
Journalist beyond borders.Correspondent @indyurdu|Formerly:VOA Washington,DC| Mashaal RFE|KhyberNews|Isafzai Pukhtana,Akazai Khan-Khela. Swabiwala.
Washington, DC 🇱🇷
Joined December 2013
- Tweets25.1K
- Following638
- Followers71.2K
- Likes23.7K
Pinned Tweet
تھریڈ:ڈیورنڈ لائن تنازعہ:
حقائق کیا ہیں؟
گزشتہ روز ایک ٹرینڈ جس کا اردو ترجمہ “افغان ڈیورنڈ لائن تسلیم نہیں کریںنگے”پربطورخاص افغانستان آفیشلز اورعام عوام کی جانب سے زور و شور سے کہا جارہا تھا کہ وہ اس لکیر کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ لیکن کیا واقعئی ان کو حقیقت کا علم نہیں؟
جاری
عبدل السید امریکہ میں پہلے مسلمان سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں۔ مسلمان اور قابل نوجوان امریکہ میں اپنی جگہ بناتے جارہے ہیں۔ کیونکہ ان کو امریکی عوام اور خصوصاً نوجوان طبقے کی حمایت حاصل ہورہی ہے۔
اسی لیے عبدل السید کو پولز میں اپنے مخالف صدر ٹرمپ کے امیدوار مائک روجرز پر ایلان مسک اور اسرائیل حمایتی لابی ایپاک کے پیسوں کی برسات کے باوجود برتری حاصل رہی۔
ڈاکٹر عبدلرحمن عبدل السید میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھتےہیں اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر بھی ہیں۔ وہ ایک بہت اچھے orator ہیں۔
آج امریکی ووٹرز نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی کارکردگی پر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس نے سینیٹ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
ڈیموکریٹس سینیٹ کے لیے درکار پچاس نشستوں کی تعداد سے آگے نکل گئے ہیں۔ جبکہ غیرحتمی نتائج کے مطابق ریپبلکنز اب تک پچاس میں سے صرف 43 نشستیں حاصل کر چکے ہیں۔
اسی طرح، ایوانِ نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز پر واضح برتری حاصل ہے۔ اور ان کی لینڈ سلائیڈ جیت کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔
جہیز کے لیے ’’نہیں‘‘، سونے کے لیے ’’نہیں‘‘ کہیں۔ باآوازِ بلند اور واضح الفاظ میں۔
اگر شادی لین دین کا نام ہے، اگر ایک دوسرے کو پیسوں کے بدلے پیسے دینے ہیں، تو پھر نہیں۔
اگر ایک شخص اپنی ماہانہ تنخواہ سے گھر کے اخراجات پورے کرتا ہے اور شادی کے لیے اس سے سونے کے سیٹ بنوانے کا مطالبہ کیا جائے، تو یہ سودا مہنگا ہے۔
دوسری طرف، اگر لڑکی والوں سے میٹھے الفاظ میں جہیز کا ایسا مطالبہ کیا جائے جسے پورا کرنے کے لیے والدین اور بھائیوں کو قرض لینا پڑے یا جائیداد بیچنی پڑے، تو وہاں بھی ’’نہیں‘‘ کہنا بنتا ہے۔
کوئی شریف، غیرت مند اور محنتی لڑکا مل جائے گا۔ ایسا لڑکا جس کی ماہانہ تنخواہ میں سونا خریدنے کی گنجائش نہ ہو، لیکن آپ کی بیٹی کے لیے اس کے دل اور گھر میں بہت جگہ ہو۔
صاف کہہ دیں کہ آپ صرف شادی کرنا چاہتے ہیں۔ نہ کوئی جہیز ہوگا، نہ سونا، نہ تحفوں کی کوئی فہرست اور نہ ہی ایسے اخراجات کی کوئی شرط۔
۔۔
انیلا خالد
میرے گھر کے سامنے رکھے باسکٹ سے کینڈیز اور چاکلیٹس اٹھاتی ایک بچی۔
ہالووین کی رات بچے مختلف کاسٹیومز پہنے، ہاتھوں میں باسکٹس اٹھائے خوشی خوشی ایک گھر سے دوسرے گھر جا رہے تھے۔ جن گھروں کی روشنیاں جل رہی تھیں، وہاں دستک دیتے اور ٹریٹ جمع کرتے جا رہے تھے۔ ان کے معصوم چہرے، رنگ برنگے کاسٹیومز بہت ہی کیوٹ لگ رہے تھے۔ ❤️
اس مرتبہ بچوں کا جوش اور ولولہ زیادہ تھا کیونکہ اس بار بڑی تعداد نظر آئی۔
#TrickOrTreat #Halloween2026
#HalloweenNight
The view right now.
Fall has officially started.
پتے تیزی سے سرخ، کاسنی، نارنجی،اور زرد ہو رہے ہیں۔ میرے گھر کے احاطے کی ایک تازہ تصویر۔
#خزان
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن کیا بزرگ خواتین کی عمر اور صحت کو ضمانت کے معاملے میں مدنظر نہیں رکھا جا سکتا؟ 74 سالہ ڈاکٹر یاسمین راشد مئی 2023 سے قید میں ہیں، جبکہ 70 سالہ نورین نیازی اور ان کی بہنیں بھی ستمبر 2026 سے ایم پی او کے تحت حراست میں ہیں۔
ڈاکٹر یاسمیں راشد کے معاملے میں ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 497 کے تحت ضمانت پر غور کرنا انسانی ہمدردی اور بنیادی حقوق کے تقاضوں میں شامل ہے۔ کیونکہ اس قانون کے تحت بعض حالات میں خواتین، بیمار اور کمزور افراد کو ضمانت دینے کی گنجائش موجود ہے۔
اسی طرح، نورین نیازی کی ایم پی او کے تحت حراست میں مزید توسیع کے بجائے ان کی رہائی پر انسانی بنیادوں پر غور کیا جانا چاہیے۔ بنیادی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پشاور کے رنگ روڈ پر سکول کی چھت گرنے کا واقعہ دل چیر دینے والا ہے۔ تفصیلات لکھنے کا حوصلہ نہیں۔ خدا غارت کرے اُن لوگوں کو جنہوں نے پیسے بچانے کی خاطر معصوم بچوں کی جانیں خطرے میں ڈالیں۔
ضلع خیبر میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی کے بعد فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔ متعدد افراد کے زخمی ہونے اور ایک شخص کے جاں بحق ہونے کی خبریں ہیں، زخمیوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔
پچھلی مرتبہ، نومبر 2024 میں، پی ٹی آئی کا اسلام آباد احتجاج بہت بڑا تھا۔ گرفتاریوں، جانی نقصان، رکاوٹوں، آنسو گیس اور شدید کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اب اگر دوبارہ یہ سب خطرات جانتے ہوئے بھی لوگ نکل رہے ہیں تو یہ بہت بڑی مزاحمت ہے۔ اسی لیے اب اگر چند ہزار بھی ہوں، تعداد matter نہیں کرتی۔
ایک اہم بات۔
یہ مزاحمت صرف سیاسی مطالبات تک محدود نظر نہیں آتی۔ اس میں دہشت گردی کے چنگل سے آزاد ہونے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
مجھے حیرانی ہو رہی ہے کہ ان کے گھروں کی خواتین بھی خطرات سے آگاہ ہوں گی۔ پھر بھی اپنے پیاروں کو روک نہیں رہیں۔
حاجرہ طارق سے کوئی چھ سات سال پہلے پشاور میں ملاقات ہوئی تھی۔ ایک چھوٹا سا فنکشن تھا۔ مجھے اس وقت معلوم نہیں تھا کہ وہ کون ہیں، لیکن ایک بہت ہی گریس فل اور قیمتی سفید لباس زیب تن کیے وہ باقی خواتین سے بالکل الگ نظر آ رہی تھیں۔
جب پتا چلا کہ وہ طارق عزیز کی اہلیہ ہیں تو ان سے کافی بات چیت ہوئی۔ وہ اپنے شوہر کو بہت یاد کر رہی تھیں۔ بتا رہی تھیں کہ طارق عزیز ان سے بہت محبت کرتے تھے اور ان کے جانے کے بعد اب بس زندگی گزار رہی ہیں۔
ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اپنے شوہر کے لیے ان کی محبت اور ان کے انتقال کا غم ان کی باتوں سے نمایاں تھا۔
نامور پاکستانی اداکار و کمپیئر طارق عزیز مرحوم کی اہلیہ حاجرہ طارق ایک ڈاکٹر ہیں ، انہوں نے بتایا ہے کہ طارق عزیز مرحوم انتقال سے قبل ہی اپنا سب کچھ پاکستانی خزانے میں جمع کروا چکے تھے ، طارق عزیز مرحوم کی وصیت میں یہ بات بھی شامل تھی کہ انکی آنکھیں عطیہ کر دی جائیں لیکن بروقت پتہ نہ چلنے کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا ، حاجرہ طارق عزیز نے بتایا کہ اولاد نہ ہونے کا طارق عزیز کو ذرا بھی غم نہ تھا ، البتہ مجھے آج اولاد کی کمی ضرور محسوس ہوتی ہے ۔ محترمہ حاجرہ طارق نے شکوہ کیا کہ طارق عزیز کے انتقال کے بعد حکومتی سطح پر کسی نے ان کا حال تک نہ پوچھا ۔۔۔۔
Love has its own standards of beauty.
People here in America value loyalty more.
This quoted post is unavailable.
تنقید نقطہ نظر اور رائے کا اختلاف ہوتا ہے۔ یہ فریڈم آف ایکسپریشن ہے۔ اس لیے جائز ہے۔ سیاسی جماعتوں پر تنقید ہوتی رہتی ہے۔ لیکن اگر بات تنقید کی بجائے الزام کی شکل اختیار کرے تو وہ غلط ہوتا ہے۔
سیاسی پارٹی پر تنقید جائز ہے، لیکن مارچ کو بنیاد بنا کر ایک پورے صوبے کے لوگوں کو مشکوک، خطرناک یا فتنہ پرور بنانا غلط ہے۔ بلکہ نہایت خطرناک ہے۔ خاص طور پر جب مطالبات واضح ہوں۔
یہ تنقید ان لوگوں اور صحافیوں پر ہے جو کہیں سیاسی اور کہیں نسلی تعصب کی بنیاد پر ایسی باتیں کر رہے ہیں۔
سہیل آفریدی بار بار پختون کی جگہ "پاکستانی" لکھ رہے ہیں۔ بات تو ٹھیک ہے، پاکستانی ہیں۔ لیکن نکل رہے ہیں پختون۔
انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے-
آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔
5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے-
6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔
7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔
8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔
A photo from the wild yesterday. The weather is changing rapidly, and the leaves are changing clothes, putting on their colorful ones. Spotted a few. 🍁
#autumn is coming.















