In the past anyone who made and released a computer virus that caused damage was considered a criminal.
In this brave new world the CEOs and companies developing and releasing AI that is now clearly harming humanity are considered heroes and being rewarded.
Right out of a movie set
Hey @grok, is this true??
Some data centers now run on lab-grown human brain neurons derived from stem cells, wired directly to silicon chips via electrode arrays, and kept alive on life support. Fed sugar every few days. They play Doom. We don’t know if they’re conscious.
Do not try this to treat cancer.
Anthropic warns that small AI models with 30 billion or fewer parameters are months away from being capable of self-replicating across everyday consumer internet-of-things (IoT) devices without needing a centralized data center.
anthropic.com/research/self-…
مجھے کینیڈا واپس آئے دو مہینے ہو چکے اور اس ملک کی تبدیلی اب تک ہضم نہیں ہو رہی۔
ابھی ایک دستاویزی فلم ریلیز ہوئی جو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
معاشی مشاکل، رہائشی مشاکل، کام کرنے کے مواقع میں کمی، صحت کی ضروریات پر انتظار۔
brokencountry.com/
Another massive scam in Ontario Canada.
But there is law here.
After three visits, and waiting in line today for 3 hours, I finally got my health coverage in Canada.
Canada is not as great as people make it out to be.
Combination of this amount of money and Pakistani police will result in someone else being extradited to US to face courts while real Fahim Akram will disappear.
33 سالہ پاکستانی نوجوان نے 35 ارب روپے کی بڑی رقم گھر بیٹھے ہی امریکی عوام سے ہتھیا لی اور امریکی ڈاک خانے کو بھی سالوں تک چونا لگاتا رہا اور یہ تمام کاروائی اتنا ماہرانہ تھی کہ امریکی ادارے بھی اس کو پکڑنے میں کئی سال ناکام رہے۔۔۔
امریکی عوام کو 12 کروڑ ڈالر کا چونا لگانے والے پاکستانی نوجوان کا نام فہیم اکرم، تعلق خانیوال سے ہے اور اس نوجوان کا طریقہ واردات خاصہ دلچسپ تھا۔
سب سے پہلے فہیم اکرم نے ایک آن لائن ویب سائٹ بنائی اور انتہائی سستے ڈاک ٹکٹس افر کیے۔ ان ڈاک ٹکٹ کی قیمت کتنی کم تھی اس کا اندازہ اپ اس بات سے لگا لیں کہ جہاں ایک ڈاک ٹکٹ کی قیمت وزن اور فاصلے کے حساب سے بعض اوقات 40 ڈالر سے لے کر 70 ڈالر تک تھی وہاں یہ نوجوان 2 ڈالر کے حساب سے 10 ڈالر کے 5 ڈاک ٹکٹ کا پیکج فروخت کرتا جو ڈاک کے طویل سفر یا وزن کی شرائط سے آزاد ہوتا لیکن وہ ان پانچ ڈاک ٹکٹس کی ڈیل میں ایک ٹکٹ حقیقی اور باقی چار نقل شدہ مہیا کرتا جس سے امریکی پوسٹل کمپنی کو جعل سازی کا جلد ادراک نہیں ہوسکا کیونکہ یہ پاکستانی نوجوان خریداروں کو قیمت کی ادائیگی کے بعد ان ڈاک ٹکٹس کو ڈاؤن لوڈ کرنے کی بھی سہولت دیتا اور کیونکہ ان ڈاک ٹکٹس پر بار کوڈ بھی نصب ہوتا تھا جس کے باعث سکین کرنے پر وہ بظاہر حقیقی ہی محسوس ہوتی لیکن جب ڈاک ٹکٹس کے سیکن زیادہ اور پوسٹ آفس کی ٹکٹس کی فروخت کم ہوئی تو ایک لمبی تحقیق کے بعد اسکا سراغ لگایا گیا اور تب تک یہ پاکستانی نوجوان 51 لاکھ کی ڈاک ٹکٹس اپنے 5 ہزار سے زائد خریداروں کو فروخت کر کا تھا اور پاکستان میں 35 ارب کی بڑی رقم لاچکا تھا۔
فی الحال یہ پاکستان نوجوان گرفتار ہے یا ازاد اور اگر گرفتار ہے تو کس کی حراست میں ہے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی اور ابھی تک منظر عام پر اس کی حقیقی تصاویر بھی نہیں آئی لیکن اگر یہ نوجوان ابھی پاکستان میں ہے تو اتنی بڑی رقم کے بعد مجھے نہیں لگتا یہ امریکہ منتقل ہوگا بلکہ اسکی قسمت کا فیصلہ یہی ہوگا۔
بہرحال اس نوجوان نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ امریکہ واقعی میں مواقعوں کی سرزمین ہے پھر چاہے وہ مواقعے خانیوال سے ہی کیوں نہ امریکہ میں اٹھائے جائیں۔
Several persons reporting hacking of their meezan app on twitter. Is this true?
@MeezanBankLtd












