سب سے بڑی اور دھماکہ خیز خبر!!!! پشاور کے مستند اور باخبر صحافی محمد فہیم کا بڑا دعوی
سہیل آفریدی، شفیع جان، شاہد خٹک اور جنید اکبر کہاں ہیں؟ پتہ چل گیا۔۔ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشافات
@MeFaheem
تہلکہ خیز ⚠️⚠️
فاروق حیدر کے داماد کے خلاف یورپین یونین نے پاکستان ریاست سے ایکشن کا مطالبہ کردیا۔
فاروق حیدر کے داماد بلال کھر نے ایک بچی فاخرہ یونس پر تیزاب پھینک دیا تھا جس کے بعد وہ بچی اس دنیا سے چلی گئی۔
مولانا کی بکواس کا کھرا مل گیا، افغان طالبان نے اس وقت فضلو کے پیسے روکے ہوئے ہیں۔
خط کا اردو ترجمہ حاضر ہے۔
بخدمتِ محترم مولانا فضل الرحمان صاحب، سربراہ جمعیت علمائے اسلام!
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ
باہمی تعاون کے تسلسل میں آپ کے ملحقہ دینی مدارس کے طلبہ کے ریکارڈ کے حوالے سے درج ذیل امور ارسال ہیں:
موضوع: پانچ لاکھ (500,000) طلبہ کی فہرست کی عدم فراہمی اور مالی ادائیگی کی معطلی کے متعلق!
طے شدہ معاہدے اور امارتِ اسلامی کے مالیاتی اصولوں کے تحت آپ کے زیرِ انتظام دینی مدارس کی جانب سے پانچ لاکھ (500,000) طلبہ کی مکمل اور تصدیق شدہ فہرست وزارتِ معارف کو فراہم کی جانی تھی۔ تاہم بارہا یاد دہانی کے باوجود تاحال مذکورہ فہرست فراہم نہیں کی گئی، لہٰذا طلبہ کی مکمل فہرست کی فراہمی تک مختص کردہ مالی امداد اور فنڈز کا اجرا ممکن نہیں۔ براہِ کرم اولاً پانچ لاکھ طلبہ کی مصدقہ فہرست باضابطہ طور پر ارسال کریں تاکہ اس ضمن میں مزید اصولی اور مالی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
والسلام
الحاج مولوی حبیب اللہ آغا
سرپرست وزیرِ معارف (تعلیم)
@juipakofficial @MoulanaOfficial @ziaurrehman76 @JUIAnswersBack
بہت بڑا تہلکہ خیز ڈاکومنٹ پاک انویسٹیگیٹ ٹیم کے ہاتھ لگ چکا ہے جس سے پتہ چل جائے گا کہ مولانا کی چابی اس وقت کس کے پاس ہے!
اب انتظار کرو
@juipakofficial @JUIAnswersBack @MoulanaOfficial @ziaurrehman76
فضل الرحمان کے مدارس، مالی وسائل اور اثاثے: 10 اہم سوالات جن کے جواب ضروری ہیں
40 ہزار مدارس میں کتنے رجسٹرڈ ہیں؟ مالی ذرائع اور انتظامی معاملات کیوں چھپائے جارہے ہیں؟ فضل الرحمان سے وابستہ مدارس کی تعداد کتنی؟
کچھ اہم سوالات!!!
1۔ فضل الرحمان سے منسلک مدارس کے اخراجات پورے کرنے کے لیے فنڈز کہاں سے آتے ہیں؟ ان کے مالی معاونین اور آمدن کے بنیادی ذرائع کون سے ہیں؟
2۔ مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر فضل الرحمان کا مؤقف کیا ہے؟ وہ اس عمل کی مخالفت کیوں کرتے ہیں، اور مدارس کی قانونی رجسٹریشن کے حوالے سے ان کے تحفظات کیا ہیں؟
3۔ غیر رجسٹرڈ مدارس کے مالی لین دین، عطیات اور اخراجات کا ریکارڈ کہاں موجود ہے؟ کیا ان اداروں کے حسابات کا باقاعدہ اور آزادانہ آڈٹ کیا جاتا ہے؟
4۔ کیا فضل الرحمان سے وابستہ مدارس کو تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) سے مالی معاونت ملنے کے شواہد موجود ہیں؟ اگر ہاں، تو اس امداد کی مالیت، ذرائع اور استعمال کی تفصیلات کیا ہیں؟
5۔ فضل الرحمان افغان طالبان کی قیادت، ہیبت اللہ اخوندزادہ اور حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے کیا پالیسی اور مؤقف رکھتے ہیں؟ کیا ان حلقوں اور ان سے وابستہ افراد کی جانب سے مدارس کو مالی امداد فراہم کرنے کے الزامات کی تصدیق کے لیے کوئی مستند شواہد موجود ہیں؟
6۔ فضل الرحمان اور ان کے خاندان کی آمدن کے بنیادی ذرائع کیا ہیں؟ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ان کے اثاثوں اور جائیدادوں میں ہونے والے اضافے کی وضاحت کن مالی دستاویزات سے کی جا سکتی ہے؟
7۔ اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس اور ڈیرہ اسماعیل خان میں فضل الرحمان یا ان کے خاندان سے منسوب جائیدادوں کی ملکیت اور خریداری کی تفصیلات کیا ہیں؟ ان جائیدادوں کی خریداری کے لیے رقم کہاں سے فراہم کی گئی؟
8۔ متعدد رہائش گاہوں کے اخراجات اور طرزِ زندگی برقرار رکھنے کے لیے مالی وسائل کہاں سے آتے ہیں؟ کیا فضل الرحمان کے کاروباری مفادات، ذاتی آمدن یا دیگر مالی ذرائع کی تفصیلات عوامی ریکارڈ میں دستیاب ہیں؟
9۔ ضیاء الرحمان، لطف الرحمان، عطاء الرحمان اور اسعد محمود کے اثاثوں اور آمدن کے ذرائع کیا ہیں؟ ان کے نام پر موجود جائیدادوں اور دیگر اثاثوں کی خریداری کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا، اور کیا یہ تفصیلات ان کے ظاہر کردہ ذرائع آمدن سے مطابقت رکھتی ہیں؟
10۔ کیا فضل الرحمان سے وابستہ مدارس کے طلبہ کو سیاسی جلسوں میں شرکت کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو طلبہ کی رضامندی، ان کے تعلیمی حقوق اور دینی تعلیمات کی روشنی میں اس عمل کا کیا جواز پیش کیا جاتا ہے؟
فضل الرحمان صاحب! آپ قومی سیاست، مذہب اور جمہوریت کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ ان سوالات کا جواب محض سیاسی بیانات یا الزامات سے نہیں، بلکہ مستند دستاویزات، مالی ریکارڈ اور ٹھوس شواہد کے ساتھ دیجیے۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ مدارس کے مالی معاملات کیسے چلتے ہیں، سیاسی سرگرمیوں کے لیے وسائل کہاں سے آتے ہیں اور عوامی نمائندوں کے اثاثوں کے ذرائع کیا ہیں۔ غیر متعلقہ بحثوں میں الجھنے کے بجائے ان سوالات کے واضح اور مدلل جوابات سامنے لائیں۔
@MoulanaOfficial
سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی دھماکہ خیز تحقیقات
اپنی جماعت کی حکومت میں سرکاری افسر بن گیا، وہ انجنیئر ضیاء الرحمان افغان کمشنریٹ تک کیسے پہنچا؟ خیبرپختونخوا کا افسر خوشاب اور کراچی میں کیسے؟ سیاستدان کے بھائی کے فوائد، افغان کمشنریٹ ان کی محبوب پوسٹنگ کیوں؟
@Matiullahjan919 @ziaurrehman76
انجینئر ضیاء الرحمان! تم نے اپنے باپ کے نام پر بڑا مال بنا لیا، کھا لیا اور ابھی بھی کھا رہے ہو۔ نہ صرف کھا رہے ہو بلکہ کھانے کے بعد لمبی لمبی ڈکاریں بھی مار رہے ہو
پاکستان کے چوٹی کے صحافی کو ہم نے کل پاکستان انویسٹیگیٹ اسٹوڈیو میں مدعو کیا ہے، اور وہ تمہارے بارے میں وہ وہ انکشافات کرنے جا رہا ہے کہ تمہارے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ نیند اچھی کرنا، کل کا دن بھاری ہے
@ziaurrehman76
تیار ہوجاؤ، شرط لگاتا ہوں کہ کل ایسا دھماکہ ہوگا کہ تم لوگوں کی نیندیں حرام ہوجائیں گی۔ یہ میرا وعدہ ہے
پرانا طریقۂ واردات، نیا لبادہ!
کالے چینلز کے ذریعے پروپیگنڈے کا ایک پرانا طریقہ دوبارہ آزمایا جا رہا ہے۔ ایک نئی آئی ڈی بنائی ہے، اینکرز کی تصاویر پر اے آئی کے ذریعے ڈبنگ کی جاتی ہے اور پھر من گھڑت کہانیوں کو ویڈیو کی شکل دے کر سوشل میڈیا پر پھیلایا جاتا ہے۔
ویڈیوز کا معیار اس قدر ناقص ہے کہ کوئی عام صارف بھی کلک کرنے سے پہلے اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ مواد ہے۔
پہلے بیوٹی پارلر کی لڑکیوں/جعلی رپورٹرز کی ویڈیوز کے ذریعے توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، اب اے آئی کے ذریعے جعلی ویڈیوز اور من گھڑت کہانیوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
اس کے بعد واٹس ایپ کے ذریعے مخصوص صحافیوں، سیاسی جماعتوں کے بڑے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ایکٹیوسٹس سے کہا جاتا ہے کہ اس پوسٹ کو ری پوسٹ کریں، اس پر تبصرہ کریں/ کوٹ ٹویٹ کریں اور اسے زیادہ سے زیادہ پھیلائیں۔ مقصد صرف ایک ہوتا ہے: کسی نہ کسی طرح پوسٹ وائرل ہو، ٹریفک حاصل ہو اور پروپیگنڈے کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جھوٹ کو بار بار دہرانے سے وہ سچ بن جاتا ہے؟
یہ طریقۂ واردات نیا نہیں، صرف اس کا انداز بدلا ہے۔ پہلے بھی من گھڑت کہانیوں کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، اور اب اسی پرانے کھیل کو اے آئی کی نئی شکل دے دی گئی ہے۔
یاد رکھیں! اے آئی کے ذریعے تیار کردہ جعلی ویڈیوز، من گھڑت کہانیوں اور منظم ری پوسٹنگ سے کسی دعوے کی سچائی ثابت نہیں ہوتی۔
14 جون 2021 کو لاڑکانہ میں ایک بڑی دھواں دار پریس کانفرنس ہوتی ہے جس میں JUIF سندھ کے سیکرٹری جنرل راشد محمود سومرو نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف 17 جون کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا۔ راشد سومرو نے اعلان کیا کہ ہم مر جائیں گے لیکن سندھ میں بحریہ ٹاؤن نہیں چلنے دینگے۔
لیکن اچانک ہی ایک سفید لینڈ کروزر V8 اسلام آباد کے امیر ترین علاقے G6 کی گلی نمبر 89 سے نکلتی ہے۔ یہ لینڈ کروزر G6 میں ہی ایک گلی میں موجود مکان نمبر 7 کے سامنے پہنچتی ہے اور پھر نارنجی رنگ کی پگڑی والا ایک شخص دروازہ کھولتا ہے، گاڑی سے ایک 57 سالہ شخص نیچے اترتا ہے اور ڈرائیور کو حکم دیتا ہے کہ پیچھے سے دو بڑے کالے رنگ کے بکسے باہر نکالو۔ ہر بکسے میں 5 ہزار کے 500 بنڈل موجود ہوتے ہیں۔
اچانک ہی میز پر حلوہ آتا ہے اور مولانا ف نامی ایک شخص کو وہ دونوں بکسے تھمائے جاتے ہیں جبکہ وہ 57 سالہ شخص چپکے سے اپنی عینک کے شیشوں میں لگے کیمرے سے ویسی ہی ویڈیو بناتا ہے جیسی اس شخص نے وہ دو سال پہلے سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف کے فروخت ہونے والے ایم پی ایز کی خفیہ ویڈیوز بنائی تھیں۔
جیسے ہی پیسے پکڑائے گئے، اچانک ہی راشد محمود سومرو بھول جاتا ہے کہ اس نے 17 جون کو بحریہ ٹاؤن کے خلاف اختجاج کرنا ہے اور سارا معاملہ ایسے ختم ہوجاتا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
وہ ویڈیوز بھی پاک انویسٹیگیٹس کے پاس موجود ہیں۔ اگر جمیعت کے دوستوں کو شک ہو تو یہ باتیں اپنے قائد کے سامنے رکھ دیں۔ اگر وہ ماننے سے انکاری ہیں تو ویڈیوز نکال دی جائیں گی۔
سینئر تحقیقاتی صحافی صابر شاکر کا دھماکہ! حقیقت بیان کرنا شروع کردیا۔ شفیع جان کی پوری زندگی دو منٹ میں سمیٹ دی۔ آئی ایس ایف میں "تن من دھن" کی قربانی سے چوری کے موبائلز اور اقبال پلازہ تک پہنچنے کی پوری کہانی!
@ARYSabirShakir @ShafiJanPTI
تہلکہ خیز خبر!!!!
مستند ذرائع تصدیق کررہے ہیں کہ فضل الرحمان پہلے 26 ویں آئینی ترمیم کیلئے راضی نہیں تھے ۔ لیکن پھر بھاری رقم کے عوض چھبیسویں آئینی ترمیم کی حمایت پر راضی ھو گئے
اس ڈیل کے مطابق ملک ریاض نے دبئی میں فضل الرحمان کو 5 ارب روپے دیے ۔ فضل الرحمان سے انکی تفصیلات حاصل کی جا سکتی ہیں
اس رقم سے فضل الرحمان نے اسلام آباد میں ایک رہائشگاہ ، لاہور کے مضافات میں ایک بہت بڑے مدرسے کیلئے زمین لی ۔ جہاں پر وہ
اپنے بیٹے کو بھی بسا رہے ہیں
اس کے علاوہ بھی ملک ریاض نے 26ویں ترمیم کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان میں فضل الرحمان کو متعدد پراپرٹیز دی جنکی تفصیلات جلد سامنے لائی جا رہی ہیں
بڑی بریکنگ نیوز!
سینئر صحافی حامد میر نے خود سامنے آکر فضل الرحمان کو بے نقاب کردیا، ڈنڈا اٹھائے حامد میر کے بڑے انکشافات!
@HamidMirPAK
کاشف عباسی نے صحافت میں دوبارہ انٹری کر دی، پہلے ہی وی لاگ میں حامد میر کی بنڈ پھاڑ دی
@Kashifabbasiary @HamidMirPAK
چوٹی کے تحقیقاتی صحافی حماد حسن کا تہلکہ
پلیسر گولڈ کی غیرقانونی مائننگ میں کون ملوث؟ پی ٹی آئی دور کا ایک اور سیاہ کارنامہ بے نقاب
@HammadHassan30
خیبرپختونخوا کا اصل وزیراعلی، کرپشن کا بے تاج بادشاہ، اپنی کمپنی کو ڈھائی ارب کے ٹھیکے، طلبہ لیڈر سے طاقتور وزیر تک کی کہانی، سینئر صحافی علی اکبر کی زبانی
@AliGunjai
پاکستان کی تاریخ کے سب سے کرپٹ اور پی ٹی آئی کے لاڈلے کمشنر پشاور ریاض محسود کی کہانی! کرپشن، قبضہ مافیا اور منشیات کا گٹھ جوڑ۔ باپ سینیٹر، بھائی پی ٹی آئی کا ایم پی اے کیسے بنا؟ پی ٹی آئی کی ہر حکومت میں بڑے عہدے پر براجمان ریاض محسود یہاں تک کیسے پہنچا؟
پشاور کے سینئر صحافی علی اکبر کے انکشافات
@AliGunjai
تحقیقاتی صحافی احسان ٹیپو محسود کی دوسری دھماکہ خیز تحقیقاتی رپورٹ
وزیراعلی سہیل آفریدی اور منشیات فروشوں کا گٹھ جوڑ بے نقاب۔ چیک پوسٹوں پر منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کی مخالفت کیوں؟ وادی تیراہ میں چرس اور دیگر منشیات کے پیچھے وزیراعلی خود یا انکے اپنے؟ تحقیقات نے سب کچھ واضح کردیا
@IhsanTipu
قبائلی تحقیقاتی صحافی احسان ٹیپو محسود کا تہلکہ ۔۔ ثبوتوں کے ساتھ دہشت گرد اور وزیراعلی کا گٹھ جوڑ ثابت کردیا۔ 8 ماہ کی تحقیقات کے بعد احسان ٹیپو کی خصوصی تفصیلی رپورٹ جاری۔۔ ہر طرف زلزلہ ہی زلزلہ
@IhsanTipu







