Matloob zaidi retweeted
پیپلزپارٹی کی زرداری مافیا نے 18سالوں میں کراچی کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ کراچی میں ڈاکوؤں، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرنے والوں، بھتہ خوروں اورلوٹ مار کرنے والے دہشت گردوں اورجرائم پیشہ عناصر کاراج ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر جب تک زرداری مافیا کے اسکروٹائٹ نہیں کریں گے، ملک کے تجارتی اورمعاشی دارالحکومت کراچی کی حالت بہتر نہیں ہوسکتی۔
کراچی کو زرداری مافیا سے نجات دلائیں، سندھ ٹھیک ہوجائے گا
Matloob zaidi retweeted
آج پاکستان کو شدید استحکام،سالمیت اور مضبوط اتحاد کی ضرورت ھے جو اس سے پہلے اتنی شدت سے شاید نہ ہو وقت کی اھم ضرورت الطاف حسین بھائی پر سے غیر آئینی غیر قانونی پابندی (تحریر تقریر تصویر) پر سے ہٹانی ہوگی جو ملک کی بقاء کی ضمانت ہوگی
@AltafHussain_90
Matloob zaidi retweeted
آداب بھائ!
آپ نے مظلوم کشمیری عوام کے درد کی بھرپور ترجمانی کی ہے۔ اپنے جائز حقوق کے لیے پُرامن آواز اٹھانے والوں پر گولیاں چلانا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ ہم کشمیری عوام کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ حکمران طاقت کے استعمال کے بجائے ان کے جائز مطالبات تسلیم کریں اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنائیں۔ شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔
#RightMovementAJk
جموں وکشمیر میں اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والے معصوم کشمیریوں پر سیکوریٹی فورسزکی فائرنگ سے متعدد بے گناہ کشمیریوں کی شہادت کے واقعات قابل مذمت ہیں۔
#RightMovementAJk
کشمیری عوام گزشتہ کئی مہینوں سے راولاکوٹ میں پرامن دھرنا دیے ہوئے ہیں،وہ صرف اپناحق مانگ رہے ہیں لیکن ان کے جائز مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے ان پرگولیاں چلائی جارہی ہیں،ان کوخون میں نہلایا جارہا ہے، ان کے گھروں کوآگ لگائی جارہی ہے۔ دوروزقبل بھی جموں وکشمیرمیں بیدریغ گولیاں چلائی گئی ہیں جن کے نتیجے میں کئی بے گناہ کشمیری شہید اورمتعددزخمی ہوئے ہیں۔ یہ ظلم ہے او ر میں اس ظلم کی مذمت کرتا ہوں۔ ہم پر بھی اس طرح کے بہت ظلم ڈھائے گئے ہیں، مظلوم کشمیری عوام ہمارے بھائی ہیں اورہم ان کے درد کومحسوس کرسکتے ہیں۔
میں حکمرانوں سے یہی کہوں گا کہ خدارا کشمیری عوام پر گولیاں چلانے اوران پر ظلم وستم ڈھانے کے بجائے ان کے جائزمطالبات پر توجہ دی جائے،انہیں ان کے تمام بنیادی حقوق دیے جائیں، انہیں دیوار سے نہ لگایا جائے۔ میں بے گناہ کشمیری نوجوانوں کی شہادت پر تمام کشمیریوں سے دلی تعزیت وہمدردی اور مکمل یکجہتی کااظہارکرتاہوں۔
الطاف حسین
7 نومبر2026ء
Matloob zaidi retweeted
الطاف حسین بھائی اور اصل ایم کیو ایم کی جڑیں عوام میں موجود ہیں۔ الطاف حسین بھائی عوام کے دلوں میں بستے ہیں۔ الطاف حسین بھائی پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔
ملکی اور بین الاقوامی حالات کے پیشِ نظر اس وقت پاکستان کو سیاسی محاذ آرائی اور انتقام کے بجائے قومی مفاہمت، اتحاد اور استحکام کی اشد ضرورت ہے۔
@AltafHussain_90
@AwazEhaq90
@OfficialMQM
@HassanNisar
@ImranKhanPTI @USAUrdu @CMShehbaz @NawazSharifMNS @OfficialDGISPR @BBhuttoZardari @MoulanaOfficial @NaeemRehmanEngr @BBCUrdu @voaurdu @dw_urdu @HamidMirPAK @AajKamranKhan @shazbkhanzdaGEO @Kashifabbasiary @asmashirazi @MazharAbbasGEO @WusatUllahKhan @Xadeejournalist @WaseemBadami @mujibshami1 @SaleemKhanSafi @meherbokhari @ShahzadIqbalGEO
@nadeemmalik @suhailswarraich @FrontlineKamran @NasimZehra @MalickViews @najamsethi @realrazidada @SImranshafqat @ZarrarKhuhro @OryaMaqboolJan @Aftab_Iqbal1 @husainhaqqani @arifanoor72 @AbsarAlamHaider
@soldierspeaks
@MoeedNj @SSEHBAI1 @ImranRiazKhan @ARYSabirShakir @SHaiderRMehdi @ShazadAkbar
@OfficialDGISPR
Matloob zaidi retweeted
جموں وکشمیر میں اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والے معصوم کشمیریوں پر سیکوریٹی فورسزکی فائرنگ سے متعدد بے گناہ کشمیریوں کی شہادت کے واقعات قابل مذمت ہیں۔
#RightMovementAJk
کشمیری عوام گزشتہ کئی مہینوں سے راولاکوٹ میں پرامن دھرنا دیے ہوئے ہیں،وہ صرف اپناحق مانگ رہے ہیں لیکن ان کے جائز مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے ان پرگولیاں چلائی جارہی ہیں،ان کوخون میں نہلایا جارہا ہے، ان کے گھروں کوآگ لگائی جارہی ہے۔ دوروزقبل بھی جموں وکشمیرمیں بیدریغ گولیاں چلائی گئی ہیں جن کے نتیجے میں کئی بے گناہ کشمیری شہید اورمتعددزخمی ہوئے ہیں۔ یہ ظلم ہے او ر میں اس ظلم کی مذمت کرتا ہوں۔ ہم پر بھی اس طرح کے بہت ظلم ڈھائے گئے ہیں، مظلوم کشمیری عوام ہمارے بھائی ہیں اورہم ان کے درد کومحسوس کرسکتے ہیں۔
میں حکمرانوں سے یہی کہوں گا کہ خدارا کشمیری عوام پر گولیاں چلانے اوران پر ظلم وستم ڈھانے کے بجائے ان کے جائزمطالبات پر توجہ دی جائے،انہیں ان کے تمام بنیادی حقوق دیے جائیں، انہیں دیوار سے نہ لگایا جائے۔ میں بے گناہ کشمیری نوجوانوں کی شہادت پر تمام کشمیریوں سے دلی تعزیت وہمدردی اور مکمل یکجہتی کااظہارکرتاہوں۔
الطاف حسین
7 نومبر2026ء
Matloob zaidi retweeted
پاکستان کو انتقام کی سیاست کی نہیں مفاہمت کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں پر پابندی اور توڑنے کی پالیسی ترک کی جائے ۔
ایم کیو ایم کے بانی و قائد الطاف حسین پر عائد غیرآئینی پابندی ختم کی جائے۔
کنوینر رابطہ کمیٹی مصطفےٰ عزیزآبادی کا وڈیو لاگ
#LiftBanOnAltafHussain
Matloob zaidi retweeted
کراچی اور حیدرآباد میں گیس کی شدید قلت اور لوڈ شیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ھے - رکن ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی شعیب علی خان
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن شعیب علی خان نے ایک بیان میں کہا ھے کے کراچی اور حیدرآباد کے عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، اوپر سے گیس کی مصنوعی قلت اور لوڈ شیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ سردیاں شروع ہونے سے قبل ہی گیس کی فراہمی کو تین گھنٹہ سے کم کر کے ڈھائی گھنٹہ کر دیا گیا ھے اور حقیقتن وہ صرف دو گھنٹے ہی دستیاب ھے یہ سراسر ظلم ہے۔
حکومتی ادارے اور متعلقہ کمپنیاں اس نااہلی کو فی الفور ختم کریں اور گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائیں، ورنہ عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔
Matloob zaidi retweeted
Huge congratulations to F&L Altaf Hussain Bhai on nearing a massive milestone—500 episodes of your TikTok series! This incredible journey of insightful discussions and dedication is truly inspiring. Here’s to celebrating your hard work and many more to come!
@AwazEHaq90
Matloob zaidi retweeted
ملک کی نازک صورتحال پر بانی و قائد الطاف حسین کا فیلڈ مارشل عاصم منیر کےنام اہم پیغام|
#AltafHussain
#FieldMarshalAsimMunir
#LiftBanOnAltafHussain
#AltafNeedsJustice
#PakistanCurrentSituation
#PakistanCrisis
@AltafHussain_90
@OfficialMQM
Matloob zaidi retweeted
یہ نسل پرست بانی بنگلادیش تعصبی بھٹو پاکستان بننے کہ کئی سالوں بعد بھی متروکہ املاک کے حصول کیلئے بھارتی عدالت میں خود کو بھارتی شہری ثابت کرتا رہا۔
اسی دوران پاکستان میں بھی معاوضہ لیتا رہا۔ البتہ پاکستان میں وزیر بننے کے بعد بھارتی عدالت میں کیس سے دستبردار ہوگیا۔
BBC REPORT
Matloob zaidi retweeted
Replying to @OfficialDGISPR
Matloob zaidi retweeted
A CALL FOR NATIONAL RECONCILIATION | ALTAF HUSSAIN ONLY LEADER OF MQM
Altaf Hussain Bhai appeals to Gen. Asim Munir to lift the unconstitutional ban ❗️
At a time of rising global tensions, Pakistan needs unity, stability, reconciliation and ending political victimisation.
National stability begins with public trust, justice and freedom of expression.
@AltafHussain_90 @OfficialDGISPR @ImranKhanPTI @NawazSharifMNS
Matloob zaidi retweeted
**2016 میں قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی تقریر، تصویر اور تحریر پر پابندی عائد کرکے کراچی کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی، سرفراز صدیقی**
اے پی ایم ایس او کے چیئرمین سرفراز صدیقی نے کہا کہ 2016 میں قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی تقریر، تصویر اور تحریر پر پابندی عائد کرکے گویا کراچی کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ مقصد صرف ایک آواز کو دبانا نہیں تھا بلکہ کراچی اور اس کے عوام کو بے یار و مددگار چھوڑنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج اسی محرومی کی ایک دردناک تصویر ہمارے سامنے ہے۔ اپنے تعلیمی مستقبل، اپنی محنت اور اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے معصوم طلبہ کو ایک بروکر مافیا سرِعام تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔
سرفراز صدیقی نے کہا کہ سوچیے! جن ہاتھوں میں قلم اور کتابیں ہونی چاہئیں، وہ اپنے ہی مستقبل کے تحفظ کے لیے ظلم کے سامنے کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔ جن آنکھوں میں خواب ہونے چاہئیں، ان میں آج خوف اور بے بسی دکھائی دے رہی ہے۔
انہوں نے بروکر مافیا کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کسی کی جاگیر نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے مستقبل کی قیمت لگائی جا سکتی ہے۔ دھونس، دھمکیوں اور تشدد کے ذریعے طلبہ کی آواز دبانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ اس مافیا کے کرداروں کے ساتھ ساتھ ان کے سرپرستوں کو بھی بے نقاب کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج سوال صرف ایک طالب علم پر ہونے والے تشدد کا نہیں بلکہ کراچی کے ہر اس طالب علم کے مستقبل کا ہے جو اپنے حق اور انصاف کے لیے آواز بلند کر رہا ہے۔
**قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی نے جس نوجوان نسل کے روشن مستقبل کا خواب دیکھا، آج اسی نسل کو اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔**
سرفراز صدیقی نے مطالبہ کیا کہ طلبہ کو فوری انصاف فراہم کیا جائے، تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور بروکر مافیا کا احتساب کیا جائے۔
**سرفراز صدیقی**
چیئرمین
آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (APMSO)
Matloob zaidi retweeted
کراچی میں فرسٹ ایئر کے متنازع نتائج کے خلاف طلبہ و طالبات کا انٹرمیڈیٹ بورڈ آفس کے باہر مظاہرہ ،نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار، امتحانی پرچوں کی اسکین کاپیاں فراہم کرنےکامطالبہ۔ احتجاج کے دوران انٹر بورڈ میں سرگرم بروکر مافیا کے عناصر کی طلبہ کے ساتھ ہاتھا پائی کی اور احتجاج روکنے کی کوشش۔
ہرسال کراچی کے انٹر کے طلبہ طالبات کو باقاعدہ منصوبے کے تحت نتائج میں تبدیلی کرکے انہیں تعلیمی میدان میں پیچھے رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
کراچی انٹر بورڈ کے طلبہ امتحانی نتائج میں کی جانے والی اس دھاندلی کے خلاف کل بروز جمعرات 5 نومبر کو پریس کلب پر مظاہرے کریں گے، تمام شہریوں اور سول سوسائٹی کو ان کا ساتھ دینا چاہئے، قائد تحریک الطاف حسین کی ایم کیو ایم ان طلبہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور ان کے مطالبات کی حمایت کرتی ہے
Matloob zaidi retweeted
2/2
اس گورنرراج کے خلاف PTIکےلیڈروں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہےجو میدان عمل میں آکراس غیرجمہوری عمل کے خلاف مزاحمت کی بات کرے، مزاحمت کامطلب ہتھیاراٹھانا نہیں ہوتابلکہ پرامن جمہوری احتجاج اوراحتجاجاً گرفتاریاں دینا بھی ہوتا ہے۔ جب آپ احتجاجی جلسہ،جلوس یاہڑتال کریں گے تو یہ احتجاج کے یہ سارےطریقے آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے، پاکستان کاآئین ہرشہری کو آزادی اظہاراور جلسہ جلوس کاحق دیتا ہے۔
جب ریاست کسی بھی جماعت کے خلاف کوئی ایکشن کرتی ہے تواس پر ملک دشمنی، غداری اوردہشت گردی کےالزامات لگاتی ہے اوراحتجاجی مظاہرےکرنے والوں کےخلاف جھوٹےمقدمات کرکےانہیں پابند سلاسل کردیتی ہےاسی وجہ سے پنجاب کےعوام حکومتی مظالم کےخلاف میدان عمل میں نہیں نکلےکیونکہ گزشتہ تین برسوں سے پنجاب کےعوام کو بھی یہ تجربہ ہواہے کہ کس طرح قانون نافذ کرنے والےادارےگھروں کے دروازے توڑکر، سیڑھیاں لگاکر زبردستی گھستے ہیں، اگرمطلوبہ شخص روپوش یا جلاوطن ہو تو اس کے نہ ملنے پر ان کےوالد، بھائی،بیٹے کوگرفتارکرلیتے ہیں،اہل خانہ سے بدسلوکی کرتے ہیں حتیٰ کہ خواتین اوربچوں تک نہیں بخشا جاتا۔ دنیا کاکوئی قانون یہ اجازت نہیں دیتا کہ کسی ایک شخص کی غلطی کی سزا ا س کےگھروالوں کو دی جائے۔ اب پنجاب کےلوگوں کومعلوم ہورہاہے کہ ظلم کس کوکہتے ہیں،پہلے MQMکے کارکنوں یا بلوچوں کو جبری لاپتہ کیاجاتا تھا تو پنجاب کی جماعتوں کے رہنما کہتے تھے کہ ”کچھ تو کیاہوگاجب ہی فوج، رینجرز اورپولیس نے ایسا کیاہے“ کسی سیاسی کارکن کوماورائےعدالت قتل کردیاجاتاتھا تو کہتے تھےکہ ”کچھ توکیاہوگا ورنہ ادارے پاگل نہیں کہ اس طرح کا عمل کریں“ MQMکے کارکنوں کے گھروں پر رینجرز اورپولیس کے اہلکار اہل خانہ سے بدسلوکی کرتے، چادروچہاردیواری کاتقدس پامال کرتے تو کہتے تھےکہ ان گھروں میں دہشت گردچھپے ہوں گے جبھی رینجرز اورپولیس نے چھاپے مارے ہیں۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے اپنی جان بچانے یا گرفتاری سے بچنے کیلئےامریکہ، کینیڈا، برطانیہ، یورپی ممالک یا مڈل ایسٹ جلاوطن ہوئےاورانہوں نے بیرون ملک حکومتی مظالم کے خلاف مظاہرے کیے توان کی تصویریں کھینچ کر، نادرا کے ذریعے پاکستان میں ان کے گھروں کےپتے نکال کران کے گھروں پر چھاپے مارےگئےاوراہل خانہ کوہراساں کیاگیا کہ تمہارے والد، بھائی یا بیٹے پی ٹی آئی کےمظاہرے میں شریک ہوتے ہیں ،PTIکے لیڈروں کی اکثریت کمپرومائز ہوگئی، باقی جیلوں میں اسیر ہیں تو اب عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی کے گمنام کارکنوں، Gen Z اورMillennials کو ہی آوازاٹھانی پڑے گی۔
PTIکے گمنام کارکنوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ تحریکوں میں کیاکیامشکلات پیش آتی ہیں، کن کن خطرناک مراحل سے گزرناپڑتا ہے، اورآگ وخون کے دریاعبورکرنے پڑتے ہیں اسی لئے انہیں ہوشمندی اوردانشمندی سے غورکرنا چاہیے کہ جبرکے اس ماحول میں مزاحمت کس طرح جاری رکھی جاسکتی ہے، کس طرح جلسے جلوس اوراحتجاجی مظاہرے کیے جاسکتے ہیں اس کے کئی طریقے موجود ہیں۔جولوگ یہ سمجھتے ہیں کہ احتجاجی تحریک چلائیں گے تو ان پر مقدمات بن جائیں گے اورانہیں جیلوں میں قید کردیا جائے گا تو پھر وہ عمران خان صاحب کواللہ تعالیٰ کے حوالے کردیں اوراپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر عمران خان کی رہائی کیلئے دعائیں کرتے رہیں جیسا کہ ان کی کمپرومائزقیادت انہیں درس دیتی رہی ہے کہ عمران خان کی رہائی کیلئے اپنے اپنے گھروں پراذانیں دیں اور دعائیں کریں۔
نظریاتی کارکنان کو غورکرنا چاہیے کہ بغیرجدوجہد اورقربانیوں کے کوئی بھی تحریک کامیاب نہیں ہوتی ہے، جب انسان نے پیروں پر کھڑے ہوکر چلنا شروع کیاتو اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا،پھرانسان نے آگ، اوزار اور برتن کس طرح بنائے ہوں گے جبکہ اس زمانے میں کوئی چیزدستیاب نہیں تھی۔آج ہرچیزدستیاب ہے،ملک بھرمیں پی ٹی آئی کے کارکنان بہت بڑی تعداد میں ہیں اگروہ ہرعلاقے میں مزاحتمی تحریک کاآغاز کریں اورثابت قدمی سے یہ جدوجہد ایک ماہ تک جاری رکھیں توبڑی سے بڑی طاقت بھی ہتھیارڈال دے گی۔
تحریکوں میں غداری کاعمل ہوتارہا ہے، تاریخ میں میرجعفراورمیرصادق کے نام غداری کی علامت بن چکے ہیں، غداری کاعمل کوئی نئی بات نہیں ہوتی،انسانی تاریخ میں ہرتحریک میں شامل لوگوں نے غداری کی، حتیٰ کہ حضوراکرم ؐ کی جدوجہد میں شامل لوگوں نے بھی غداری کاعمل کیا اور منافقین کے سردار عبداللہ بن ابئی نے مسجد ضرار بنالی تھی جسے ڈھانے کا حکم دیاگیا۔ انقلابی تحریکوں میں چھاپے گرفتاری، اسیری، روپوشی، جلاوطنی، جبروتشدد اورجان ومال کی قربانیاں کاسامنا کرنا پڑتا لہٰذا نظریاتی تحریکوں کے کارکنان کو اپنے دل سے خوف اورڈر کو نکالنا ہوگا اورانقلابی تحریکوں کی تاریخ کامطالعہ کرکے اپنی جدوجہد کو جاری رکھنا چاہیے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 493ویں فکری نشست سے خطاب
یکم نومبر2026ء
Matloob zaidi retweeted
فوجی جرنیلوں کے احکامات کے زیراثر پارلیمنٹ کو آزاد اورخودمختار پارلیمنٹ قرارنہیں دیا جاسکتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاسی جماعتیں اپنے ملک میں ترقیاتی کاموں اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے منشور دیتی ہیں اورانتخابات کے مواقع پر اپنے منشور کے نکات میں اضافہ بھی کرتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتوں کا منشور Country bound ہوتا ہے۔ ایسانہیں ہوتا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا منشور کسی اور ملک میں چلے اور کسی اورملک کی کسی سیاسی جماعت کا منشور پاکستان میں چلے جبکہ سچی نظریاتی تحریکوں کانظریہ کسی بھی ملک کی جغرافیائی حدود کا پابند نہیں ہوتا۔کسی ملک میں نظام کی تبدیلی کیلئے جو نظریہ دیا جاتا ہے وہ سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ سچے انقلابی نظریئے کو کسی ایک ملک کی جغرافیائی حدود میں قیدنہیں کیاجاسکتا، نظریہ ایک جغرافیے کی حدود سے نکل کر دوسرے جغرافیے اور پھر تیسرے جغرافیے میں پہنچ جاتا ہے
نظریاتی تحریکوں کامقصد کسی بھی ملک میں رائج ظالمانہ نظام اور طرز حکومت کو چیلنج کرکے وہاں تبدیلی لانا ہوتا ہے اورتحریکیں ہمیشہ نظام کو تبدیل کرنے کیلئے چلائی جاتی ہیں۔ پاکستا ن میں قیام پاکستان سے لیکرآج کے دن تک فرسودہ جاگیردارانہ اورچند مخصوص خاندانوں کا موروثی نظام قائم رہا ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے زمانے سے آج تک سیاسی جماعتیں، سیاسی جماعتوں کے اتحاد اور ان کی جو مخلوط حکومتیں بنتی رہی ہیں،جو صدوراور وزرائے اعظم بنتے رہے ہیں اورجو سویلین حکومتیں قائم ہوتی رہی ہیں وہ فوجی جرنیلوں کے اثرورسوخ، ان کے دباؤاوران کی پسند ناپسند کی بنیاد پر چلتی رہی ہیں۔ایسی صورتحال میں کسی بھی انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی مقننہ (Legislative body) اگراجتماعی فیصلہ نہ کرسکے یاان کا اجتماعی فیصلہ فوجی جرنیلوں کے احکامات کے زیراثر ہو تو ہم ایسی پارلیمنٹ کو آزاد اورخودمختار پارلیمنٹ قرارنہیں دے سکتے۔
یہ صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں ہے، دنیا کے جن ممالک کی منتخب حکومتیں فوج کے جرنیلوں کے ماتحت ہوتی ہیں ان ممالک کی خارجہ پالیسی بھی پارلیمنٹ نہیں بلکہ فوج بناتی ہے۔ مثال کے طورپر جب اسرائیل نے فلسطین پر حملے شروع کیے اوربمباری کرکے غزہ سمیت فلسطین کے مختلف علاقوں کے انفرااسٹرکچر کو تباہ کرکے گراؤنڈ زیرولیول کردیا تو کتنے اسلامی ممالک نے ان اسرائیلی حملوں کی مذمت کی؟ اسرائیلی بمباری کوروکنے کیلئے فلسطین کے عوام کی مدد کی؟ یقینا کسی نے بھی نہیں کی۔
تازہ ترین مثال ایران پر امریکہ اوراسرائیل کے مشترکہ حملوں کی ہے جب دونوں ملکوں نے ایران پر بموں، میزائلوں اورڈرونوں سے حملہ کیاتو 50 سے زائد اسلامی ممالک میں سے کسی نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے ان حملوں کی کھل کرمذمت نہیں کی اورایران کاکھل کر ساتھ نہیں دیا۔غورطلب بات یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟اس لئے کہ جن جن ممالک میں بادشاہت اور موروثیت کے تحت حکمرانی چلتی ہو، آمریت ہو، فوج کی برتری ہواس ملک کی خارجہ پالیسی عوام کے ووٹوں سے آنے والی حکومتیں طے نہیں کرتیں بلکہ اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ طے کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے پاکستان سمیت کوئی بھی اسلامی ملک ایسا نہیں ہے جسے آزاد اورخودمختار ملک کہاجائے۔
میں نے فکری اورنظریاتی بنیادوں پرسیاسی کارکنوں کی تربیت کاسلسلہ ابتداء میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی Gen Z اورMillennials کیلئے شروع کیاتھا، پی ٹی آئی کے رہنماؤں کیلئے نہیں کیاتھاکیونکہ عمران خان صاحب، انکی اہلیہ اور انکے وفادار رہنما وکارکنان گزشتہ تین برسوں سے جیل میں قید ہیں اوراب عمران خان کی بہنوں کو بھی جیل میں بند کردیا گیا ہے، ایک صوبہ KPK جہاں دوتہائی اکثریت سے پی ٹی آئی کی حکومت قائم تھی وہاں کے منتخب وزیراعلیٰ کو اغوا کرکے صوبے میں گورنرراج اور ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ بظاہر پیپلزپارٹی کے صدر آصف زرداری نے گورنرراج کے حکمنامے پر دستخط کیے ہیں اگر وہ پاکستان کے صدر ہوتے تو گورنرراج کے احکامات پر دستخط نہ کرتے اسی طرح میاں شہبازشریف بھی ن لیگ کے وزیراعظم ہیں جوفارم 47 کے تحت وزیراعظم بنے وہ اپنی پارٹی کے مفاد ات کیلئے ڈکٹیشن لیکر صوبہ KPK میں گورنرراج کے نفاذ کی تجویز پیش کرتے ہیں جس پر صدرزرداری دستخط کرکے عملدرآمد کرتے ہیں۔ پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ (ن) دونوں کا پاکستان سے کوئی واسطہ نہیں ہے یہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے خاندان اورپارٹی کے مفادات کو عزیز رکھتی ہیں اوران کا پاکستان اوراس کے عوام کے مفادات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
تحریک انصاف کے جتنے رہنما ہیں ان کی اکثریت کمپرومائزہے جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسٹیبلشمنٹ کی ڈکٹیشن لینے سے انکار کردیاتھا اورجب انہوں نے اپنے سربراہ عمران خان کی رہائی کیلئے لانگ مارچ کاآغاز کیاتو انہیں اغوا کرلیاگیا اور صوبے کی اسمبلی تحلیل کرکے وہاں گورنر راج اورایمرجنسی نافذکردی گئی۔
1/2
Matloob zaidi retweeted
برنس روڈ کے رہائشیوں کو اعتماد میں لیے بغیر سڑک اور گلیاں بند کرنے کا منصوبہ قابلِ مذمت ہے، سید محمد ذکی
رہائشیوں کے تحفظات دور کیے بغیر منصوبے پر عمل درآمد نہ کیا جائے، سید محمد ذکی رُکن ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن سید محمد ذکی نے برنس روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کرکے اور اطراف کی گلیوں کو بلاک کرکے فوڈ واک اسٹریٹ بنانے کے مجوزہ منصوبے پر مقامی رہائشیوں کے تحفظات کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے کے اصل اسٹیک ہولڈرز، یعنی وہاں کے مکینوں کو اعتماد میں لیے بغیر ان کی روزمرہ زندگی متاثر کرنے والے فیصلے مسلط کرنا قابلِ مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ برنس روڈ ہزاروں شہریوں کا رہائشی علاقہ بھی ہے۔ مرکزی سڑک اور گلیوں کی بندش سے مکینوں کی گھروں تک آمدورفت، بچوں کی تعلیمی اداروں تک رسائی، بزرگوں اور مریضوں کی نقل و حرکت سمیت روزمرہ ضروریات کی تکمیل شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ بالخصوص ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور دیگر ہنگامی خدمات کی رسائی میں کسی قسم کی رکاوٹ سنگین نتائج پیدا کرسکتی ہے۔
سید محمد ذکی نے کہا کہ علاقے کی رونق اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ رہائشیوں کے بنیادی حقوق، سکون اور آمدورفت کی سہولت کو بھی یقینی بنایا جائے۔ شہریوں کی مشکلات بڑھانے والا کوئی بھی منصوبہ ان کی مشاورت اور تحفظات کے ازالے کے بغیر قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے حکومتِ سندھ اور متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد فوری طور پر مؤخر کرکے اس پر نظرِ ثانی کی جائے، مقامی رہائشیوں اور ان کے نمائندوں کو مشاورتی عمل میں شامل کیا جائے اور ان کے تحفظات دور کیے بغیر سڑک یا گلیوں کی بندش کا کوئی اقدام نہ کیا جائے۔
•••••














