Pinned Tweet
The Pakistan Army is playing PUBG with the Afghans every shot a perfect headshot. 🎯
#Afghanistan #Pakistan
میاں سعید CCPO پشاور کا کہنا ہے کہ نئے سیٹ اپ کی طرف سے خیبر پختون خواہ میں تجاوزات کے مکمل خاتمے اور جرائم کی شرح میں کمی لانے کے لیے سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست
#مضبوط_خیبرپختونخوا
#فضلو_کا_خاندان_چور
Amna Aman retweeted
مزے کی بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے لوگوں کی دکھ درد بیماریاں پریشانیاں حل کرنے والے مزار نے اس کمبخت کو روکا بھی نہیں 😅
Amna Aman retweeted
کیا واقعی 90,000 پاکستانی فوجیوں نے ہتھیار ڈالے تھے؟
1971 کی وہ حقیقت جو ہمیں پوری نہیں بتائی گئی۔
کیسی کیسی غلاظت دشمن نے پھیلائی اور ہمارے نوجوان آنکھیں بند کر کے غلاظت پی لیتے ہیں۔
حقیقت جانیے
Amna Aman retweeted
زلفی بخاری کا دعویٰ: عمران خان قاسم سوری کو حقارت سے “ڈپٹی سور” کہتے تھے، مگر سوری صاحب اسے مزاق سمجھتے تھے۔
خوش آمدید گورنر راج
سوات کی عوام نے خیبر پختونخواہ میں 13 سالہ تبدیلی سرکار کی رخصتی کے جشن میں بھرپور شرکت کر کے گورنر راج کی حمایت کا اعلان کیا۔
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست
#مضبوط_خیبرپختونخوا
#فضلو_کا_خاندان_چور
آخر پی ٹی آئی اور پی ٹی آئی آفیشل اکاؤنٹ دونوں کیا چالیں چل رہے ہیں؟ ایک طرف بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ پارٹی کا ان یوٹیوبرز اور ان کے بیانیوں سے کوئی تعلق نہیں، تو دوسری طرف پی ٹی آئی آفیشل کا اکاؤنٹ انہی یوٹیوبرز کو سپورٹ کر رہا ہے، جبکہ بیرسٹر گوہر سے مکمل لاتعلق دکھائی دیتا ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ پارٹی کون چلا رہا ہے اور پارٹی کا سوشل میڈیا ونگ کون چلا رہا ہے؟ لگتا ہے کہ پی ٹی آئی آفیشل اکاؤنٹ، اس کا سوشل میڈیا ونگ اور یہ سارے یوٹیوبرز آج کل بھارت کے فراہم کردہ راتب پہ چل رہے ہیں۔
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست
#مضبوط_خیبرپختونخوا
#فضلو_کا_خاندان_چور
Amna Aman retweeted
Back in February, Lieutenant General Manoj Kumar, who served as the General Officer Commanding-in-Chief of the Indian Army’s Western Command, warned that Arunachal Pradesh could become India’s next major flashpoint.
Just months later, the spotlight is back on Arunachal Pradesh.
Amna Aman retweeted
جب مجھے 23 سال کی عمر میں پہلی تنخواہ ملی تو میرے والد نے مجھ سے کہا:
”ہر مہینے مجھے 100 بھیج دیا کرنا۔“
میں نے پوچھا: ”ابو، کیوں؟“
انہوں نے جواب دیا: ”تمہاری پرورش کے بدلے۔“
میں ہنس پڑا، لیکن وہ نہیں ہنسے۔
اس دن سے ہر مہینے کی 27 تاریخ کو، جب میری تنخواہ آتی، میں انہیں 100 بھیج دیتا۔ اور رقم بھیجتے وقت ٹرانزیکشن کے ریفرنس میں لکھتا:
”آپ کی پرورش کے بدلے۔“
اور ہر بار ان کا جواب ہوتا:
”وصول ہوگئے۔ اللہ تمہیں رزق عطا فرمائے۔“
وہ کبھی اس کے علاوہ ایک لفظ بھی نہیں کہتے تھے۔
میں نے غیر شادی شدہ ہونے کے زمانے میں بھی پیسے بھیجنا جاری رکھا۔
شادی کے مہینے میں بھی بھیجے، حالانکہ میرے سر پر قرضوں کا بوجھ تھا۔
میرے بیٹے کی پیدائش کے مہینے میں بھی بھیجے، جب میرے اکاؤنٹ میں صرف 140 باقی بچے تھے۔
میری بیوی پوچھتی: ”آپ کے والد ریٹائر ہو چکے ہیں اور ان کا اپنا گھر بھی ہے، انہیں ان 100 کی کیا ضرورت ہے؟“
میرے دوست مذاق اڑاتے ہوئے کہتے: ”کیا تمہارے والد نے تم پر کوئی ٹیکس لگا رکھا ہے؟“
میں بس اتنا کہتا: ”میرے والد ایسے ہی ہیں، ان کے اپنے ہی کچھ طریقے ہیں۔“
ایک مرتبہ مجھ سے رقم بھیجنے میں ایک دن کی تاخیر ہوگئی۔
صبح سات بجے والد کا فون آیا اور انہوں نے پوچھا:
”سب خیریت تو ہے؟“
میں نے پیسے بھیج دیے اور دل ہی دل میں ہنستے ہوئے سوچا: ”واقعی، پیسوں کے معاملے میں تو بہت پابند ہیں۔“
یہ سلسلہ پورے 12 سال جاری رہا۔
تین ماہ پہلے کمپنی نے مجھے ملازمت سے فارغ کر دیا۔
میں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا، یہاں تک کہ اپنی بیوی کو بھی نہیں۔
ہر روز صبح سات بجے میں اپنا ثوب پہنتا، گھر سے نکلتا اور ایک کافی شاپ کے قریب اپنی گاڑی میں بیٹھا رہتا۔ دوپہر تک وہیں گزارتا، پھر گھر واپس آ جاتا، جیسے دفتر سے لوٹ رہا ہوں۔
پھر 27 تاریخ آ گئی، لیکن اس بار تنخواہ نہیں آئی۔
12 سال میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ میں نے اپنے والد کو پیسے نہیں بھیجے۔
رات کے کھانے کے بعد میرا فون بجا۔
والد تھے۔
انہوں نے کہا:
”پیسے نہیں آئے۔“
میں نے جواب دیا:
”ابو، بھول گیا تھا۔ ان شاء اللہ، کل بھیج دوں گا۔“
وہ کچھ لمحوں کے لیے خاموش رہے، پھر بولے:
”ابھی میرے پاس آؤ، اکیلے۔“
میں ان کے مجلس میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہیں اور ان کے سامنے ایک پرانی نوٹ بک اور ایک لفافہ رکھا ہے۔
انہوں نے نوٹ بک میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا:
”اسے کھولو۔“
نوٹ بک کے ہر صفحے پر ایک تاریخ، رقم ”100“ اور میرا نام درج تھا۔
ہر اندراج کے ساتھ یہ بھی لکھا تھا کہ وہ رقم کہاں خرچ کی گئی:
”واٹر کولر۔“
”ایک یتیم بچے کی کفالت۔“
”رمضان کا راشن پیکج۔“
”مزدوروں کے لیے پانی کا انتظام۔“
کل 144 اندراجات تھے۔
انہوں نے کہا:
”تمہاری بھیجی ہوئی رقم کا ایک ریال بھی کبھی میری اپنی جیب میں نہیں گیا۔“
پھر انہوں نے اپنا فون مجھے دیا۔ اس میں مسجد کے باہر لگے ایک واٹر کولر کی تصویر تھی۔ اس پر لگی ایک چھوٹی سی تختی پر لکھا تھا:
”میرے بیٹے کی طرف سے صدقہ، اللہ اسے سلامت رکھے۔“
میں نے اسے فوراً پہچان لیا۔
یہ وہی واٹر کولر تھا جو میری جائے ملازمت کے قریب مسجد کے باہر لگا ہوا تھا۔ وہی جس سے میں ہر روز دوپہر کو پانی پیا کرتا تھا۔
برسوں سے میں اپنے والد کے دیے ہوئے صدقے کا پانی پی رہا تھا، اور مجھے اس بات کا ذرا بھی علم نہیں تھا۔
پھر انہوں نے لفافہ میری طرف بڑھایا اور کہا:
”اور یہ میری طرف سے ہے۔“
میں نے لفافہ کھولا تو اس میں 72,000 کی رقم تھی۔
انہوں نے بتایا:
”جب سے تمہیں پہلی تنخواہ ملی تھی، میں ہر مہینے 500 روپے الگ رکھتا رہا ہوں۔“
”مجھے معلوم تھا کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب تمہاری طرف سے پیسے نہیں آئیں گے، اور اس دن تمہیں میری ضرورت ہوگی۔“
میں نے پوچھا:
”ابو، آپ کو کیسے معلوم تھا؟“
انہوں نے جواب دیا:
”12 سال تک تم نے کبھی رقم بھیجنے میں ناغہ نہیں کیا، سوائے آج کے۔ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔“
میرے پاس کہنے کے لیے کوئی لفظ نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا:
”مجھے کبھی ان 100 کی ضرورت تھی ہی نہیں۔“
”میں تو بس ہر مہینے یہ جاننا چاہتا تھا کہ تم خیریت سے ہو۔ میں تم سے پوچھے بغیر یہ جاننا چاہتا تھا کہ تم ٹھیک ہو یا نہیں۔ بس تم خود مجھے یہ کہہ دیا کرو کہ ’میں ٹھیک ہوں‘، چاہے حقیقت میں تم ٹھیک نہ بھی ہو۔“
دو ماہ بعد مجھے ایک نئی ملازمت مل گئی۔
27 تاریخ کو، جب مجھے پہلی تنخواہ ملی، تو میں نے والد کو 100 بھیجے اور ساتھ لکھا:
”آپ کی پرورش کے بدلے۔“
ان کا جواب آیا:
”وصول ہوگئے۔ اللہ تمہیں بے حساب رزق عطا فرمائے۔“
ایک منٹ بعد، ان کی طرف سے پہلی بار دوسرا پیغام بھی آیا:
”اور آئندہ مجھ سے کوئی بات مت چھپانا۔“
یہ کہانی اپنے اندر ایک سبق رکھتی ہے، لیکن بہت کم لوگ اس کی گہرائی کو سمجھ پائیں گے۔۔۔!!
Amna Aman retweeted
سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ)عبدالوحید وحید کاکڑ آج صبح راولپنڈی میں خالقِ حقیقی سے جاملے
اخے سارے باہر چلے جاتے ہیں
اخے پنجابی فوج
مخے حقیقت 👇
پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی ضرورت صرف آبادی یا لسانی شناخت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ معاشی ترقی اور قومی سلامتی سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ سرحدی علاقوں کو صرف سیکیورٹی کے نقطۂ نظر سے دیکھنے کے بجائے وہاں قانونی تجارت، صنعت، سیاحت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔ جب مقامی لوگوں کو اپنے ہی علاقے میں روزگار ملے گا اور کاروبار کے راستے کھلیں گے تو معاشی محرومی کم کرنے میں مدد ملے گی۔
دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ ہر علاقے کے وسائل وہیں کی خوشحالی کا ذریعہ بنیں۔ جہاں زراعت ہے وہاں فوڈ پروسیسنگ اور کولڈ اسٹوریج بنیں۔ جہاں معدنیات ہیں وہاں مقامی سطح پر صنعتیں قائم ہوں اور جہاں سیاحت کی گنجائش ہے وہاں سرمایہ کاری اور سہولتیں فراہم کی جائیں۔ اس طرح چند بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بھی کم ہوگا اور لوگوں کو روزگار کے لیے اپنا علاقہ چھوڑنے پر مجبور نہیں ہونا پڑے گا۔ نئے انتظامی یونٹس مقامی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی اور فیصلوں کو تیز کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے دور دراز دارالحکومتوں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ انتظامیہ قریب ہوگی تو شہریوں کا وقت اور پیسہ بچے گا اور حکام سے جواب طلب کرنا بھی آسان ہوگا۔ لیکن صرف نئے صوبے بنا دینا کافی نہیں ہوگا۔ بجٹ کی شفاف تقسیم اور مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات دینا بھی ضروری ہے۔ پاکستان کو ایسا انتظامی نظام چاہیے جہاں وسائل چند شہروں تک محدود نہ رہیں بلکہ ہر علاقے کی پیداوار وہاں کے لوگوں کی خوشحالی بنے اور ہر خطہ قومی معیشت اور سلامتی کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست
#مضبوط_خیبرپختونخوا
#فضلو_کا_خاندان_چور
Amna Aman retweeted
فضلو ڈیزل کے چور اعظم سوتیلے بھائی ضیا الرحمان نے چن چن کر مدرسوں کے وہ بچے جن سے یہ لوطی شہوت پوری کرتے رہے اپنے سوشل میڈیا میں رکھے ہوئے ہیں۔
جن کی لاتیں ساری زندگی ہوا میں رہیں وہ مائی فٹ مائی فٹ والی پوسٹیں کرتے نہیں تھکتے۔
اب صرف کمنٹ میں گالیاں دیکھنا پتہ چل جائے گا کہ حرام خور فضلو ڈیزل کے مدرسوں میں دینی تعلیم نہیں بلکہ شیطانیات اور شہوانیت کی ڈگریاں بٹتی ہیں
گالیوں والو مائی ۔۔۔۔
Amna Aman retweeted
حامد میر اور میر شکیل الرحمان کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرنے کی اطلاعات !
ذرائع کے مطابق حامد میر کے پروگرام کیپٹل ٹاک کی ریٹنگ اور اشتہارات سے آمدن میں کمی جیو نیوز کے لیے مالی بوجھ بنتی جا رہی ہے
حامد میر کی جانب سے یوٹیوب وی لاگز کے ذریعے براہِ راست اشتہارات حاصل کرنے پر بھی انتظامیہ کے تحفظات بڑھنے کی اطلاعات ہیں
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ میر شکیل الرحمان حامد میر کو آف ایئر کرنے پر غور کر رہے ہیں
دوسری جانب حامد میر کے حالیہ کالمز اور بیانات میں بڑھتی تلخی کو بعض حلقے یوٹیوب پر اپنی الگ شناخت بنانے کی حکمتِ عملی قرار دے رہیں ہے
وجہ واضح ہے یوٹیوب اب آمدن کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے
جہاں شہباز گل اور عمران ریاض خان جیسے ناموں کو اوورسیز پاکستانیوں کی بڑی آڈینس میسر ہے
اطلاعات کے مطابق حامد میر بھی یوٹیوب سے حاصل ہونے والی بھاری آمدن اور اوورسیز پاکستانیوں کی بڑی آڈینس تک رسائی کے لیے اپنی الگ جگہ بنانے کی کوشش کر رہیں ہے،،
وزیرِ تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے فضل الرحمٰن کے بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ
تین سال پہلے افواجِ پاکستان آپ کی فیورٹ تھیں، کیونکہ آپ کو حکومت میں بڑا حصہ ملا تھا۔ صوبے کا گورنر آپ کا سمدھی تھا اور بیٹا آپ کا وزیر تھا۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں، ٹانک میں اور خیبر پختونخواہ کے جن علاقوں میں بدامنی ہے وہاں اج بھی فورسز ہی دہشت گردوں سے لڑ رہی ہیں۔ آپ تو اسلام آباد میں اپنے گھروں میں آ کر محفوظ بیٹھ جاتے ہیں پیچھے آپ کے ووٹرز لاوارث دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اور ان کی حفاظت یہ فورسز اپنی جانیں دے کرتی ہیں
آج جب حکومت میں آپ کے پاس وزارتیں نہیں ہیں تو آپ پاکستان کے ساتھ دشمنی کرنے پر اتر آئے ہیں؟
پاکستانی سیاست کی رنگینیوں بھری داستان، مائی فیوڈل لارڈ کے رنگیلے ہیرو مصطفیٰ کھر کا عیاش خون جنت کھر کی صورت میں پھر سے ابال کھا رہا ہے۔
مصطفیٰ کھر کی پوتی جنت کھر، جو راجہ فاروق حیدر کی نواسی بھی ہے، آج کل اپنے نانا کے لیے آزاد کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ کا تخت ہتھیانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔
جنت کھر کے والد بلال کھر نے اپنی پہلی بیوی فاخرہ یونس کے چہرے پر نیند کی حالت میں تیزاب پھینکا تھا۔ فاخرہ یونس علاج کے لیے اٹلی گئیں، جہاں ان کی 39 سرجریاں ہوئیں، لیکن ان کا اصل چہرہ بحال نہ ہو سکا۔ دوسری جانب، بلال کھر پاکستان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارتا رہا۔
اپنے مجرم کو عیاشیاں کرتے دیکھتے ہوۓ فاخرہ یونس نے بے بسی میں اپنی جان لے لی۔ لیکن بلال کھر پر اس سانحے کا کوئی اثر دکھائی نہ دیا۔ بلکہ 2014ء میں ایک معمولی تنازع پر اس نے کوٹ ادو میں شہد کی مکھیوں کے کاروبار سے وابستہ ایک غریب شخص امجد لڈھانی کو قتل کر دیا۔ آج تک اس کے اہلِ خانہ انصاف کے لیے دربدر بھٹک رہے ہیں۔
دو جانیں لینے باوجود بلال کھر اپنے والد مصطفیٰ کھر کے گھر میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے اور اپنے سسر راجہ فاروق حیدر کے ہاں بھی آزادانہ آتا جاتا ہے۔ نہ اس کے والد کو اور نہ ہی اس کے سسر کو یہ توفیق ہوئی کہ غریب خاندان کو انصاف دلانے کے لیے بلال کھر کو قانون کے حوالے کرنے کی کوشش کرتے۔ البتہ دوسروں کو آئین اور قانون کے بھاشن دینے میں یہ لوگ پیش پیش رہتے ہیں۔
یہی حال بلال کھر کی بیٹی جنت کھر کا ہے، جو اپنے رشتے کی پھوپھی حنا ربانی کھر کی طرح اقتدار کی لائم لائٹ میں آنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ اپنے نانا اور دادا کی طرح اقتدار کے مزے لوٹنے کے لیے اس نے آج کل سوشل میڈیا پر مہم چلا رکھی ہے، تاکہ عالمی طاقتوں کی نظرِ کرم اس پر بھی پڑے اور اسے اقتدار کی راہداریوں تک رسائی مل سکے۔
اگر ہماری عدالتیں انصاف کی خرید و فروخت کے بجائے حقیقی معنوں میں انصاف فراہم کرنے پر توجہ دیتیں تو شاید آج بلال کھر جیل میں ہوتا، امجد لڈھانی کے اہلِ خانہ کو انصاف مل چکا ہوتا اور جنت کھر میں موجود بلال کھر کے خون کا زہر بھی کسی حد تک کم ہو چکا ہوتا۔
#kpss
یوتھیے اگر 2018 والے ڈاٸیلاگز پھر سے سنیں تو آج شاید خود اپنے ہی بیانیے کے سامنے شرمندہ ہو جائیں۔
دوسروں کی اولاد لندن میں ہو تو عیاشی، اپنی پسند کے رہنما کی اولاد ہو تو مجبوری۔ یوتھیو،اصول بدلے ہیں یا صرف کردار؟ 🤔
رانگ نمبر 804
بند مطلب بند کا نعرہ لگا کر آزاد کشمیر کے عوام کی زندگی اجیرن بنانے والوں کو بالآخر شکست کا سامنا
الحمدللہ راولاکوٹ پر چھائے کن کٹرا کمیٹی کے کالے بادل اب چھٹنے لگے ہیں۔ تقریباً پانچ ماہ بعد راولاکوٹ سے راولپنڈی اور مظفرآباد کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ سروس بحال ہو گئی۔ عوام کو یرغمال بنا کر اپنے مطالبات منوانے کی سیاست کا انجام یہی ہوتا ہے۔
زندگی بہتا پانی ہے جس کے آگے کوئی بھی فسادی انتشاری زیادہ دیر بند نہیں باندھ سکتا



















