Iran-US conflict just hit a tipping point.
US midterms next week + Israeli elections this week (Netanyahu’s future on the line) have both sides talking heavy strikes on Iran to sway voters.
But nothing major changes. Business as usual continues.
What will change is the politics inside the US and Israel and that could be better for the world long-term.
ایران اور امریکہ کا تنازع ایک ٹپنگ پوائنٹ پر پہنچ چکا ہے۔
اگلے ہفتے امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشن ہونے والے ہیں اور اس ہفتے اسرائیل میں قومی انتخابات نیتن یاہو کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ ووٹرز کی رائے متاثر کرنے کے لیے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے بھرپور حملوں کی باتیں ہو رہی ہیں۔
لیکن آپ اطمینان رکھیں۔ کوئی غیر معمولی حالات تبدیل نہیں ہوں گے اور بزنس ایز یوزول چلتا رہے گا۔
ہاں، البتہ امریکہ اور اسرائیل کے اندرونی سیاسی حالات ضرور بدل جائیں گے، جو طویل مدت میں دنیا کے لیے بہتر کی امید لے کر آئیں گے۔
Shahid Akhter | Optimist retweeted
سینئر صحافی مطیع اللہ جان صاحب کے طرز کلام یا الفاظ کے چنائو پہ اعتراض کیا جاسکتا ہے جیسا کہ کسی کے حوالے سے بھی ایسا اعتراض کیا جاسکتا ہے لیکن مطیع اللہ جان صاحب کبھی بھی مقبول بیانیے کے ساتھ نہیں گئے بلکہ ہمیشہ اصولوں کے ساتھ کھڑے ہوئے، ہمیشہ جمہوریت، انسانی حقوق، میڈیا کی آزادی کے لئے جدوجہد کی۔
پی ٹی آئی کے دور میں جنرل باجوہ اور اس وقت کی ہائبرڈ حکومت پہ کھلے عام تنقید کی، قاضی فائز عیسی کے ریفرنس معاملے پہ قاضی کے لئے آواز بنے، پانامہ کے ہنگامے میں چھپے ہاتھوں کو بے نقاب کرتے رہے۔ ہمارے کئی سینئر صحافی جنہیں پی ٹی آئی کے دور میں فوجی مداخلت، عدالتی مداخلت پہ بڑے اعتراضات تھے، ججوں کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے ان میں سے زیادہ تر نے توبہ تائب کرتے ہوئے فوج سے رجوع کیا اور اپنا قبلہ درست کیا۔ وہ اب پی ٹی آئی کے خلاف جاری ریاستی جبر کو جسٹیفائی کرتے نظر آتے ہیں، نہ اب ان کے لئے انسانی حقوق کوئی مسئلہ ہیں اور نہ ہی انہیں اب کوئی جمہوریت یا جمہوری روایات کی کچھ فکر، نہ انہیں فوجی مداخلت پہ بھی کوئی اعتراض ہے اور نہ انہیں عدلیہ تباہی پہ کچھ رنج یا دکھ لیکن مطیع اللہ جان ان سب سے کل بھی الگ تھا اور آج بھی الگ ہے اسی لئے پی ٹی آئی دور میں بھی مقدمے بھگتا رہا اور آج بھی ایک جعلی مقدمے کو بھگت رہا ہے، نوکری اس کی چھین لی گئی ہے لیکن وہ اپنی لگن اور ایمانداری سے اپنا صحافتی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ مطیع اللہ جان مقبول بیانیے نہیں بلکہ ہمیشہ اصولوں کے ساتھ کھڑا ہونے والا شخص ہے۔ مطیع صاحب کے طرز کلام پہ اعتراض کیجیے کھل کر کیجئیے لیکن اسے مقبول بیانیے کے لئے بکنے والا لغو الزام تو نہ دیں۔
@Matiullahjan919
In the comments of this post, most people say Islam is the biggest threat to modern society. Islam is the only religion on the list. What danger can a religion cause to society? Islam has been around for 1,400 years. It is one of the biggest and fastest-growing religions in the world today. Why is it on the list? And why do so many people blame it when they do not know what Islam really teaches?
Maryam Sharif is acting like a tribal chief rather than a modern leader. She has already allowed the police to bypass the courts and punish people on the spot. She has also shown she does not trust the judiciary, even claiming on X that a high court judge was bribed.
This approach risks turning society into a lawless one. It took centuries to build a civilised system based on the rule of law. We should not reverse that progress. Instead of encouraging on the spot punishment, she should focus on improving the judiciary and strengthening the police.
ماورائے عدالت قتل، پولیس کا خود ہی جج بن کر فیصلہ معاشرے میں کوئی بہتری نہیں لا سکتا بلکہ یہ ریاست کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے اور ملک میں لاقانونیت کو بڑھانے میں مددگار ہے۔ دہشت گرد بھی اسی اصول کے تحت اپنے طور پر ظلم اور ناانصافی مٹا رہے ہیں۔
سابق آئی جی پولیس سید امام نے ڈان نیوز کے پروگرام ' زرا ہٹ کے' میں اس موضوع پر بہت اچھا تجزیہ کیا یے۔ worth to watch
Students in Sindh protested for months against the violation of merit in SPSC. In the end, they had to surrender. Not a single PTI central leader stood with them.
Imran Khan founded PTI as a movement for justice and meritocracy. Today, reports highlight extrajudicial killings by Punjab Police, rising poverty, hunger, and suicides due to unemployment and inflation. Yet these core issues of ordinary Pakistanis are missing from PTI’s agenda.
Instead of acting on Imran Khan’s vision and standing with the weak, PTI is only doing politics on his imprisonment. This is why, despite public sympathy, their protests continue to fail.
سہیل آفریدی کا قصور!
سہیل آفریدی پر احتجاج کی ناکامی کا سارا بوجھ ڈالنا غلط ہے۔
وزیراعلیٰ کا کام احتجاج کرنا نہیں۔ زیادہ سے زیادہ وہ پی ٹی آئی کے احتجاج کو سہولت دے سکتا ہے۔ احتجاج کی ذمہ داری پارٹی کی ہے، وزیراعلیٰ کی نہیں۔
اگر احتجاج ناکام یا کمزور رہا تو اس کی ذمہ داری پارٹی کے عہدیداران پر ہے۔ اتنے پرجوش اور جان نثار کارکنوں اور عوامی حمایت کے باوجود مؤثر احتجاج نہ کر پانا پی ٹی آئی کی تنظیمی کمزوری ہے۔
اس لیے سہیل آفریدی کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے پارٹی کے عہدیداران سے سوال پوچھنا چاہیے۔ تحریک انصاف کو نئے سرے سے منظم کریں نئے لوگوں کو پارٹی میں آگے لائیں
اقرار الحسن کی اصل کامیابی تین بیویوں کو بیک وقت خوش رکھنا ہے۔یہ اتنا بڑا کارنامہ ہے کہ شہباز شریف کو انہیں امن کے نوبل پرائز کیلئے recommend کرنا چاہیے۔
معید پیرزادہ
Pakistan is a country of 250 million people on the edge of a big crisis.
Army chief General Asim Munir is acting as the real ruler and is making the country more unstable to hold on to power.
Groups like the Taliban, Al-Qaeda, ISKP and other terrorists are ready to cause more destruction.
If the country falls apart, the world could face a huge humanitarian disaster. Millions of people might try to reach Europe.
The US and EU should not support the current setup when it cracks down on political activists. Stopping normal political activity will only give more space to terrorists.
ڈان نیوز کے پروگرام ' زرا ہٹ کے ' میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے جواز اور مستقبل میں مقتدرہ اور پی ٹی آئی کو درپیش چیلنجز پر تجزیہ۔
پنجاب میں احتجاج کو کامیاب بنانے کیلئے نسخہ:
پنجاب میں پی ٹی آئی کی آزاد قیادت میں سے زیادہ تر کسی وجہ سے مصلحت کا شکار نظر آتے ہیں اور کھل کر احتجاج کی قیادت کرنے سے کتراتے ہیں۔ یہ زیادہ تر معاشی، سماجی اور سیاسی طور پر کامیاب لوگ ہیں اور انکے پاس کھونے کیلئے بہت کچھ ہے اس لئے یہ لوگ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانا نہیں چاہتے۔ پنجاب میں تو بظاہر حکومت نے پی ٹی آئی پر مکمل کنٹرول کرلیا ہے۔ بہت سے کارکن اور رہنما جیلوں میں قید ہیں باقی ڈرے ہوئے ہیں۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ صوبہ میں تحریک انصاف کی حمایت ختم ہوگئی ہے بلکہ اگر آج بھی آزادانہ الیکشن کرائے جائیں تو ستر فیصد ووٹ پی ٹی آئی کو ہی پڑیں گے۔ حد درجہ سختی اور جبر کے باوجود آج بھی پی ٹی آئی کے عام کارکن اور ہمدرد آئین کی بالادستی کیلئے مزاحمت کرنے کو تیار ہیں مگر انکی رہنمائی کیلئے لیڈر شپ موجود نہیں ہے۔ اسکا ایک حل ہے کہ تحریک انصاف کی نئی قیادت کو سامنے آنے کا موقع دیا جائے۔ بیرون ملک پی ٹی آئی کے رہنما اور پاکستان میں موجود عمران خان سے مخلص قیادت ایک لائحہ عمل بنائیں۔ پنجاب میں تحصیل، یونین کونسل، محلوں اور دیہات لیول پر کارکنوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ احتجاج کرنے کیلئے مقامی طور پر باہر نکلیں، چائے پندرہ بیس کی ٹولیوں کی شکل میں کسی مین روڈ یا بازار میں عمران خان کی رہائی، آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے نعرے بازی کریں۔ اندرون اور بیرون ملک پی ٹی آئی کے ہمدرد یوٹیوبر اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ان کارکنوں کی حوصلہ افزائی کیلئے انکے نام اور فوٹو یا ویڈیو نشر کریں۔ باقاعدہ منصوبہ بندی سے اس مہم کا آغاز کیا جائے۔ اس طرح تحریک انصاف کی ایک نئی قیادت کو ابھرنے کا موقع ملے گا۔ انہی میں سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو اگلے الیکشن میں صوبائی اور قومی اسمبلی کے ٹکٹ دیئے جائیں۔ یقین مانیے یہ نئی لیڈر شپ تن من دھن سے اس احتجاج کو کامیاب بنائے گی کیونکہ انکے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں ہے۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی اصل وجہ!
کوئی نالائق ترین سیاسیات کا طالب علم بھی کے پی کے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کامیابی کے لیے ایمرجنسی کی صلاح نہیں دے گا۔
تو کیا مقتدرہ میں بیٹھے فیصلہ سازوں کی مت ماری گئی ہے؟
کہتے ہیں نا کہ جب گیڈر کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے۔
تو اسکا مطلب یہ ہے کہ موجودہ ریجیم کا وقت گنا جا چکا ہے۔
Only enemies of Pakistan thanking General Asim Munir for bringing the country into such terrible conditions.
If Laiba had even a little bit of trust in this system, that the fraudster would be caught and that she would get justice, she would have never committed suicide
روک شہ مڑا
ہمارے بعد کی نسلین قومی ترانے کیلئے کھڑی نہیں ہوں گی، ہمارے بعد کی نسلیں پاکستان کا جھنڈا نہیں اٹھائیں گی سہیل آفریدی۔
یہ الفاظ اس شخص کے ہیں جو خود کو ایک صوبے کا وزیراعلیٰ کہتا ہے اور ایسی آزادی بھی صرف پاکستان میں ہے جہاں ٹھہر کر آپ پاکستان کو توڑنے اور نفرت پھیلانے کا کام کر سکتے ہیں۔
اس لانگ مارچ میں یا اس سے پہلے کسی موقع پر سہیل آفریدی نے دہشتگردوں کی مذمت کی جو آئے روز پاکستانیوں کو مار رہے، جو آئے روز مسجدوں، بازاروں، حجروں، چیک پوسٹوں پر دھماکے کر رہے۔
جب سے سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بنا ہے کیا اس نے کبھی دہشتگردوں کی مذمت کی؟ کیا اس نے کبھی سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی مذمت کی؟ کیا یہ کبھی سیکیورٹی فورسز کے جنازوں میں گیا؟
لیکن یہ پاکستان ہے جہاں آپ ٹھہر کر پاکستان کو گالی بھی دے سکتے، پاکستان کو توڑنے کی بات بھی کر سکتے، پاکستان کے جھنڈے کی تذلیل بھی کر سکتے کیونکہ یہاں سب کو لامتناہی شتر بے مہار نام نہاد آزادی حاصل ہے۔
13 سال سے KP میں انکی حکومت ھے۔ چار سال وفاق میں یہ حکمران رھے۔ یہ اسی پاکستان کی نوازشیں ھیں جس کو یہ گالی دے رھے ھیں ۔ اسی پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ انکی ملی بھگت ھے۔ انکی وفاداری اقتدار اور صوبے اور وفاق کے وسائل کی لوٹ مار کے ساتھ ھے۔ یہ لوٹ مار اور اقتدار کے لئے وطن کی مٹی جس کو شہیدوں کے لہو نے سینچا ھے اس سے غداری کرنے کو ھر وقت تیار ھیں۔
اگر لائبہ کو پانچ فیصد بھی نظام انصاف پر یقین ہوتا تو وہ کبھی بھی یہ انتہائی قدم نہ اٹھاتی۔ اس کی موت کے سب سے پہلے ذمہ دار ملک کے انصاف کے سسٹم کو تباہ کرنے والے ہیں
یہ ہے ہمارا مستقبل۔۔۔۔💔
میرے ساتھ ہونیوالے فراڈ کامیرے والد کو نا بتانا،وہ مرجائیں گے ۔۔یہ ہے وہ آخری میسج جو اس طالبہ نے اپنے ماموں کو کیا ۔۔۔
اسلام آباد کی اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ نے گزشتہ روز مبینہ طور پر خود کشی کر لی جسکی لاش جی ٹین اتوار بازار کے قریب سے برآمد ہوئی۔۔۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ لائبہ جی ٹین میں رہائش پذیر تھی کل تقریباً 2 بجے گھر سے نکلی تھی۔۔۔اہلخانہ کہتے ہیں کہ لائبہ نے اسلامی یونیورسٹی سے گولڈ میڈل کیساتھ بی ایس کیا،مزید پڑھائی کیلئے بیرون ملک جانا چاہتی تھی ، ایک کنسلٹنٹ نے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ کروانے کیلئے 70 لاکھ روپے مانگے۔۔غریب باپ موٹرسائیکل پر دودھ فروخت کرکے بچوں کو پڑھا رہا تھا۔خود کرایے کے فلیٹ پر رہنے والے والد نے پلاٹ بیچ کر 21 لاکھ کیش ایجنٹ کو دیا۔۔باقی رقم کا انتظام کرنے کیلئے طالبہ کی والدہ کا زیور بینک میں رکھوایا گیا۔۔طالبہ نےیونیورسٹی میں داخلے کے ڈاکومنٹس چیک کروائے تو سب جعلی نکلے۔۔۔
اس ایجنٹ کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کوئی اور اپنے ادھورے خوابوں اور بھاری دل کے ساتھ اس دنیا سے رخصت نہ ہو ۔۔۔
مسئلہ یہ ہے کہ حکومت میں موجود سیاسی قوتیں فیصلہ سازی میں بے دست و پا ہیں۔ تو ایسے مذاکرات کا کیا نتیجہ ہوگا
عزیزِ من! مجھے اندازہ ہے کہ آپ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے شدید ناراض ہیں اور پھر ظاہر ہے کہ تحریک انصاف کے غیر تجربہ کار لوگوں کے رویوں سے بھی آپ کو شکایت ہوگی، اپنے پرانے نونی دوستوں نواز شریف اور شہباز شریف سے بھی گلہ ہوگا کہ دہائیوں کے تعلق کا پاس نہ رکھتے ہوئے انہوں نے نہ آپ سے علیحدہ ملاقات کی اور نہ وہ عزت و احترام دیا جس کے آپ مستحق ہیں۔ یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ آپ تحریک انصاف کی طرف سے بالا ہی بالا مولانا فضل الرحمٰن سے رابطے پر بھی خوش نہیں ہیں۔ حکومتی حلقے آپکی تنقید کے جواب میں کہتے ہیں کہ اسپیکر ایازصادق سے پہلے تو گاڑھی چھنتی رہی پھر بلوچستان میں ایک کسٹم کلکٹر کی تقرری پر اختلاف ہو گیا قائد حزب اختلاف کے پروٹوکول اور مراعات پر بھی اختلافات ہیں
jang.com.pk/news/1622984
ہر غداری اور عوام دشمنی کے ڈانڈے غیر منتخب صاحب اختیار افراد سے ملتے ہیں
پاکستان کے پانچ بڑے غداروں پر لکھا کالم جو شائع نہ سکا، خواہش ہے، اس کو دس لاکھ لوگ پڑھ لیں کہ خواہش پر کسی کا زور نہیں۔
حصہ اوّل (1/3)
غدارستان کی داستانِ الم
حصہ اوّل (1/3)
جس مقدار میں وطنِ عزیز نے قومی سطح پر غدار سیاسی رہنما پیدا کیے، شاید ہی کہیں اور دوسری مثال ملے۔ وطنی تاریخ میں محبِ وطن بمقابلہ غدارانِ وطن کی مردم شماری کی جائے تو محبِ وطن ڈھونڈنے سے نہ ملیں، جبکہ غدار بے شمار۔ ہر غدار پر لیبل ایک ہی کہ وطنی قومی لیڈرز ازلی دشمن بھارت کے بالواسطہ یا بلاواسطہ آلۂ کار ہیں۔
راولپنڈی سازش پر بیوروکریٹ، مؤرخ حسن ظہیر کی زبردست تحقیقی کتاب “The Times and Trials of the Rawalpindi Conspiracy 1951” سے چند اقتباسات: فروری 1951 میں میجر جنرل اکبر خان اور میجر جنرل نذیر نے 23 فروری 1951 کو خفیہ طور پر کئی دوسرے فوجی افسران کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا، جس میں حکومت کا تختہ الٹنے کی پلاننگ کی گئی، مگر سازش فوراً لیک ہو گئی اور 10 مارچ 1951 کو بغاوت کچل دی گئی۔ جیسے ہی 17 جنوری 1951 کو ایک پاکستانی جنرل نے کمان سنبھالی، جنرل اکبر نے بغاوت کے خدوخال استوار کرنا شروع کر دیے۔ میجر جنرل اکبر کا ٹرائل ٹریبونل کے سامنے بیان من و عن حاضر ہے: ’’حکومت نااہل، بدعنوان اور حساس قومی معاملات سنبھالنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔‘‘ اشارہ کشمیر بارے حکومتی حکمتِ عملی کی طرف بھی تھا۔
اگرچہ سازش 10 مارچ 1951 کو ناکام رہی، مگر 16 اکتوبر کو لیاقت علی خان کو شہید کر دیا گیا۔ درجِ ذیل ایک اور بھی: ’’لیاقت علی خان اور وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کے سامنے جب امریکہ کے تجویز کردہ 2 دفاعی معاہدے، سیٹو اور سینٹو، میں شمولیت کا سوال آیا تو دونوں وزرائے اعظم نے اپنے اپنے وقت میں شمولیت سے انکار کر دیا تھا۔ دونوں وزرائے اعظم کسی فوجی اتحاد کا حصہ بننے کی بجائے پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی کے حامی اور اسے برقرار رکھنا چاہتے تھے۔‘‘ حوالہ: ’’پاکستان فارن پالیسی‘‘، عبدالستار۔
تیسرا وزیراعظم محمد علی بوگرا باقاعدہ امریکہ سے نوکری کروا کر پاکستان پہنچے۔ حوالہ: ’’پاکستان کے پہلے سات وزرائے اعظم‘‘، نعیم احمد خان۔ بوگرا نے پہلی فرصت میں ہی سیٹو اور سینٹو پر دستخط کر دیے۔
ویسے تو ہر وزیراعظم اور درجنوں سیاستدان غداری کی سند سے مستفید ہیں، مگر میری غرض غداروں میں کچھ فرق رکھنا ہے۔ یعنی عوامی مقبولیت کے ریکارڈ توڑنے والے، عوامی پذیرائی سے مالامال سیاستدان جو بالآخر غداری کرتے پکڑے گئے، بات اُن سے ہے۔
Houthi-Saudi clashes are the newest flashpoint endangering regional and global peace. The US is distancing itself, while Pakistan and Turkey back Saudi Arabia via the Mecca Joint Defense Agreement.
The Houthis are recent, but Saudi-Yemeni friction dates to the founding of the modern Saudi state. Pakistan should not take sides in a dispute between two brotherly nations. It should only mediate for dialogue.
Wars solve nothing. Diplomacy must prevail. Sanity must win.













