Pinned Tweet
Ya Allah keep him in your special protection Ameen ❤️🫶🏻🫶🏻
The Leader of Muslim Ummah @ImranKhanPTI ❤️🔥
Ya Allah bless him with long healthy life Ameen 🌸
Ya Allah protect him from all his enemies Ameen 🤲🥺
Mashallah 🤍
#بنے_گا_نیا_پاکستان
𝙐𝙈𝘼𝙍 retweeted
پنجاب کے مناظر ہیں جہاں ایک غریب ریڑھی والے کو سرکاری اہلکار نے ہاتھ سے پکڑا اور تھانے لے گیا، اس کی ریڑھی اب اس کے گھر والوں کی طرح لاوارث پڑی ہے 💔
𝙐𝙈𝘼𝙍 retweeted
اگر مجھے کچھ ہوا تو پاکستان کی عوام آپ نے مجھے انصاف دلوانا ہے۔
عمران خان نے اپنا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا پے💔💔
𝙐𝙈𝘼𝙍 retweeted
اس ملک میں سب سے بڑا جرم غریب ہونا اور دن رات محنت کر کے اپنے گھر والوں کے لئے دو وقت کی روٹی کمانا 💔
خان صاحب نے پہلے دو صوبوں کی حکومتوں سے استعفی دیا اور پھر بعد میں اعتراف کیا کہ غلطی کر دی۰۰۰
اس کا beneficiary کون تھا؟؟
ابھی حالیہ KP حکومت جانے کا beneficiary کون ہے؟؟؟
یقیناً وہی لوگ ہوں کے جن کے گھروں میں ریڈ ہو رہے ہیں اور ان کی خواتین ، بوڑھے اور بچے کوئی بھی محفوظ نہیں ۰
آپ کو تو علم ہوگا کیا ہو رہا ہے وہاں ۰۰۰
اور جو آپ استعفوں کی بات کرہے ہیں اس کا beneficiary کون ہوگا یہ بھی بتا دیں ؟؟
سالار بھائی
مجھے استعفی کےباوجودکل کورکمیٹی میٹنگ کابلاوا آیاتھا۔ جس نےبھی بھجوایاتھاانکاشکریہ۔ لیکن میری گزارش ہوگی میرے استعفی پر فیصلہ کریں۔ میرا استعفی میری گزارش اور مودبانہ لیکن پرزور احتجاج ہےکہ پارٹی کےاہم ترین پلیٹ فارم درکارفیصلہ سازی کی بجائے گپ شپ، باہمی تحسین اورڈیمیج کنٹرول کےلیےاستعمال ہوتے۔ وہاں موجودقابل دوستوں کی مفید آراء کوپس پشت ڈال کرچند اشخاص فیصلےکرتےجوبعدمیں اپنےہی فیصلوں سےناصرف مکرجاتےبلکہ بہانہ سازی اور الزام تراشیاں شروع ہوجاتی۔ کوئی خاندان ہو، کرکٹ ٹیم ہو، کارپوریٹ بزنس ہو یا سیاسی جماعت۔۔۔جو اختیار رکھتے وہ زمہ دار ہوتے تمام فیصلوں اور انکےنتائج کے۔ اور ان فیصلوں کی ستائش یا سوال جواب انہی بااختیار حضرات سے ہوتی ہے۔ ملک گیر جماعتیں تمام صوبوں اور انتظامی اکائیوں کوساتھ لےکرچلتی۔ یونٹ لیول سے کورکمیٹی/سیاسی کمیٹی تک معلومات آتی اور اوپر بیٹھے دوست فیصلے کرتے۔ میں نے ایک بار نہیں ہزار بار، اور بلامبالغہ ہزار بار گزارش کی کہ یا تو فیصلہ ساز فورم پر موجود تمام دوستوں کی آراء کااحترام ہو، مشکل فیصلے ووٹنگ سے ہوں اور ان اجتماعی فیصلوں کا بوجھ پھر تمام تنظیم اٹھائے۔ یا پھر اگر صرف چند دوست فیصلے کرتے تو ہم یہ حقیقت سامنے رکھنے میں حق بجانب ہونگے کہ ہر اچھے فیصلے کی ستائش ان محدود دوستوں کا حق ٹہرے اور ہر غلط نتیجے کا بار بھی انکے کندھے پر ہو۔ حقیقی لیڈرشپ کا فرض ہے کہ وہ مضبوط ٹیم بنائے، مشکل فیصلے کرے، پھر ان فیصلوں پر عمل درآمد کرائے اور انکے اچھے یا برے نتائج کو سینہ تان کر اپنائیں۔ ورنہ ہماری جماعت کی مثال بھی اس ریجیم کی طرح ہے جو دنوں کے حساب سے اربوں کے قرضے لیتی اور ان قرضوں کا بوجھ مظلوم عوام اٹھاتی ہے۔ جو پھر اظہار اختلاف، تنقید یا احتجاج کو انتشار اور غداری سے تعبیر دیتی اور ایسی جرات کرنے والوں کو قانون یا ڈسپلن کے نام پر برے نتائج کی دھمکیاں دیتی۔ حقیقی لیڈرشپ ناکامیوں کے وقت خود کو آگے کرکے الزام اپنے سر لیتی ہے اور کامیابی کو ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ اس کے برعکس، اسکے متضاد جب الٹی گنگا بہنے لگے تو آپکی ٹیم سکڑتی جاتی ہے۔ اور آخر میں قوالوں کےساتھ صرف تالیاں بجانے والے ہمنواء ہی رہ جاتے ہیں۔ حقیقی لیڈرشپ اپنی ٹیم، اپنے رفقاء اور اپنی سپورٹ بیس کو مسلسل جیت کی امید دلاتی ہے اور فرنٹ سے لیڈ کرتی ہے۔ یہ غلط ہے کہ ہم الٹا انکو مایوس کریں کہ قوم نہیں نکلتی یا کہ پارلیمینٹیرینز چندہ نہیں دیتے یا فلاں دھوکہ دےگیا اور میں تو محنت کررہاتھا۔ اس سے لوگوں کے حوصلے مزید پست ہوتے۔ اور کوئی کیوں آپکے ساتھ کھڑا ہوگا جب آپ پہلے دن خود ہی مایوس ہونگے؟ حقیقی لیڈرشپ اپنی ٹیم کے ہر لفظ کو غور سے سنتی ہے اور معیار میں مسلسل بہتری لاتی ہے۔ کورکمیٹی کے میٹنگز کو Psychological venting session نا بنائیں کہ محترم میمبرز آئینگے، بولینگے بولینگے، بھڑاس نکالینگے اور بس ہم نے انکا غصہ ٹھنڈا کردیا اب بات ختم۔ یہ آپکی اچھائی نہیں ہے کہ آپ انکو سن لیتے ہیں اور اس پر خاموش رہ لیتے ہیں۔ اور آگے رات گئی بات گئی۔ ہر مسئلے ہر ناکامی پر "مٹی پاو دن مکاو" پروگرام لاگو کرتے جائیں۔ یہ آپکی شرافت نہیں ہے نا اچھی بات ہے۔ نا یہ احترام ہے۔ یہ تصحیک ہے ان تمام 66 میمبران کی جنکا شاید مجموعی سیاسی تجربہ 500 سال سے زیادہ ہو۔ جو اپنے علاقوں، قبائل اور عوام کے بڑے ہیں۔ جن کی خدمات اور مفید سیاسی، معاشی اور معاشرتی تجربہ ہے۔ آپ انکو پانچ سال کا بچہ سمجھ کر، اسکی ہائی لے لے سن کر، تھپکی دے کر، انکو سلاکر اگر آپ سمجھتے آپ کوئی اچھا کام کررہے ہیں تو آپ محترم متنبہ ہو کہ یہ آپ انکو، اپنے آپ کو، اس پارٹی کو، عمران خان کی تیس سالہ محنت کو اور اس تحریک کو جواس ملک کو بچاسکتی ہے؛ ان سبکو دھوکہ دےرہے ہیں۔ عمران خان کی صحت خراب ہے۔ انکا خاندان جیل میں ہے۔ انکی زندگی کو خطرہ ہے۔ میرا دعا اور گزارش ہے اب آپ سنجیدہ ہوجائیں۔ اب آپ پارٹی کو پارٹی کی طرح چلائیں ناکہ فین کلب کی طرح۔ آمین۔ اور میری آواز بری لگےتوپیغام دیجیےگا۔ اگرہماری خاموشی سےتحریک کودوام ملتاہےتوہم حاضر۔ لیکن کسی ایسے مسند کےخواہاں نا ہونگے جس سےعمران خان، تحریک انصاف یا عزیز رفقاء مضبوط ہونےکےبجائےمزید کمزورہوں۔ یا ہمارے لیڈر اور اس قوم کا مزید قیمتی وقت ضائع ہو۔
اللہ عمران خان اور پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔
















