A USEFUL ADVICE FOR SENIOR CITZENS
---
*ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے افراد کیلئے ایک بڑا مفید مشورہ - ضرور سنیں*
کیا آپ جانتے ہیں کہ ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں روزانہ تقریباً دس گولیاں کھانا عام بات ہو گئی ہے؟
میرے والد کو ہی دیکھ لیں۔
ان کے دل کے ڈاکٹر نے انہیں چار گولیاں دی ہوئی ہیں،
ان کے شوگر کے ڈاکٹر نے انہیں انسولین اور دوائیاں دی ہوئی ہیں،
اور پیٹ اور ہڈیوں کے ڈاکٹروں نے اپنی الگ دوائیاں دی ہوئی ہیں۔
ان سب کو جمع کریں تو وہ روزانہ تقریباً بیس گولیاں کھا رہے ہیں۔
لیکن بات یہ ہے کہ یہ ایسا نہیں ہے کہ یہ ایک دن میں ہوا ہو۔
یہ سالوں میں آہستہ آہستہ ہوا ہے۔ ہر بار جب وہ کسی ڈاکٹر کے پاس گئے، ایک نئی دوا لکھ دی گئی۔
اور عام طور پر میں نے دیکھا ہے کہ ایک ڈاکٹر دوسرے ڈاکٹر سے بات نہیں کرتا۔ اس لیے دوائیاں جمع ہوتی جاتی ہیں۔
اس حالت کو جب ایک بوڑھا شخص کئی سالوں تک بہت ساری دوائیاں کھاتا ہے، تو اسے *پولی فارمیسی (Polypharmacy)* کہتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ کئی بار یہ دوائیاں ایک دوسرے کے ساتھ ری ایکٹ کرتی ہیں۔
ایک دوا دوسری دوا کے اثر کو ختم کر دیتی ہے۔
یا اس کا سائیڈ ایفیکٹ جسم پر آ جاتا ہے، جسے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بڑھاپے کی وجہ سے ہو رہا ہے، لیکن وہ دراصل دوا کی وجہ سے ہوتا ہے۔
تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟
سال میں ایک بار آپ کو چاہیے کہ آپ ساری دوائیوں کی لسٹ لے کر کسی ایک اچھے فزیشن کے پاس جائیں، بہتر ہو اگر وہ جیریاٹریشن (بوڑھے افراد کا ماہر ڈاکٹر) ہو۔
وہ آپ کی دوائیوں کی پوری لسٹ دیکھ کر اندازہ لگائے گا کہ:
کیا ہم کچھ دوائیاں بند کر سکتے ہیں؟
کیا ہم دوائیوں کی تعداد کم کر سکتے ہیں؟
کیا دوا نہ دینا، ایک نئی دوا دینے سے بہتر آپشن ہے؟
طب میں اس شعبے کو *ڈی-پریسکرائبنگ (De-prescribing)* کہتے ہیں۔ اور یہ بوڑھے مریض کی مجموعی دیکھ بھال کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا دوا لکھنا۔
کسی نے جان بوجھ کر اتنی ساری دوائیاں نہیں لکھیں۔ یہ ایک ایک کر کے جمع ہوتی گئیں۔ لیکن سال میں ایک بار، کم از کم ایک بار، ساری دوائیوں کا جائزہ ضرور لینا چاہیے اور اس کا جائزہ لینا چاہیے۔
*- ڈاکٹر سنجے اروڑہ*
*چائنہ میں چھتر مارنے والی مشین ۔ وقت کی بچت ۔ ویڈیو دیکھ کر غریب عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اس سے وقت کی بچت ہوگی ۔*😂😃
عسکری حکمت عملی میں 1 ہنگامی تبدیلی:
عقرباء کے میدان میں پہلے ہولناک تصادم کے بعد اسلامی لشکر میں شدید انتشار پھیل چکا تھا۔ مسیلمہ کذاب کے 40000 جنگجوؤں کے سیلاب نے مدینہ کے لشکر کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔ اسی نازک ترین لمحے میں سپہ سالار خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے 1 انتہائی کٹھن لیکن تزویراتی فیصلہ کیا۔ انہوں نے تمام قبائل کو 1 دوسرے سے الگ ہونے کا حکم دیا تاکہ ہر قبیلہ اپنے پرچم تلے لڑے اور یہ واضح ہو سکے کہ دشمن کس سمت سے دراندازی کر رہا ہے۔ اس 1 فیصلے نے قبائلی غیرت اور مسابقت کے جذبے کو 1 نئی آگ دے دی۔ بکھرا ہوا لشکر دوبارہ منظم ہوا اور مجاہدین نے موت کی بیعت کر کے تلواروں کی مٹھیاں مضبوطی سے تھام لیں۔ اب یہ محض 1 روایتی جنگ نہیں تھی، بلکہ ریاستِ مدینہ کی بقا کی 1 فیصلہ کن جدوجہد تھی۔
دوبارہ صف بندی کے بعد مہاجرین اور انصار نے 1 ایسا جوابی دھاوا بولا جس نے بنو حنیفہ کے اعصاب ہلا کر رکھ دیے۔ انصار کے علمبردار ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ شہید نے اپنے لیے 1 گڑھا کھودا اور اس میں کھڑے ہو گئے تاکہ پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ ہی نہ بچے۔ مہاجرین کے علمبردار سالم مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ شہید نے پرچم تھامے ہوئے دادِ شجاعت دی یہاں تک کہ وہ شدید زخمی ہو کر شہید ہو گئے۔ زید بن خطاب رضی اللہ عنہ شہید نے مسیلمہ کے سب سے خطرناک کمانڈر نہار الرجال کو 1 طویل دست بدست لڑائی کے بعد واصل جہنم کیا، جو خود بھی پہلے مسلمان تھا مگر مرتد ہو کر مسیلمہ کا دست راست بن چکا تھا۔ اس 1 کامیابی نے بنو حنیفہ کی صفوں میں 1 گہری نفسیاتی دراڑ ڈال دی۔
اسلامی لشکر کے اس بے جگری اور مسلسل دباؤ کے سامنے بنو حنیفہ کا 40000 کا دیوہیکل لشکر بالآخر ٹوٹنے لگا۔ مسیلمہ کذاب کو جب اپنی شکست واضح نظر آنے لگی تو اس نے اپنے جنگجوؤں کو 1 وسیع اور اونچی دیواروں والے باغ کی طرف پسپا ہونے کا حکم دیا، جسے 'حدیقۃ الرحمٰن' کہا جاتا تھا۔ حریف فوج تیزی سے اس باغ میں داخل ہوئی اور اندر سے لوہے کے بھاری دروازے بند کر لیے۔ یہ باغ 1 ناقابل تسخیر قلعہ بن چکا تھا جہاں سے بنو حنیفہ کے تیر اندازوں نے باہر موجود اسلامی لشکر پر تیروں کی بارش شروع کر دی۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بخوبی اندازہ تھا کہ اگر اس محاصرے نے طول پکڑا تو دشمن دوبارہ منظم ہو سکتا ہے، اس لیے اس لوہے کے دروازے کو فوری کھولنا ناگزیر تھا۔
اس اعصاب شکن محاصرے کے دوران 1 ایسا واقعہ پیش آیا جو عرب کی عسکری تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔ براء بن مالک رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہوں نے مجاہدین کو 1 حیران کن پیشکش کی کہ انہیں 1 ڈھال پر بٹھا کر نیزوں کی مدد سے باغ کی اونچی دیوار کے اوپر سے اندر پھینک دیا جائے۔ یہ 1 یقینی موت کی طرف چھلانگ تھی کیونکہ اندر ہزاروں بپھرے ہوئے دشمن موجود تھے۔ ساتھیوں نے ہچکچاہٹ کے بعد انہیں دیوار کے پار پھینک دیا۔ براء رضی اللہ عنہ سیدھے دشمن کے ہجوم میں گرے اور انہوں نے تن تنہا تلوار چلاتے ہوئے دروازے کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ ان کے جسم پر 80 سے زائد تلواروں اور تیروں کے زخم آئے، لیکن انہوں نے اپنی جان پر کھیل کر باغ کا بھاری دروازہ اندر سے کھولنے میں کامیابی حاصل کر لی۔
دروازہ کھلتے ہی اسلامی لشکر 1 بپھرے ہوئے طوفان کی طرح باغ کے اندر داخل ہو گیا۔ یہ کھلے میدان کی جنگ نہیں تھی بلکہ 1 محدود جگہ پر ہونے والا ہولناک دست بدست تصادم تھا، اسی لیے تاریخ میں اس باغ کا نام 'حدیقۃ الموت' (باغِ موت) پڑ گیا۔ خون اس قدر بہا کہ باغ کی مٹی کیچڑ بن گئی۔ اس گھمسان میں ابو دجانہ رضی اللہ عنہ شہید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا سرخ رومال باندھ کر بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ دروازہ ٹوٹنے کے وقت اور اندر داخل ہونے کی کشمکش میں انہوں نے اپنے جسم کو ڈھال بنا کر کئی ساتھیوں کو بچایا اور زخموں سے چور ہو کر 1 عظیم مجاہد کی طرح جامِ شہادت نوش کیا۔
باغ کے اندر لاشوں کے ڈھیر لگتے جا رہے تھے۔ اسی دوران وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ کی نظر مسیلمہ کذاب پر پڑی جو 1 دیوار کے قریب کھڑا اپنے لوگوں کو لڑنے پر اکسا رہا تھا۔ وحشی رضی اللہ عنہ نے اپنا وہی مشہور نیزہ پوری طاقت سے پھینکا جو مسیلمہ کے جسم کے پار ہو گیا۔ عین اسی لمحے 1 انصاری صحابی نے آگے بڑھ کر اپنی تلوار سے اس کے سر پر وار کیا۔ مسیلمہ کے گرتے ہی بنو حنیفہ کا جنگی جنون اور جھوٹی عقیدت دونوں دم توڑ گئے۔ باغ کے اندر موجود ہزاروں جنگجو مارے گئے۔ اس پوری جنگ میں دشمن کے تقریباً 21000 افراد ہلاک ہوئے جبکہ اسلامی لشکر کے 1200 مجاہدین نے جام شہادت نوش کیا، جن میں 70 سے زائد جلیل القدر حفاظ قرآن بھی شامل تھے۔ یہ اسلامی تاریخ کی سب سے فیصلہ کن فتح تھی جس نے فتنہ ارتداد کی کمر ہمیشہ کے لیے توڑ دی۔
"
*ہمیشہ اُن محفلوں سے دور رہو۔۔۔*
*جہاں عزت کردار سے نہیں۔۔۔*
*بلکہ چاپلوسی سے بانٹی جاتی ہو۔۔۔!!!*
۔ . *🌻☕*_"
🥳🚗🥳🚗🥳🚗🥳🚗🥳
*شیخ صاحب نے کار خریدی، ڈھنگ سے چلانی نہیں آتی تھی مگر ڈرائیونگ اسکول کے پیسے بچانے کے لئیے خود ہی کار لے کر نکل کھڑے ہوئے، دو دن میں کار جگہ جگہ سے ٹکریں کھا کھا کر پچک گئی، کسی نے کہا یہ ڈینٹ شینٹ نکلوا لیں کسی ڈینٹر سے۔*
*شیخ صاحب محلے کے ڈینٹر کے پاس گئے، ڈینٹر ان کی کنجوسی سے اچھی طرح واقف تھا کہ یہ کام کرا کر پیسے دینے کے چور ہیں۔*
*شیخ صاحب نے کار دکھائی، ڈینٹر بولا شیخ صاحب معمولی ڈینٹ ہیں پھونکیں مار کر یہ ڈینٹ خود ہی نکال لو۔ اور پھر سائلنسر دکھا دیا کہ یہاں سے پھونکیں مارنا۔*
*شیخ صاحب خوش خوش گھر آ گئے۔ کار کھڑی کرکے سائلنسر میں منہ لگا کر پھونکیں مارنا شروع کر دیں۔*
*پھونکیں مار مار کے بوتھا لال اور پسینے پسینے ہو گئے۔ مگر جہاں سے گاڑی پچکی تھی ذرا برابر فرق نہیں پڑا۔ تھک ہار کر سانس لینے کے لئیے رکے اور گھوم کو چاروں طرف سے گاڑی کو دیکھنا شروع کیا۔*
*پڑوسی جو سارا ماجرا دیکھ رہا تھا، قریب آیا اور پوچھا کہ کیا ہوا شیخ صاحب؟*
*تو شیخ نے ساری رام کہانی سنا دی۔ پڑوسی پیٹ پکڑے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا۔*
*شیخ صاحب نے پوچھا کیا ہوا کیوں ہنس رہے ہو ؟*
*پڑوسی:*
*شیخ صاحب تسی بھی بڑے سادے بندے او۔ گڈی دی کھڑکیاں تو کھلی ہوئی ہیں۔ ہوا تو سب نکل جاتی ہوگی یہ تو بند کر لیتے۔*
*`ملک پاکستان کو بھی ایک ڈینٹر، ایک شیخ اور ایک پڑوسی مل گیا ہے۔`*
_*انڈسٹری بند ہے، ایکسپورٹ ٹھپ پڑی ہیں، زرمبادلہ آ نہیں رہا۔معیشت ٹھیک کرنے کا کوئی ٹھوس پلان نہیں ہے۔*_
_*مہنگائی اور بلوں نے عوام کا بھرکس نکال دیا ہے مگر وزیر خزانہ ملکی خوشحالی کی نویدیں سنائے جا رہا ہے۔*_
Muhammad Arif retweeted
بااثر لوگوں کو نوازنے کی روایت برقرار ، بدترین تشدد کرنے والا چند گھنٹوں میں جیل سے باہر ،
اور لوگ سرِ عام تشدد کرنے سے کیسے ڈریں گے؟ حد ھے
ذرا تصور کریں، ایک ایسا شخص جو آپ کا ڈاکٹر بھی ہے، آپ کا دوست بھی ہے، اور شہر کی سب سے مشہور شخصیت بھی ہے — اور وہی شخص آپ کے ہی شہر میں مسلسل لوگوں کو قتل کر رہا ہو!
یہ کہانی ہے انگلینڈ کے چھوٹے سے قصبے ہائیڈ کی، جہاں تقریباً 30 ہزار لوگ رہتے تھے۔ وہاں ایک ڈاکٹر تھا، ڈاکٹر ہیرالڈ شپ مین۔
ڈاکٹر شپ مین زیادہ تر بوڑھی، اکیلی رہنے والی عورتوں کو نشانہ بناتا تھا۔ وہ ان کے گھروں میں خود جاتا، گھنٹوں ان کی باتیں سنتا، ان کا دل ہلکا کرتا۔ لوگوں کو لگتا تھا یہ تو فرشتہ ہے! یہاں تک کہ کچھ مریضوں نے اپنے گھر کی چابیاں بھی اسے دے رکھی تھیں۔
لیکن اس ہمدردی کے پیچھے ایک خوفناک منصوبہ تھا۔ وہ معلومات لیتا تھا — کون کب اکیلا ہوتا ہے، کس کے پاس کتنی جائیداد ہے، رشتہ دار کہاں رہتے ہیں۔ اور جب اسے تسلی ہو جاتی، تو وہ دوا کی نہیں، موت کی خوراک دیتا تھا — Diamorphine کا جان لیوا ٹیکہ!
چونکہ مرنے والی 80 سال سے اوپر کی ہوتی تھیں، کسی کو شک نہیں ہوتا تھا۔ اور سب سے بڑا کھیل یہ تھا — وہ خود ہی Form B پر موت کی وجہ "بڑھاپا" لکھ کر دستخط کر دیتا تھا، اور دوسرا ڈاکٹر بغیر سوچے Form C پر دستخط کر دیتا تھا۔ پھر وہ لاش جلانے کی سفارش کر دیتا تھا، تاکہ ثبوت ہی ختم ہو جائے!
اسی طریقے سے وہ 23 سال تک قتل کرتا رہا!
پہلی بار 1998 میں ڈاکٹر لنڈا رینالڈز کو شک ہوا۔ اس نے دیکھا کہ شپ مین کے چھوٹے سے کلینک میں 3 مہینے میں 16 اموات ہوئیں، جبکہ سامنے والے بڑے کلینک میں، جہاں 3 گنا زیادہ مریض تھے، صرف 14 اموات ہوئیں! اور سب کی لاشیں جلائی گئی تھیں!
اس نے رپورٹ کی، پولیس آئی، لیکن ثبوت نہ ملنے پر کیس بند کر دیا گیا۔ اس کے بعد بھی اس نے 3 قتل اور کیے!
پھر اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی۔
24 جون 1998، اس کی آخری شکار تھیں، 81 سالہ سابق میئر کیتھلین گرونڈی۔ انہیں بھی اس نے مار دیا اور پھر ان کی جعلی وصیت بنا دی کہ "میرا گھر ڈاکٹر شپ مین کے نام کر دیا جائے"۔
لیکن کیتھلین کی بیٹی خود وکیل تھی، انجیلا ووڈرف۔ اس نے کہا، "میری ماں کے تو دو گھر تھے، وصیت میں ایک کا ہی ذکر کیوں ہے؟" اسے شک ہوا کہ یہ وصیت جعلی ہے!
وہ پولیس کے پاس گئی۔ پولیس نے لاش قبر سے نکال کر ٹیسٹ کیا تو جسم میں ہیروئن کی بھاری مقدار ملی!
ڈاکٹر شپ مین نے کہا، "وہ تو خود ہیروئن لیتی تھی، میں نے تو پہلے ہی کمپیوٹر میں لکھا ہوا تھا!"۔
یہیں وہ پھنس گیا! اس نے کمپیوٹر میں تاریخ پیچھے کی ڈالی تھی، لیکن اسے پتہ نہیں تھا کہ کمپیوٹر خود بتا دیتا ہے کہ فائل کب بنائی گئی! فائل تو موت کے بعد بنائی گئی تھی!
اور دوسرا ثبوت — پولیس کو وہ ٹائپ رائٹر مل گیا جس سے جعلی وصیت بنی تھی۔ اس ٹائپ رائٹر کے کچھ حروف ٹوٹے ہوئے تھے، اور وہی ٹوٹے ہوئے حروف وصیت میں بھی تھے!
7 ستمبر 1998 کو ہائیڈ کا مشہور ڈاکٹر گرفتار ہو گیا۔
تحقیقات میں پتہ چلا کہ اس نے 1975 سے 1998 تک کم از کم 218 قتل کیے تھے، اور اندازہ 260 تک جاتا ہے! عدالت نے اسے 15 قتلوں میں مجرم قرار دے کر عمر قید دی۔
لیکن کہانی ختم نہیں ہوئی۔ 13 جنوری 2004 کو اس نے جیل میں بیڈ شیٹ سے پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ اس کے ایک جیل ساتھی نے کہا تھا کہ شپ مین نے اسے بتایا تھا کہ اس نے 260 نہیں، 508 قتل کیے ہیں!
آج تک کسی کو نہیں پتہ کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ پیسے کے لیے؟ طاقت کے لیے؟ یا اپنی ماں کی کینسر سے موت کا بدلہ؟
یہ تھی ڈاکٹر ہیرالڈ شپ مین کی کہانی، جس نے مسیحا کے بھیس میں موت بانٹی!
Muhammad Arif retweeted
Replying to @ArifRetd
ایک ہی شہر میں ایک ہی دن میں 2 ایک ہی جیسے واقعات ہوئے، پٹرول۔پمپ پہ سگریٹ سلگانے سے منع کرنے پہ امیر زادے نے سیلزمین کو تھپڑ مارے،فوری پکڑا گیا،تھانے میں سیلزمین کو بلوا کر اس سے جوابی تھپڑ بھی مروائے گئے اور جوڈیشل بھی کر دیا گیا۔
دوسرے واقعہ میں موٹر سائیکل سوار مڈل کلاس مگر وکیل شخص نے سکوٹی سوار لڑکی کو وحشیوں کی طرح مارا،اسکی ناک کی ہڈی توڑی،فوری پکڑا گیا مگر نہ تو لڑکی سے جوابی تھپڑ لگوائے گئے نہ پولیس سے تھپڑ لگوائے گئے نہ ہی جوڈیشل کیا گیا بلکہ فوری جج کے سامنے پیش کر کے ضمانت دلوا دی گئی۔ یہ مریم کا پنجاب نہیں ہے۔ ایسا مریم کے پنجاب میں نہیں ہو سکتا نہ ہی ہونا چاہئیے۔ کیا وکیلوں کو جرم معاف ہے؟
Muhammad Arif retweeted
Replying to @ArifRetd
I request higher authorities sud b cancel his bail he is great criminal mind set very dangerous for society plz rearrested him immediately and push him behind the bars
Muhammad Arif retweeted
Replying to @ArifRetd
Now that judge should be removed from his post as he had been failed to dispense justice
Muhammad Arif retweeted
🚨اگر روضہ رسول ﷺ کی صفائی کا کام ملے تو کون کون کرنا پسند کرے گا جس کا دل رسول اللّٰه ﷺ سے جُڑا ہے وہ محبت بھرا ایموجی بھیجے
❤️👍🙋🏻♀️🙋🌹🫀🥰💕💞❤️🩹
شئیر کریں زیادہ سے زیادہ
Muhammad Arif retweeted
نفسیات کہتی ہے جو انسان اندر سے خوبصورت اور مثبت ہو وہ کبھی کسی دوسرے کو Ugly فیل نہیں کرواتا
ہم کو Ugly اور اداس وہی فیل کروائے گا جو خود اندر سے ایسا ہوگا
چہروں پر مت جائیں چہرے جھوٹ بولتے ہیں
ساؤنڈ الگ چل رہا ہوتا اور ویڈیو الگ ہوتی یعنی چہرے کے تاثرات
میں نے زندگی میں کبھی حقیقی پراعتماد مطمئن انسان کو دوسروں کا کانفیڈنس خراب کرتے نہیں دیکھا
یہ ہمیشہ Ugly Once ہی ہوتے ہیں جو ہمیں Ugly فیل کرواتے ہیں
Post By RuthlessZQ
Muhammad Arif retweeted
ہم خود کو ماڈرن کہتے ہیں اور اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگی بھی اجیرن کرتے ہیں۔
Muhammad Arif retweeted
پنجاب میں ایل پی جی کی قلت اور قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے غریب آدمی کا جینا مشکل کر دیا ہے عوام پہلے ہی مہنگائی کے ستائے ہوئے ہیں بجلی کے بلوں کے مارے ہوئے ہیں
ن لیگ کی حکومت عوام پر رحم کرے
Muhammad Arif retweeted
اگر سی سی ٹی وی کی 48 سیکنڈ کی ویڈیو نہ بنتی تو اس کا اصل چہرہ کسی کےسامنے نہ آتا
اندھیرے کی وجہ سےیوں لگ رہا تھاکہ کوئی لڑکا ہےلیکن اب جب اس کی موٹر سائیکل اور سیف سی ٹی کیمروں کی مدد سے اس کو پکڑا گیا توپتا چلا کہ شکل مومناں اورکرتوت خیر۔۔۔۔
یہ وہ شخص غلام مصطفیٰ ہےجس نے ایک 24



















