Pinned Tweet
جب من پسند شخص کا زہریلا پن اور اصلیت سامنے آجاے تو یقین کریں انسان کو ایک عجیب سا اطمینان محسوس هو جاتا ھے اور اللہ کا شکر کرتا ھے کہ وہ خود ھی زندگی سے چلا گیا
خان صاحب کو تو قید تنہائی میں ڈالا ھوا ھے
پھر یہ سب باتیں انکو کون بتا رها تھا؟
بٹ صاحب کچھ خیال کریں آپ جھوٹ کیوں بول رهے ھیں؟
unavailable
سوال یہ ھے کہ یہ عورت کہتی ھے کہ عورت میں جنسی کمزوری نہیں ہوتی
سیکس ایک فطرتی عمل ھے نا مرد رہ سکتا نا ھی عورت
تو یہ عورت بتاۓ کہ پھر یہ جنسی تسکین کیسے پوری کرتی ھوگی اپنی؟
صرف ہمارا خاندانی نظام تباہ کرنے کے لئے ان جیسوں کو بے لگام کیا جا رها ھے
😂😂😂😂😂😂😂😂
اس میں اسلامی ٹچ کیا ہے؟ پاکستان نے ان پر احسان کیا جب ان کے کھوتے عباسی نے کہا کہ ہمیں اسرائیل مار دے گا پاکستان نے ایران سے پاکستان تک ایئرفورس کی نگرانی میں ان کھوتوں کو لائے تھے۔ یہ کھوتے تو سب احسان بھول چکے ہیں۔ پاکستان ہی تھا جس نے نیوکلیئر بمبار برطانیہ سے چلنے کے بعد پہلی دفعہ رولا تھا ورنہ اب تک یہ سارے کھوتے آپنے آیت اللہ خامنہ کھوتے کے پاس ہوتے۔
کیا ایرانی اور پاکستانی اہل تشیع آپ ص کی ازواج کو گالیاں نہیں دیتے؟ کیا ابوبکر، عمر، اور عثمان رض کو گالیاں نہیں دیتے؟
جو اہل تشیع صحابہ اور آپ ص کی گستاخیاں کرتے ہوں وہ کیسے مسلمانوں کے حق میں ہو سکتے ہیں؟
یہ مسلمانوں سے سلطنت فارس کی شکست کا غم نہیں بھول سکے ہیں۔
اہل تشیع
Kings of nostalgia starting 2000s are back in 2026.
Wao excellent song
You have taken us millennials back to memories from 20 years ago. But we will never forget KK, either.
وہی روایتی الزام
مارتا تھا تشدد کرتا تھا اخراجات نہیں اٹھا سکتا تھا
ایسی عورتوں کو شرم آنی چاہیے 28 سال ساتھ رہ کر بھی ایسے گھٹیا الزام اگر لگانے تھے تو لعنت بھیجیں ایسی عورت پر
پچھلے 28 سال سے کون چلا رها تھا پھر؟
پاکستان میں سازش کے تحت خلع والا نظام سے گھر اجارے جا رهے
ادکارہ معمر رانا کی بیوی نے لاہور کی فیملی عدالت سے خلع لے لیا
فیملی کورٹ نے مہناز معمر رانا کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کردی
فیملی کورٹ کے جج زاہد بشیر نے فیصلہ جاری کردیا
ادکارہ معمر رانا شراب پی کر تشدد کرتا اور گالیاں نکالنے مہناز کا موقف
معمر رانا شراب پی کر بیٹیوں کے سامنے گالیاں نکالیں مہناز کا موقف
معمر رانا سے 24 اکتوبر 1998 میں شادی ہوئی مہناز کا موقف
شادی کو 28برس گزر چکے ہیں اور دو بیٹیاں ہیں مہناز کا موقف
بیٹیوں کو مبینہ طور پر ذہنی اذیت اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا، درخواست گزار
معمر رانا نے گھر کے اخراجات برداشت نہیں کیے، درخواست گزار
اہل خانہ نے معمر رانا کے رویے میں بہتری لانے کی متعدد کوششیں کیں تاہم انہوں نے علاج کروانے سے انکار کیا درخواست گزار
معمر رانا کے ساتھ نہیں رہ سکتی خلع کی ڈگری جاری کی جائے استدعا
عدنان حسین کھوکھر 🇵🇰 retweeted
شریعت مطہرہ کے مطابق :
ارشد شریف شہید کو قتل کرنے کیلئے کینیا جانے والا ڈیتھ اسکواڈ ارشد شریف شہید کا قاتل ہے، اس اسکواڈ میں شامل ہر فرد قاتل ہے اور اس کو اس کے جرم کی سزا ملے گی۔
ظل شاہ شہید کی ساری ہڈیاں توڑ کر اسے شہید کرنے والے پولیس اور ایجنسیوں کے اہلکار شہید کے قتل میں نامزد مجرم ہیں اور ان کیلئے کوئی معافی نہیں
ڈی چوک میں جس سنائپر نے انیس ستی کے سر میں گولی مار کر اسے شہید کیا، وہ سنائپر قاتل ہے اور اللہ کے ہاں اس پر فرد جرم عائد ہے
ان میں کسی مجرم کا یہ بہانہ قبول نہیں کیا جائے گا کہ " ہمیں اوپر سے آرڈر تھا "
اوپر سے آرڈر کیا ہوتا ہے ؟؟
اگر کوئی افسر کسی سپاہی سے کہے کہ جاؤ اور اپنی بیٹی کا ریپ کر دو ، تو کیا وہ کرے گا ؟؟
بالکل نہیں
تو پھر قوم کی بیٹیوں کے دوپٹے کھینچتے وقت ان درندوں کو حیا کیوں نہیں آتی ؟؟
اللہ فرماتا ہے :
تمہیں ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے
اور پھر ہم ہی تمہارا حساب لیں گے
( سورہ غاشیہ)
#پاکستان
محسن نقوی خواجہ آصف اور مولانا کی نورا کشتی کو سنجیدہ نا لیا جائے
یہ سب ایک دوسرے کی بونڈ دھوتے رهے ھیں
سموک سکرین کچھ اور ھی ھے
جب ہم جوان هو ره تھے تو ہمارے آئیڈیل پاکستان میں محمد علی جناح علامہ اقبال ڈاکٹر قدیر و تحریک پاکستان کے تمام افراد تھے
پھر سیاست میں سب سے پسندیدہ عمران احمد خان نیازی
مگر آج کل نوجوانوں کے بہن نچانے والے یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز ھیں
ماں دی کُس تواڈے جوان ہویاں دے ھی
کے پی کے میں ایک منظم سازش کے تحت تجاوزات کے خلاف آپریشن کر کے وہاں کی عوام کو الجھایا جا رها اور ڈرایا جا رها ھے
آخر میں بڑی مچھلیوں کو چھوڑ کر جیسے پنجاب میں ہر چیز اپنے قبضہ میں لی ہوئی ھے وہی پیٹرن چلے گا
اب دیکھتے ہیں کہ پختون کوئی مزاحمت کرتے ہیں یا نہیں
عوام کو آگے سے یہی طرز عمل دکھانا ھوگا
تبھی ان لوگوں کے ڈرامے ختم ہونگے
ملک میں غربت بیروز گاری اور مہنگائی نے عوام کا جینا محال کیا ھوا ھے
عدل و انصاف ختم ھے لوگوں کو ماوراۓ عدالت قتل کیا جا رها ھے
مگر اس شیطان نقوی کے ڈرامے ھی ختم نہیں هو رهے
یہ لڑکا چوتیا ھی ھے کوئی
پہلے وہاں اس سے آرام سے مار کھاتا رها پھر پولیس کی موجودگی میں اب آپے سے باہر هو رها ھے
اسکو بھی اس کے ساتھ بند کیا جائے قانون کو ہاتھ میں لینے پر
پٹواری سدھر نہیں سکتا صرف تلف کیا جا سکتا ھے
جہاں پنجاب میں بدترین ظلم هو رها
غریب کو ہر طرح سے تنگ کیا جا رها
مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ھے
جہاں سی سی ڈی ماوراۓ عدالت غریب لوگوں کا قتل کر رهی ھے
وہاں ایسے چند بازار سجانے کو نا تو ترقی کہہ سکتے ہیں نا کوئی کارنامہ
جہاں تک میرا تجربہ ھے توقیر ایسا شخص نہیں تھا کہ وہ بچے کو ہراساں کرتا ھوگا
ہاں کام سکھاتے ہوۓ شاگرد پر تھوڑی سختی هو جاتی ھے یہ کوئی بڑی بات نہیں
بچہ یتیم خانہ میں رها تھا اس لئے ایسا ماحول اسکو گھٹن زدہ لگتا ہوگا اس لئے وہ کام سے فرار ہوتا ہوگا
باقی رهے اللّه کا نام
اسے کہتے ہیں مرا ہوا ہاتھی سوا لاکھ کا !!!
————————————
بڑی بڑی پھپھے ُکٹنیاں دیکھی ہیں ، مگر یہ وسیم والے معاملے نے تو مجھے بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا ، وسیم وہ لڑکا ہے جِسے توقیر نے رائل آرچرڈ سوسائٹی میں اپنی گاڑی تلے کچل دیا تھا ، ملزم پکڑا گیا، فل فرائی ہو گیا ، خیر تھوڑا سا پیچھے چلتے ہیں یہ تصویر میں آنسو بہاتی ہوئی عورت وسیم کی والدہ ہے۔
اس نے دوسری شادی کر لی تھی اور نئے شوہر نے جو کہ چچا ہی لگتا تھا ، اپنے بھائی کے کمسن بیٹے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ، اب وسیم کو یتیم خانے میں جمع کروا دیا گیا ، اور بھول گئے کہ ہمارا کوئی بیٹا وسیم بھی تھا ، وسیم نے اپنا بچپن یتیم خانے میں گزارا ماں کی محبت اور باپ کی شفقت کے بغیر ، بہن کے پیار اور بھائیوں کے ہنسی مذاق کے بغیر ، تھوڑا بڑا ہوا تو الیکٹریشن کا کام سیکھنے لگا ، جس نے کچلا وہ وسیم کا ٹھیکدار تھا ، کام کے دوران بے جا سختی نے وسیم کو بد دل کر دیا ، اور کہا جا رہا ہے کہ دوران کام اسے ہراساں بھی کیا جاتا رہا ، جس کی وجہ سے وہ کام چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا اور توقیر ٹھیکدار نے گاڑی لے کر پیچھا کیا اور کچل دیا۔۔!
وسیم زندہ تھا تو کوئی اسے پوچھنے والا نہیں تھا ، جیسے ہی وہ مرا ، کونوں کھدروں سے اس کے رشتے دار نکل آئے۔ وہ جیسے بارش کے بعد مینڈک نکل آتے ہیں اور لگتے ہیں ٹرٹرانے، یہاں تک کہ بچے کا ننھیال اور نانا بھی صحیح سلامت ہے وہ سب مل کر بھی اپنے گلشن کے پھول کو نہ سنبھال سکے اب یہ عورت دہائیاں دے دے کر ٹسوے بہا رہی ہے اور عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کر رہی ہے، یہ کوشش ہے امدادی رقم حاصل کرنے کے لیے، میرے خیال میں انہیں بالکل بھی رقم نہیں دی جانی چاہیے بلکہ ان رشتہ داروں کو چھتر مارے جانے چاہییں جنہوں نے اسے یتیم خانے میں ڈال دیا اور پھر خبر ہی نہ لی۔۔!
آپ کیا کہتے ہیں ؟
ریحا چوہدری کے قلم سے !!!














