Pinned Tweet
سائینس، ٹیکنالوجی، پلاننگ،پریکٹس سب سچ مگر میرا دل کہتا ہے کہ ہر ہر میزائل اور جہاز کا محفوظ اور ٹھیک اپنے اپنے حدف پر جانا اور متعلقہ تباہی پھیلانا خدا کا معجزہ تھا۔۔۔
اب آپ میرامذاق نا اڑائیں تو مجھےایسا لگتا تھا ہر میزائیل کو اللہ فرشتوں کی سربراہی میں منزل پر پہنچا رہا
میرا دل بھی بچہ ہے جی۔۔۔
کروم بک سے بہل جائے گا۔۔۔
@BSWarraich
PakistaniPeeps🇵🇰 retweeted
اصل میں یہ چیز آج سے 20 سال پہلے ہم جیسوں کو سمجھ آ گئی تھی جب فیس بک نیا نیا آیا تھا، شوکت خانم کا چندہ اکھٹا کرنے والا سارا نیٹ ورک سیاست کو پرموٹ کرنے میں استعمال ہوا، اس لئے سارے یو ٹیوبر، ٹک ٹاکر اور اداکار پی ٹی آئی کی سپورٹ کرتے ہی۔ انکو ویوز اور لائک ملتے ہی۔
PakistaniPeeps🇵🇰 retweeted
یہ ایک پوری سائنس ہے جس پر انویسٹ ہوتی ہے۔ یہ بات نون لیگ کو سمجھ نہیں آتی۔
مس ندیا آپکی آواز ایوانون میں سنی جاتی ہے پلیز میری ٹویےس کا ریٹ سیٹ کروا دیں
PakistaniPeeps🇵🇰 retweeted
بارہ کہو کی ایک گلی کی ویڈیو پوسٹ کی تھی اور لکھا تھا کہ بارہ کہو کے تقریباً ہر خالی پلاٹ کی یہی صورتحال ہے۔
اب سنا ہےکہ بارہ کہو میں کچھ جگہوں پر سے کچرا اٹھایا گیا ہے اور ایسی کچرا کنڈی رکھی گئی ہیں۔ ان پر ہیلپ نمبر بھی درج ہے؛ اگر کچرے والے نہ آئیں تو کمپلین بھی کر سکتے ہیں۔
وزیراعظم صاحب! یہ آپ کے پڑوس بارہ کہو کے حالات ہیں اور یہ صرف ایک گلی کی نکڑ پر بنے خالی پلاٹ کا حال ہے؛ تقریباً ہر دوسری گلی کا یہی حال ہے۔
محسن نقوی تو سنتے نہیں؛ آپ ہی متعلقہ محکمے کے کان کھینچیں۔
@CMShehbaz
PakistaniPeeps🇵🇰 retweeted
مجھے نہیں پتہ مولانا فضل الرحمن کے خلاف ٹرینڈ کون چلوا رہا ہے لیکن ایک بات کہوں گی کہ مضبوط کے پی کے بنانے کے لیے پیپلزپارٹی کے گورنر اور ٹیکنوکریٹس ٹیم پر اتنا زیادہ اعتبار نہ کریں۔
#مضبوط_خیبرپختونخوا
#فضلو_کا_خاندان_چور
#FazluChor
#MazbootKPK
PakistaniPeeps🇵🇰 retweeted
میں امید کرتا ہوں ٹک ٹاک پر یہ وائرل ہونے والی آڈیو فیک ہوگی
اور اگر یہ فیک نہیں تو @HamidMirPAK صاحب ناصر شاہ صاحب سے بلاول بھٹو کے حوالے سے کیے گۓ وہ ایسے کونسے دو سوال تھے جن کو آپ نے اپنے پروگرام سے نکالنے کے 15لاکھ مانگے تھے ۔۔۔۔۔۔
یہ ہے سوشل میڈیا کی طاقت۔۔۔۔
اور آپکے مخالفین اس طاقت کو جتنا خوبی سے استعمال کرتے ہیں آپ اسکو اتنا ہی فار گرانٹڈ لیتے ہیں۔۔
حد تو یہ یے کہ لغاری صاحب کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا ہیڈ تک اناؤنس نہیں ہو سکا۔۔۔
بعد میں آپ نے کہنا عوام نے ساتھ نہیں دیا۔۔۔
نئے دور کے تقاضے نبھائیے۔
کیا یہ سیاسی واٹس ایپ گروپ والوں کو ٹویٹ کی ہے جہاں سے 5 لاکھ فی ٹویٹ مل رہے یا ہم جیسے نامے ناموں کو آرڈر دیا گیا ہے
واٹس ایپ گروپس:
آپ مجھے السلام علیکم کا فارورڈ میسج بھیجیں
میں آپ کو السلام علیکم کا فارورڈ میسج بھیجوں
وعلیکم السلام کہنے کا رواج ختم کریں
آپ مجھے دعا دیں
میں آپ کو دعا دوں
آمین کہنے کا سلسلہ بند کریں
#WhatsApp
PakistaniPeeps🇵🇰 retweeted
واٹس ایپ گروپس:
آپ مجھے السلام علیکم کا فارورڈ میسج بھیجیں
میں آپ کو السلام علیکم کا فارورڈ میسج بھیجوں
وعلیکم السلام کہنے کا رواج ختم کریں
آپ مجھے دعا دیں
میں آپ کو دعا دوں
آمین کہنے کا سلسلہ بند کریں
#WhatsApp
ساری دنیا کے غم۔ایک طرف اور شبانہ کا حیدر آباد کو پسماندہ سمجھے جانے کا غم دوسری طرف
یہ فواد کاشف صاحب کی تحریر ہے جو یقیناً دکھی حیدرآبادی ہیں 😂
" کیا یہ کھلا تضاد نہیں"
درنجات میں سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد کو جس انداز میں پیش کیا گیا ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ حیدرآباد انٹیریئر سندھ کا کوئی نہایت پسماندہ اور چھوٹا سا شہر ہے۔ جہاں بڑے شہروں والی سہولیات سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ نہ تو یہاں انٹر نیٹ ٹھیک طرح سے کام کرتا ہے اور نہ بجلی کے آنے جانے کا کچھ پتا ہوتا ہے۔ (ویسے یہ کوئی بڑی بات نہیں پاکستان کے بڑے شہروں کا بھی یہی حال ہے). لیکن زیادہ افسوس یہ جان کر ہوا کہ حیدرآباد شہر کے لوگ برگر اور شوارما جیسے فاسٹ فوڈز سے ابھی تک محروم ہیں اور یہاں برانڈڈ فوڈ آئٹمز, جیسے ڈارک چاکلیٹس سے تو بیچاری عوام واقف ہی نہیں ہے، ریڈی میڈ کپڑوں کی دکانوں کا فقدان ہے اور کراچی سے آنے والی ایلیٹ کلاس حیدرآباد آ کر ایسے محسوس کرتی ہے جیسے پتھر کے زمانے میں آگئی ہو۔
دوسری طرف عمیرہ احمد "رتبہ" میں حیدرآباد کی ایک اور ہی شکل ناظرین کے سامنے لا کر رکھ دیتی ہیں، ایک ایسا ورلڈ کلاس جم جہاں مرد عورت جدید قسم کے سپورٹس وئیر میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ ورزش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔جسے دیکھ کر ہم سادہ لوگوں کو حیدر آباد کا کراچی سے بھی زیادہ ماڈرن ہونے کا خواہ مخواہ گمان ہونے لگتا ہے،اے ایس پی صاحب کے لئے تحائف آتے ہیں تو ان کی پیکنگ اور بیگز دیکھ کر لگتا ہے کہ حیدر آباد تو بڑے بڑے شہروں سے کہیں آگے ہے،گیسٹ ہاؤس میں اے ایس پی اپنی بیگم کے ساتھ فاسٹ فوڈ بھی کھا رہے ہیں،امپورٹڈ سنیکس بھی نوش فرما رہے ہیں جو یقیناً کراچی سے تو نہیں منگوائے گئے، کاش کوئی زریاب کو بھی بتا دے کہ حیدرآباد میں یہ چیزیں کس دکان سے ملتی ہیں۔
خیر معلوم نہیں کہ عمیرہ احمد نے در نجات میں حیدرآباد کے لوگوں کا دل دکھانے کے بعد رتبہ میں اس شہر کی بالکل مختلف شکل دکھائی ہے یا اس کی وجہ پروڈکشن یونٹ ہے۔ ویسے عمیرہ ہمیشہ بڑے ڈائریکٹرز کے ساتھ کام کرتی ہیں اور کوئی بھی ڈاریکٹر اتنے سینئر رائٹر کو بتائے بغیر سکرپٹ میں اتنی میجر چینج نہیں کرتا جس سے جغرافیائی تاریخی معاشرتی یا ثقافتی حقائق کو ٹھیس پہنچے۔
(فواد کاشف)
25اکتوبر 2026














