مغربی میڈیا نے ہمیشہ یوکرین جنگ کی غلط تصویر پیش کی ہے،البرٹ پی خوریف
۔ مغربی میڈیا نہ تو درست معلومات دے رہا ہے اور نہ ہی تنازع کی بنیادی وجہ بیان کر رہا ہے
منیر احمد کی کتاب "یوکرین وار: بیونڈ دی ہیڈ لائنز" کی روسی سفارتخانے میں تقریب رونمائی سے روسی سفیر کا خطاب
روسی فیڈریشن کے پاکستان میں سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا ہے کہ مغربی میڈیا نے ہمیشہ یوکرین جنگ کی غلط تصویر پیش کی ہے۔ مغربی میڈیا نہ تو درست معلومات دے رہا ہے اور نہ ہی تنازع کی بنیادی وجہ بیان کر رہا ہے۔انہوں نے یہ بات معروف پاکستانی صحافی، براڈکاسٹر اور جغرافیائی سیاسی تجزیہ کار منیر احمد کی کتاب "یوکرین وار: بیونڈ دی ہیڈ لائنز: این آلٹرنیٹو نیریٹو آن دی کرائسس" کی اسلام آباد میں روسی سفارتخانے میں 29 اکتوبر کو منعقدہ تقریب رونمائی کے افتتاحی کلمات میں کہی۔تقریب میں سینیٹر مشاہد حسین سید، سابق صدر آزاد کشمیر سفیر مسعود خان، سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور جرمنی و سعودی عرب میں سابق سفیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی، ڈاکٹر الماس حیدر نقوی، ڈاکٹر گل عائشہ بھٹی نے بھی کتاب پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔سفیر نے کہا کہ یہ کتاب بڑی محنت سے تحقیق شدہ ہے، جو سرکاری دستاویزات، اقوام متحدہ کی رپورٹس، بین الاقوامی تنظیموں کے بیانات اور قابل تصدیق حقائق پر مبنی ہے جو کھلے ذرائع میں آسانی سے دستیاب ہیں لیکن مغربی مین سٹریم میڈیا کی جانب سے دانستہ طور پر نظرانداز کیے جاتے ہیں۔ اس کی ساخت تاریخی اور موضوعاتی دونوں لحاظ سے ہے، جو تنازع کی تاریخی جڑوں، خصوصی فوجی آپریشن کے دوران پیش آنے والے واقعات اور اس کے وسیع تر جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی نتائج کا احاطہ کرتی ہے۔ مخصوص ابواب خوراک کی سلامتی، توانائی کی منڈیوں، بحیرہ اسود کی صورتحال، نیٹو کے کردار، یورپی سلامتی کے مستقبل اور کثیر قطبی عالمی نظام کے ابھرنے کا جائزہ لیتے ہیں۔ کتاب کا اختتامی حصہ 2026 تک کی پیش رفتوں تک بحث کو لے کر آتا ہے، بشمول سٹاروبلسک میں یوکرین کا ہولناک دہشت گرد حملہ اور زاپوروزے نیوکلیئر پاور پلانٹ کے عملے کو نشانہ بنانے کی یوکرین کی اشتعال انگیزیاں۔یہ کتاب بین الاقوامی سطح پر Amazon.com نے 6 اکتوبر 2026 کو شائع کی ہے (235 صفحات) جس کا دیباچہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد اسد درانی نے تحریر کیا ہے، جو ایک غیر مغربی / جنوبی ایشیائی نقطہ نظر پیش کرتی ہے جو مغربی بیانیوں کو چیلنج کرتی ہے۔مصنف منیر احمد کا موقف ہے کہ جنگ کو صرف 24 فروری 2022 سے کہانی شروع کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔ کتاب میدان جنگ کی خبروں سے آگے بڑھ کر روس-یوکرین تعلقات کی تاریخی جڑوں اور 1991 سے یوکرین کے متضاد وژن، 1999 اور 2004 کے بعد نیٹو کی مشرق کی جانب توسیع اور سرد جنگ کے بعد ایک جامع یورپی سلامتی نظام کی تعمیر میں ناکامی، روس کے بیان کردہ سلامتی خدشات اور امریکی اسٹریٹجک مفادات، معلوماتی جنگ کے کردار، پابندیوں، اقتصادی اخراجات، ناکام سفارت کاری اور امن کے ضائع ہونے والے مواقع کا جائزہ لیتی ہے۔مقررین نے کہا کہ یہ کتاب پروپیگنڈا اور متضاد بیانیوں کے دور میں ایک غیر مغربی نقطہ نظر پیش کرتی ہے اور عالمی استحکام اور ابھرتے ہوئے کثیر قطبی نظام پر باخبر مکالمے پر زور دیتی ہے۔مقررین نے بڑی طاقتوں کے کردار، مسابقتی سلامتی مفادات، طاقت کے بدلتے توازن اور بین الاقوامی سفارت کاری کی حدود پر بھی روشنی ڈالی۔مقررین نے پاکستان کو یوکرین پر "ہمیشہ ایک آزادانہ اور متوازن موقف" اختیار کرنے پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی میڈیا نے بحران کے بارے میں ہسٹیریا پیدا کیا اور منیر احمد جیسے پاکستانی ماہرین کا سچ کی تلاش پر شکریہ ادا کیا۔مقررین نے نوآبادیات اور مغربی تسلط کی جانب بھی نشاندہی کی۔منیر احمد نے کہا کہ یہ کتاب قارئین کو دعوت دیتی ہے کہ وہ سرخیوں سے آگے دیکھیں، یورپی سلامتی کی بگڑتی صورتحال، ماسکو-واشنگٹن محاذ آرائی، اور انسانی و اقتصادی اخراجات کو دیکھیں اور امن کے متبادل راستوں پر غور کریں۔تقریب میں سفارت کاروں، ماہرین تعلیم اور خارجہ پالیسی کے ماہرین نے شرکت کی، جو عصر حاضر کے سب سے اہم تنازعات میں سے ایک پر بحث کو فروغ دینے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے
*
*ضلع بھکر سے تعلق رکھنے والی نمرا ممتاز کی کتاب "295" ایمیزون پر شائع، مصنفہ کا سدھو موسے والا کے مزید گانوں پر کتابیں لکھنے کا اعلان*
ضلع بھکر سے تعلق رکھنے والی نوجوان مصنفہ نمرا ممتاز، جو اس وقت اسلام آباد میں مقیم ہیں، نے معروف پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے مداحوں کے لیے ایک منفرد ادبی کاوش کی ہے۔
نمرا ممتاز سدھو موسے والا کی بڑی مداح ہیں اور ان کی گلوکاری اور ان کے گانوں میں چھپے گہرے پیغام سے بہت متاثر ہیں۔ اسی لگاؤ اور دلچسپی کی وجہ سے انہوں نے گلوکار کے گانوں کو عام قارئین کے لیے آسان زبان میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں ان کی پہلی کتاب معروف گانے *"295"* پر تحریر کی گئی ہے۔ اس کتاب میں گانے کے پنجابی بولوں میں موجود مشکل اور پیچیدہ الفاظ، اشعار کے مفہوم، خیالات اور گانا لکھنے کے پس منظر کو انتہائی سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے تاکہ اردو اور انگریزی سمجھنے والے قارئین بھی اسے آسانی سے سمجھ سکیں۔
نمرا ممتاز کی یہ کتاب اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں تحریر کی گئی ہے اور *ایمیزون کے بین الاقوامی اشاعتی پلیٹ فارم KDP.Amazon.com پر شائع ہو چکی ہے* اور اس وقت ایمیزون پر دنیا بھر کے قارئین کے لیے دستیاب ہے۔
مصنفہ کا کہنا ہے کہ ان کی اس کاوش کا مقصد سدھو موسے والا کے گانوں میں موجود ادبی اور سماجی پیغام کو عام قارئین تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تو صرف شروعات ہے، مستقبل میں وہ سدھو موسے والا کے مزید مشہور گانوں پر بھی کتابیں، تراجم اور تشریحات شائع کریں گی۔
ان کی آئندہ کتابوں اور نئی اشاعتوں سے متعلق تمام معلومات ان کے ایمیزون مصنف اکاؤنٹ پر شیئر کی جائیں گی۔
*کتاب اس وقت ایمیزون پر دستیاب ہے۔*
Enlightened AJK people reject misleading narrative of banned Action Committee radio.gov.pk/currentaffairs/…
پی آئی اے کی بین الاقوامی فضاؤں میں واپسی کا سفر اہم مرحلے میں داخل
پہلی بار بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے فضائی آپریشن کیلئے استعمال کیے جائیں گے
قومی ایئر لائن کی بین الاقوامی فضاؤں میں واپسی کا سفر ایک اور اہم مرحلے میں داخل ہو گیا، لندن کیلئے ہفتہ وار پروازوں کی تعداد 7 کر دی گئی، جبکہ برمنگھم کیلئے براہ راست فضائی آپریشن بھی یکم دسمبر سے بحال کیا جا رہا ہے۔پی آئی اے نے ایک اور سنگ میل عبور کیا ہے، پہلی بار بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے فضائی آپریشن کیلئے استعمال کیے جائیں گے۔عارف حبیب کارپوریشن کی سربراہی میں کنسورشیم نے قومی ایئرلائن کا چارج انتیس جون دوہزار چھبیس کو سنبھالا اور اس کے بعد سے انقلابی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، چھ سالہ پابندیوں سے روزانہ پروازوں تک، قومی ایئر لائن نے یہ سفر انتہائی احسن طریقے سے طے کیا۔نئے شیڈول کے تحت اسلام آباد سے پانچ، جبکہ لاہور سے دو پروازیں لندن کے لیے روانہ ہوں گی، یوں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان فضائی رابطہ اب روزانہ کی بنیاد پر دستیاب ہوگا جس سے مسافروں کو سفر کی منصوبہ بندی میں مزید سہولت اور انتخاب میسر آئے گا۔قومی ایئر لائن یکم دسمبر سے برمنگھم کے لیے بھی براہ راست پروازیں شروع کرنے جا رہی ہے اس سے برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کو اپنے وطن آنے جانے میں سہولت ملے گی.پروازوں میں یہ اضافہ محض ایک نئے شیڈول کا اعلان نہیں بلکہ اس کے پیچھے عارف حبیب کارپوریشن کی سربراہی میں قائم کنسورشیم کے انقلابی اقدامات ہیں۔عارف حبیب کنسورشیم نے قومی ایئرلائن کا چارج جون انتیس دو ہزار چھبیس کو سنبھالا تھا، اس کے بعد سے ترقی کا سفر جاری ہے، اور پی آئی اے بین الاقوامی سطح پر اپنی کھوئی ہوئی شناخت واپس حاصل کر رہی ہے۔22 مئی 2020ء کو کراچی میں پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 حادثے کا شکار ہوئی جس میں ستانوے افراد جاں بحق ہوئے، اس المناک سانحے کے بعد پاکستان کے ہوا بازی کے نظام اور حفاظتی انتظامات پر سنجیدہ سوالات اٹھے۔صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب اس وقت کے وزیرِ ہوا بازی نے پارلیمان میں پاکستانی پائلٹس کے لائسنسوں سے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کیا، ان انکشافات نے بین الاقوامی ہوا بازی کے اداروں کے تحفظات کو مزید بڑھا دیا۔جون 2020ء میں یورپی یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازوں کی اجازت معطل کر دی، جبکہ برطانوی حکام نے بھی پاکستانی ایئر لائنز پر پابندیاں عائد کر دیں، ان اقدامات کے پس منظر میں پائلٹس کے لائسنسوں کی تصدیق، سول ایوی ایشن کے نگرانی کے نظام اور فضائی حفاظت کے معیار سے متعلق خدشات شامل تھے۔نتیجہ یہ نکلا کہ قومی ایئر لائن کے لیے برطانیہ اور یورپ کی اہم فضائی منڈیاں طویل عرصے تک بند رہیں، مسافروں کو متبادل ایئر لائنز اور دوسرے فضائی راستوں کا سہارا لینا پڑا جبکہ پی آئی اے کو اپنے بین الاقوامی نیٹ ورک اور آمدن کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔پابندیوں کے خاتمے کے لیے پاکستان کو ہوا بازی کے حفاظتی نظام میں اصلاحات، پائلٹ لائسنسنگ کے طریقہ کار میں بہتری اور نگرانی کے معیار کو مضبوط بنانے پر کام کرنا پڑا، نومبر 2024 میں یورپی یونین نے پی آئی اے پر پابندی اٹھا لی۔جولائی 2025 میں برطانیہ نے پاکستان کو اپنی ایئر سیفٹی لسٹ سے نکال دیا جس سے پاکستانی ایئر لائنز کے لیے برطانوی فضائی آپریشن کی راہ ہموار ہوئی، اس پیش رفت کے بعد پی آئی اے نے مارچ 2026 میں لندن کے لیے براہ راست پروازیں بحال کر دیں۔29 مارچ کو اسلام آباد سے ہیتھرو کیلئے پرواز روانہ ہوئی، جبکہ اگلے روز لاہور سے بھی براہ راست فضائی رابطہ قائم ہو گیا، یوں برسوں کے تعطل کے بعد قومی ایئر لائن کی لندن واپسی ممکن ہوئی، اور اب پروازوں کی تعداد میں اضافہ اس بحالی کے سفر کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے، انتظامیہ بھی قومی ایئرلائن کی ساکھ بحال کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔لندن کیلئے روزانہ پروازوں کی دستیابی اور برمنگھم کے لیے براہِ راست آپریشن کی بحالی کی توقع نے برطانیہ آنے جانے والے پاکستانی مسافروں کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں اس پر شہری بھی خوش دکھائی دیتے ہیں.پی آئی اے کے لیے لندن کی پروازوں میں اضافہ اور برمنگھم کے لیے آپریشن کی بحالی محض فضائی رابطوں کی توسیع نہیں، بلکہ عالمی منڈی میں اپنا مقام مستحکم کرنے کی کوشش بھی ہے
بے گناہ ہیں، پنجرے میں رکھ کر ٹرائل کیا گیا، ایمان مزاری
ضابط فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت ریکارڈ کرایا گیا بیان
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں بیریئر ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی کا ضابط فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت ریکارڈ کرایا گیا بیان سامنے آ گیا۔ایمان مزاری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ بیان احتجاجا جمع کرا رہی ہوں، کرکٹ ٹیم اس راستے سے گزر ہی نہیں رہی تھی اور پولیس نے خود بتایا تھا کہ ٹیم دوسرے راستے سے جا چکی ہے۔ایمان مزاری کا کہنا ہے کہ سڑک کی عارضی بندش کے لئے پولیس کے پاس مجسٹریٹ کا حکم موجود نہیں تھا، ہمیں بطور وکیل انسدادِ دہشت گردی عدالت پہنچنا تھا، اسلئے ہم نے 15 منٹ انتظار کے بعد سڑک کھولنے کی درخواست کی، غیر قانونی طور پر سڑکیں بند کرنے سے شہریوں کی نقل و حرکت کے آئینی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ پولیس سے صرف یہ کہا تھا کہ سڑک کسی کی ذاتی ملکیت نہیں، اگر بیریئر ہٹانے سے سیکیورٹی کا خطرہ تھا تو پولیس نے موٹر سائیکل سواروں کو کیوں نہیں روکا؟بیان میں ایمان مزاری نے کہا ہے کہ پراسیکیوشن نے جان بوجھ کر ویڈیو کی اصل ٹرانسکرپٹ چھپائی، جو پراسیکیوشن کے جھوٹ کا پردہ فاش کرتی ہے۔انہوں نے دعوی کیا ہے کہ بغیر وردی کے پولیس اہلکار ابراہیم نے ہم پر لوہے کا بیریئر پھینکا، جس سے میں زخمی ہوئی، میرے شوہر نے مجھے تشدد اور جسمانی نقصان سے بچانے کیلئے دفاعی قدم اٹھایا، جبکہ پمز اسپتال کی میڈیکل رپورٹ بھی ثبوت کے طور پر عدالت میں جمع کرائی گئی ہے۔ایمان مزاری نے کہا ہے کہ پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کا کوئی ثبوت ریکارڈ پر موجود نہیں اور واقعے کے بعد ایک پولیس اہلکار نے پولیس کے رویے پر ہم سے معافی بھی مانگی تھی۔انہوں نے یو ایس بی کو غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے پولیس اسٹیشن میں کئی دن تک بغیر سیل کیے رکھا گیا، ہائی کورٹ کی جانب سے ریمانڈ معطل کیے جانے کے بعد تمام تفتیشی کارروائی غیر قانونی تھی۔بیان کے مطابق مقدمے کے تمام گواہ پولیس اہلکار ہیں اور کوئی آزاد یا نجی گواہ شامل نہیں کیا گیا، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے اور مفت قانونی خدمات فراہم کرنے کے بدلے ہمارے خلاف انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود اڈیالہ جیل میں ہمیں دوبارہ تشدد کا نشانہ بنا کر گرفتار کیا گیا، ہمیں پنجرے میں رکھ کر ٹرائل کیا گیا اور وکیل تک رسائی سے محروم رکھا گیا۔ایمان مزاری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم بے گناہ ہیں اور حقوق العباد کی جنگ میں ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔ملزم ہادی علی کا بھی اڈیالہ جیل میں ریکارڈ کیا گیا 342 کا بیان سامنے آ گیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ مجھے اور میری اہلیہ کو جیل ٹرائل کے دوران پنجرے میں بند رکھا گیا، پنجرے میں ٹرائل، عدم موجودگی میں شہادتیں ریکارڈ کرنے اور سرکاری کونسل کی تقرری کوچیلنج کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ تینوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، پولیس اہلکاروں نے تصدیق کی تھی کہ متبادل راستہ صرف 15منٹ کے لیے بند کیا گیا تھا، پولیس کے پاس سڑک بند کرنے کا کوئی مجسٹریٹ آرڈر موجود نہیں تھا، سڑک کی غیر قانونی بندش نے نقل و حرکت اور روزگار کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی۔ہادی علی کا کہنا ہے کہ پراسیکیوشن نے ویڈیو کی ٹرانسکرپٹ چھپائی، جو پولیس کے جھوٹے کیس کو بے نقاب کرتی ہے، پولیس اہلکار نے لوہے کے بیریئر سے میری حاملہ بیوی پر حملہ کیا، میں نے اپنی اہلیہ کے دفاع کے لیے جوابی قدم اٹھایا، پمز اسپتال کا طبی ریکارڈ پولیس کے تشدد اور اہلیہ کو لگی چوٹوں کی تصدیق کرتا ہے۔بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ یو ایس بی فارنزک اور وائس میچنگ سمیت تمام تفتیشی کارروائیاں غیر قانونی طور پر کی گئیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جوڈیشل ریمانڈ معطل کرنے کے بعد یہ کارروائیاں غیر قانونی تھیں، سپریم کورٹ کے رہائی کیحکم کے بعد ہمیں دوبارہ تشدد کر کے گرفتار کیا گیا، ہمیں17 ستمبر کو اڈیالہ جیل کے اندر سے دوبارہ تشدد کرکے گرفتار کیا گیا
ایمان مزاری
عمران خان سے آج جمعرات کے روز ملاقات کا دن ، فہرست جیل حکام کے حوالے
فدا عباسی، ذیشان وڑائچ، احتشام عباسی، محسن جاوید، زاہد عباسی ،نادیہ خٹک شامل
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جمعرات کو رفقا کی ملاقات کیلئے تحریک انصاف کی جانب سے 6 افراد کے ناموں پر مشتمل فہرست جیل حکام کو جمع کرا دی گئی۔تحریک انصاف کی جاری کردہ فہرست اویس یونس چوہدری ایڈووکیٹ نے جیل حکام کو جمع کرائی۔فہرست میں فدا عباسی، ذیشان وڑائچ، احتشام عباسی، محسن جاوید، زاہد عباسی اور نادیہ خٹک کے نام شامل ہیں۔
اسلام آباد میں سیکٹر ڈی-12 (D-12) کے قریب مجوزہ کرکٹ اسٹیڈیم میں 35,000 سے زائد تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی۔
مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہونے والا یہ تین منزلہ (تین سطحی) ڈھانچہ 25 میٹر سے زیادہ بلند ہوگا۔
توقع ہے کہ اسٹیڈیم کا منصوبہ چند دنوں میں آگے بڑھے گا۔ سی ڈی اے (CDA) اور ٹھیکیدار کے درمیان بولی کی شرح (bid rate) پر تنازعہ حل ہو گیا ہے، جبکہ مارگلہ روڈ سے اس مقام تک جانے والی سڑک بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
پہلے مرحلے میں اسٹیڈیم کی تعمیر اور تقریباً تین کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر شامل ہوگی۔ دوسرے مرحلے میں، سی ڈی اے لینڈ اسکیپنگ (آرائشِ زمین) اور بجلی کا کام مکمل کرے گا، نیز پچز سمیت کھیل کے میدان کو تیار کرے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے حکام نے بتایا کہ انہیں امید ہے کہ آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2028 سے قبل اسٹیڈیم کو مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔ بورڈ اس ٹورنامنٹ کے کچھ میچز اسی مقام پر منعقد کروانا چاہتا ہے۔
سی ڈی اے نے زون-1 (Zone I) میں مالپور کے قریب ایک جگہ پر غور کرنے کے بعد، سیکٹر ڈی-12 کے قریب اس مقام کا انتخاب کیا۔
منتخب کردہ جگہ زون-3 (Zone III) میں آتی ہے، جہاں عام طور پر تعمیرات پر پابندی ہے اور مقامی زمین مالکان اپنی زمین پر مکانات تعمیر نہیں کر سکتے۔ تاہم، سی ڈی اے کا موقف ہے کہ اس علاقے میں کھیلوں اور تفریحی سہولیات کی تعمیر کی اجازت ہے، اور یہ اسٹیڈیم ان تعمیرات کے زمرے میں آتا ہے جن کی اجازت دی گئی ہے۔
اس سے قبل شکر پڑیاں میں پی سی بی (PCB) کے ایک اسٹیڈیم منصوبے کو سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد ترک کر دیا گیا تھا۔ پی سی بی نے وہاں سی ڈی اے کی فراہم کردہ زمین پر تعمیراتی کام شروع کر دیا تھا۔ اس بار، یہ شہری ترقیاتی ادارہ (سی ڈی اے) خود اسٹیڈیم تعمیر کرے گا۔
منصوبے کے آگے بڑھنے سے قبل، سی ڈی اے اور تعمیراتی فرم کو بولی کی شرح پر پیدا ہونے والے اختلاف کو حل کرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق، سی ڈی اے نے سنگِ بنیاد رکھنے سے قبل قیمت میں کمی (rebate) کا مطالبہ کیا تھا۔ ٹھیکیدار کا موقف تھا کہ انہوں نے اپنی بولی مارچ میں جمع کرائی تھی، اور تب سے ڈیزل، پیٹرول اور دیگر اخراجات میں اضافہ ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اخراجات میں اضافے کے بعد، بتائی گئی قیمت (quoted rate) میں کمی کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔
اس منصوبے کے پی سی-1 (PC-I) میں لاگت کا تخمینہ 11.9 ارب روپے لگایا گیا تھا۔ ’حبیب-زیڈ کے بی-ای اے‘ (Habib-ZKB-EA) جوائنٹ وینچر نے 8.9 ارب روپے کی سب سے کم بولی جمع کرائی تھی۔ اب دونوں فریقین ایک مخصوص رقم پر متفق ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق 400 ملین کی ریبیٹ (رعایت) ہے۔
بیٹی پیدا کیوں کی ، بہارہ کہو میں شوہر نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا
خاتون کی لاش ہسپتال منتقل کر دی گئی،ملزم فرار
وفاقی دارالحکومت کے علاقے بھارہ کہو میں مبینہ طور پر شوہر نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا۔ واقعہ کے بعد علاقے میں تشویش پھیل گئی جب کہ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر کارروائی شروع کر دی۔پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ میں جاں بحق ہونے والی خاتون کی لاش ہسپتال منتقل کر دی گئی ہے، ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ کے بعد مبینہ ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔پولیس حکام کی جانب سے واقعہ کے مختلف پہلوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ قتل کی وجوہات اور دیگر حقائق جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
فرار
عمران خان سے آج ملاقات کا دن ،ناموں کی فہرست جیل حکام کے حوالے
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے وکلا کی ملاقات آج ( منگل کو) ہوگی، تحریک انصاف نے چھ رکنی فہرست جیل حکام کے حوالے کر دی۔پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے وکیل اویس یونس چودھری ایڈووکیٹ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے چھ وکلا کی فہرست جیل حکام کو جمع کرا دی ہے۔فہرست میں بیرسٹر گوہر، فیصل ملک، اویس یونس چودھری، نیاز اللہ نیازی، راجہ یاسر اور شمسہ کیانی ایڈووکیٹس کے نام شامل ہیں۔ (آج) منگل کو بانی پی ٹی آئی سے وکلا کی ملاقات متوقع ہے، جس کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے طے شدہ طریقہ کار کے تحت کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کے دیگر افراد کی بھی جیل آمد متوقع ہے۔
الیکشن کمیشن، انتخابی عمل میں اے آئی کا استعمال ، عوام، سیاسی جماعتوں سے تجاویز طلب
پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل میڈیا ، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اے آئی مواد پر واضح لیبل لگائیں گے، میڈیا کو امیدوار یا انتخابی معاملے پر اے آئی تصویر، ویڈیو، آڈیو نشر کرتے وقت اے آئی کا بتانا لازم ہوگا
سیاسی جماعتیں، امیدوار اور حامی اے آئی سے بنا یا تبدیل شدہ انتخابی مواد واضح لیبل کے بغیر شائع نہیں کر سکیں گے، ڈیپ فیک، مصنوعی آواز اور ویڈیو پر اے آئی جنریٹڈ ہونے کا واضح ذکر لازم ہوگا
الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں، میڈیا اور مبصرین کے ضابطہ اخلاق میں اے آئی ترمیم کی تجویز دے دی، انتخابی عمل میں اے آئی کا غلط استعمال روکنے کیلئے عوام اور سیاسی جماعتوں سے تجاویز طلب کر لی گئی
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی عمل میں مصنوعی ذہانت(اے آئی) کا باقاعدہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں، میڈیا اور مبصرین کے ضابطہ اخلاق میں اے آئی ترمیم کی تجویز دے دی، انتخابی عمل میں اے آئی کا غلط استعمال روکنے کیلئے عوام اور سیاسی جماعتوں سے تجاویز طلب کر لی گئی۔سیاسی جماعتوں کو اے آئی سے متعلق مجوزہ ضابطہ اخلاق جاری کر دیا گیا۔مجوزہ ترمیم کے مطابق سیاسی جماعتیں، امیدوار اور حامی اے آئی سے بنا یا تبدیل شدہ انتخابی مواد واضح لیبل کے بغیر شائع نہیں کر سکیں گے، ڈیپ فیک، مصنوعی آواز اور ویڈیو پر اے آئی جنریٹڈ ہونے کا واضح ذکر لازم ہوگا، ووٹرز کو دھوکا دینے والا اے آئی مواد بنانا، شائع کرنا ممنوع ہوگا۔مجوزہ ترمیم میں کہا گیا کہ کسی شخص کی شکل، آواز یا بیان کو جعلی انداز میں بنانا سختی سے ممنوع ہوگا، جج، الیکشن اہلکار اور افواج کے خلاف جعلی ڈیپ فیک مواد پر پابندی ہوگی، مصوعی ذہانت بوٹس اور آٹومیٹڈ اکائونٹس سے جعلی ٹرینڈز اور لائکس بنانے پر پابندی ہوگی، روبو کالز اور وائس کلون میسجز پر شروع میں اے آئی جنریٹڈ کا بتانا لازم ہوگا، تمام اے آئی مواد کا ریکارڈ رکھنا اور الیکشن کمیشن کو فراہم کرنا لازم ہوگا۔الیکشن کمیشن نے میڈیا کے اے آئی استعمال سے متعلق بھی مجوزہ ترامیم جاری کر دیں۔مجوزہ ترمیم کے مطابق تمام پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز اے آئی مواد پر واضح لیبل لگائیں گے، میڈیا کو امیدوار یا انتخابی معاملے پر اے آئی تصویر، ویڈیو، آڈیو نشر کرتے وقت اے آئی کا بتانا لازم ہوگا، جعلی، توہین آمیز اور ہتک آمیز ڈیپ فیک مواد بنانا سختی سے ممنوع ہوگا۔مجوزہ ترمیم میں کہا گیا کہ میڈیا ہائوسز اے آئی کا استعمال صرف کنٹینٹ جنریشن، ترجمہ اور تجزیہ کیلئے کر سکیں گے، پیمرا، ایس ایم پی آر اے اور این سی سی آئی اے اے آئی مواد کی مانیٹرنگ کریں گے، بغیر لیبل والے اے آئی مواد پر کارروائی اور رپورٹ الیکشن کمیشن کو بھجوائی جائے گی۔مجوزہ ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن کی ہدایت پر میڈیا گمراہ کن اے آئی مواد فوری ہٹانے یا درست لیبل لگانے کا پابند ہوگا۔انتخابی مبصرین کے اے آئی استعمال سے متعلق مجوزہ ضابطہ اخلاق بھی جاری کیا گیا ہے۔مجوزہ ترمیم کے مطابق مبصرین اے آئی سے بنے ڈیپ فیک اور مصنوعی مواد پر نظر رکھیں گے، مشکوک اے آئی مواد ملنے پر فوری الیکشن کمیشن کو اطلاع دیں، آگے شیئر نہ کریں، مبصرین اے آئی ٹولز سے اپنی آبزرویشن، تصاویر، ویڈیوز میں رد و بدل نہیں کریں گے۔الیکشن کمیشن نے 2023 میں تیارہ کردہ ضابطہ اخلاق میں ترامیم تجویز کی ہیں، اے آئی کے استعمال سے متعلق مجوزہ ترامیم پر 20 نومبر تک تجاویز مانگی گئی ہیں
Proud Moment when you have a long drive Then your Child Daily Metro Watch called on for a prize . Best reporting
Thanks Naval Chief Admiral Naveed Ashraf honouring for a prize
پی آئی اے کا اہم سنگ میل، پہلی بار بوئنگ 9-787 ڈریم لائنر طیارے اڑنے کیلئے تیار
جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد پہلے طیارے کو پاکستان کے لیے آپریشن کی اجازت دے دی گئی
قومی ایئر لائن 31 اکتوبر کو جدید طیارے کے ذریعے لندن سے اسلام آباد کے لیے پہلی پرواز چلائے گی
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے)نے اپنے فضائی آپریشن میں اہم سنگ میل عبور کرلیا، پہلی بار بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے پاکستان کے فضائی آپریشن کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق پی آئی اے نے نورس اٹلانٹک ایئرلائن سے حاصل کردہ دونوں طیارے برطانیہ اور یورپ کے فضائی آپریشن کے لیے حاصل کیے ہیں،پاکستان آمد سے قبل پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے طیاروں کی ضروری جانچ پڑتال شروع کی، جبکہ پہلے طیارے کی انسپیکشن مکمل کرکے آپریشن کی اجازت دے دی گئی ہے۔پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نادر شفیع ڈار کی سربراہی میں وفد نے اوسلو ایئرپورٹ پر طیارے کا معائنہ کیا۔ جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد پہلے طیارے کو پاکستان کے لیے آپریشن کی اجازت دے دی گئی، جبکہ دوسرے طیارے کا معائنہ پیر کو اوسلو ایئرپورٹ پر کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق دونوں طیاروں کی انسپیکشن مکمل ہونے کے بعد انہیں لندن روانہ کیا جائے گا۔ پی آئی اے 31 اکتوبر کو بوئنگ 787 ڈریم لائنر کے ذریعے لندن سے اسلام آباد کے لیے پرواز پی کے 786 آپریٹ کرے گی، جو یکم نومبر کو مسافروں کو لے کر اسلام آباد پہنچے گی۔بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے میں 358 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے،نئے طیاروں کی شمولیت سے مسافروں کو بہتر اور معیاری سفری سہولتیں فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ذرائع کے مطابق پی آئی اے 31 اکتوبر کو جدید طیارے کے ساتھ اپنے نئے یونیفارم بھی متعارف کرائے گی۔ قومی ایئرلائن نے یہ دونوں طیارے ابتدائی طور پر چھ ماہ کے لیے ویٹ لیز پر حاصل کیے ہیں۔
انتخابی عمل کے دوران اے آئی کا غلط استعمال ضابطہ اخلاق میں ترمیم کا مسودہ جاری
مبصرین مشاہدہ کے دوران ایسے مواد کے حوالے سے چوکس اور الیکشن کمشن کو فوری اطلاع دینگے
شبیہ،آواز یا بیان تخلیق کرنا جو کہ جھوٹا،تضحیک یا ہتک آمیز ہو، کی سختی سے ممانعت ہوگی ذرائع الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل کے دوران مصنوعی ذہانت(اے آئی )کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے سیاسی جماعتوں، میڈیا اور مبصرین کیلئے 2023 میں جاری ضابطہ اخلاق میں ترمیم کا مسودہ جاری کردیا ہے جس میں 12 ترامیم تجاویز کی گئی ہے،جس پر 20 نومبر پر تجاویز مانگی گئی ہیں۔الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق میڈیا کے لئے ضابطہ اخلاق میں 5 ترمیم تجویز کی گئی ہیں جن کے مطابق میڈیا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ یا ترمیم شدہ مواد نشر،اشاعت یا ریلیز کے وقت ظاہر کرنا لازم ہوگا کہ یہ مواد اے آئی سے تیار کردہ ہے،ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت کے رہنما، امیدوار،الیکشن اہلکار، عدلیہ یا مسلح افواج کے ارکان اور دیگر ریاستی عہدیداروں کی مصنوعی شبیہ،آواز یا بیان تخلیق کرنا جو کہ جھوٹا،تضحیک یا ہتک آمیز ہو، کی سختی سے ممانعت ہوگی۔میڈیا ہائوسز انتخابات سے متعلق مواد کی تیاری، ترجمہ، اینکرنگ یا تجزیہ کے لئے مصنوعی ذہانت کے آلات مشروط استعمال کرسکیں گے کہ وہ اپنے سامعین کے سامنے اس کا استعمال ظاہر کریں اور مواد کی صداقت اور درستگی کے خود ذمہ دارہوں گے۔پیمرا، سوشل میڈیا پروٹیکشن ریگولیٹری اتھارٹی اور نیشنل سائبر کرایم انوسٹی گیشن ایجنسی میڈیا کی غیر ظاہر شدہ یا غیر لیبل شدہ اے آئی سے تیار کردہ مواد کی نگرانی کریں گی اور ضابطہ اخلاق کیعدم تعمیل کی صورت میں مناسب کارروائی اور الیکشن کمیشن کو رپورٹ کریں گی۔ترمیمی مسودہ کے مطابق میڈیا ہاوسز اپنے پلیٹ فارم سے گمراہ کن یا غیر ظاہر شدہ مواد ریگولیٹری باڈی یا الیکشن کمیشن کی ہدایت ہر فوری ہٹائیں گے یا اس میں درست طریقے سے دوبارہ لیبل کریں گے۔مبصرین کیلئے ضابطہ اخلاق میں تین ترامیم تجویز کی گئی ہیں،مبصرین مشاہدہ کے دوران ایسے مواد کے حوالے سے چوکس اور الیکشن کمشن کو فوری اطلاع دیں گے۔سیاسی جناعتوں،امیدواروں کے لئے مصنوعی ذہانت سے تیار مواد کے استعمال کے حوالے سے 5 ترامیم تجویز کی گئی ہیں،جن میں مصنوعی ذہانت سے ترمیم شدہ مواد،ڈیپ فیک تصاویر،ویڈیوز،آڈیو کلپس یا مصنوعی مواد تیار تیار،شائع، نشر یا تقسیم نہیں کریں گے جب تک اس پر واضح اے آئی لیبل نہ لگا ہو۔ووٹر کو دھوکہ دینے کی غرض سے اے آئی سے تیار مواد کی ممانعت ہوگی جس کا مقصد کسی کی شبیہ کے الفاظ یا اعمال کو غلط انداز میں پیش کرنا ہو۔ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت کے رہنما، امیدوار،الیکشن اہلکار،عدلیہ یا مسلح افواج کے ارکان اور دیگر ریاستی عہدیداروں کی مصنوعی شبیہہ،آواز یا بیان تخلیق کرنا جو کہ جھوٹا،تضحیک یا ہتک آمیز ہو،کی سختی سے ممانعت ہوگی۔سیاسی جماعتیں اور امیدوار انتخابی عمل کے دوران تیار کردہ تمام اے آئی مواد محفوظ رکھیں گی۔جعلی ٹرینڈز چلانے کے لئے مصنوعی ذہانت پر مبنی بوٹس،خودکار اکائونٹس یا اسی طرح کے دیگر آلات کے استعمال کی ممانعت ہوگی۔روبو کالز یا وائس کلون شدہ پیغامات کے ذریعے ووٹرز تک رسائی کے لئے مصنوعی ذہانت کے استعمال، کال یا پیغام کے اغاز میں واضح لکھا جائے گا کہ یہ اے آئی سے تیار کردہ مواد ہے۔مبصرین کمیشن کو جمع کروائے جانے والے اپنے مشاہدات، حقائق، تصاویر، ویڈیوز یا رپورٹس تیار کرنے،ان کے تبدیل کرنے یا انہیں مزین کرنے کے لئے مصنوعی ذہانت کا استعمال نہیں کرسکیں گے
خیبر پختونخوا کے 56 خرگوش اسلام آباد کے فائیو سٹار ہوٹل میں موجود
انٹرنیٹ پرابلم۔موبایل فون واپس مانگنے پر ان سے بے عزتی بھی کروا بیٹھے
22میں تو کروڑوں دہیے گیے
ہمیں مفت میں صرف کھانے پر ٹرخایا جا رہا ہے
۔کھانا اچھا نا ملنے پر شکوے ۔کمروں میں نیٹ فلیکس کو بحال کیا جاے۔ جیسے مطالبے زور پکڑ نے پر پھر ڈھلائی
پیاز کی خواہش دل۔میں چھتروں پر ہی گزاراں کریں ۔۔۔
محمد صادق کا خاندان غیر معمولی طور پر بڑا ہے۔ ان کی چار بیویوں سے 58 بچے ہیں، جبکہ ان کے ہاں سب سے چھوٹے بچے کی پیدائش چند ہفتے قبل ہوئی ہے۔ اتنے بڑے خاندان کی کفالت کرنا ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
57 سالہ محمد صادق گاڑیوں کے ایک شوروم میں ملازمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی زیادہ تر کوشش بچوں کے لیے روزانہ کھانے پینے کا انتظام کرنے پر مرکوز رہتی ہے، تاہم مالی مشکلات کے باعث خاندان کے چھوٹے بچوں کو بھی سخت حالات کا سامنا ہے۔
محمد صادق کے مطابق، ان کی چاروں بیویوں کی شادیاں کم عمری میں ہوئی تھیں اور نکاح کے وقت ان کی عمریں 13 سے 16 سال کے درمیان تھیں۔
محمد صادق نے بتایا کہ بعض اوقات انہیں اپنے تمام بچوں کے نام بھی یاد نہیں رہتے۔ اسی لیے وہ ہر رات سونے سے پہلے بچوں کی گنتی کرتے ہیں تاکہ اطمینان کر سکیں کہ سب گھر میں موجود ہیں۔
محمد صادق کا کہنا ہے کہ جب چھوٹے بچے ان کے گرد جمع ہوتے ہیں تو گھر شور، ہنسی اور چہل پہل سے بھر جاتا ہے، جس سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گھر میں شادی کی تقریب ہو رہی ہو۔
تاہم اس بڑے خاندان کی زندگی خوشیوں کے ساتھ مشکلات سے بھی بھری ہوئی ہے۔
ٹی وی انٹرویو
;بڑی بڑی پھپھے ُکٹنیاں دیکھی ہیں ، مگر یہ وسیم والے معاملے نے تو مجھے بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا ، وسیم وہ لڑکا ہے جِسے توقیر نے رائل آرچرڈ سوسائٹی میں اپنی گاڑی تلے کچل دیا تھا ، ملزم پکڑا گیا، فل فرائی ہو گیا ، خیر تھوڑا سا پیچھے چلتے ہیں یہ تصویر میں آنسو بہاتی ہوئی عورت وسیم کی والدہ ہے۔
اس نے دوسری شادی کر لی تھی اور نئے شوہر نے جو کہ چچا ہی لگتا تھا ، اپنے بھائی کے کمسن بیٹے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ، اب وسیم کو یتیم خانے میں جمع کروا دیا گیا ، اور بھول گئے کہ ہمارا کوئی بیٹا وسیم بھی تھا ، وسیم نے اپنا بچپن یتیم خانے میں گزارا ماں کی محبت اور باپ کی شفقت کے بغیر ، بہن کے پیار اور بھائیوں کے ہنسی مذاق کے بغیر ، تھوڑا بڑا ہوا تو الیکٹریشن کا کام سیکھنے لگا ، جس نے کچلا وہ وسیم کا ٹھیکدار تھا ، کام کے دوران بے جا سختی نے وسیم کو بد دل کر دیا ، اور کہا جا رہا ہے کہ دوران کام اسے ہراساں بھی کیا جاتا رہا ، جس کی وجہ سے وہ کام چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا اور توقیر ٹھیکدار نے گاڑی لے کر پیچھا کیا اور کچل دیا۔۔!
وسیم زندہ تھا تو کوئی اسے پوچھنے والا نہیں تھا ، جیسے ہی وہ مرا ، کونوں کھدروں سے اس کے رشتے دارنکل اے اور یہ پھہپھے کٹنی ماں بھی
ازدواجی حیثیت اپ ڈیٹ کروانا کیوں ضروری ہے؟ نادرا کا اہم پیغام
میرٹل اسٹیٹس اپ ڈیٹ کروانے کیلیے نادرا دفتر تشریف لائیں یا پاک آئی ڈی موبائل ایپ استعمال کریں
ازدواجی حیثیت اپ ڈیٹ کروانے سے بچوں کے ب فارم اور شناختی کارڈ بنوانے یا پاسپورٹ حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے، نادرا
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ازدواجی حیثیت اپ ڈیٹ کروانا کے حوالے سے اہم پیغام جاری کر دیا۔ نادرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یونین کونسل سے کمپیوٹرائزڈ میرج سرٹیفکیٹ بنوانے کے بعد نادرا میں ازدواجی حیثیت اپ ڈیٹ کروانا لازمی ہے کیونکہ اس کی بدولت نادرا میں خاندان کی تشکیل کا درست ریکارڈ اپ ڈیٹ ہو جاتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ازدواجی حیثیت اپ ڈیٹ کروانے سے بچوں کے ب فارم اور شناختی کارڈ بنوانے یا پاسپورٹ حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے اور ضرورت پڑنے پر آپ فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اور جانشینی سرٹیفکیٹ بنوا سکتے ہیں۔ نادرا نے شہریوں کو ہدایت کی کہ اپنی میرٹل اسٹیٹس اپ ڈیٹ کروانے کیلیے نادرا دفتر تشریف لائیں یا پاک آئی ڈی موبائل ایپ استعمال کریں











