7 ستمبر کو پورا زرداری خاندان ملک چھوڑ کرجاچکاتھا۔ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کو تڑیاں لگارہی تھی۔ ادی فریال ٹالپور بھی گرج رہی تھی۔ تبصرہ کار کہتے کہ زرداری راحیل شریف دور میں بھی ڈیڈھ سال بیرون بیٹھا اور پارٹی سے مزاحمت کروائی۔ ہم خوش کہ چلو یہ ٹرائیکا ٹوٹا، اب تھوڑی سپیس ملےگی۔ خان کا علاج، خاندان، ڈاکٹرز اور رہنماوں کی رسائی تو مزاکرات سے پہلے مل جانی۔ خان ایک مہینہ ڈیڈھ آرام کرلیگا، انکی صحت ٹھیک ہوجائیگی۔ خاندان کو تھوڑا سکون مل جائیگا۔ شاید دیگر اسیران کو بہتر ریلیف ملے۔ ہم صبح اٹھے تو ہماری طرف سے "ایسی کی تھیسی" والی تقریریں ہوچکی تھی۔ اس وقت بھی ہاتھ جوڑیں کہ وقت ہے فیصلوں میں ابھی۔ آپ انکو آپس میں لڑنے دیں۔ اپنے لیڈر کا علاج کرائیں۔ بیچ میں مزاکرات چلتے رہیں۔ نہیں سمجھ آئی تو خان صاحب خود منع کردینگے۔ جلدی کیا ہے؟۔ خیر جلدبازی ہوئی۔ دھواں دار تقریریں ہوئی۔ اگلے شاید واپس زرداری کے پاس گئے کہ آجاو سائیں واپس۔۔۔ آپ کی دو سن لینگے دو سنا دینگے۔ ادھر تو اتنی جلدی تھی کہ اتنا انتظار نا کیا کہ ہمیں ہی استعمال کرکے دو کام نکلوا لیتے۔ زرداری واپس آیا اور ٹرائیکا پھر متحد ہوگیا۔ بتاو پھر اب کیا زرداری کے ہی گورنر کا ہمارا صوبہ نا ملا؟ یا وہ سب مل کر ہمیں چھپیڑیں نہیں کروا چکے؟ گورنر راج نافظ، وزیراعلی اغواء، اسپیکر اغواء، صوبائی صدر اغواء، بیس پچیس ایم این ایز، ایم پی ایز اغواء، سینکڑوں ورکرز اندر اور خان صاحب کی بہنیں اندر۔۔۔
اب پھر گزارش کرتے ہیں ہاتھ جوڑ کر۔۔۔اب دوسری چلانگ میں جلدی نا کرو۔۔۔ بول دو کہ لیڈر کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ہسپتال شفٹ کرو، بہنوں کو رہا کرو۔ ڈاکٹرز کی رسائی دو، سیاسی رفقاء کی رسائی دو۔ انکے سامنے معاملات رکھنے دو۔ عمران خان نے آپ دوستوں کو یہ طاقت بطور امانت دی ہے۔ اسکو عقل اور اخلاص دونوں کے زریعے استعمال کرکے عمران خان اور پاکستان کےلیے فائدہ لائیں۔ ان تک معاملات پہنچائیں۔ پھر آگے انکی مرضی۔
نوٹ: یہ محبت ہے گلہ نہیں ہے 🙏
گزشتہ مہینے کی 18 تاریخ کو ایک تھانے کےسامنےسےدوراہگیرتحریک انصاف کےنام پراٹھاکرتھری ایم پی اومیں جیل بھیج دیےگئے۔میں نےایک جاننےوالےسےبات کی کہ میں ایم پی اےکینڈیڈیٹ یاآفس ہولڈرزکانہیں کہتامجھےمعلوم ہےہم زیرعتاب ہیں اورآپ مجبور،وہ ہم عدالتوں سےکرلینگے۔یہ راہگیرچھوڑدیں یہ غریب لوگ ہیں۔ چالیس دن سے بےگناہ جیل ہیں۔ اس شخص کی مہربانی اسنےآگےبات کی ہوگی۔ آگے والوں نےاسکو ڈیڈھ سال پرانا پوسٹربھیج دیاجس میں ان بیچاروں کی میرےساتھ کسی پینافلیکس میں تصاویر تھی۔ میں نےکہابھائی تصاویرتومیری شاید آپکےسابقہ وزیراعظم انوارالحق کاکڑ صاحب کےساتھ بھی ہوں جب وہ ہمارے اتحادی تھے۔ میں کونسا اسامہ بن لادن یا ایمن الظواری ہوں کہ میرے ساتھ جس کی تصویر آگئی آپ نے اسکو گوانتونامےبے بھیجنا ہے؟ دوسرا میں ان بدبخت مخبروں پر حیران ہوں جو کوئٹہ کینٹ کے چاکری میں پارٹی کے لوگوں کا سوشل میڈیا کنگال کر سالوں پہلے کی تصاویر تھما رہے کہ ان پر سختی کرو۔ لوگوں کے گھر بتارہے، آفس ہولڈرز کے نام، والد کے نام بشمول عہدے بتارہے۔ آج ہم مفرور ہونگے، علاقوں سے دور ہونگے۔ ہمارے گھر، خاندان، رشتہ داروں، دوستوں کے ایڈریس اور ٹھکانے لکھواو۔ آج تم نے جو کرنا ہے کرو۔ لیکن وقت تو بدل جاتا ہے۔ وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔ اور مخبر سے بدتر گالی ہو نہیں سکتی۔ نا اس سے بدتر لعنت ہوسکتی ہے۔ یہ لعنت تمہارے گلے میں ڈالینگے۔ اور حساب کرینگے انشاءاللہ۔
محترم مشر صاحب۔۔۔ شاید آپ کہنا چاہتے تھے کہ میری نشست سے جو لڑکا جیتا ہوا تھا اسے ہرا دیا گیا۔ اس پوسٹ سے ابہام پیدا ہورہاہے۔ اورچونکہ این اے263 کوئٹہ کا میں تحریک انصاف کی طرف سے دعویدارہوں، کیس سپریم کورٹ میں ہے اورآپکےاکاونٹ سےہوئی یہ پوسٹ کیس پراثراندازہوسکتی ہے،اس لیےپوچھا۔
@MKAchakzaiPKMAP
بلوچستان سے کمشنر رخشان ڈیویژن اسداللہ کاکڑ اغواء۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے پہلےبھی بلوچستان سےحالیہ مہینوں میں متعددسرکاری اہلکار، پولیس، اےسی، ڈی سی اغواءہوتےرہےہیں۔ کیاایسےواقعات پختونخواءمیں ہوئے؟ کیافائدہ آپکی تابعداربلوچستان حکومت کا؟کیااس سےنافرمان پختونخواء حکومت اچھی ناتھی؟









