Darmiyaan?
Been in #London since 1992 !
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہت جلد مظلوموں کا ساتھی مظلوموں کے درمیان ہوگا انشا اللہ۔
تمام وفاپرستوں سے درخواست ہے کہ پیر صاحب کی جلد از جلد صحت یابی کے لئے دعائیں جاری رکھیں۔ جزاک اللہ۔!!
#AltafHussain
#GetWellSoonAltafBhai
🟥🟩⬜🇧🇬
@AltafHussain_90
@OfficialMQM
HNJ retweeted
جہاں بچیوں کو گھر والے کو ایجوکیشن کی اجازت نہیں دیتے، بچیاں ان پڑھ رہ جاتی ہیں ،
وہاں سندھ ، پنجاب ، بلوچستان کے جنکشن پر قائم بیگم نصرت بھٹو یونیورسٹی سکھر ، نئی نسل کی قسمت بدل دے گی،
طالبان یہاں آکر خوش اور مشاہد حسین سید حیران رہ گئے
ٹریول ولاگ
👇
youtu.be/nVT8VMXdTX4?si=mPa-…
*بلاسفیمی بزنس کیس: سردار نے بہت کچھ کر دیا ہے۔!*
*کمیشن کا فیصلہ کیوں ہوا۔؟*
فرنود عالم ...
کمیشن کا فیصلہ اس لیے ہوا کہ متاثرہ خاندان کی طرف سے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں درخواست ہی کمیشن کے لیے لگائی گئی تھی۔
عبد اللہ شاہ قتل کے بعد اسپیشل برانچ کی رپورٹ آئی۔ بعد ازاں این سی ایچ آر کی رپورٹ آئی۔ ان رپورٹوں میں ایک گینگ کا بتایا گیا جو لوگوں کو بلاسفیمی بزنس کے لیے ٹریپ کر رہا تھا۔
ٹریپنگ کا طریقہ کار، ایف آئی اے اور وکیلوں کا گٹھ جوڑ، اغوا، ٹارچر سیل، قتل یہ سب بھی انہی رپورٹوں میں سامنے آیا تھا۔
انہی رپورٹوں کی بنیاد پر متاثرہ خاندانوں نے ایک غیر جانبدار کمیشن کی ڈیمانڈ کی تھی۔ ڈیمانڈ یہ نہیں تھی کہ جسٹس سردار اعجاز ان رپوروٹوں کی بنیاد پر گینگ کو سزائیں سنائیں۔
(سزاوں کے لیے ہمیں بہت سارا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ یہ دس بارہ کلو میٹر کی دوڑ نہیں ہے۔ یہ میراتھن ہے، اس کے لیے سٹیمنا چاہیے ہوگا۔ یہ بات آج یہاں تک پہنچانے والوں کو چار سال کا عرصہ لگا ہے۔ اس دوران وہ ہر طرح کی مشکل سے گزرے ہیں۔ مگر ہمت کا دامن اور امید کا ہاتھ انہوں نے نہیں چھوڑا۔ اس کا ثمر آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں بھی امید اور ہمت کے سہارے چلتے رہنا ہوگا۔ اس ے سوا ہمارے پاس کچھ نہیں ہے)
جج نے اپنے سامنے ایک چیز رکھی!
درخواست گزار پانچ ایسے کیسز مجھے دکھائیں جو اسپیشل برانچ اور این سی ایچ آر کی رپورٹوں کو تقویت دیتے ہوں، تاکہ اس بات کو سمجھا جائے کہ کمیشن کے تقاضے میں کتنا دم ہے۔
جج صاحب ابتدا میں ہی کمیشن کے اہمیت کو سمجھ گئے۔ ابتدا میں ہی انہوں نے کمیشن کے لیے وزرات داخلہ کو لکھ دیا۔ مگر بلاسفیمی بزنس گروپ کے کارندے عدالت میں آگئے۔ انہوں نے تین باتیں کہیں
1۔ ہمیں پارٹی بنایا جائے
2۔ ہمیں سنا جائے
3۔ تحقیقاتی کمیشن نہ بنایا جائے
جج صاحب نے انہیں با جماعت پارٹی بھی بنا دیا اور اصرار کے بعد سننے کا فیصلہ بھی کر لیا۔
انہوں نے تین بار سماعت سے ایک دن پہلے جج کو ہراساں کیا۔ رجسٹرار کا گھیراو کیا۔ بار کاونسل پر دباو ڈالا۔ این سی ایچ آر کے دفتر کا گھیراو کیا۔ ایف آئی اے کے ذریعے وکلا کو نوٹسز بھیجے۔ کیس سے جڑے ہوئے لوگوں کے پیچھے سرکاری ہرکارے لگائے رکھے۔
آخری حربے کے طور پر یہ عدالت میں جتھے لے کر آگئے، مگر جج صاحب ہمت نہیں ہارے۔ انہوں نے دو آرڈرز اسی وقت لکھوا دیے
1۔ سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی۔
2۔ عدالتی کارروائی لائیو دکھائی جائے گی
گینگ نے بتانا تھا کہ کمیشن کیوں نہ بنایا جائے، گینگ نے کیسز کھولنا شروع کر دیے۔ اس بیچ یہ جے آئی ٹی کا مطالبہ لے کر آگئے۔ یعنی کمیشن نہ بنے، جے آئی ٹی بنے۔ اس حوالے سے انہیں تفصیل سے سن لیا گیا۔
انہیں جے آئی ٹی اس لیے چاہیے تھی کہ اس میں حاضر سروس افسران موجود ہوں گے۔ متاثرہ خاندان کو کمیشن چاہیے تھا تاکہ سابق افسران اس معاملے کو دیکھ سکیں۔
جب الزامات ہی ایف آئی اے پر ہیں تو ایف آئی اے کے کسی موجود افسر کو تحقیقاتی کمیٹی میں کیسے بٹھایا جا سکتا ہے۔
کئی دن کی مسلسل سماعت کے بعد ان کی گفتگو ختم ہوئی اور متاثرہ فریق کے وکلا کی باری آگئی۔
ان کی تفصیلی گفتگو سن کر جج صاحب اس بات پر مزید مطمئن ہوگئے کہ متاثرہ خاندانوں کا تقاضا بالکل بجا ہے۔
پاکستان میں سب بدترین دباو وہ ہے جو مذہبی قوانین کی بنیاد پر قائم کیا جاتا ہے۔ جس کے آگے ایس ایچ او، ایس پی ڈی ایس پی، ڈی پی او، وکیل اور جج سب بے بس ہوتے ہیں۔
انیس سو چھیاسی سے اب تک طاقتور حلقوں نے سیاسی مفادات کے لیے ہر طرح کا سرمایہ لگا کر جو دباو قائم کیا تھا، سردار اعجاز کے بیالیس دنوں کی ہمت نے اسے تحلیل کرنے میں کلیدی کردار کادا کیا۔
لوگ کھل کر بات کرنے لگے۔ بار میں بیٹھے خاموش وکلا کو بھی ہمت ہوئی۔
صحافیوں کو کچھ حوصلہ ملا۔ سوشل میڈیا انفلوئنسر کو یقین آنے لگا۔ جو لوگ اول اول ڈراوے دینے آتے تھے دھیرے دھیرے وہ بھی ساتھ آنے لگے۔
تصور کیجیے۔!
جو لوگ ہائیکورٹ کے ایک طاقتور جج کی عدالت میں یہ سب کر رہے تھے، وہ لوگ پچھلے چار سالوں سے نیچے کی کورٹس میں بے بس جج صاحبان کے سامنے کیا کچھ کرتے ہوں گے۔ تب فیملیوں پر کیا گزرتی ہوگی۔ ایمان مزاری، ہادی چٹھہ، عثمان وڑائچ اور تمبولی جیسے وکلا کس دل سے کام کرتے ہوں گے۔
مائیں جو ان عدالتیں میں اتنے سالوں سے بے بس کھڑی تھیں ان کے چہروں پر جسٹس سردار اعجاز کے بیالیس دن کی سماعت کے دوران پہلی بار مسکراہٹ دیکھی گئی ہے۔
میں اور آپ یا ہماری نسلیں جج صاحب کے صرف اس ایک کردار کا شکریہ بھی ٹھیک سے ادا نہیں کر سکتیں۔ کوشش کر لیں گے مگر الفاظ کہاں سے لائیں گے؟
ایک انسان سب کچھ نہیں کر سکتا۔ مگر ایک انسان بہت کچھ کر سکتا ہے۔ سردار نے بہت کچھ کر دیا ہے۔
HNJ retweeted
یہ غیر قانونی اختیار خان صاحب نے ہی سونپا تھا۔ ہم تو تب بھی اس اختیار کے خلاف تھے اور آج بھی ہیں
زیدی صاحب آپ زیرک اور سمجھدار صحافی ہیں۔حیرت ہے آپ ایسی بچگانہ اور غیر منطقی بات کر سکتے ہیں۔پہلی بات یہ ہے کہ عاصم منیر اس وقت کس آئینی و قانونی حیثیت سے کرپشن کی تحقیقات کر رہے تھے جبکہ یہ ڈی جی آئی ایس آئی کا منصب ہے نہ ذمہ داری۔دوسری بات یہ ہے کہ وہ خود ملزم سے تفتیش کے لیے وقت کی گزارش کیسے کر رہے تھے؟۔ایک تو یہ کام نیب یا متعلقہ ادارہ کرتا ہے اور دوسرا وہ کیس بنا کر نوٹس بھیجتا ہے حاضر ہونے کا۔یہ کیا کہے جا رہے ہیں آپ۔
HNJ retweeted
Replying to @betterpakistan
UK ban lifted! PIA’s back after a Rs250B loss sparked by reckless 2020 pilot license assertion. It was @ImranKhan’s impoverished overall governance that went awry, not #GhulamSarwar idiocy alone leading to grounding of @Official_PIA . Kudos for the comeback! #PIARises 1/4
HNJ retweeted
اہل پاکستان اور برطانیہ میں بسنے والی پاکستانی نژاد کیمیونٹی کو مبارک ہو!
ایک نالائق اور اناڑی لیڈر اور اس کی حکومت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی سزا پی آئی اے سمیت پاکستان کی ہوا بازی کی صنعت نے یورپ ، برطانیہ اور امریکہ میں پاکستانی ائیرلائینز پر پابندی کی صورت میں بھگتی جسکا پاکستان کو کئی سو ارب کا نقصان ہوا۔ میں حیران ہوتا ہوں ان لوگوں کی عقل پہ جو ایسے شخص کو پاکستان کا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں وزارت ہوابازی اور دفاع نے بھرپور محنت کیساتھ پہلے یورپ اور اب برطانیہ سے پاکستانی ائیرلائینز پہ پابندی ختم کروانے میں کامیابی حاصل کی۔ میں وزیر دفاع خواجہ آف کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
@KhawajaMAsif @CMShehbaz
HNJ retweeted
یہ قوم اپنی ڈرامہ بازیوں میں اسقدر مشغول ہے کہ اسے پتا ہی نہیں چلا کہ کسی نے کچھ ایسا کیا ہے کہ دہائیوں تک بنایا گیا خوف کا بت ، اپنے قلم کی چند سطروں سے توڑ دیا ہے۔
سردار اعجاز جیسا جج قوموں کے اندر کسی اچھے کام کا صلہ ہوتا ہے۔ جج صاحب آپ کو سلام
سونیا خان، ایمان مزاری، این سی ایچ آر پی، ایم این اے شیر ارباب سمیت جس جس نے بھی اس کیس میں متاثرہ خاندانوں کے حق کے لئے کوشش کی ہے وہ بلاشبہ ستائشُ کے مستحق ہیں۔
HNJ retweeted
All of our sons and daughters with diverse faiths should feel proud of this country and the country should feel proud of them. We still need to do a lot more for them.
HNJ retweeted
Work continues on the construction of the new Korangi Causeway Bridge which will connect District Korangi & Ibrahim Hyderi with other parts of the city benefiting thousands of commuters. As can be seen, girders are being launched. We are committed to have the project completed by October/November of this year inshallah #KarachiWorks
HNJ retweeted
دو کمپنیوں کو ٹیکس ریکوری کےلیے نوٹس بھیجے،ایک کمپنی 2 ارب 92 کروڑ اور دوسری کمپنی نے 1 ارب88 کروڑ ٹیکس ادا نہیں کیا، FBR نے ٹیکس دینےکےنوٹسز بھیجے،جسٹس منیب نے نوٹس کالعدم قرار دےدیے، فیصلہ جسٹس عائشہ نے لکھا ہے
۔۔۔
پھر جب ایسے ججز کے خلاف ریفرنس بھیجا جاتا ھے تو چیخیں مارتےہیں۔
HNJ retweeted
Sindh is the only province where the child’s age is set at 18. It is only recently that the same has been done in ICT as President Zardari refused to bow to pressure & signed the respective bill into law. In Sindh, the state stands by the victim not the oppressed. However, Pakistan needs this top to bottom approach to take on extremism that wants state to withhold rights to the minority communities. Collective action is required to put an end to the menace of forced conversion.
HNJ retweeted
جو لوگ آصف زرداری صاحب کی جیل کا عمران خان کی جیل سے موازنہ کرتے ہیں وہ بیوقوفوں کی جنت میں رہتے ہیں زرداری صاحب نے 14 سال جیل میں گزارے اور ہر طرح کی صعوبتیں برداشت کی خان صاحب کا تو ابھی آغاز ہے اور اُس پر بھی روز اُن کا ایک نیا مطالبہ سامنے آجاتا ہے۔



















