
Endurance is a form of quiet strength || she/her || 𝐑𝐢𝐧𝐝 𝐁𝐚𝐥𝐨𝐮𝐜𝐡 || #BehindYouSkipper
THINK BIG, AIM HIGH ..
Joined June 2025
- Tweets4.4K
- Following64
- Followers132
- Likes9.9K
Pinned Tweet
Still waiting for @ImranKhanPTI
Waaaappppsssssiiiiiiii ..
🇵🇰𝙕𝙞𝙢𝙖𝙡 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙪𝙘𝙝🍁 retweeted
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اللھم صلی علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی اِبراھیم وعلی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید
اللھم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی اِبراھیم وعلی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید
انہوں نے ایک ٹریفک چالان پر انہیں چار ماہ کی مشقت والی قید سنا دی۔
مئی 1960۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کو جارجیا میں الاباما کے ڈرائیونگ لائسنس پر گاڑی چلانے پر روکا جاتا ہے، حالانکہ ان کا لائسنس ابھی درست تھا۔ وہ معمولی جرمانہ ادا کر دیتے ہیں۔ کوئی انہیں نہیں بتاتا کہ انہیں پروبیشن پر رکھ دیا گیا ہے۔
اکتوبر 1960۔ کنگ اٹلانٹا میں صرف سفید فاموں کے لیے مخصوص ایک ریستوران میں طلبہ کے پُرامن دھرنے میں شامل ہوتے ہیں اور گرفتار ہو جاتے ہیں۔ ایک جج پرانے ٹریفک چالان کو بہانہ بناتا ہے، کہتا ہے کہ انہوں نے پروبیشن کی خلاف ورزی کی، اور انہیں چار ماہ کی مشقت والی قید سنا دیتا ہے۔
فجر سے پہلے انہیں زنجیروں میں جکڑ کر کوٹھری سے نکالا جاتا ہے اور 200 میل سے زیادہ دور ایک دور افتادہ جیل لے جایا جاتا ہے۔ ان کی اہلیہ کوریٹا، جو اپنے تیسرے بچے کی امید سے تھیں، ان کی جان کے لیے خوفزدہ ہیں۔
مگر پورا ملک دیکھ رہا ہے۔ غم و غصہ صدارتی انتخابی مہم تک پہنچ جاتا ہے، اور دو دن بعد وہ آزاد ہیں۔
تین سال بعد وہ واشنگٹن میں ڈھائی لاکھ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے خواب کی بات کرتے ہیں۔ اس کے ایک سال بعد انہیں نوبل امن انعام ملتا ہے، اور وہ قوانین ختم کر دیے جاتے ہیں جن کو چیلنج کرنے پر انہیں جیل بھیجا گیا تھا۔
آج @ImranKhanPTI قیدِ تنہائی میں ہیں، اور ان کی بہنیں بغیر کسی الزام کے جیل میں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم مان لیں کہ سب ختم ہو گیا۔
کنگ کے لیے کبھی کچھ ختم نہیں ہوا تھا۔ ہمارے لیے بھی ختم نہیں ہوا۔
#FreeImranAndFamily
Day 48.
24 hours ago, my family raised the alarm. My mother, @DrUzma_KhanPK, has a replaced heart valve, her blood pressure is rising in Kot Lakhpat Jail, and she is not receiving treatment.
Since then, there has been no word from the jail, no word from the authorities, and no cardiologist.
My mother and my aunts, @Aleema_KhanPK and @Noreen_KhanPK, all around 70, have been held for 48 days under a detention law, without charge. Their brother, @ImranKhanPTI, is in solitary confinement with his blood pressure at 192.
The state holds them. The state is responsible for their health.
Let her see her cardiologist. Charge them or release them.
#FreeImranAndFamily
🇵🇰𝙕𝙞𝙢𝙖𝙡 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙪𝙘𝙝🍁 retweeted
Imran Khan and his family deserve the same fundamental rights, dignity, and justice as every Pakistani citizen. No family should face hardship for political differences
#فسطائیت_بند_کرو
🇵🇰𝙕𝙞𝙢𝙖𝙡 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙪𝙘𝙝🍁 retweeted
عمران خان نے بتایا کہ اُن کو ڈاکٹرز نے کہا کہ کسی بھی وقت اُنہیں برین ہیمرج یا ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے۔ مریم ریاض وٹو
. 💔😭
اور تحریک انصاف والے آپس میں لڑنے میں لگے ہیں
Critical & urgent!! My aunt Rubina Khan's statement about my mother, @DrUzma_KhanPK, held in Kot Lakhpat jail:
"I have received information from inside Kot Lakhpat jail, through informal sources, that my sister Uzma Khan's blood pressure is also shooting up and she is not receiving any medical treatment. This is not natural. Like her other siblings, her blood pressure has always been genetically low to normal. The family has received no information from jail authorities. She had a heart valve replacement and her condition is vulnerable. She should be seen urgently by a cardiologist."
– Rubina Khan
This is very serious. My mother has a replaced heart valve and her blood pressure is rising with no treatment. The authorities must let her see her own doctor immediately.
@UNHumanRights @UN @amnesty @amnestysasia @hrw @HRCP87
🇵🇰𝙕𝙞𝙢𝙖𝙡 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙪𝙘𝙝🍁 retweeted
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اللھم صلی علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی اِبراھیم وعلی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید
اللھم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی اِبراھیم وعلی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید
🇵🇰𝙕𝙞𝙢𝙖𝙡 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙪𝙘𝙝🍁 retweeted
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍوَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَاصَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌمَجِيد
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍوَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَابَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌمَّجِيد
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍوَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَاصَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌمَجِيد
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍوَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَابَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌمَّجِيد
انگریزوں نے دو بھائیوں کو ان کی سیاست کی وجہ سے قید کیا۔
پھر ان کی والدہ نے ان کی جگہ لے لی۔
1915 میں، پہلی جنگِ عظیم کے دوران، انگریزوں نے ہندوستان کے دو مقبول ترین مسلمان رہنماؤں، محمد علی جوہر اور شوکت علی، کو عثمانی ترکی کی حمایت میں بولنے اور لکھنے پر حراست میں لے لیا، اور چار سال تک بغیر کسی مقدمے کے قید رکھا۔
جب بیٹے قید میں تھے، ان کی بزرگ والدہ آبادی بانو بیگم، جنہیں سب "بی اماں" کہتے تھے، خود میدان میں اتر آئیں۔ 1917 میں انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ سے خطاب کیا، اور پھر پورے ملک کا سفر کیا، تقریریں کیں، چندہ جمع کیا اور لوگوں کو تحریک کے لیے متحرک کیا۔ گاندھی انہیں ماں کہہ کر پکارتے تھے۔
1919 میں بھائی رہا ہوئے، مگر دو سال بعد کراچی میں ان پر بغاوت کا مقدمہ چلا۔ انہوں نے الزام سے انکار نہیں کیا، اور انہیں مزید دو سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔
1930 میں لندن کی گول میز کانفرنس میں محمد علی نے انگریزوں سے کہا کہ اگر وہ ہندوستان کو آزادی نہیں دیں گے تو انہیں یہیں قبر دینی پڑے گی۔ دو ماہ بعد لندن ہی میں ان کا انتقال ہو گیا۔
اس کے سترہ سال بعد انگریز راج ختم ہو گیا۔ 1990 میں پاکستان نے بی اماں کے اعزاز میں ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔
آج @ImranKhanPTI اپنی سیاست کی وجہ سے جیل میں ہیں۔ ان کی بہنوں نے ان کا مقدمہ اٹھایا، تو ریاست نے انہیں بھی قید کر دیا۔
خاندانوں کو قید کرنے والی سلطنتیں قائم نہیں رہتیں، مگر خاندان یاد رکھے جاتے ہیں۔
کیا یہ حکومت مختلف ثابت ہوگی؟
#FreeImranAndFamily
The British jailed two brothers for their politics.
Then their mother took their place.
In 1915, in the middle of the First World War, the British detained Mohammad Ali Jauhar and Shaukat Ali, two of the most popular Muslim leaders in India, for speaking and writing in support of Ottoman Turkey. They were held for four years without trial.
While her sons were locked away, their elderly mother, Abadi Bano Begum – known to everyone as "Bi Amman" – stepped into the struggle herself. In 1917 she addressed the All-India Muslim League, and she went on to travel the country, speaking, raising funds and rallying people to the cause. Gandhi called her mother.
The brothers were released in 1919, only to be put on trial in Karachi two years later for sedition. They did not deny the charge, and they were sent back to prison for another two years.
In 1930, at the Round Table Conference in London, Mohammad Ali told the British that if they would not give India its freedom, they would have to give him a grave there. He died in London two months later.
Seventeen years after that, the Raj was gone. In 1990, Pakistan honoured Bi Amman with a postage stamp.
Today, @ImranKhanPTI is in jail for his politics. His sisters took up his cause, and so the state jailed them too.
Empires that jail families do not last, but the families are remembered.
Will this regime be any different?
#FreeImranAndFamily
🇵🇰𝙕𝙞𝙢𝙖𝙡 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙪𝙘𝙝🍁 retweeted
خان صاحب نے مغربی ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کو شعور دیا کہ سیاست میں آو اپنا حق لو۔
آج یوکے امریکہ میں مسلمان نڈر ہوکر سیاست میں اپنا لوہا منوا رہے
لیکن افسوس خان صاحب اپنے ہی ملک میں یہ کرنے پر اپنے سارے خاندان و خواتین کے ساتھ قید کردئیے گئے
کیونکہ خان کا واسطہ دنیا کے غلیظ و نہایت بیغیرت قبضہ گروپ سے پڑا









