Pinned Tweet
یہ ہے حقیقی عوامی بالادستی والا جمہوری معاشرہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ایک ایمبولینس کے لٸے پولیس والا ترک صدر رجب طیب اردگان کا قافلہ روک دیتا ہے
زوہیب خان🌹👉 retweeted
چل اوئے بھگوڑے چوہے
او بی بی! چوہدری پرویز الٰہی نے آپ کو گجرات کب دیا تھا؟؟ آپ تو خود فارم 47 سے بنی ہو! #MadamThiefMinister
چل اوئے بھگوڑے چوہے
او بی بی! چوہدری پرویز الٰہی نے آپ کو گجرات کب دیا تھا؟؟ آپ تو خود فارم 47 سے بنی ہو! #MadamThiefMinister
زوہیب خان🌹👉 retweeted
جو لوگ عوام کے ووٹ سے آتے ہیں اور جو "ایمپائر" کی انگلی سے آئے ہوتے ہیں
انکا فرق "وزیراعلٰی پنجاب"نے کس خوبصورتی سے ایک لائن میں بیان کر دیا ہے۔
زوہیب خان🌹👉 retweeted
اگر پنجاب میں کرپشن ہورہی ہے تو ثبوت کہاں ہیں
جی میری ایک مینٹنگ ہے جس میں پونا گھنٹہ پہلے ہی لیٹ ہو چکا ہوں لہذا مجھے جانے دیں
ناظرین منہ کھولنے سے پہلے سوچ سمجھ لینا چاہئے تاکہ آپکو یوں شرمندہ ہو کر میٹنگ بہانہ بنا کر میدان سے دوڑنا نہ پڑے
26 اکتوبر رات تقریبا 1/45 پر i/8 مرکز میں معز خان نامی 21 سالا جوان کو فیملی کے سامنے سات گولیاں ماری گئیں معز خان زندگی اور موت کی ہسپتال میں جنگ لڑ رھا ھے ٹارگٹ کلر ابھی تک گرفتار نہیں ھوسکا @ICT_Police @MohsinNaqvii @MaryamNSharif
زوہیب خان🌹👉 retweeted
بہاولپور: کرپشن اور دیگر الزامات ثابت ہونے پر 15 مزید پولیس اہلکاروں کی سروس ضبط.
8 سب انسپکٹرز، 2 اے ایس آئیز، 2 ہیڈ کانسٹیبلز، 3 کانسٹیبلز شامل، 26 پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے-
زوہیب خان🌹👉 retweeted
حرامد میر پاکستانی تاریخ کا مکروہ ترین کردار ہے جس نے اپنی پوری صحافتی زندگی بلیک میلنگ اور پیپٹگیری تلے گزاری ہے اور تین دہائیاں پہلے یہ شخص جلسوں جلوسوں کی کوریج پر چند سو روپے وصولتا تھا اور یہ ایسا بدبودار کردار ہے کہ جب اسحاق ڈار نے الیکشن کی رات گفتگو کی ابتداء درود پاک صل اللہ علیہ وسلم سے کی تو اسی وقت یہ شخص بول اٹھا کہ “ ابھی جھوٹ بولے گا “ جو کہ ریکارڈ کا حصہ ہے اور پھر اسی حرامد میر نے رانا ثناءاللہ اور عطا تارڑ پر انتہائی سنگین الزام لگایا لیکن افسوس کہ نواز لیگ ہمیشہ اسی وارث میر کے گندے نطفہ کو نوازتی رہی
میاں صاحب یہی میر جعفر جلیں گے تو آپکے خلاف بیانیہ روشن ہو گا
زوہیب خان🌹👉 retweeted
یہ اُن بگڑے ہوئے اور مغرور لوگوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جو غریبوں کو اپنے سے کمتر انسان سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ دولت اور طاقت کے بل بوتے پر وہ قانون سے بالاتر ہو سکتے ہیں اور جو چاہیں کر کے بچ نکلیں گے۔
بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب، میں مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہوں، چاہے اُن پر ظلم کرنے والا کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ کسی کی دولت، اثر و رسوخ یا سیاسی تعلقات اُسے قانون کے کٹہرے میں جواب دہ ہونے سے نہیں بچا سکتے۔
انصاف صرف امیر اور طاقتور لوگوں کا حق نہیں، بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، اور کسی مظلوم کو محض اس لیے تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا کہ اُس کے خلاف کھڑا ہونے والا شخص دولت اور طاقت رکھتا ہے۔
میرا عزم واضح ہے: مظلوم کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی، اور کسی کو بھی اپنے پیسے یا طاقت کے بل بوتے پر قانون سے بچ نکلنے کا حق نہیں دیا جا سکتا-
This is a tight slap in the face of those entitled, spoiled brats who look down upon the poor as if they were lesser human beings. They arrogantly believe that money and power put them above the law, allowing them to exploit, intimidate, and act with impunity.
Let me make one thing absolutely clear: As Chief Minister of Punjab, I stand firmly with the oppressed, regardless of how powerful their oppressors may be. No amount of wealth, influence, or political connections should enable anyone to escape accountability. Justice is not a privilege reserved for the rich and powerful; it is a fundamental right of every citizen. No one is above the law, and no victim should ever have to fight alone simply because the perpetrator has money or influence.
زوہیب خان🌹👉 retweeted
ریاست اور حکومت کو مظلوم اور کمزور کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
یہ بچی شدید ٹراما میں تھی۔ کرب میں مبتلا تھی۔ معاشرتی رکاوٹیں دور کر کے سکوٹی چلانے کے قابل ہوئی تھی۔
قابل ستائش ھے کہ پنجاب سرکار نے اسی بیٹی اور اس کے اہل خانہ کے سر پر ہاتھ رکھا ھے۔
مجھے اطلاع ملی ھے کہ وزیر اعلی نے خود اس بیٹی سے تفصیلی مکالمہ کیا ھے اور اس کا حوصلہ بڑھایا ھے۔
ڈی آئی جی فیصل کامران بھی اہل خانہ سے مسلسل رابطے میں رہے۔
زوہیب خان🌹👉 retweeted
یہ پشاور میں نا جائز تجاوزات کے خلاف کیے جانے والے آج کے دن کی جھلک ہے ۔ تیرا سالوں میں ان ناجائز تجاوزات کے عوض تحریک انصاف کے کرپٹ ٹولے نے اربوں روپے کا مال بنایا ۔ اندازہ کریں کیسے خیبر پختونخوا کو لوٹا گیا ۔ سڑکوں کے آدھے آدھے حصے پر یہ تجاوزات موجود تھی جنہیں اب مسمار کیا جا رہا ہے
زوہیب خان🌹👉 retweeted
پشاور پولیس کا نیا اور طاقتور روپ..!
جو پولیس کبھی دہشت گردی کے خلاف بے یار و مددگار لڑ رہی تھی، آج وہی پولیس جدید اسلحے، بہترین پٹرولنگ اور منظم ناکہ بندیوں کے ساتھ دشمنوں کے لیے قہر بن چکی ہے۔ یہ انتظامات دیکھ کر دہشت گردوں کی نیندیں حرام ہو جانی چاہئیں۔ وطن کے ان محافظوں کو سلام جو اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں👌🔥
زوہیب خان🌹👉 retweeted
اور ناظرین 4 اکتوبر کو شروع ہونے والا کنجر مارچ پانچ دن جاری رہا لیکن دن کی روشنی میں پختونخوا میں اتنی عوام سہیلو اپریدی کے ساتھ نہیں دیکھی جو آج امیر مقام نے سوات میں جمع کردی ہے اور آج کا یہ جم غفیر مراد سعید کے گھر میں ہوا ہے
خان جی آپ یدطولی گئے ہیں
زوہیب خان🌹👉 retweeted
جس دن مرادسعید قانونی گرفت میں اگیا اس دن ارشد شریف کے قتل کی گتھی سلجھ جائے گی اور یہی وہ طوطا ہے جس میں سامری جادوگر کی جان اٹکی ہوئی ہے اور عمران خان کا جانشین ٹی ٹی پی جیسی دہشتگرد جماعت کے محفوظ ہاتھوں میں ہے
پہنچی وہیں پر واشل جہاں کا خمیر تھا
زوہیب خان🌹👉 retweeted
مولانا فضل الرحمٰن جیسے سینئر سیاستدان، جو خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں، ان سے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی۔ نااہلی، نالائقی اور کرپشن سے خیبر پختونخوا کی بربادی کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے ان کی حمایت میں بات کرنا نہایت افسوسناک ہے۔
جن کی حمایت میں بیانات جاری ہو رہے ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ کیا تیرہ سال میں وہ کسی ایک شہید کے جنازے میں بھی شریک ہوئے؟ الٹا دہشت گردوں کو پناہ دی، انہیں پالا پوسا اور پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لیے وسائل، پناہ گاہیں اور اپنے صوبے کی زمین فراہم کی۔
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خیبر پختونخوا میں نااہلی کے انبار لگا دیے، وہاں کے عوام کی زندگیاں تباہ و برباد کر دیں اور انہیں دہشت گردی کی نذر کر دیا۔ صوبے کے قیمتی وسائل دھرنوں اور احتجاجوں پرخرچ کر دیے، اور تیرہ قیمتی سال کرپشن اور نالائقی کی نذر کر دیے۔
جس سپہ سالار نے معرکۂ حق میں ملک کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا اور جس کی قیادت میں پاکستان کو حرمین شریفین کے تحفظ کا اعزاز ملا، اس کے بارے میں مولانا صاحب کے الفاظ نے ہر محبِ وطن پاکستانی کا دل دکھایا ہے۔
پاک فوج کے افسر اور جوان آج بھی دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ ہر روز کسی ماں کا لختِ جگر، کسی بہن کا بھائی اور کسی کا شوہر سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر گھر آتا ہے۔ان شہیدوں کے لہو کو سلام پیش کرنے اور اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے دہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کا ساتھ دینا آپ کے شایانِ شان نہیں۔
آپ کی جماعت نے خود دہشت گردی کے زخم سہے ہیں، آپ کے ساتھیوں نے شہادتیں دی ہیں۔ اور جن کی حمایت میں آج آپ کھڑے ہیں، کل یہی آپ کے بارے میں انتہائی ناشائستہ زبان استعمال کرتے اور ذاتی حملے کرتے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے متاثرین کا دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا کم از کم میری سمجھ سے باہر ہے۔
خیبر پختون خواہ میں میں اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار اور کوئی نہیں تحریک انصاف خود ہے۔
زوہیب خان🌹👉 retweeted
اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد اگر کِسی کو کوئی شک رہ گیا ہے کے تحریک انصاف اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں جنہوں نے ملکر تیرہ سالوں میں خیبر پختونخوا تباہ کیا تو انتہائی افسوس کی بات ہے. ...
یہ صاحب واضح کہنے کو تیار نہیں کہ TTP ایک دھشت گرد تنظیم ھے پاکستان دشمن ھے۔ جب ایک جماعت یہ نظریہ رکھتی ھو اسکو پاکستان کے کسی حصہ پہ حق حاکمیت رہتا ھے؟
زوہیب خان🌹👉 retweeted
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں کو تیرہ برس صرف دھرنے،انتشار، گالم گلوچ اور سستے ٹرینڈز ملے۔ آج اگر خیبر پختونخوا گورنر راج اور ایمرجنسی کی باتیں سن رہا ہے تو یہ عوام کا نہیں،تیرہ سالہ نااہلی کا قصور ہے
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں سے سوال ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا ایک ہی ملک میں ہیں،ایک ہی آئین اور ایک ہی قومی خزانے کے حصہ دار ہیں،پھر ایک صوبے میں ترقی کا سفر اور دوسرے میں تنزلی اور بدامنی کیوں؟ فرق وسائل کا نہیں، نیت اور اہلیت کا ہے۔
اگر پنجاب ستھرا ہو سکتا ہے تو خیبر پختونخوا کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں صفائی نہیں، صرف سیاست ہوئی۔
اگر پنجاب کے ہونہار بچوں کو اسکالرشپ مل سکتی ہے تو خیبر پختونخوا کے بچوں کو کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں ترجیح بچے نہیں، دھرنے تھے۔
اگر پنجاب کی مائیں بے فکر ہیں تو خیبر پختونخوا کی مائیں خوف میں کیوں؟ کیونکہ وہاں توجہ عوام کی حفاظت پر نہیں، اسلام آباد پر چڑھائی پر رہی۔
اگر پنجاب میں گرین الیکٹرو بسیں چل سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا میں کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں منصوبے زمین پر نہیں، صرف سوشل میڈیا پر چلے۔
اگر پنجاب کے گاؤں تک پختہ سڑکیں پہنچ سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا کی سڑکیں ادھوری کیوں؟ کیونکہ وہاں وعدے ہوئے، کام نہیں۔
اگر پنجاب میں مفت دوا، فیلڈ ہسپتال اور کلینک آن ویلز دہلیز پر ہیں تو خیبر پختونخوا کا مریض بے بس کیوں؟ کیونکہ وہاں عوام کی صحت سے زیادہ اقتدار عزیز رہا۔
"کیوں" کا جواب ایک ہی ہے: تیرہ سالہ انتشار اور نااہلی!
پنجاب نے ثابت کر دیا کہ حکومتیں بڑھکوں سے نہیں، کام، کام اور کام سے چلتی ہیں۔خیبر پختونخوا کو اب انتشار نہیں، خدمت چاہیے۔












