Zimal chakar retweeted
سرداری نظام کے خلاف قرار داد کیوں پیش کی؟ بلوچستان اسمبلی میں ایک سردار غصہ کرگیا اور مولانا ہدایت الرحمان سے ہاتھا پائی کی کوشش۔
بلوچستان اسمبلی میں روایتی سردار نظام کے خلاف بحث کا آغاز ہوا ہے،عوام کی جانب سے بھی سرداری نظام استحصالی نظام کے خلاف ردعمل آی ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ اسمبلی میں جے یو آئی ف سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن رہنما یونس زہری نے عوامی رائے کا شدید مذاق اڑایا ہے اور مولانا ہدایت الرحمان کو بھی ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی ہے۔
Zimal chakar retweeted
ایک طرف بیرونِ ملک عیاشیاں اور رنگ رلیاں، دوسری طرف بلوچستان کے عوام کے حصے میں موت، لاشیں اور بچھڑتے خاندان! مہرن مری اور ہیربیار مری جیسے رہنما بیرونِ ملک بیٹھے ہیں، مگر نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے اور پہاڑوں میں جانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس جنگ میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کا درد کون سمجھے گا؟ بلوچستان کے نوجوانوں کو ایسی راہ کی ضرورت ہے جو انہیں موت نہیں، زندگی؛ محرومی نہیں، تعلیم اور روزگار دے۔
Zimal chakar retweeted
بلوچستان میں کہیں بھی دہشتگردوں کی نقل و حرکت محفوظ نہیں ہے،ہر جگہ وہ نگرانی میں آجاتے ہیں اور پھر جب کارروائی ہوتی ہے تو فرار کی کوشش کرتے ہیں جو ناکام ہوجاتی ہے اور مارے جاتے ہیں۔
Zimal chakar retweeted
گوادر کے عوام نے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے سوشل میڈیا مواد سازی کی منصوبہ بندی کو بھی ناکام بنادیا ہے۔
معمول سے ہٹ کر عوام باہر نکلے ہیں،معمولات زندگی رواں دواں ہیں،کہیں دہشتگردوں کا ڈر نظر نہیں آرہا۔
Zimal chakar retweeted
بلوچستان کا پاکستان سے الحاق کیسے ہوا؟تینوں ریاستوں نے بغیر کسی ملٹری ایکشن کے الحاق نامے پر دستخط کیے،کسی قسم کی دھمکی بھی نہیں دی گئی،خان آف قلات تو اپنی سوانح حیات میں لکھ کر گئے ہیں کہ وہ قائداعظم کو سونے میں توُلتے تھے،معروف تاریخ دان حسن جعفری کی زبانی
Zimal chakar retweeted
تربت سے تعلق رکھنے والی اس خاتون نے پریس کانفرنس کرکے بتایا ہے کہ اُس کا بھائی تعلیم کے حصول کے لئے گھر سے گیا تھا لیکن بعد میں لاپتہ ہوگیا،پھر پتہ چلا کہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں شامل ہوچکا ہے۔
بی ایل اے ایسے ہی بلوچ نوجوانوں کو نشے پر لگاکر گمراہ کرکے بلوچ شناخت کو داغدار کررہی ہے،اُن کی نسل کو تباہی کے دہانے پر لیکر جارہی ہے،لیکن خوش آئند امر یہ ہے کہ بلوچ عوام اس کے خلاف اب باقاعدہ کھڑے ہوچکے ہیں۔
Zimal chakar retweeted
بلوچستان کے سپوت شیرباز مری نے قازقستان میں منعقد ہونے والی ورلڈ مکسڈ مارشل آرٹس (MMA) چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان اور بلوچستان کے لیے گولڈ میڈل جیت کر ملک کا نام روشن کر دیا ہے۔
عالمی سطح پر اس تاریخی کامیابی کے بعد، شیرباز مری نے اپنی تربیت اور چیمپئن شپ کے اس سفر میں بھرپور تعاون اور حوصلہ افزائی کرنے پر حکومتِ بلوچستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
Zimal chakar retweeted
شاری بلوچ کا تعلق مکران کے ایک انتہائی پڑھے لکھے، بااثر اور خوشحال اعلیٰ متوسط طبقے کے گھرانے سے تھا۔ ان کے والد گریڈ 21 کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر تھے جو ڈائریکٹر اور جامعہ تربت کے رجسٹرار جیسے معزز عہدوں پر فائز رہے، جبکہ ان کے بھائی اور قریبی رشتہ دار بھی تحصیلدار، جج اور ڈاکٹرز کی حیثیت سے ریاست کی اعلیٰ ترین مراعات اور عہدوں کا حصہ ہیں۔
شاری بلوچ خود زوالوجی میں ایم ایس سی اور ایم ایڈ کی ڈگری ہولڈر تھیں اور ایک سرکاری اسکول میں بطور سائنس ٹیچر معقول تنخواہ پر ملازمت کر رہی تھیں، جبکہ ان کے شوہر ایک معروف دندان ساز (ڈینٹسٹ) اور میڈیکل کالج میں پروفیسر ہیں۔ ان کے خاندان کا کوئی بھی فرد نہ تو لاپتہ تھا اور نہ ہی ان کا ریاست کے ساتھ کوئی ذاتی عناد یا تنازع تھا۔
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسی خاتون جس کے پاس زندگی کی تمام آسائشیں موجود تھیں، اس بھیانک راستے پر کیوں نکلیں؟ تحقیقات اور ان کے ماضی کے ریکارڈ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ شاری بلوچ اپنی طالب علمی کے دور میں یونیورسٹی کے اندر قوم پرست اور بتدریج شدت پسند نظریات کی گہری لپیٹ میں آ چکی تھیں۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق، بعض اوقات پڑھے لکھے اور حساس افراد انٹرنیٹ، سوشل میڈیا پراپیگنڈے اور مخصوص حلقوں کے سیاسی بیانیے سے اس حد تک متاثر ہو جاتے ہیں کہ وہ زمینی حقائق سے دور ہو کر ایک نظریاتی جنون کا شکار ہو جاتے ہیں۔
شاری بلوچ کی "برین واشنگ" یا نظریاتی شدت پسندی اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ انہوں نے پرامن سیاسی و سماجی جدوجہد پر یقین رکھنے کے بجائے کالعدم تنظیم 'بی ایل اے' کے مجید بریگیڈ میں شمولیت اختیار کی اور خود کو ایک انسانی بم میں تبدیل کر لیا۔
شاری بلوچ دو معصوم بچوں آٹھ سالہ ماہ روش اور چار سالہ میر حسن کی ماں تھیں۔ ایک ماں، جس کا بنیادی وصف محبت، تحفظ اور زندگی کی آبیاری ہوتا ہے، وہ اپنے نظریاتی جنون میں اس حد تک اندھی ہو گئی کہ اس نے اپنے بچوں کو ہمیشہ کے لیے یتیم چھوڑنے کا انتخاب کیا۔
المیہ صرف یہاں ختم نہیں ہوتا، بلکہ اس وحشیانہ اقدام کے نتیجے میں انہوں نے جن چینی اساتذہ کی جان لی، وہ پاکستان میں علم کی شمع روشن کرنے آئے تھے اور ان کے اپنے بھی معصوم بچے اور خاندان تھے جو ان کی واپسی کے منتظر تھے۔ اس حملے نے نہ صرف معصوم جانیں لیں بلکہ علم، استاد اور مہمان نوازی کے رشتوں کو بھی پامال کیا۔
معاشی آسودگی یا اعلیٰ تعلیم انتہا پسندی کے خلاف کوئی ضمانت نہیں ہیں۔ جب تک تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کو شدت پسند نظریات کے پراپیگنڈے سے بچانے اور انہیں تعمیری، مثبت اور پرامن راستوں کی طرف راغب کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جائیں گے، تب تک معصوم ذہن اسی طرح انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔ شاری بلوچ کا یہ قدم بلوچستان کی محرومیوں کا حل نہیں تھا، بلکہ اس نے پیچھے صرف معصوم بچوں کی بربادی، بے گناہ انسانوں کا خون اور معاشرے کے لیے ایک گہرا صدمہ چھوڑا ہے۔
Zimal chakar retweeted
بلوچ لڑکیوں کا ایسا گھناؤنا استعمال کبھی کسی نے نہیں کیا جو بی ایل اے اور بی ایل ایف کی جانب سے کیا جارہا ہے۔
گوادر حملے میں جو بلوچ لڑکی نظر آئی،اس کے پیچھے مسلسل کئی سال کی محنت ہے جو بی وائے سی کے پلیٹ فارم سے کی گئی۔
آپ جانتے ہیں کہ کوئٹہ چھوڑ کر گوادر میں دھرنے دیے جاتے تھے،درحقیقت وہ اسی مقصد کے تحت سب ہوتا تھا کہ بلوچ معصوم لڑکیوں کو اپنے عزائم کے لئے استعمال کیا جائے۔
جو لڑکیاں بلیک میلنگ یا استحصال کے باعث لاپتہ ہوئی تھیں،ان کے والدین نے رپورٹس بھی درج کرائیں اور دہشتگرد تنظیموں نے ریاست کے خلاف لاپتہ کرنے کا پروپیگنڈہ کیا۔آج وہی لڑکیاں زبردستی دہشتگرد حملوں میں استعمال کی جارہی ہیں۔
Zimal chakar retweeted
بلوچستان کی سرزمین ہزاروں سال پرانی تہذیب، تاریخ اور ثقافتی ورثے کی امین ہے۔ مہرگڑھ کی قدیم تہذیب سے لے کر تاریخی عبادت گاہوں تک، بلوچستان برصغیر کی تاریخ میں منفرد مقام رکھتا ہے۔
بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں واقع ہنگول نیشنل پارک پاکستان کے سب سے بڑے قومی پارکوں میں شامل ہے، جسے 1988 میں قومی پارک کا درجہ دیا گیا۔
اسی پارک میں صدیوں پرانا ہنگلاج ماتا مندر واقع ہے، جسے نانی مندر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ہندو مذہب کے مقدس ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے، جہاں ہر سال ہزاروں عقیدت مند زیارت کے لیے آتے ہیں
Zimal chakar retweeted
Watch the Hazara Parkour Boys defy gravity and stereotypes as they bring a unique sport to Balochistan.
Zimal chakar retweeted
بی ایل اے کے کارندے جہاں بھی چھپے ہوتے ہیں سیکیورٹی فورسز کے پاس ایسی ٹیکنالوجی اور وسائل ہیں کہ انہیں تلاش کرلیتے ہیں،مستونگ میں خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا گیا جہاں بی ایل اے کا خفیہ ٹھکانہ تباہ کردیا گیا اور 3 کارندوں کو ہلاک کردیا گیا
Zimal chakar retweeted
آپ پنجگور کے اس بچے کی گفتگو سنیں آپ کی روح کانپ اٹھے گی۔
نابالغ بچوں کو ٹک ٹاک سے بی ایل اے نے ورغلایا،اپنے پاس پہاڑوں پر لیکر گئے،جنسی استحصال کیا گیا،بلیک میل کیا گیا،خود کش،چوری ڈکیتی پر مجبور کیا گیا۔
یہ ہے بی ایل اے کا اصل چہرہ جو بلوچ حقوق کے نام پر بلوچ شناخت اور نسل کی دھجیاں اڑارہے ہیں۔
Zimal chakar retweeted
کالعدم تنظیم بی ایل ایف کی خاتون کمانڈر بلقیس دیدگ عرف الماس کی ہلاکت کے پیچھے محبت کے فریب، نازیبا ویڈیوز اور بلیک میلنگ کی ایک ایسی اندرونی کہانی منظرِ عام پر آئی ہے جس نے ہر سننے والے کو دنگ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، بلقیس دیدگ کو تنظیم ہی کے ایک اور کمانڈر، شیراز عرف شیش ناگ، نے اپنی شناخت کی طرح انتہائی زہریلے اور شاطرانہ انداز میں اپنے جال میں پھنسایا۔
شیراز نے پہلے بلقیس کو محبت کے جھوٹے خواب دکھائے اور پھر دھوکے سے اس کی نازیبا ویڈیوز بنا لیں۔ بلقیس کے والدین انتہائی غریب اور معاشرتی دباؤ کا شکار تھے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیراز عرف شیش ناگ نے اسے ان ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔
بدنامی کے خوف اور بلیک میلنگ سے مجبور ہو کر بلقیس کو اپنے گھر بار کو چھوڑ کر پہاڑوں کا رخ کرنا پڑا۔ لیکن وہاں اس کا کوئی احترام یا مقام نہیں تھا، بلکہ تنظیم کے اندرونی کیمپوں میں اس کا شدید استحصال کیا گیا اور اس کی مجبوری کا بھرپور فائدہ اٹھایا گیا۔ اسی ذہنی و جسمانی اذیت اور استحصال کے خوفناک چکر کا انجام آخر کار گوادر میں اس کی زندگی کے خاتمے کی صورت میں ملا۔
اس واقعے نے بلوچ معاشرے میں ایک شدید بحث اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ صدیوں پرانی بلوچ روایات، جہاں خواتین کی عزت اور حرمت کو سب سے مقدم سمجھا جاتا ہے، ان تنظیموں کے ہاتھوں بری طرح پامال ہو رہی ہیں۔ مقامی عمائدین کا کہنا ہے کہ یہ تنظیمیں بلوچ حقوق کے نام پر دراصل بلوچ غیرت اور عزت کو نیلام کر رہی ہیں۔
عام بلوچ شہریوں میں یہ احساس شدت اختیار کر رہا ہے کہ ان تنظیموں کی سرگرمیوں سے نہ صرف بلوچ قوم بدنام ہو رہی ہے، بلکہ عام بلوچ خواتین کی عزت اور تحفظ بھی شدید خطرے میں ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حقوق کی آڑ میں یہ گروہ خود بلوچوں اور ان کی خاندانی اقدار کے سب سے بڑے دشمن بن کر ابھرے ہیں، جن کا خمیازہ معصوم اور غریب خاندانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
Zimal chakar retweeted
بلیدہ کا سلمان نشے کا عادی تھا،بی ایل اے ایسے شکار تلاش کرتی ہے،سلمان کو بھی بی ایل اے نے شارٹ لسٹ کیا اور آہستہ آہستہ اپنے چُنگل میں پھنسایا،نشے کا مزید عادی بنایا اور اب پہاڑوں پر لے گئے ہیں۔
جیسے ہی کسی بلوچ نوجوان کو گمراہ کرکے پہاڑوں پر لیکر جاتے ہیں دوسری جانب بی وائے سی جیسے پلیٹ فارمز سے لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کرکے پروپیگنڈہ شروع کردیا جاتا ہے۔
لیکن آج تربت پریس کلب میں سلمان کے والد نے بتایا ہے کہ اُس کے بیٹے کو بلوچ شناخت کے دشمن گمراہ کرکے پہاڑوں پر لے گئے ہیں،میرا اب اُس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
Zimal chakar retweeted
بلوچستان کی خواتین کے لیے صحت کی سہولیات اب ان کی دہلیز پر !
بلوچستان کے 500 سے زائد بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) میں ٹیلی میڈیسن کے ذریعے علاج کی سہولت شروع کرنے کا منصوبہ ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے 85 فیصد خواتین مستفید ہوں گی
قبائلی روایات، مقامی ضروریات اور خواتین کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب قلعہ سیف اللہ، کوہلو، گوادر سمیت دور دراز علاقوں کی خواتین آغا خان کراچی کے ماہر ڈاکٹروں سے طبی مشورے اور علاج کی سہولت حاصل کر سکیں گی، وہ بھی اپنے علاقے میں رہتے ہوئے
یہ صرف جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں، بلکہ بلوچستان کی خواتین کے لیے صحت کی بہتر سہولیات، آسان رسائی اور باوقار علاج کی جانب ایک اہم قدم ہے اب جغرافیائی فاصلے اور سہولیات کی کمی بہتر علاج کی راہ میں پہلے جیسی رکاوٹ نہیں بنیں گے
Zimal chakar retweeted
بلوچ بیٹی عالمی اعزاز جیت رہی ہے، دوسری طرف کچھ بلوچ خواتین مسلح تنظیموں کا حصہ بن رہی ہیں فرق راستوں کا ہے، شناخت کا نہیں
پنجگور کی ڈاکٹر گل سیمین میروانی نے ینگ کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ انٹرنیشنل ایوارڈ جیت کر ثابت کیا کہ مشکلات کو پیچھے چھوڑ کر محنت، تعلیم اور قابلیت کے ذریعے دنیا میں مقام بنایا جا سکتا ہے
یہ کامیابی اُن بلوچ خواتین کے لیے بھی ایک پیغام ہے جو مسلح تنظیموں کا حصہ بن چکی ہیں کہ بلوچ قوم کی خدمت کے لیے تشدد ہی واحد راستہ نہیں۔ علم، طب، تعلیم اور سماجی خدمت کے ذریعے بھی اپنی قوم کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے
ڈاکٹر گل سیمین جیسی بیٹیاں امید، حوصلے اور روشن مستقبل کی علامت ہیں بلوچ خواتین کی اصل طاقت اُن کی صلاحیتیں ہیں، اور بلوچستان کا مستقبل امن و ترقی سے جڑا ہے
Zimal chakar retweeted
گوادر میں بی ایل ایف کے حملے ناکام بنانے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے آپریشن مکمل کرلیا تو دوسری جانب گوادر کے بازاروں میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے،بازاروں میں رونق بی ایل ایف کو پیغام دے رہی ہے کہ بلوچ عوام اب اُن سے نہیں ڈرتے
Zimal chakar retweeted
اللہ نذر کی اپنی بیوی کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہیں جبکہ اللہ نذر بلوچ بچیوں کے ہاتھوں میں ہتھیار دے رہا ہے ۔ یہ قوم کے نہیں ڈالرز کے بیوپاری ہیں ۔ جو ڈالرز کیلئے ہماری قوم کی بچیوں کی زندگیوں کا سودا کررہے ہیں ۔
Zimal chakar retweeted
بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس کا کبھی کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا! جن ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی حرمت اور تحفظ کے لیے بلوچ مرد اپنی جانیں قربان کر دیا کرتے تھے، آج انہی خواتین کو کالعدم تنظیموں (بی ایل اے اور بی ایل ایف) کی ویڈیوز میں ہتھیار اٹھائے، بارود کے سائے میں کھڑا دکھایا جا رہا ہے۔ یہ بدلتا ہوا منظر نامہ محض ایک تنظیمی تبدیلی نہیں، بلکہ بلوچ معاشرے کے غیرت، تحفظ اور خاندانی نظام کے بنیادی اصولوں پر ایک گہرا سماجی المیہ اور خود کش حملہ ہے۔
پہاڑی علاقوں یا عسکری کیمپوں سے جاری ہونے والی یہ گلیمرائزڈ تصاویر ان خواتین کے اندرونی حالات اور کرب کو ظاہر نہیں کرتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلح تنظیمیں ان خواتین کو نشانہ بناتی ہیں جو کسی خاندانی حادثے، صدمے یا ذاتی محرومی کی وجہ سے شدید ترین جذباتی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں۔ ان کے اسی غم کا فائدہ اٹھا کر، انہیں ایک مخصوص نظریاتی بیانیے کے ذریعے اس خطرناک راستے پر دھکیل دیا جاتا ہے۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون اور دو بچوں کی ماں، شاری بلوچ کی کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملے میں شمولیت اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح ممتا اور خاندانی جبلت کو مسخ کر کے تنظیمی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ایک بار جب کسی خاتون کو پروپیگنڈا مقاصد کے لیے تصاویر یا ویڈیوز کا حصہ بنا دیا جائے، تو اس کے پاس واپسی کا کوئی آپشن نہیں چھوڑا جاتا۔ وہ قانون کی گرفت اور معاشرتی تنہائی کے خوف سے مستقل طور پر ان تنظیموں کے رحم و کرم پر آ جاتی ہیں۔ عسکریت پسند قیادت اپنے گرتے ہوئے گراف اور مرد جنگجوؤں کی کمی کو چھپانے کے لیے اب خواتین کو ایک سستی اور آسان انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
بلوچستان کی تاریخ ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ عورت کو معزز، محفوظ اور جنگ و جدل سے دور رکھا جاتا ہے۔ بلوچ غیرت کا تقاضا یہ رہا ہے کہ مرد اپنی خواتین کی حفاظت کے لیے خود کو خطرے میں ڈالتے ہیں، نہ کہ اپنی خواتین کو آگے کر کے خود ان کے پیچھے چھپتے ہیں۔ آج یہ صورتحال پورے بلوچ معاشرے اور خاص طور پر غیرت مند بلوچ مردوں کے لیے ایک گہرا لمحہ فکریہ ہے:
کیا وہ اپنے معاشرے کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو اس طرح جنگ کے ایندھن میں جھونکے جانے کی اجازت دے سکتے ہیں؟
کیا اپنے ہی گھر کی عورتوں کو اس خطرناک راستے پر دھکیلنا بلوچ روایات کی کھلی توہین نہیں؟
سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ ان مسلح تنظیموں کے لیڈران خود بیرونِ ملک محفوظ پناہ گاہوں میں پرآسائش زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ یہاں معصوم اور جذباتی طور پر مجبور بلوچ خواتین کو بندوقیں تھما کر موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے۔ کسی ایک خاتون کے عسکریت پسندی میں شامل ہونے کا مطلب صرف اس کی اپنی جان کا نقصان نہیں، بلکہ اس سے جڑے والدین، شریکِ حیات اور معصوم بچوں کے مستقبل کی مکمل بربادی ہے۔














