Pendu Chef retweeted
فلسفیانہ طنز و مزاح :: سقراط مکان کی دہلیز پر بیٹھا تھا اس کی بیوی اس کو برا بھلا کہہ رہی تھی
سقراط کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی جب اس کی بیوی نے دیکھا کہ سقراط آگے سے کوئی جواب نہیں دیتا تو وہ غصہ سے مکان کے اندر گئی اور پانی بھرا ہوا تسلا لا کر سارا پانی سقراط پر انڈیل دیا۔
سقراط نے ہنس کر اپنی بیوی سے کہا :
" کیٹو مجھے معلوم تھا بادل گرج رہے ہیں بارش تو ہوگی”
Pendu Chef retweeted
🌹🌹 السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه🌹🌹
اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کیا کرے۔
اللہ تعالی کے دیے ہوئے مال میں سے صدقہ و خیرات کیاکرے۔
کوئی آپ سے مدد مانگتا ہے تو اللہ کی خاطر اس کی مدد کر دیا کرے۔
اللہ تعالی اسانیاں پیدا فرمائے ہم سب کی زندگیوں میں۔آمین
Pendu Chef retweeted
Today Masge 😊
Focus on progress, not perfection. Every small step forward is a step closer to your goals. Embrace the journey and trust the process.
Pendu Chef retweeted
ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ
ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﮯ ﻋﯿﺐ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﻋﯿﺐ ﮨﻮﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮔﻨﻮﺍﺅﮞ ﺗﻮ ﮔِﻦ ﻧﮧ ﺳﮑﻮ ﮔﮯ،
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﻤﺎﻡ
ﻋﯿﺒﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﺮﺩﮦ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮨﮯ
" ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ."
Pendu Chef retweeted
کریمیں لگا لگا کر گوری بن جاتی ہیں اور جب بچے کالے پیدا ہوتے ہیں تو کہتی ہیں
پیو تے گیا ائی ..😂😂
Pendu Chef retweeted
آپکو یہ جان کر بہت حیرانگی ہو گی کہ جب بجلی ایجاد ہوئی اُس کے خلاف بہت منظم پروپیگنڈہ مہم چلائی گئی ۔۔1900 کی دہائی کے اوائل میں، بجلی کے خلاف بہت منظم اور مخصوص پروپیگنڈا مہمات چلائی گئیں، جن میں کئی مثالیں واضح طور پر سامنے آتی ہیں۔ یہ پروپیگنڈا زیادہ تر ان گروہوں اور صنعتوں کی طرف سے تھا جو روایتی توانائی کے ذرائع، جیسے گیس لائٹنگ اور کوئلہ، استعمال کرتے تھے اور بجلی کی ترقی سے اپنا نقصان دیکھ رہے تھے۔
1. ایڈیسن اور ویسٹنگ ہاؤس کی جنگ (War of Currents):
بجلی کے خلاف سب سے مشہور مہم میں سے ایک "کرنٹس کی جنگ" تھی جو 1880 اور 1890 کی دہائی میں شروع ہوئی، لیکن اس کا اثر 1900 تک رہا۔ اس مہم میں تھامس ایڈیسن، جو **ڈی سی (ڈائریکٹ کرنٹ)** کا حامی تھا، نے جارج ویسٹنگ ہاؤس اور نکولا ٹیسلا کی **اے سی (آلٹرنیٹنگ کرنٹ)** کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا۔ ایڈیسن نے عوام کو خوفزدہ کرنے کے لیے اے سی کرنٹ کے خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ **1890 میں، نیویارک میں پہلی الیکٹرک چیئر کے ذریعے ایک شخص کو سزائے موت دی گئی**، اور ایڈیسن کی کمپنی نے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ اے سی کرنٹ نہ صرف خطرناک ہے بلکہ قاتل بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
2. برقی شعاعوں سے بیماری کا خوف:
1900 کی دہائی کے اوائل میں، بجلی کے خلاف ایک بڑا پروپیگنڈا یہ تھا کہ برقی شعاعیں انسانی صحت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ **1903 میں نیو یارک کے کئی اخبارات** میں یہ خبر شائع ہوئی کہ بجلی کی تاروں سے نکلنے والی شعاعیں "دماغی اور اعصابی امراض" کا سبب بن سکتی ہیں۔ لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ اگر بجلی کی تاریں ان کے گھروں کے قریب ہوں تو وہ نیند میں خلل، سر درد اور دماغی تناؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
3. بجلی سے آگ لگنے کا خوف:
1911 میں بوسٹن میں ایک بڑا آتشزدگی واقعہ** ہوا جسے بجلی کے شارٹ سرکٹ سے جوڑا گیا۔ اس واقعے کے بعد، اخبارات اور گیس کمپنیوں نے ایک مہم چلائی جس میں کہا گیا کہ بجلی کے استعمال سے گھروں میں آگ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس سے لوگوں میں خوف پیدا ہوا اور بجلی کو گھر میں استعمال کرنے سے گریز کرنے لگے۔
4. بجلی اور معاشرتی زوال:
بعض مذہبی اور روایتی گروہوں نے بجلی کے استعمال کو "خاندانی زندگی کے لیے نقصان دہ" قرار دیا۔ **1907 میں امریکی ریاست اوہائیو میں ایک چرچ کے پادری** نے اپنے خطبے میں کہا کہ بجلی کی روشنی سے رات دیر تک جاگنے کی عادت بڑھ رہی ہے، جس سے خاندانی زندگی تباہ ہو رہی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بجلی "خدا کی دی ہوئی روشنی" کی خلاف ورزی ہے اور یہ لوگوں کو قدرتی نظام سے دور کر رہی ہے۔
5. بجلی کا اخلاقی پہلو:
بعض پروپیگنڈا مہمات میں بجلی کو ایک اخلاقی مسئلہ بنا کر پیش کیا گیا۔ **1913 میں ایک امریکی اخبار نے رپورٹ شائع کی** کہ بجلی کی روشنی سے لوگ رات کے وقت باہر زیادہ نکلتے ہیں، جس سے جرائم، خاص طور پر نوجوانوں میں بدتمیزی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس رپورٹ کا مقصد بجلی کو غیر اخلاقی ترقی کے طور پر پیش کرنا تھا۔
یہ تمام پروپیگنڈا مہمات اس وقت کے مفادات اور خوف کی عکاسی کرتی ہیں، لیکن بجلی کے فائدے اور اس کی ترقی کے ساتھ یہ غلط معلومات بے اثر ہو گئیں۔ تاہم، ان مہمات نے ابتدائی دہائیوں میں بجلی کی قبولیت کو سست کر دیا۔
Pendu Chef retweeted
انتہائی نفیس اعلی اخلاق کی مالک نور ♥️
@sahoor_786
سب ٹویٹر والے بھائیوں اوربہنوں سے درخواست ہے کے
انکو فالو کر کے فالو بیک 💯 گرنٹی کے ساتھ
Pendu Chef retweeted
╰¸.🩷🪷
☼´¯)¸.´¯) 𝐺𝑜𝑜𝐷 𝑀𝑜𝑟𝑛𝑖𝑛𝐺 🩵🌸
(¸❀´ (¸.🌷🩵´´¯`•.¸¸. ❥ ☀️ 𝐻𝑎𝑝𝑝𝑦 𝑇𝒉𝑢𝑟𝑠𝑑𝑎𝑦 💖🩵
𝑌𝑜𝑢 𝑑𝑒𝑠𝑒𝑟𝑣𝑒 𝑎 𝑏𝑒𝑎𝑢𝑡𝑖𝑓𝑢𝑙 𝑑𝑎𝑦,
𝑁𝑜 𝑚𝑎𝑡𝑡𝑒𝑟 𝑤𝒉𝑎𝑡 𝑦𝑜𝑢𝑟 𝑠𝑐𝒉𝑒𝑑𝑢𝑙𝑒 𝑙𝑜𝑜𝑘𝑠 𝑙𝑖𝑘𝑒.
𝐿𝑒𝑡'𝑠 𝑚𝑎𝑘𝑒 𝑡𝒉𝑖𝑠 𝑡𝒉𝑒 𝑏𝑒𝑠𝑡 𝑜𝑛𝑒 𝑦𝑒𝑡...╯
Pendu Chef retweeted
﷽﷽﷽﷽﷽﷽﷽
ﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺ
سب کا بھلا اور سب کی خیر ھو۔ آمین
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
Pendu Chef retweeted
"زندگی نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ لوگ ہماری خامیوں سے زیادہ ہماری خوبیوں کی وجہ سے ہمیں نا پسند کرتے ہیں "
(برٹرینڈ رسل)
Pendu Chef retweeted
ایک مرد جو بہت سی عورتوں سے محبت کرتا ہے
وہ ایک "عورت" کو جانتا ہے۔
اور جو مرد ایک عورت سے محبت کرتا ہے
وہی "محبت" کو جانتا ہے۔
سگمنڈ فرائیڈ
Pendu Chef retweeted
السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه
جَواهرُ من اَقوال السلف
ایک آدمی نے ابوتراب النخشبى سےکہا: تجھے کوئی حاجت ہے؟
آپ فرمانے لگے:
جس دن میری حاجتیں تم سےاور تمہارے جیسوں سے وابستہ ہوں گی، اس دن مجھےاللّٰه تعالی سے کوئی حاجت نہیں رہے گی.
طبقات الصوفية للسلمي ص٤٧
Pendu Chef retweeted
*امریکیوں پر فریفتہ !!*
سامیہ جمال ایک خوبرو مصری حسینہ اور اداکارہ تھی سارا عرب ان پر فریفتہ تھا لیکن یہ ایک امریکی نوجوان کو دل دے بیٹھی.
امریکی نوجوان سامیہ کی خاطر مسلمان بھی ہوا ان کا یہ جملہ بہت مشہور ہوا تھا کہ "سامیہ تم جس خدا پر ایمان رکھتی ہو وہ یقینا بہت عظیم ہوگا"
ان کی شادی اور ہنی مون کے جب چرچے ہوئے کئی مصری جوانوں نے خودکشی کی کوشش بھی کی.
ان دونوں کی شادی کو محبت کی ایک لازوال داستان قرار دیا جا رہا تھا کہ ایک دن سامیہ جمال صبح اٹھی تو امریکی شوہر غائب تھا،معلوم ہوا کہ سب کچھ لوٹ کر فرار ہوچکا ہے،پیسہ،بنک بیلنس،دوشیزگی سب کچھ.
اگلے چند ماہ میں پتا چلا کہ وہ شخص سامیہ کی زندگی میں آیا ہی اسے لوٹنے کی غرض سے تھا.
مطلب یہ کہ سیاست رہی ایک طرف محبت میں بھی امریکی قابلِ بھروسہ نہیں ہیں.😎
Pendu Chef retweeted
ابھی تو پور پور میں دھڑک رہی ہے زندگی
دِلوں کے جال کھول دو بھڑک رہی ہے زندگی
فضائے تیرہ بخت میں چمک رہی ہیں بجلیاں
برس رہا ہے ابرِ خوں کڑک رہی ہے زندگی
ہمیں بُجھا دیا تو ہر الاؤ سرد پاؤ گے
ابھی ہمارے تاؤ سے بھڑک رہی ہے زندگی
وہ تختِ برتری کی پختگی کا شور کیا ہوا
خفیف سے دباؤ پر تڑک رہی ہے زندگی
























