Pinned Tweet
"گمراھی" کی ھزاروں شکلیں ھیں
اوریہ پہلےدن سے
نت نئےروپ اور
ھزاروں طرح کےبھیس بدل کر
زمین پرگھومتی اور پھیلتی رھتی ھے۔
لیکن ھدایت اورسیدھارستہ
صرف ایک ھے
جو قرآن مجید اور حدیث شریف میں لکھ کرھمیں عطاکردیاگیاھے۔
کبھی کبھی ہم خود اُس انسان سے رابطے ختم کر دیتے ہیں جسے ہم کسی اور کے ساتھ تصور بھی نہیں کر سکتے
اُسے کسی اور کے لئے خود چھوڑتے ہیں پتہ ہے کیوں؟؟
کیونکہ مُحبت جتنی بھی شدید ہو اپنی زلالت برداشت نہیں کرتی
کوئی مسلسل بے قدری کرے تو شاید محبت تو رہتی ہے مگر اُسکی چاہت نہیں رہتی
𝐙𝐚𝐫𝐚𝐫 retweeted
🚨Attention🚨
پرموشن کی پہلی لسٹ آگئی ہے جس کا نام ہے اس میں وہ اس کو Repost کر کے done لکھ دے جس کا نام نہیں ہے وہ کمنٹس میں اپنا نام مینشن کرے
@KHAAAN2743
@Sadaf_Awan01
@SIR_ka_dard
@A2_Pak
@PTIPR0M0TI0N
@QaiserButt_pti
@Safikhalil_
@HamZaRajaDMoff1
@N_Kh07
میرے پیارے اللہ !*
بیماریاں طویل نہ کیجیے ، ہمارے دل مرجھانے لگتے ہیں ۔
آزمائشیں طویل نہ کیجیے ،
ہمارے ایمان ڈگمگانے لگتے ہیں ۔
اللہ ہمارے اپنوں کی تکلیف دور کر دیجئے ،ہم سے دیکھا نہیں جاتا ،
میں جانتا ہوں آپ اپنے بندوں سے بہت محبت کرنے والے اور رحم کرنے والے ہیں ،مگر اللہ ایسا
𝐙𝐚𝐫𝐚𝐫 retweeted
پاکستان کے روتے ہوئے مرد کو دلاسے کی ضرورت ہے!
نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کہتے ہیں کہ کچھ عناصر جان بوجھ کر مایوسی پھیلا رہے ہیں لیکن میں نے آج سے پہلے پاکستانی مردوں کے چہروں پر ایسی بے بسی اور پژمردگی کبھی نہیں دیکھی۔ ایسی اکتاہٹ، افسردگی، تفکرات اور بے چارگی ہے کہ فکریں
𝐙𝐚𝐫𝐚𝐫 retweeted
اندر ہی اندر کھاتا جا رہا ہے۔ ریاست جبر کے سامنے آپ خاموش ہیں، کوئی سننے والا نہیں اور احتجاج کرنے والے جیلوں میں پھینک دیے جاتے ہیں۔
پاکستان ایک روایتی معاشرہ ہے، جہاں خاندان کا سارے کا سارا معاشی بوجھ زیادہ تر ایک مرد پرڈال دیا جاتا ہے۔ کہاں اسکول چھوڑتے ہی فکر معاش شروع ہوتی
𝐙𝐚𝐫𝐚𝐫 retweeted
اس مہنگائی اور اس بیروزگاری میں ایک غریب مرد اتنا بے بس ہو گیا ہے کہ اسے کوئی چھوٹا سا سوال کرتا ہے اور وہ نا چاہتے ہوئے بھی رونا شروع کر دیتا ہے۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ بیوی کو کیسے بتائے کہ چیزیں اور اخراجات اس کے بس سے باہر ہوتے جا رہے ہیں، وہ بوڑھے ماں باپ اور چھوٹے
𝐙𝐚𝐫𝐚𝐫 retweeted
بہن بھائیوں کو کیسے سمجھائے کہ وہ سب کا بوجھ تنہا نہیں اٹھا سکتا، وہ اپنے بچوں کو کیسے بتائے کہ میں تمہارے لیے نئے کپڑے، نئے جوتے لینے کی سکت نہیں رکھتا۔
مہنگائی، بیروزگاری یا کم تنخواہوں کی وجہ سے یہ وہ لمحہ ہوتا ہے، جب ایک باپ، بڑا بھائی یا بڑا بیٹا باقی مردوں کی نسبت خود کو
𝐙𝐚𝐫𝐚𝐫 retweeted
ناکام تصور کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جب وہ آگے پیچھے گاڑیوں کی ریل پیل دیکھتا ہے، امرا کے بڑے بڑے شاپنگ بیگز دیکھتا ہے تو خودکو ناکارہ تصور کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے، جب مرد اپنا موازنہ باقی لوگوں سے کرتا ہے اور خود اپنے جسم سے نفرت کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا
𝐙𝐚𝐫𝐚𝐫 retweeted
ہے، جب ایک مرد اپنا دکھ نہ اپنی ماں، نہ باپ، نہ بیوی اور نہ ہی اپنے بچوں سے شیئر کر پاتا ہے۔
ایسے لمحات میں فقط خودکُشیاں باقی بچتی ہیں، لڑائی جھگڑے سروں پر کھڑے رہتے ہیں، تنہائی میں اپنا ہاتھ اور اپنا ہی گریبان ہوتا ہے یا پھر سڑک پر کوئی آپ سے سوال پوچھتا ہے اور آپ جواب دینےکی
𝐙𝐚𝐫𝐚𝐫 retweeted
بجائے آسمان کو تکتے ہیں اور آنسو رکنے کا نام نہیں لیتے۔
یقین کیجیے پاکستان کی اشرافیہ آج بھی اپنے لانز میں پانچ پانچ ٹن کے اے سی لگا کر بیٹھی ہوئی ہے، انہیں بس آپ پر حکمرانی کرنے سے سروکار ہے۔ ان کی طرف سے بس یہی بیان آنا ہے کہ احتجاج میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
عوام اپنے پسینے میں
𝐙𝐚𝐫𝐚𝐫 retweeted
اتنا ڈوب چکے ہیں کہ ان کا سانس لینا محال ہو چکا ہے۔ پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں یہ قول مشہور ہے کہ مرد روتا نہیں ہے لیکن اس ملک کی فوج، سیاستدانوں، جاگیرداروں، سرمایہ کاروں اور اشرافیہ نے مل کر اتنا ظلم کیا ہے کہ اب یہ مرد رو پڑا ہے۔
اس مرد کو حوصلہ دیجیے، اس کا درد بھی
𝐙𝐚𝐫𝐚𝐫 retweeted
سمجھیے، اس کو گلے سے لگائے، ایک دوسرے کے آنسو اپنے دامن میں سمیٹ لیں۔ ایسے مشکل حالات میں گھروں کی کفالت کرنے والے مردوں اور خواتین کی صورت حال کو سمجھیں۔
آپ کے اردگرد ایسی لاکھوں آنکھیں ہوں گی، جو رونا چاہتی ہیں لیکن بزدل نہ بنو اور مرد روتا نہیں ہے، جیسے فقرے ان کے سامنے
𝐙𝐚𝐫𝐚𝐫 retweeted
اژدھے بن کر کھڑے ہیں۔
ایسے طعنے سننے والے مردوں کی پتھرائی ہوئی آنکھوں کو حوصلہ درکار ہے۔ گھر کی خواتین، رشتہ داروں اور دوستوں کی طرف سے ایک تھپکی اور’’بے فکر ہو جاؤ، سب ٹھیک ہو جائے گا، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘، ایسا کوئی ایک چھوٹا سا ایک فقرہ درکار ہے۔ اب کی بار مرد رو پڑا ہے۔






