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے خلیجی ممالک میں سے کئی کو کہا ہے کہ وہ امریکی midterm elections کے بعد ایک مختصر مگر شدید فوجی مہم کے لیے تیار رہیں۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف شدید جنگی کارروائیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس اقدام سے کشیدگی میں بڑے پیمانے پر اضافے کا خطرہ موجود ہے، تہران کی طاقت کو کمزور کرنا اور اسے مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کرنا ہے۔ چینی مندوب فو کونگ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ جنگ چھڑنے سے بڑی تباہی آئے گی اور عالمی معیشت کے مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے۔ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں سے مسائل پیدا ہوئے، ایران کے جوہری معاملے پر دہرا معیار کو ترک کیا جائے۔
ایران کو امریکی حملوں سے بچاؤ کیلئے ریجنل پاور کیساتھ تعلقات میں استحکام لانا ہوگا۔ امریکہ کو ایران پر حملوں سے روس اور چائنہ نہیں روک سکتے۔ علاقائی طاقتیں تعاون نہ کرنے پر امریکہ کو سیاسی و سفارتی دباؤ میں لاسکتی ہیں۔ جس سے امریکہ کے ایران پر حملے رک سکتے ہیں پاکستان، ترکیہ اور سعودی حکام کا تہران میں جانا امریکہ و اسرائیل کیلئے بھی ایک قسم کا پیغام تھا کہ علاقائی طاقتیں امریکی و اسرائیل حملوں کے حق میں نہیں ہیں۔اس کیس میں متحدہ عرب امارات مصر کیطرح اہم فیکٹر ہے۔ جس اگنور کیا جا رہا ہے امریکہ ان ممالک پر پریشر دے رہا ہے جن کا بارڈر ایران کیساتھ ہے۔ ترکیہ اور پاکستان کا ایران کیساتھ شیئرنگ بارڈر ہے ایران کو اپنے بچاؤ کیلئے ان ممالک کیساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہے اور اپنی پراکسیز سے نکل کر ان کیساتھ ریجنل الائنس میں آنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایران ایسا نہیں کرے گا تو اس کے نتائج بہت خطرناک ہوں گے۔
تحریر:فرحان ملک
#farhanmalik #Geopolitics #usairan #pakiranboarder
Farhan Malik retweeted
سعدت بلقاء فخامة الرئيس فلاديمير بوتين في موسكو، على هامش قمة منتدى الدول المصدرة للغاز، حيث بحثنا سبل تعزيز علاقات التعاون والصداقة بين بلدينا، وتبادلنا الرؤى بشأن أبرز المستجدات الإقليمية والدولية. ونتطلع إلى مواصلة العمل معاً لتوسيع آفاق شراكتنا الثنائية، وتعزيز التنسيق المشترك، بما يخدم مصالح بلدينا ويسهم في ترسيخ الأمن والاستقرار.
سر @HamidMirPAK آپ کا علمی لیول اور کردار بہت مختلف ہے۔ آپ ان کو ڈسکس کر کے اہمیت نہ دیں۔ وہ لوگ ڈسکس کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ دولت کے پُجاری اینٹی پاکستان تو آسانی سے ہو جاتے ہیں لیکن والد کیساتھ دھوکہ کرنے کی مثال انھوں رقم کی ہے تو ایسے لوگوں سے آپ کا کیا مقابلہ ہے۔
یمنی حوثی ملیشیا انصار اللہ تعز سٹی کے اطراف اور صوبہ لحج کے مغربی محاذ پر مسلسل پیش قدمی کر رہی ہیں۔ یمنی حوثی ملشیا نے الدمان، الاقام اور المیدان کی پہاڑیوں کو سعودی اتحاد کی افواج سے چھین لیا ہے۔ یونیورسٹی آف تعز فائرنگ کی زد میں ہے دونوں گروپس کی جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ صوبہ لحج کے مغربی محاذ پریمنی حوثی ملیشیا انصار اللہ اور پاپولر کمیٹیز کی العمالقہ، الدرع الوطن اور صبیحہ قبائل کے جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپیں ہو رہی ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران باب المندب کے محاذ پر سعودی اتحادی افواج نے پیشقدمی کی تو یمنی حوثی ملیشیا انصار اللہ نے میزائل اور ڈرونز داغ دیئے، المحجبہ، الحجیجہ اور جبل اصناع یمنی حوثی ملیشیا کے کنٹرول میں ہیں۔ شطین، الدراد اور نبیہ میں جھڑپیں جاری ہیں۔ اگر سعودی اتحادی افواج نبیہ کے علاقے کو کنٹرول کر لیتی ہے تو وہ ذباب اور باب المندب پر حملے کر سکتی ہیں۔ یہ کیونکہ سٹریٹیجک پوائنٹ ہے۔ اور یمنی سعودی اتحادی افواج یہاں پیشقدمی کر رہی ہے۔
نیتن یاہو اپنے اتحادیوں کے ساتھ حکومت بنانے کیلئے اکثریت حاصل کر پائیں گے یا اپوزیشن کو حکومت کا موقع ملے گا۔ اسرائیلی الیکشن میں نیتن یاہو اور اپوزیشن میں سخت مقابلہ ہو رہا ہے، اسرائیل کے انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا، یہ ٹرن آؤٹ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں سب سے زیادہ ہے۔ ابتدائی ایگزٹ پولز کے مطابق کسی بھی سیاسی بلاک کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت ملتی نظر نہیں آ رہی۔
نیتن یاہو کے لیکود اور اتحادی جماعتوں کو تقریباً 50 سے 52 نشستیں ملنے کا امکان ہے، گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن بلاک 49 سے 53 نشستیں حاصل کر سکتا ہے۔عرب جماعتوں کی ممکنہ 17 سے 19 نشستیں بھی انتخابی نتائج میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔ لیکود 25 سے 28 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن سکتی ہے، آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کو 21 سے 23 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ووٹوں کی گنتی ابھی جاری ہے حتمی نتائج تقریباً 30 اکتوبر تک یا سرکاری طور پر 4 نومبر تک متوقع ہیں۔
ایران نے اپنی شرائط کی تکمیل کے بغیر نہ جنگ نہ امن کی صورت کو مسترد کر دیا۔ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے، قومی اتحاد اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا حکم دیا۔ جنگ اور موجودہ صورتحال نہ جنگ، نہ امن والی کیفیت کو ختم کرنے کے لیے کہا کہ ایران کی شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔
روس ایران کو پہلے بھی دھوکے دے چکا ہے۔ روس میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور قطر کے شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور ہائی افیشلز اکھٹے ہیں۔ روس اس وقت امریکہ کو سیاسی و سفارتی پریشر میں لا کر امریکہ کے ایران پر ہونے والے ممکنہ حملے رکوا سکتا ہے۔ اگر روس امریکہ کیساتھ آئل کا معاہدہ نہیں کرتا تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ امریکہ انرجی بحران سے بچنے کیلئے ایران سے جنگ کی بجائے مذاکرات کرے گا اور جنگ بندی کو انجام دے گا۔ اگر ایسا ممکن نہیں ہوتا تو امریکہ کا ایران کیخلاف بلاکڈ جاری رہے گا اور عالمی آئل سپلائی لائن متاثر نہیں ہوگی جس کا فائدہ روس اور امریکہ کو ہوگا مگر ایرانی معیشت کی تباہی ہوگی۔ اور امریکہ کی ایران پر سخت قسم کی بمباری بھی ہوگی۔
انٹرنیشنل ریلیشنز میں کوئی چیز مستقل نہیں ہوتی صرف مفاد دیکھے جاتے ہیں اس صورت میں Realpolitik اور Strategic Opportunism میں ان چیزوں کو دیکھا جاتا ہے۔ روس دو دہائیوں سے ایران کا اسٹریٹجک پارٹنر ہے۔ اس کے باوجود روس اپنے انٹرسٹ کو سیو کرتا ہے۔ کیونکہ یہ رول ہے کہ کوئی بھی ملک اپنے اتحادی کی حمایت تو کرتا ہے مگر اس پر اگر سیاسی، معاشی اور سفارتی دباؤ جیسے بڑھتا ہے یا اس کو اپنے اکنامک انٹرسٹ نظر آتے ہیں تو وہ اپنے اتحادی کے مفاد سے پہلے خود کے مفاد کو ترجیح دیتا ہے۔ روس پہلے ایران کیساتھ ایسا کرچکا ہے 2010 میں ایران کے جوہری پروگرام پر اقوام متحدہ اور مغربی ممالک نے پابندی لگائی تو روس نے اختلاف کے باوجود ایران پر لگی پابندیوں کی حمایت کی، ایران کو ایس 300 ائیر ڈیفنس سسٹم کی فراہمی کو بھی روک دیا تھا اور جون 2025 میں ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے دوران روس نے محدود ردعمل دیا۔
امریکہ نے وینزویلا کے آئل کو قبضے میں لیا تو روس نے ردعمل نہیں دیا حالانکہ روسی جہاز امریکی بلاکڈ کے ساتھ تھے وہ ان کی مدد کر سکتے تھے۔ لیکن مداخلت نہیں کی۔کیونکہ روسی تیل کی ڈیمانڈ بڑھ جانی تھی۔ چائنہ روس اور ایران کیطرف آگیا انڈیا بھی روس سے دوبارہ خریدنے پہنچ گیا۔ امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملوں سے روسی تیل کی مارکیٹ بڑھ گئی۔ اور دنیا نے روسی تیل کا رخ گیا۔ ایران وار میں امریکہ نے چائنہ کی سپلائی لائن ایرانی بلاکڈ سے متاثر کی تو چائنہ مکمل طور پر روس کیطرف بڑھ گیا۔ امریکی بلاکڈ سے ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی تو انرجی بحران آگیا سعودی عرب کا تیل مارکیٹ کو نیچے لا رہا تھا ایران نے یمنی حوثی ملیشیا کو سعودی عرب کیخلاف ایکٹیو کر دیا سعودی عرب کی سپلائی لائن متاثر ہونے سے امریکہ پر پریشر بڑھ گیا تو امریکہ نے روس سے ڈائریکٹ ڈیل کی بات چیت کی اور اپریل 2027 تک پابندیوں میں نرمی کر دی۔
امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملوں میں روس نے امریکہ و مغرب سے اپنے کردار کو اہمیت دینے کیلئے سفارتی پیشکش کی، ایران پر حملوں کی مذمت کی، قیادت سے رابطے کئے لیکن دفاع کے لیے سامنے نہیں آیا۔ جنوری 2025 کے اسٹریٹجک معاہدے میں بھی ایک دوسرے پر حملے کی صورت میں فوجی دفاع کی ضمانت نہیں دی۔ کیونکہ وہ ایران وار میں امریکہ سے اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہا تھا اور وہ کامیاب بھی ہوگیا ہے جو امریکہ یوکرین کو روس کیخلاف مدد فراہم کر رہا تھا وہ ریفائنری پر اٹیک کرنے سے منع کر رہا ہے اگر یوکرین کی جانب سے اٹیک جاری رہے تو امریکہ یوکرین کو انٹیلی جنس شیئرنگ فراہم نہیں کرے گا۔ اب بھی روس بھی اپنے کردار کو اہمیت دے گا۔ اور معاشی فائدہ حاصل کرے گا۔
ایران کو کسی صورت میں امریکی حملوں سے بچنا ہوگا۔ اگر گریٹر پاور کردار ادا نہیں کرتے تو یہ کام ریجنل پاور کیساتھ ملکر ممکن ہوسکتا ہے۔ اگر ایران پر امریکی و اسرائیل حملے شروع ہوتے ہیں معاشی نقصان کی شرح بڑھ جائے گی اور ایرانی رجیم کمزور ہو جائے گا۔ ایرانی رجیم کے کمزور ہونے سے ایران سٹیک ہولڈرز بھی نہیں رہے گا پاسداران انقلاب اس نظام کو بچانے کیلئے جنگ کی حالت میں ہے۔ قطر ایران کو معاشی فوائد دینے کے حق میں ہے مگر پاور ڈیوائڈ ہونے کی وجہ سے پولیٹکل لیڈر شپ اور پاسداران انقلاب کے درمیان اختلاف ہے اور وہی اختلاف چائنہ کو ایران کیساتھ ہے۔ امریکہ و اسرائیل اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اگر سعودی عرب یمنی حوثی ملیشیا کا بلاکڈ ختم کرتا ہے اور اس کے بدلے میں آئل کی سپلائی لائن متاثر نہیں ہوتی تو امریکہ ایران پر لمبی جنگ مسلط کرے گا۔
تحریر:فرحان ملک
#farhanmalik #IranWar #iranrussia #Saudi_arabia #Geopolitics
چائنہ کے بعد پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارت کاری کا راستہ تلاش کیا ہے۔ پاکستان کے ملٹری چیف نے تہران میں ہونے والے چار فریقی اجلاس کی تجویز دی تھی۔ اس اجلاس میں ممکنہ طور سعودی عرب نے ایران سے یمنی حوثی ملیشیا انصار اللہ کیخلاف گارنٹی مانگی اور ایران کو امریکہ کو فضائی حدود استعمال نہ کرنے دینے کی ضمانت دی۔ یہ فیکٹر بہت اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ اس سے رینجل سٹیک ہولڈرز میدان میں آ کر اپنے فیصلے کریں گے۔ اور مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ شرکاء نے چاروں علاقائی ممالک کے درمیان بالخصوص خطے میں امن و سلامتی کے حوالے سے تعاون کو مضبوط بنانے کے مقصد سے اپنی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اس اجلاس کے بعد پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے سابق کمانڈر اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے کہا کہ فریقین کے درمیان "بہت اچھی" بات چیت ہوئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی کا انتظام بیرونی مداخلت کے بغیر خود علاقائی ریاستوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ محسن رضائی کے بیان نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کیساتھ کس موضوع پر بات چیت کی گئی ہے۔
ایران سعودی عرب کو بار بار ثالثی کی پیشکش کر رہا تھا کہ وہ یمنی حوثی ملیشیا انصار اللہ اور سعودی عرب کی جنگ بندی چاہتا ہے اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ مگر سعودی عرب اس سے پیچھے ہٹ رہا تھا۔ پاکستان سعودی عرب کو ریجنل سٹیک ہولڈرز کیطرف لیکر آیا ہے۔ اس سے فائدہ سب ممالک کو ہونا ہے۔ سعودی عرب اپنے معاہدے پر قائم رہے گا اور امریکہ کو سہولیات فراہم نہیں کرے گا۔ کیونکہ سعودی عرب کو یمن جنگ میں دھکیلنے والا اور اکیلا چھوڑ کر یمنی حوثی ملیشیا سے ڈائریکٹ ڈیل کرنے والا امریکہ ہے۔
امریکہ نے اپنا فوکس ایرانی بلاکڈ پر رکھا اور ہر طرف سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی تو اس میں سعودی عرب کیساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار ہوگئے۔ ایران بھی سعودی عرب پر پریشر بلٹ کر رہا تھا تاکہ وہ امریکی بلاکڈ کو سفارتی و سیاسی دباؤ سے ختم کروا سکے۔ لیکن امریکہ نے خلیجی ممالک کے کسی بھی پریشر کو قبول نہیں کیا اور ایرانی بلاکڈ جاری رکھا۔ پاکستان پر بھی پریشر آیا تو کوئی راستہ نہیں بچا تھا ایک ہی راستہ تھا کہ سعودی اور ایران کو ایک ساتھ بیٹھا دیا جائے اور درمیانی راستہ نکالا جائے۔
اب اگر سعودی عرب یمنی حوثی ملیشیا کا بلاکڈ ختم کرتا ہے اور بدلے میں اور آئل کی سپلائی لائن بحال ہوتی ہے۔ تو اس کا فائدہ صرف سعودی عرب کو نہیں بلکہ خطے کے تمام ممالک کو ہوگا۔ ایران کو فائدہ تب ہوگا جب پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ بیٹھ کر سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں نرمی لائے گا۔ مصری پارلیمنٹ نے فوج بھیجنے کی منظوری دیدی ہے اس سے متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں مزید کشیدگی آئے گی۔ متحدہ عرب امارات کسی مسلم الائنس کا حصہ نہیں ہے اور مصر کا سعودی عرب کو سہولت دینا امارات کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ وہ اپنے اتحادی کھو رہا ہے۔ لیبیا کے پاکستان نے ترکیہ کیساتھ معاملات درست کروانا شروع کئے ہوئے ہیں, مصر اس کا ایک سٹریٹجک پارٹنر ہے اس کا سعودی عرب بلاک میں جانا قابل قبول نہیں ہے اگر ایران کیساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار رہتے ہیں تو ان سٹیک ہولڈرز کا الائنس کسی کام نہیں آئے گا کیونکہ متحدہ عرب امارات ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی صورت میں تمام تر سہولیات فراہم کرے گا۔
تحریر:فرحان ملک
#farhanmalik #pakiran #SaudiArabia #saudiiranrelations #Geopolitics
















