
ادارہ غلامانِ صاحب الزمان ہم امامِ وقت کی طرف سے شیعوں کی مدد کرنے کیلئے حاضر ہیں آئیں ہمارا ساتھ دیں . . . old account suspended @syedtaqizaidi22
Joined October 2019
- Tweets5.9K
- Following538
- Followers2.2K
- Likes10.8K
Pinned Tweet
پوچھ مت روضہِ عباسٔ سے کیا لے آئے
دل میرا پاک ہوا اور وفا لے آئے..............
ہم نے جنت میں قدم رکھتے ہی اعلان کیا
عرش کے واسطے ہم فرشِ عزا لے آئے.....
❤️🌹
السید تقی شاہ زیدی retweeted
یا علی صلوٰۃ اللہ علیہ مدد
شیعہ سید فیملی جوکہ اس وقت مشکلات و پریشانی کا شکار ہیں جن کی مختصر تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں
تمام مومنین سے گزارش ہے اپنی وسعت کے مطابق ضرورمدد کریں
آپ کا ہدیہ مستحقین کیلئے ایک نئی زندگی ثابت ہو سکتا ہے
غلامانِ صاحب الزمان ص
السید تقی شاہ زیدی retweeted
در بتولؐ پہ پڑھنے گیا تھا نعت مگر
وھاں رسولؐ سے نوحہ سنا تو رونے لگا
محمد عباس رضوی
السید تقی شاہ زیدی retweeted
یَا الله یَا رَحْمَانُ یَا رَحِیمُ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَى دِینِک.🤲🏻
#یارب
#اللهم_عجل_لولیک_الفرج
السید تقی شاہ زیدی retweeted
لقب جس نے پایا حجاب خدا ہیں
فقط سیدہ ص ہیں فقط سیدہ ص ہیں
#ایام_سیدہ
السید تقی شاہ زیدی retweeted
دریا ہی اُٹھا لاتا خیموں کے کنارے
شبیر(ع) نے اگر شیر(ع) کو روکا نہیں ہوتا
السید تقی شاہ زیدی retweeted
باب امام موسی کاظم علیہ السلام
یا سیدی یا مولائی یا موسی ابن جعفر یا باب الحوائج ادرکنی ادرکنی ادرکنی 🤲📿
السید تقی شاہ زیدی retweeted
مولا محمدؐ عدلِ الٰہی کا وہ ابدی نقشہ ہیں — جس کا کامل غلبہ قائمِ آلِ محمد، امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور سے ہوگا۔
السید تقی شاہ زیدی retweeted
امام علی علیہ السلام
احسان کرو اور لوگوں کو اپنا غلام بنا لو
حکمت بو تراب
آپ لوگوں نے نوٹ کیا ہوگا کہ اکثر کتے سواری کو دیکھ کر بھونکتے ہیں
سب سے پہلے مقام حواب پر جمل جاتے ہوئے کسی عورت کی سواری (اونٹنی) پر کتے بھونکے
بس کتوں وہیں سے عادت ہو گئی جب بھی کوئی سواری دیکھتے ہیں بھونکنا شروع
السید تقی شاہ زیدی retweeted
ہشام کے پاس سلطنت تھی۔ امام زین العابدینؑ کے پاس وہ نسبت تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھرانے سے جڑی ہوئی تھی۔ ایک شخص کی شناخت اس کے سیاسی منصب سے نمایاں تھی، جبکہ دوسرے کی شناخت اس کے کردار اور اہلِ بیتؑ سے تعلق کے باعث لوگوں کے دلوں میں زندہ تھی۔
یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ ایک واقعے سے کسی پورے عہد کی تمام سیاسی حقیقتیں ثابت ہو جاتی ہیں؛ لیکن اس روایت کا اخلاقی مفہوم واضح ہے اقتدار کسی کو متعارف کرا سکتا ہے، مگر ہر تعارف کو معتبر نہیں بنا سکتا۔
اور کسی شخصیت کی عظمت سے انکار کر دینا، اس عظمت کو ختم کرنے کے برابر نہیں۔
امام زین العابدینؑ
جن کی عظمت کا گواہ صرف ایک شاعر نہیں
امام علی بن الحسینؑ کی شخصیت کو صرف اس ایک واقعے میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔
آپؑ وہ امام ہیں جنہوں نے کربلا کے بعد اپنے خاندان کی مظلومیت اور حق کی گواہی کو زندہ رکھا۔ آپؑ عبادت، دعا، علم، اخلاق اور انسانی حقوق کی تعلیم کے لیے بھی معروف ہیں۔ صحیفۂ سجادیہ اور رسالۃ الحقوق سے وابستہ روایت میں آپؑ کی شخصیت کا یہی علمی و روحانی پہلو نمایاں ہوتا ہے۔
آپؑ کے والد سیدالشہداء امام حسین ابنِ علیؑ تھے آپؑ کے جد امیرالمؤمنین علی المرتضیٰؑ تھے، آپؑ کی نسبت سیدہ فاطمہ الزہراؑ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھرانے سے تھی۔
یہ نسب اپنی جگہ ایک عظیم شرف ہے، لیکن امامؑ کی زندگی اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ بتاتی ہے کہ حقیقی عظمت عبادت، اخلاق، استقامت اور ذمہ داری سے پہچانی جاتی ہے۔
کربلا نے آپؑ کی زندگی کو ایک تاریخی موڑ پر لا کھڑا کیا، مگر آپؑ کی پوری زندگی کا پیغام کربلا کے بعد بھی جاری رہا۔
آپؑ نے یہ دکھایا کہ مصیبت انسان کو اپنے اصولوں سے دست بردار ہونے پر مجبور نہیں کرتی؛ اسیری انسان کے مرتبے کو ختم نہیں کرتی؛ اور مخالف حالات میں بھی علم، دعا اور کردار کے ذریعے حق کی گواہی دی جا سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امام زین العابدینؑ کا ذکر صرف عقیدت کا موضوع نہیں، بلکہ تاریخ، اخلاق اور انسانی وقار پر غور کرنے کا موقع بھی ہے۔
فرزدقؔ کی قیمت
حق گوئی کا انتخاب
روایت کے مطابق، فرزدقؔ کے اس قصیدے پر ہشام ناراض ہوا اور شاعر کو قید کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض روایات میں امامؑ کی جانب سے فرزدقؔ کی مالی مدد بھی مذکور ہے۔
اس پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
فرزدقؔ نے صرف ایک خوب صورت قصیدہ نہیں کہا تھا؛ اس نے ایسے موقع پر امامؑ کی شناخت بیان کی جب دربار میں کسی اور جواب کی توقع کی جا رہی تھی۔
اس کے الفاظ آج بھی اس لیے یاد رکھے جاتے ہیں کہ ان میں شاعر نے اپنے فن کو محض حکمرانوں کی تعریف کے لیے استعمال نہیں کیا، بلکہ ایک ایسی شخصیت کی مدح کی جسے وہ احترام کے لائق سمجھتا تھا۔
یہاں ادب کا ایک اہم اصول سامنے آتا ہے: شاعر کے پاس الفاظ کی طاقت ہوتی ہے، لیکن ان الفاظ کی اصل قدر اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ کسی معنی خیز حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔
فرزدقؔ کے قصیدے نے امامؑ کی عظمت پیدا نہیں کی، اس نے اس عظمت کو اپنے عہد کے ایک اہم منظر میں زبان دی۔
ہشام نے کہا، میں نہیں جانتا
تاریخ نے کہا، یہ امام زین العابدینؑ ہیں
ہشام بن عبدالملک کا وہ جواب، جیسا کہ اس روایت میں نقل ہوا ہے، امامؑ کی شناخت کو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل کرنے کی ایک کوشش تھی۔ مگر اس واقعے کی روایت میں آگے جو کچھ ہوا، اس نے اس جواب کو خود ایک تاریخی سوال بنا دیا۔
فرزدقؔ نے قصیدہ کہا، امامؑ کا نسب بیان کیا، ان کے مقام کی گواہی دی، اور وہ اشعار زمانے کے ساتھ منتقل ہوتے رہے۔
یہاں کسی مبالغے کی ضرورت نہیں۔ واقعہ اپنی معنویت خود رکھتا ہے۔
ہشام کے پاس سلطنت تھی، مگر فرزدقؔ کے الفاظ نے امامؑ کا تعارف محفوظ کیا ہشام نے لاعلمی ظاہر کی، مگر شاعر نے شناخت کو زبان دے دی۔
یہی تاریخ کا ایک سبق ہے: کسی شخصیت کی عظمت کو چھپانے کی کوشش کبھی کبھی اسی عظمت کے تعارف کا سبب بن جاتی ہے۔
امام زین العابدینؑ کی شان یہ نہیں کہ ایک حکمران انہیں پہچاننے سے انکار کر بیٹھا؛ شان یہ ہے کہ آپؑ کی شخصیت کو پہچاننے کے لیے فرزدقؔ کو اپنے عہد کے دربار کے سامنے کھڑا ہونا پڑا اور اس کا قصیدہ آنے والی نسلوں تک پہنچا۔
وہ امام جنہیں پہچاننے سے انکار کیا گیا، ان کے تعارف میں شاعر نے کہا:
یہ فاطمہؑ کے فرزند ہیں، اگر تم انہیں نہیں پہچانتے، تو جان لو کہ انہیں عرب بھی جانتے ہیں اور عجم بھی۔
سلام ہو امام علی بن الحسین زین العابدینؑ پر سلام ہو اس فرزندِ حسینؑ پر جن کی عظمت کو فرزدقؔ نے اپنے اشعار میں محفوظ کیا۔
اور سلام اس جرأتِ اظہار پر جس نے ایک دربار کے جواب کے مقابل تاریخ کو ایک قصیدہ دے دیا۔
خلیفہء وقت ہشام بن عبدالملک نے کہا: میں انہیں نہیں جانتا!
کیا واقعی!!!
وَلَيْسَ قَوْلُكَ مَنْ هَذَا بِضَائِرِهِ
الْعُرْبُ تَعْرِفُ مَنْ أَنْكَرْتَ وَالْعَجَمُ
تمہارا یہ پوچھنا کہ یہ کون ہیں، ان کی شان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا؛ جنہیں تم نہیں پہچانتے، انہیں عرب بھی پہچانتے ہیں اور عجم بھی۔
فرزدقؔ نے تاریخ کے سامنے امام زین العابدینؑ کا تعارف رکھ دیا
ایک تخت کی بے بسی، ایک شاعر کی جرأت اور اہلِ بیتؑ کی ایسی عظمت جسے چھپانے کی کوشش بھی اس کا اعلان بن گئی۔
مکہ مکرمہ میں حج کا موسم تھا۔ خانۂ کعبہ کے گرد طواف کرنے والوں کا ہجوم تھا۔ اموی سلطنت کا بااثر حکمران ہشام بن عبدالملک بھی موجود تھا۔ وہ حجرِ اسود تک پہنچنا چاہتا تھا، مگر ہجوم میں اسے راستہ نہ مل سکا۔ اسی دوران امام علی بن الحسین زین العابدینؑ تشریف لائے۔ روایت کے مطابق، لوگوں نے امامؑ کے لیے راستہ چھوڑ دیا اور آپؑ آسانی سے حجرِ اسود تک پہنچ گئے۔
یہ منظر صرف ایک شخصیت کے گزرنے کا منظر نہیں تھا یہ اس فرق کی علامت بن گیا جو اقتدار سے حاصل ہونے والی ہیبت اور کردار سے پیدا ہونے والی تعظیم کے درمیان ہوتا ہے۔
ہشام کے ساتھ اہلِ شام بھی موجود تھے۔ ان میں سے ایک نے امامؑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا:
یہ کون ہیں جن کی اتنی تعظیم کی جا رہی ہے؟
روایت کے مطابق، ہشام نے جواب دیا:
میں انہیں نہیں جانتا۔
یہیں سے اس واقعے کا سب سے معنی خیز باب شروع ہوتا ہے۔ یہ جواب تاریخی روایت میں ہشام کی جانب سے امامؑ کی پہچان ظاہر نہ کرنے کی کوشش کے طور پر بیان ہوا ہے۔
سوچیے، ایک شخص جسکی سلطنت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی، جس کے حکم پر دربار حرکت میں آتے تھے، وہ ایک ایسی شخصیت کے تعارف سے گریز کرتا ہے جسے لوگ اپنے دلوں میں جگہ دے چکے تھے۔
لیکن کیا کسی کے نام سے انکار کر دینے سے اس کی حقیقت مٹ جاتی ہے؟
کیا کسی کو نہ پہچاننے کا اعلان، اسے پہچاننے والوں کی نگاہ بدل سکتا ہے؟
اور کیا تاریخ ہمیشہ اسی کی بات مانتی ہے جس کے پاس تخت ہو؟
اس لمحے وہاں ایک شاعر بھی موجود تھا: فرزدقؔ
وہ محض شعر کہنے والا نہیں تھا وہ عربی زبان و ادب کا معروف شاعر تھا۔ اس نے ہشام کا جواب سنا تو خاموش رہنے کے بجائے کہا:
لیکن میں انہیں جانتا ہوں!
یہ جملہ ایک ایسے موقع پر ادا ہوا جب خاموشی اختیار کرنا شاید زیادہ آسان تھا۔ فرزدقؔ جانتا تھا کہ وہ کس کے سامنے بول رہا ہے، مگر اس نے یہ بھی جان لیا تھا کہ بعض مواقع پر خاموش رہنا اپنی زبان کی صلاحیت سے انکار کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔
ہشام کے پاس اقتدار تھا فرزدقؔ کے پاس الفاظ تھے۔ لیکن ان الفاظ کے پیچھے جس شخصیت کا تعارف تھا، وہ امام حسینؑ کے فرزند، امیرالمؤمنین علیؑ کے پوتے اور رسول اللہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے کے گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔
فرزدقؔ نے قصیدہ پڑھنا شروع کیا، اور اس کے اشعار نے امامؑ کی شناخت کو عربی شاعری کے یادگار ترین مدحیہ قصائد میں جگہ دے دی۔
فرزدقؔ کا قصیدہ
جب شاعر نے دربار کو آئینہ دکھایا
فرزدقؔ نے امام زین العابدینؑ کی شان میں کہا:
هَذَا الَّذِي تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطْأَتَهُ وَالْبَيْتُ يَعْرِفُهُ وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ
یہ وہ شخصیت ہیں جن کے قدموں کو سرزمینِ بطحا پہچانتی ہے، جنہیں خانۂ کعبہ، حرم اور حرم سے باہر کی سرزمین بھی پہچانتی ہے۔
پھر کہا:
هَذَا ابْنُ فَاطِمَةٍ إِنْ كُنْتَ جَاهِلَهُ بِجَدِّهِ أَنْبِيَاءُ اللَّهِ قَدْ خُتِمُوا
یہ فاطمہؑ کے فرزند ہیں، اگر تم انہیں نہیں پہچانتے، ان کے جدِ امجد وہ رسول ہیں جن پر سلسلۂ انبیاء ختم ہوا۔
اور پھر وہ مصرع جس میں گویا پورے واقعے کا جواب سمٹ آیا:
وَلَيْسَ قَوْلُكَ مَنْ هَذَا بِضَائِرِهِ الْعُرْبُ تَعْرِفُ مَنْ أَنْكَرْتَ وَالْعَجَمُ
تمہارا یہ پوچھنا کہ یہ کون ہیں، ان کی شان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا جنہیں تم نہیں پہچانتے، انہیں عرب بھی پہچانتے ہیں اور عجم بھی۔
یہ اشعار فرزدقؔ کے معروف قصیدے سے ہیں، جو امام علی بن الحسینؑ کی مدح میں کہا گیا۔
ذرا اس جواب کی معنویت دیکھیے!
ہشام نے کہا: میں نہیں جانتا
فرزدقؔ نے کہا: میں جانتا ہوں
اور پھر اس نے امامؑ کا تعارف کسی شاہی فرمان سے نہیں، بلکہ ان کے نسب، کردار اور دینی مقام سے کروایا۔
جس شناخت سے انکار کیا گیا، اسی شناخت کو شاعر نے تاریخ کا حصہ بنا دیا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں فرزدقؔ کی شاعری محض مدح نہیں رہتی؛ وہ ایک تاریخی روایت میں حق گوئی کی علامت بن جاتی ہے۔
تخت ہشام کا تھا، مگر تعارف امامؑ کا ہوا
اس واقعے کا سب سے گہرا پہلو یہ نہیں کہ ایک حکمران حجرِ اسود تک نہ پہنچ سکا اور امامؑ پہنچ گئے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اس منظر میں دو مختلف طرح کی عظمتیں سامنے آئیں۔
ایک عظمت منصب سے وابستہ تھی دوسری نسبت، کردار اور لوگوں کے احترام سے۔
السید تقی شاہ زیدی retweeted
یا حسرتِ آلِ محمدؐ
آپؐ کا انتظار ہماری امید ہے،آپؐ کا ذکر ہماری تسلی ہے،اور آپؐ کا ظہور ہماری سب سے بڑی آرزو۔♥️🌸
السید تقی شاہ زیدی retweeted
رسول اللہ ص نے ابوبکر کو صدیق کا لقب نہیں دیا
عمر کو فاروق کا لقب نہیں دیا
عائشہ کو صدیقہ کا لقب نہیں دیا
خالد کو سیف اللہ کا لقب نہیں دیا۔
یہ سارے القابات اجماع کے طفیل حاصل ہوئے۔
دینِ اِلٰہی کو انسانوں کے فیصلے نے کیا بنادیا۔
السید تقی شاہ زیدی retweeted
جس نے باطل کے ایوانوں کو ہلا ڈالا تھا
وہ جو تھا لفظ،،نہیں،،وہ حسین ع ابن علی ہے۔#یاحسین



























