Novice (@NoviceThinks) header
Novice (@NoviceThinks) profile picture

Every Relationship has an Expiry Date‼️

بالائے خاک فلحال!
Joined April 2022
Photo by Novice (@NoviceThinks)Photo by Novice (@NoviceThinks)Photo by Novice (@NoviceThinks)Photo by Novice (@NoviceThinks)Photo by Novice (@NoviceThinks)Photo by Novice (@NoviceThinks)Photo by Novice (@NoviceThinks)Photo by Novice (@NoviceThinks)Photo by Novice (@NoviceThinks)Photo by Novice (@NoviceThinks)
میں حرؓ ہوں اورلشکرِ یزید میں ہوں، مرا حسینؑ ابھی کربلا نہیں پہنچا۔۔۔!
5
27
2
145
28,095
کون بچائے گا پاکستان؟ آواز: علی ملک پیشکش: حرفِ سکوں شاعرہ: سدرہ نعیم @PTIofficial
7
12
3
21
1,330
"اَے مُعَمّائے مُجَسَّم" ہم اہلِ گدائی نہیں کہ ہر در پہ دستِ طلب دراز کریں؛ یہ تو فقط تمہاری بارگاہِ ناز کا اعجاز ہے کہ دستِ خودداری خودبخود دامنِ عجز میں ڈھل گیا اور نگاہ، اپنے تمام غرور سمیت، تمہارے قدموں میں جھک گئی۔ ہم نے تم سے کچھ مانگا بھی تو یوں کہ اپنی انا کا بھرم بھی باقی رہے اور دل کی احتیاج بھی آشکار ہو؛ کہ تمہارے حضور سوال کرنا بھی ایک طرزِ وفا ہے، جہاں طلب میں اصرار نہیں، اور انکسار میں بھی محبت کا وقار قائم رہتا ہے
1
13
486
طرح طرح کے تھے رہبر, سبھی کے پاس مگر اے متاعِ جاں ! ہم تو, اِک تیرے حوالے تھے !
1
13
228
وحِ من جاناں تمہاری آنکھیں کسی پناہ گاہ کی طرح ہیں وہ ایسی خاموش اُجالیاں ہیں جہاں تھکے ہوئے دل اپنی ٹوٹی ہوئی دھڑکنیں بھی اطمینان سے رکھ دیتے ہیں وہ آنکھیں جو وطن کی طرح اپنا ہونے کا احساس دیں اور جھونپڑی جیسی بے ساختہ چھاؤں جو دھوپ سے جلے ہوئے موسموں کو اپنے دامن میں چھپا لے
1
16
219
Life is made of so many partings, Welded Together.
2
16
381
ابھاگن اپنا آپ سوالی کر کے سب اندر سے خالی کر کے رنگت سرخ سے کالی کر کے تجھ سے پریت نرالی کر کے برسوں تیرے دکھ پالے ہیں کیا پایا رکھوالی کر کے لُوٹ گئے سب خواب لُٹیرے اُجڑ گئی میں سانول میرے کیا رکھا ہے دولت دھن میں کیسی لاگ لگی ہے تن میں بیٹھ گئی غم کی چلمن میں عشق کا دیپ جلا کر من میں ہجر نے اندر چاٹ لیا ہے کیا چھوڑا میرے جوبن میں ہر سُو درد غموں کے گھیرے اُجڑ گئی میں سانول میرے پاس نہیں گر دور بھی کیوں ہے؟ دل زخموں سے چُور بھی کیوں ہے؟ سینے میں تندور بھی کیوں ہے؟ مانگ میں پھر سندور بھی کیوں ہے؟ مجھ سے کیسا پردہ صاحب؟ نور نہیں جب، طور بھی کیوں ہے؟ کھو گئے، من میں ڈال کے ڈیرے اُجڑ گئی میں سانول میرے تیرے دَر پر جانا پڑتا جی کا حال بتانا پڑتا رونا اور رلانا پڑتا کس کس کو سمجھانا پڑتا کیا کیا کہتے لوگ، جو تیرے دَر سے خالی آنا پڑتا اب روتی ہوں شام سویرے اُجڑ گئی میں سانول میرے جی سرکار حضوری تیری ہر اک بات ضروری تیری کرتی ہوں مزدوری تیری نہ آیا، مجبوری تیری مشری والے پان بنائے کُوٹ کے رکھّی چُوری تیری میرے شکّر گھی بھی تیرے اُجڑ گئی میں سانول میرے پَٹ گھونگھٹ کا کھول دیا ہے سارا جیون رول دیا ہے دکھ ایسا انمول دیا ہے سب لفظوں میں گھول دیا ہے میں انجانی دیوانی نے ایسا بھی کیا بول دیا ہے؟ اللہ تیرے دل کو پھیرے اُجڑ گئی میں سانول میرے سُچے اور سہانے سائیں میرے جانے مانے سائیں اب وہ وقت پرانے سائیں جاوے کون کمانے سائیں جب سے یار کا دامن چھُوٹا بھرتی ہوں ہرجانے سائیں اب وہ خوشبو کون بکھیرے اُجڑ گئی میں سانول میرے خوشیوں کی اک وادی بن کر جذبوں کی آزادی بن کر آئی تھی شہزادی بن کر سکھ کی زین منادی بن کر انت سکھوں کا پا بیٹھی ہوں رہ گئی ہوں بربادی بن کر اب لَیکھوں میں گھور اندھیرے اُجڑ گئی میں سانول میرے زین شکیل
1
1
7
216
جو لوگ آپکا مقابلہ نہیں کر سکتے، وہ گروہ بنا کر دوسروں کے دلوں میں آپ کے لیے نفرت پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔۔!
جو لوگ آپکا مقابلہ نہیں کر سکتے، وہ گروہ بنا کر دوسروں کے دلوں میں آپ کے لیے نفرت پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔۔!
2
7
196
پھر لوگ آ گئے مرا ماضی کریدنے پھر مجھ سے اک سوال تجھے دیکھ کر ہوا
1
2
10
188
Nana Patekar at his best!!!!
4
183
پھر یوں ہوا کہ اس کی زباں کاٹ دی گئی وہ جس نے گفتگو کے اشارے بنائے تھے کوزے بنانے والے کو عجلت عجیب تھی پورے نہیں بنائے تھے سارے بنائے تھے شاہد ذکی
1
1
3
146
فرج میں صرف ایک انڈا اور 5 جنازے! کراچی کے علاقے احسن آباد کا ایک چھوٹا سا گھر۔دروازہ ٹوٹا تو اندر قیامت کا منظر تھا ڈاکٹر عمر اس کی جوان بیوی اور 3 کمسن کلیاں... 5 لاشیں۔ پورا خاندان ختم۔لیکن اس گھر کی تلاشی میں جو چیز ملی اس نے پورے پاکستان کو ننگا کر دیا۔رپورٹ کہتی ہے۔۔۔گھر میں ایک روپیہ نہیں تھا ایک روٹی کا اٹا تک نہیں تھا فرج کھولا تو اندر صرف ایک انڈا رکھا تھا۔بس ایک انڈا... اور 5 انسانوں کی بھوک بیماری اور بے بسی کی پوری داستان۔یہ کوئی عام گھر نہیں تھا یہ ایک ڈاکٹر کا گھر تھا وہ ڈاکٹر جو دوسروں کو زندگی دیتا تھا آج خود جگر کے کینسر سے گل رہا تھا۔ ایک ماہ پہلے نوکری سے نکال دیا گیا ایک طرف کینسر کی تکلیف دوسری طرف بے روزگاری تیسری طرف 3 چھوٹی بچیوں کی بھوک۔محلے والوں نے بتایا کہ چند دن پہلے اس کی بیوی نے شرم و حیا کو ایک طرف رکھ کر گھر کا اوون بیچنے کی کوشش کی۔ 10 ہزار کا اوون کوئی خریدار نہ ملا تو ایک پڑوسی نے ترس کھا کر 2 ہزار دے دیے سوچو وہ 2 ہزار کتنے دن چلے ہوں گے۔میں پوچھتی ہوں وہ ماں اپنی بچیوں کو کیا دلاسہ دیتی ہوگی؟ بیٹا آج پانی پی کر سو جاؤ کل ابو دوا بھی لائیں گے اور کھانا بھی؟وہ باپ اپنی بیٹیوں کی آنکھوں میں کیسے دیکھتا ہوگا جب فرج میں صرف ایک انڈا ہو اور 3 بچیاں ہوں؟ یہاں کینسر نے نہیں مارا یہاں غربت نے مارا ہے یہاں حالات وہ کینسر بن گئے تھے جس کا کوئی علاج نہیں تھا۔کہاں ہے ریاست۔۔۔؟ کہاں ہیں اربوں کے فنڈ؟ کہاں ہیں لنگر خانے اور احساس پروگرام کے دعوے؟ہمیں بڑے فخر سے حضرت عمرؓ کا واقعہ یاد آتا ہے کہ رات کو گشت کرتے ہوئے ایک ماں کو دیکھا جو بھوکے بچوں کو بہلانے کے لیے ہانڈی میں پتھر ابال رہی تھی۔ عمرؓ نے آٹا اپنی پیٹھ پر لادا خادم نے کہا حضور میں اٹھا لیتا ہوں تو عمرؓ رو پڑے اور کہا کیا قیامت کے دن میرا بوجھ تم اٹھاؤ گے۔۔۔آج احسن آباد کے اس گھر میں بھی بچے بھوک سے بلک رہے تھ مگر کوئی عمرؓ نہیں آیا۔ ریاست سو رہی تھی حکمران سو رہے تھے ہم سب سو رہے تھے۔ یہ 5 موت نہیں یہ اس نظام کے منہ پر 5 تماچے ہیں یہ ایک انڈا گواہی دے گا کہ اس ملک میں غریب ہونا جرم بن گیا ہے۔خدارا اپنے آس پاس دیکھو۔۔! تمہارے گلی محلے میں بھی کوئی ڈاکٹر عمر بھوک سے مر رہا ہوگا کوئیماں اوون بیچ رہی ہوگی اس کا ہاتھ تھام لو اس سے پہلے کہ اس کے گھر سے بھی 5 جنازے نکلیں۔ منقول
2
1
3
263
تم تو نظروں سے گرانے کے بھی لائق نہیں ہو، تم سمجھتے ہو کسی جنگ میں ماریں گے تمہیں؟
1
3
14
256
سانپ بھی بین بھی مداری بھی ہائے کیا بات ہے تمہاری بھی کیسے کرتے ہو یار مائک پر شاعری بھی دکان داری بھی ہم ولی تو نہیں خدا سے مگر جان پہچان ہے ہماری بھی صرف دل کا معاملہ ہی نہیں عشق ہے ایک ذمہ داری بھی ہار کر پھول تیری خوشبو سے ڈھونڈ لیتے ہیں رشتے داری بھی وہ جو پچھلی قطار میں خوش تھا آ گئی آج اس کی باری بھی ہم کبھی ایک ساتھ کرتے تھے خاکساری بھی شہ سواری بھی آپ خاموشیاں بھی سنتے ہیں آہ سن لیجیے ہماری بھی فہمی بدیوانی
2
1
11
290
دِل تھا سَمَے کے پار، ستارے کی گود میں، دھرتی پہ عُمر کاٹنے والا تھا ہائے کون سیماب ظفر
4
17
335
Let’s swap roles; You wait & I don’t come bak!
1
6
288
یہ جسم نہیں بدلا، سایہ بھی نہیں بدلا درویش ہوئے ایسے چولا بھی نہیں بدلا غم خانہ ء ہستی میں ہر چیز پرانی ہے آنکھیں بھی وہی اپنی، سپنا بھی نہیں بدلا بازارِ محبت میں یوسف کی وہی قیمت دھاگے کی وہی انٹی، چرخہ بھی نہیں بدلا منصور بھی باقی ہے، سقراط بھی زندہ ہے مشروبِ صداقت کا نشہ بھی نہیں بدلا دنیا میں ہمیشہ سے دونوں چلے آتے ہیں جھوٹا بھی نہیں بدلا، سچا بھی نہیں بدلا کس طرح بدلتے ہیں کچھ لوگ تعلق کو ہم نے تو محبت میں کمرہ بھی نہیں بدلا نصیر احمد ناصر
5
196
میں ایک مسیحا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔! جو مجھے سُننے کے بعد۔۔۔۔۔ قتل کر دے۔۔۔۔۔۔❗️
1
3
116
سُنو زِیْبِ لِقا ؎ سَرْمَایَۂ دِلِ مَن اَے مَہْرُوئے وَفا میں جب تمہاری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو یوں لگتا ہے، جیسے کسی ازلی کتاب کے وہ اوراق کھل گئے ہوں جنہیں رُوح نے صدیوں پہلے حفظ کر لیا تھا۔ پھر اچانک ایک خوف دل میں اُتر آتا ہے؛ اگر کبھی تم نہ رہیں تو میری نگاہیں کس عبارت پر ٹھہریں گی؟ تمہاری عادت محض عادت نہیں، میرے وجود کی ترتیب بن چکی ہے۔ تمہارے بعد شاید میں زندہ رہوں، مگر پہلے جیسا نہ رہ سکوں۔
4
232
کندھاں کولوں ڈرلگدا اے مقتل ورگا گھر لگدا اے کوئی کھوج کُھرانئیں لبھدا قاتل کاریگر لگدا اے ایویں تاج محل نئیں بندے لٹیا ہویا زر لگدا اے موہ لیندا اے کر کے گلاں پکا جادوگر لگدا اے
1
2
6
147