ھي پنهنجي ئي ڌرتي جا نڌڻڪانوجوان آهن جيڪي ٽن ڏينهن کان ڪراچي يونيورسٽي سامهون تعليم جي حاصلات لاء ڌرڻو هڻي ويٺا آهن پر ڌرتي فروش پيپلن کي ڪاپرواه ئي ناهي ته وڃي هنن جي ڳاله ٻڌن باقي اتيMQM يا جماعتی هجن ها ته سڀ وزير وڃي پيرن تي ڪري انهن جا مطالبا تسليم ڪن ها
@cmhousesindh
پيپلزپارٽي جي چور ڪرپٽ وڏيرن جي منهن تي جوتو رکي ڪراچي ۾ سنڌ مخالف ڪراچي تي قبضو ڪرڻ جي ديده دليري سان سازش رٿي پئي وڃي پر اتي پوليس لاٺي چارج نه ڪندا ڇو جو هي سنڌي استاد ناهن
@sharjeelinam @MuradAliShahPPP
کراچی میں انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، 29 نومبر کو شاہراہ فیصل پر بھرپور احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا جائے گا،
بلدیاتی اختیارات پر قدغن اور قانونی ترامیم کے خلاف سندھ اسمبلی کے اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا جا رہا ہے، سینئر رہنما وسیم اختر
#MQMPakistan
@allaboutmqm
یہ لعنت کی پیداوار نسل پرست چاہتےہیں کراچی یونیورسٹی کو مہاجریونیورسٹی بنادیں تاکہ یہاں لسانی دہشتگرد انڈیا سے انےوالے پناہگیر غیرمقامی مالک بن کر تعلیم حاصل کریں اور انکو پناہ دینےوالے دھرتی مالکوں کے بچے اپنی سرزمین پر فلسطینیوں کی طرح دربدر کی زندگی گذاریں
یہ کراچی کےشوسنہاہیں
جامعہ کراچی جیسے تاریخی اور اعلیٰ تعلیمی ادارے کی زمین کو لسانی نفرت، تفرقہ بازی اور تعصب پھیلانے کے لیے استعمال کرنا انتہائی شرمناک ہے۔ اس سے بھی زیادہ قابلِ مذمت بات یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور رینجرز کی موجودگی میں کھلے عام آئینِ پاکستان کی دھجیاں اڑائی جائیں اور ریاست خاموش تماشائی بنی رہے۔ اگر سیکیورٹی ادارے نفرت انگیز تقاریر کو روکنے میں ناکام ہیں تو ان کی موجودگی کی افادیت پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
اب زرا ان موصوف کی لسانی جہالت ملاحظہ فرمائیں سعودی عرب میں ملازمت کے اقامے پر جانے اور 1947ء میں اپنا سب کچھ قربان کر کے پاکستان بنانے والوں کا موازنہ کرنا انتہائی درجہ کی عقل و فہم سے محرومی اور شدید تعصب کو ظاہر کرتا ہے۔ 1947ء میں ہجرت کرنے والے کوئی عارضی مزدوری کے لیے ویزا لے کر نہیں آئے تھے، بلکہ وہ اس ملک کے بانی، اس کی زمین کے وارث اور اس کے آئینی و قانونی شہری تھے۔ پاکستان کی بنیاد ہی ان لاکھوں مہاجرین کے خون اور قربانیوں پر رکھی گئی تھی۔
پاکستان کا آئین اور 1951ء کا 'پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ' تمام شہریوں کو برابر کا حق دیتا ہے۔ "مہمان" کہہ کر کروڑوں شہریوں کو ان کی زمین، حقوق اور شناخت سے محروم کرنے کا خواب دیکھنے والے تعصبی لسانیت سے لتھڑے حرامزادے یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ ملک کسی ایک لسانی حرامخور ٹولے کی موروثی جائداد نہیں ہے۔ پاکستان کے ہر انچ پر اس کے ہر آئینی شہری کا اتنا ہی حق ہے جتنایہ متعصب سوچ رکھنے والے اپنا سمجھتے ہیں ۔
آئینِ پاکستان کے تحت لسانی بنیادوں پر شہریوں کی توہین کرنا، تفریق پیدا کرنا اور نفرت پھیلانا سنگین جرم ہے۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا تو یہ تھا کہ ایسے تمام تفرقہ انگیز لسانی اور متعصب عناصر کے خلاف فوری طور پر پیکا (PECA) اور تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کر کے سخت قانونی کارروائی کی جاتی، لیکن اس کے برعکس انہیں تحفظ اور سہولت فراہم کر کے جامعہ کراچی جیسے اعلیٰ تعلیمی ادارے کو لسانی سیاست، نفرت اور انارکی کا گڑھ بننے دیا جا رہا ہے۔
سنڌي صحافين کي گهرجي ته وزيرداخلا کان سوال ڪن ته ڪراچي پوليس جاڌاريا افيسر اردوميڊيا ۾ سنڌي شناخت سان ماڻهن کي پيش ڪري ڪرائيم کي لساني رنگ ڇو ٿا ڏين؟ ٻيو ته پيپلا سنڌين لاءڪو چڳو ڪم نٿا ڪن پر گهٽ ۾گهٽ اها لساني حرڪت ته بندڪرائين
@aajizjamali7 @q_Asif @MushtaqSarki @AHameedSoomro
پیپلزپارٹی کی تو کرپشن MQMاورجماعتیوں نے غیرت ہی نکال دی ہے۔ اپنےماتحت @SindhPoliceDMC افسران کو کھلا چھوڑ دیا ہےکہ وہ کرمنلز سےانکی قومیت اور اتا پتہ معلوم کرکےمیڈیاپریہ تاثر دیں کہ کراچی میں ڈکیت صرف سندھی ہیں
کیا پنجابی/اردواسپیکنگ سےاسطرح لسانی شناخت یہ متعصب پولیس پوچھتی ہے؟
یہ احسان فراموش کراچی کو الگ کرنےکی سازش کرکےکہتاہےکراچی سے سندھیوں کو نکالیں گےجواب میں کوئی کہے تم نکلو تو ہےمعصوم بنکرکہتاہےہمیں سندھی انڈیا جانے کاکیوں کہتےہیں
اگربرابری نہ ہوتی تو آج خبریں پڑھنےکےبجائے اپنےگرائیوں کی طرح ڈھاکہ کے کیمپوں میں زلت کیڑےمکوڑے کی زندگی گذاررہےہوتے
کراچی پولیس کے "بہادر" ہونہار تنوالی اعوان گجر افریدی اہلکاروں سے ایک گن کیساتھ آۓ دو ڈکیت نہیں پکڑے گئے
چار اہلکار چار بندوقیں اور سامنے ایک ریوالور پھر بھی پولیس ناکام
اس پورے عملے کو نوکری سےنکالا جائے
@SindhPoliceDMC @KarachiPolice_
ڈفینس کلفٹن تھانوں میں تنولی اعوان آفریدی کابڑا راج ہے
سمجھ سےباہرہےیہ ہزارہ وال @SindhPoliceDMC میں کیوں لاڈلےہیں
DHAمیں سپاہی وقاص تنولی اسامہ تنولی نےدادو سےآۓمزدوراکرم دایو کوکہاسندھی ہوکراچی کیوں آۓہوتلاشی دو20000لوٹ کر تشدد کرکےفرار ہوگئے
لعنت کراچی میں سندھیوں کےدشمنPPPپر
ريڊزون گورنرهائوس اڳيان جماعت اسلامي وارا قلم144باوجود مهينو ڌرڻو هڻي ويهي رهيا پرمجال آهي جو ڪرپٽ نالائق سنڌ دشمن پيپلن هڪ لٺ وهائي هجي
پرجيئن استاد پريس ڪلب وٽ پهتا ڳالهيون ڪرڻ بجائي نامراد شاه هڪدم پوليس کي حڪم ڏنو سنڌي آيا اٿئو هڻو لٺيون ڀڃايو MQMياجماعتي ناهن جو ڇڏي ڏيو نه
جامعہ کراچی میں%99عملہ مہاجر/پنجابی ہےتنخواہ یونیورسٹی سےلیتےمگرکوئی رکشہ چلا رہا کوئی کریم اوبر تو کسی نے دکان کھولی ہوئی ہے
پھربچنےکیلئے مہاجر شناخت کا شیلٹر لےلیا
ناجائزفائدےکیلئےکئی پنجابی بھی مہاجربن جاتےہیں۔ابMQM لیڈر نےHECکو خط نہیں لکھناکیونکہ یہ سندھی نہی
@sabheenghoury
Remember him too, @ShahnawazDahani who wished Hindu community Happy Diwali as part of Sindhi culture in 2023, just as Punjabis wish Baisakhi, since then he has been unofficially banned from playing international cricket by @TheRealPCBMedia they did same with @DanishKaneria61
پیپلزپارٹی کی تو کرپشن MQMاورجماعتیوں نے غیرت ہی نکال دی ہے۔ اپنےماتحت @SindhPoliceDMC افسران کو کھلا چھوڑ دیا ہےکہ وہ کرمنلز سےانکی قومیت اور اتا پتہ معلوم کرکےمیڈیاپریہ تاثر دیں کہ کراچی میں ڈکیت صرف سندھی ہیں
کیا پنجابی/اردواسپیکنگ سےاسطرح لسانی شناخت یہ متعصب پولیس پوچھتی ہے؟
پیپلزپارٹی کے نااہل نالائق عناصر کو ان جماعتیوں اور MQM کےغنڈہ عناصر نے بہت اچھی طرح جان لیا ہے۔یہ نااہل شاگردوں کو پاس کروانےکیلےدبائو ڈالتےہیں کیونکہ ہرسال فیل طلبہ لسانی دبائو ڈال کر پاس ہونےکےعادی ہوچکےہیں۔اب بھیPPPسرکارزلیل ہونےکےبعدجھک جاۓگی @MIsmailRahoo
@MuradAliShahPPP
**2016 میں قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی تقریر، تصویر اور تحریر پر پابندی عائد کرکے کراچی کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی، سرفراز صدیقی**
اے پی ایم ایس او کے چیئرمین سرفراز صدیقی نے کہا کہ 2016 میں قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی تقریر، تصویر اور تحریر پر پابندی عائد کرکے گویا کراچی کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ مقصد صرف ایک آواز کو دبانا نہیں تھا بلکہ کراچی اور اس کے عوام کو بے یار و مددگار چھوڑنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج اسی محرومی کی ایک دردناک تصویر ہمارے سامنے ہے۔ اپنے تعلیمی مستقبل، اپنی محنت اور اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے معصوم طلبہ کو ایک بروکر مافیا سرِعام تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔
سرفراز صدیقی نے کہا کہ سوچیے! جن ہاتھوں میں قلم اور کتابیں ہونی چاہئیں، وہ اپنے ہی مستقبل کے تحفظ کے لیے ظلم کے سامنے کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔ جن آنکھوں میں خواب ہونے چاہئیں، ان میں آج خوف اور بے بسی دکھائی دے رہی ہے۔
انہوں نے بروکر مافیا کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کسی کی جاگیر نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے مستقبل کی قیمت لگائی جا سکتی ہے۔ دھونس، دھمکیوں اور تشدد کے ذریعے طلبہ کی آواز دبانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ اس مافیا کے کرداروں کے ساتھ ساتھ ان کے سرپرستوں کو بھی بے نقاب کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج سوال صرف ایک طالب علم پر ہونے والے تشدد کا نہیں بلکہ کراچی کے ہر اس طالب علم کے مستقبل کا ہے جو اپنے حق اور انصاف کے لیے آواز بلند کر رہا ہے۔
**قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی نے جس نوجوان نسل کے روشن مستقبل کا خواب دیکھا، آج اسی نسل کو اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔**
سرفراز صدیقی نے مطالبہ کیا کہ طلبہ کو فوری انصاف فراہم کیا جائے، تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور بروکر مافیا کا احتساب کیا جائے۔
**سرفراز صدیقی**
چیئرمین
آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (APMSO)
🤣😆😂😂
#USElections
مصطفی مهراڻ 🙏 Mustafa Mehran retweeted
جی، یہ لوگ بلکل ویسے ہی اپنے حصٌے کی زمین ساتھ لاۓ تھے جیسے لُٹے پِٹے یہودی مہاجر یورپ سے فلسطین میں لاۓ تھے۔
یہ بے غیرت ھم اردو اسپیکنگ لوگوں کے نام پر کوئلہ ہیں!!!!
کراچی میں دفعہ 144 اور پولیس لاٹھی چارج صرف سندھی مظاہرین کیلے ہے باقی MQM اور جماعت اسلامی اور متعصب نسل پرست چریا کانا کمانڈو کو کھلی چھوٹ ہے جب جہاں دل کرے احتجاج بھی کریں اور پوری سندھی قوم کیخلاف نفرت دھونس دھمکی کی زبان بھی استعمال کریں
لکھ لعنت ہو اس نظام پر کہ پنجاب کے یہ لوفر ٹک ٹاکر پوری ریاست کو اسکی طاقت کو کیسے پائوں پر رکھ کر اڑا دیتے ہیں
#patloo #Patlo
ٹک ٹاکر عنصر جٹ المعروف " مسٹر پتلو" کے لیئے تیز ترین انصاف کی منفرد مثال
ٹک ٹاکر مسٹر پتلو نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں حفاظتی ضمانت کے لئیے رجوع کیا ۔وہیل چیئر پراسلام آباد ہائیکورٹ لایا گیا ایک بج کر 40 منٹ پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے چیمبر میں لےجایا گیا اور 5 منٹ بعد 1 بجکر 45 منٹ پر مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت 10 نومبر تک منظور کرلی گئی، مسٹر پتلو وہیل چئیر پر چیمبر سے باہر آگئے ..!!
ڪا نئين ڳاله ڪيو اها ساڳي ڳاله اوهانجا ايم ڪيو ايم ۽ جماعتي ڪري چڪا اهن ڪجه نئون چورن کپايو عوام کي باقي پڌرا سڀ ٿيندا اهستي اهستي
Replying to @Mustafa3113
ڇڏي ڏيون ت ويٺا پير سيد وڏيرا اسانجو رت چوسين رهي ڳاله پناهگيرن جي اهي صوبي جي گهر به انهن توهان جي نااهل سيدن پيرن بلوچ نمائندن جي ناقص ڪارڪردگي سبب ڪن ٿا توهان سڀني گڏجي سنڌ کي زنده ماڻهن جو قبرستان ٺاهي ڇڏيو






















