Niaz Badar Afridi . retweeted
پیپلز پارٹی کے غلام سرور خان نے مشرف کے غلام سرور خان سے مل کر جعلی بھرتیاں کیں جو تحریک انصاف کے غلام سرور خان نے پکڑ لیں ۔۔
😜😜😂😂 !!
Niaz Badar Afridi . retweeted
گورنمنٹ آف پنجاب سے مطالبہ ہے کہ اس کاکی یا وے کو پنجاب میں داخلہ ہوتے ہی گرفتار کیا جائے پنجابیوں سے معافی منگوائی جائے اور تاحیات پنجاب داخلہ پر پابندی لگائے جائے۔
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست
Niaz Badar Afridi . retweeted
اس سے پہلے کہ اس یونیورسٹی میں قتل و غارت ھو ۔ حکومت اس میں ھر طرح کے کلچرل ایونٹس پہ پابندی لگادے۔ انکی پانچ ھزار سالہ پرانی جعلی تاریخ میں نہ یہ کبھی خود سکون اور آرام سے بیٹھے ھیں نہ کسی دوسرے کو بیٹھنے دیتے ھیں۔ انکے بارے میں مشہور ھے کہ جب یہ کسی سے نہیں لڑرھے ھوتے تو یہ آپس میں لڑتے ھیں۔ اجکل ڈالر جہاد سے فارغ ھیں تو نشانہ پاکستان ھے ۔ نہ انکا پنجاب سے کچھ لینا دینا نہ لاھور سے لیکن انکی ھر تقریر میں پنجاب اور لاھور نشانہ ھوتاھے۔ یہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے ٹارگٹ کیا جارھاھے ۔ کبھی سیاسی جلسوں میں اور کبھی تعلیمی اداروں میں ۔
ایونٹ کے نام پہ اشتعال انگیزیوں کو بلاکر اشتعال انگیز تقاریر کرنا اور آگے سے چھوکروں کا تالیاں بجانا ثابت کرتاھے کہ آج نہیں تو کل یہاں پہ فساد ضرور ھوگا۔ سٹیج پہ جو ھے سو ھے نیچے جو بیٹھاتالیاں بجارھاھے وہ بھی ایک مائنڈ سیٹ ھے ۔ حکومت اس ادارے میں ھر طرح کی غیر نصابی سرگرمیوں پہ پابندی لگائے ۔ یہ اس قابل نہیں ھیں کہ انہیں عزت ملے ۔
@CMShehbaz
@MohsinnaqviC42
@TallalPMLN @dcislamabad
Niaz Badar Afridi . retweeted
یہ پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے ملک انورتاج کے صاحبزادے ہیں جو یورپ میں شاہانہ زندگی گزار رہے اور پاکستان میں پروٹوکول کے مزے لیتے رہے۔ان کے دوسری بیٹے بھی یورپ سے law کر چکے ہیں
اگر یہاں پر کوئی مہمند ڈسٹرکٹ کا موجود ہے تو وہ جانتا ہوگا کہ یہ کہاں سے کہاں پہنچے ہیں جن کے اپنے گھر کا اتا پتہ نہیں تھا ان کا یہ پہناوا یہ زندگی ان کے گاؤں میں گھر حجرے ان کا ڈی ایچ اے میں گھر آخر یہ سب کچھ کیسے آگیا؟
ہم نے اپنی آنکھوں سے ان کی زندگی کو دیکھا ہے اور زمین سے آسمان تک پہنچتے ہوئے بھی دیکھا ہے ان کے بچوں کی زندگی کو دیکھ لے اور پھر اپنی زندگیوں کو دیکھ کر تھوڑی سی شرم تھوڑی سی حیا کر لے کہ آپ کیوں آخر ان لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں اور محض تھوڑے سے فائدے کے لیے ان کے حق میں بات کرتے ہیں؟
ان کے انسٹاگرام کے پروفائل پر جائیں اور ان کی شاہانہ زندگی کو انجوائے کریں کیونکہ یہ زندگی صرف ان کے بچوں کی ہی حصے میں آ سکتی ہے آپ کے حصے میں نہیں۔کیونکہ ان کے پاس بلو پاسپورٹ ہے۔
مہمند ڈسٹرکٹ میں ملک انور تاج نے آخر کون سا کارنامہ سر انجام دیا ہے آج تک؟ اور ان کے انکل محبوب شیر ایم پی اے دونوں نے مہمند کے کئی زمینوں پر قبضے کر رکھے ہیں وہاں پر کارخانے بھی چلا رہے ہیں۔احتساب بیورو کو یہ دونوں نظر کیوں نہیں آتے؟
Niaz Badar Afridi . retweeted
خادم علی خان یوسفزئی ایک بہترین رہنما، ممتاز تاریخ دان، مدبر ایڈمنسٹریٹر اور خیبر پختونخوا کا قیمتی اثاثہ ہیں۔
مردان کی زرخیز سرزمین سے تعلق رکھنے والے خادم علی یوسفزئی باصلاحیت پختون نوجوانوں کے لیے ایک قابلِ تقلید رول ماڈل ہیں۔
@Alikhanyzai
یہ ویڈیو بہت مشکل سے ملی ہے۔ پھیلانا لازمی ہے
👈عمران خان نے کشمیر کا سودا وزیر اعظم بننے سے پہلے ہی کیا تھا۔ جب عمران خان کی کتاب شائع ہوئی تو اس میں کشمیر کو انڈیا کا حصہ دکھایا گیا تھا
وزیراعظم بننے کے بعد مودی کے ساتھ باقاعدہ سودا طے ہوا
اس ویڈیو میں ثبوت کےساتھ دیکھیں 🚨
Niaz Badar Afridi . retweeted
کورونا وبا کے دوران چین نے پاکستان کو یہ ہسپتال تحفے میں دیا تھا، جو بعد میں مجرمانہ غفلت کے باعث کھنڈرات میں بدل گیا۔ میڈیا رپورٹ پر وزیراعظم شہباز شریف نے نوٹس لیا، مسلسل نگرانی کی، اور آج پاک چائنہ فرینڈشپ ہسپتال کا افتتاح کیا، جہاں عوام کے لیے علاج اور ادویات مفت ہوں گی۔ 🇵🇰🇨🇳
Niaz Badar Afridi . retweeted
شاہ جی ، حسد اور بغض کا کوئ اعلاج نہیں میڈم چیف منسٹر @MaryamNSharif نے پنجاب میں ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے ہیں ہر روز کوئ نا کوئ پروجیکٹ لانچ ہو رہا ہے ۔ بہت سارے مخالفین اعتراف بھی کر رہے ہیں ۔ آپ بھی بغض کی عینک اتار کر دیکھیں تو بہت سارے کام نظر آئیں گے
Niaz Badar Afridi . retweeted
یہ شخص ریاست کو دھمکی دے رہا ہے۔
اخرت کا سوال کھڑا کر دیا مگر جب ان سے پوچھا گیا کہ 600 کروڑ کی جائیداد 2022 میں اپ نے 13 کروڑ کی کیسے لی تو اس کا جواب نہیں دیا۔
کیا اس کا سوال اخرت میں نہیں ہوگا؟
جہاں تک 70 سالوں کی عورتوں کی بات ہے وہ ہر وقت ملک میں تشار پھیلانے کے لیے گھوم رہی ہوتی تھی ان کی زوجہ محترمہ نے تو یہ بھی کہا کہ مودی چاہتا تو ہمیں فکس کر دیتا۔
Niaz Badar Afridi . retweeted
وہ وقت جب ایک پختون وزیر داخلہ اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف کاروائی کر رھا تھا تو اس وقت کسی پنجابی نے نھیں کہا کہ پختون ھمارا روزگار ختم کر رھا ھے ؟؟
اب اگر پختونخواہ میں تجاوزات کے خلاف کاروائی ھو رھی ھے تو ایک بار پھر یہ بیانیہ پیدا ھوگیا کہ پنجاب پختونوں سے روزگار چھین رھا ھے ؟؟؟
اوہ بھائی کون لوگ ھو تم ؟؟
پی ٹی آئی نے کیا تھا تو وہ نیا پاکستان بن رھا تھا اب اگر ھو رھا ھے تو یہ پختونوں کے خلاف ایک سازش ھے ؟
اگر سرکاری زمین پر آبادی ھوئی تھی تو پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی وہ آپریشن ٹھیک تھا اور اگر سرکاری زمین پر قبضہ کیا گیا ھے تو اب گورنر راج کا یہ آپریشن بھی بلکل ٹھیک ھے ۔۔۔
Niaz Badar Afridi . retweeted
صوبہ پنجاب آبادی 14 کروڑ کابینہ ارکان صرف 25
صوبہ سندھ 5 کروڑ کابینہ ارکان 62 بلاول کی لوٹ مار
Niaz Badar Afridi . retweeted
اینکر منیب فاروق کا انکشاف:
منیب فاروق کے مطابق، "میں ایک ایسا چھپا ہوا فیکٹ آپ کے سامنے رکھنے لگا ہوں جو آپ کو حیران کر دے گا۔"
منیب فاروق کے مطابق 9 مئی کو جب عمران خان کو گرفتار کر کے ایک محفوظ مقام پر رکھا گیا، تو وہاں کا ماحول کسی پریشان قیدی والا نہیں تھا۔ +++
Niaz Badar Afridi . retweeted
سفید داڑھی کے ساتھ بھی اتنا صریح جھوٹ بولتے ہوئے شرم نہیں آتی!، لیہ کے بچے بچے کو پتہ ہے کہ وہاں عمران کے بہنوئی نے غریبوں کی زمینوں پر زبردستی قبضے کیے ۔ بھائی جی ریکارڈ اور تاریخیں کسی کا جھوٹ چھپنے نہیں دیتیں۔
جب یہ تمام زمینیں خریدی اور منتقل کی گئیں، اس وقت پنجاب کا وزیرِ اعلیٰ حمزہ شہباز نہیں بلکہ عمران خان کا لاڈلا وسیم اکرم پلس عثمان بزدار تھا۔ عثمان بزدار اور پی ٹی آئی کی مقامی انتظامیہ نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا ننگا ناچ نچاتے ہوئے 6 ارب روپے کی 5,281 کنال اراضی صرف 13 کروڑ روپے میں ہتھیا لی۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے گریٹر تھل کینال منصوبے کی پیشگی معلومات استعمال کر کے مقامی لوگوں سے سستے داموں زمینیں چھینی گئیں۔ دسمبر 2021 اور مارچ 2022 کے جن سرکاری انتقالات اور 500 کنال پر زبردستی قبضے کی کہانی پر وہاں کے غریب مالکان آج بھی سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں، ان تمام سیاہ کارناموں کے وقت حمزہ شہباز کا دورِ حکومت دور دور تک وجود نہیں رکھتا تھا۔
احد خان کے تمام دعوے صرف قانونی باریکیوں اور ٹائپنگ کی غلطیوں کے پیچھے چھپنے کی ناکام کوشش ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اراضی کا مرکزی انتقال عثمان بزدار کے دورِ حکومت میں یعنی دسمبر 2021 اور مارچ 2022 میں مکمل ہوا تھا۔ اگر مئی یا جون 2022 میں حمزہ شہباز کے چند ہفتوں کے دور میں کوئی کاغذی اندراج ہوا بھی، تو وہ پہلے سے مکمل خریدی گئی زمین کی بقایا کارروائی تھی، اصل خریداری اور اثر و رسوخ کا استعمال پی ٹی آئی کے اپنے دور میں ہو چکا تھا۔ جہاں تک ایف آئی آر پر 30 فروری کی تاریخ کا تعلق ہے، تو ایک معمولی کلریکل یا ٹائپنگ غلطی کی بنیاد پر اربوں روپے کے اسکینڈل سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں، عدالتیں ٹائپنگ کی غلطیوں کو نہیں بلکہ اصل لینڈ ریکارڈ کو دیکھتی ہیں۔
آپ نے تیرہ کروڑ دے کر چھ ارب روپے کی زمین لیہ میں خریدی۔۔۔اس میں کیا حقیقت ہے؟ صحافی کا سوال
یہ زمین ہم نے تب خریدہ تھی جب پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت تھی،احد خان
یہ مئی اور جون 2022 میں خریدی گئی،خان صاحب کی حکومت ختم ہوگئی تھی،احد خان
انہوں نے ایف آئی آر 30 فروری کاٹی،فروری میں تیس دن ہوتے ہیں،احد خان
پھر الزام لگایا گیاکہ سرکاری زمین ہے وہ سرکاری زمین بھی نہیں نکلی،احد خان
انہوں نے انتقال اکتوبر 2021 کا بیک ڈیٹ میں کیا جو بدنیتی ہے،احد خان
ہمارا ای شٹام مئی اور جون کا ہے،احد خان
کیس خان صاحب کو پھنسانے کےلئے بدنیتی پر کیا گیا،احد خان
کیس کی سماعت کے دوران جج نے کہاکہ انتقال پہلے کروالیا جائے اور ادائیگی چھ ماہ بعد کی جائے یہ ممکن ہے،احد خان
جس نے بیچی ہے اس نے بھی بیان دیا اور خریدنے والے نے بھی ،احد خان
صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،احد خان
Niaz Badar Afridi . retweeted
🚨 حامد میر کا گلبرگ گرینز میں چھ کنال کا فارم ہاؤس: ثبوت ،دستاویزات، مبینہ فوائد اور چند اہم سوالات!
حامد میر صاحب نے صحافیوں پر خفیہ اداروں سے مالی فوائد حاصل کرنے اور ان کے ایجنڈے کے مطابق لکھنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اگر صحافت میں مالی مفادات، ادارہ جاتی تعلقات اور مراعات سوالات اٹھانے کا موضوع ہیں، تو پھر یہی اصول ہر صحافی پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔
حامد میر صاحب اس وقت مبینہ طور پر تقریباً ایک ارب روپے مالیت کے چھ کنال کے فارم ہاؤس میں رہائش پذیر ہیں۔ اس حوالے سے دستیاب دستاویزات پر چند اہم سوالات سامنے آتے ہیں، جن کے جوابات عوام کے سامنے آنے چاہییں۔
معاملہ کیا ہے؟
گلبرگ گرینز، اسلام آباد میں واقع سول خفیہ ایجنسی انٹیلجنس بیور کی ہاوسنگ سوسائٹی ہےدستیاب دستاویزات کے مطابق، حامد میر صاحب نے 12 مار 2014 کو چھ کنال کا ایک فارم ہاؤس پلاٹ الاٹ ہوا ، جو سیکٹر ڈی میں واقع تھا۔ یہ سیکٹر نسبتاً غیر آباد بتایا جاتا ہے۔
بعد ازاں، عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور پی ڈی ایم کے دورِ حکومت میں، 23 ستمبر 2022 کو مبینہ طور پر یہ پلاٹ سیکٹر ڈی سے منتقل کرکے سیکٹر اے میں کر دیا گیا۔ سیکٹر اے کو سوسائٹی کا اہم اور مہنگا علاقہ سمجھا جاتا ہے، جہاں اعلیٰ فوجی افسران کی رہائش گاہیں بھی موجود ہیں۔ اسی علاقے کے قریب سابق چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کی رہائش گاہ ہے
اس معاملے میں درج ذیل سوالات کے جواب ضروری ہیں:
1۔ ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ لینے کی بنیاد کیا تھی؟
حامد میر صاحب، اگر آپ خود کو اصول پسند اور آزاد صحافت کا علم بردار سمجھتے ہیں، تو ایک ایسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں چھ کنال کا پلاٹ خریدنے کی ضرورت اور اس کی بنیاد کیا تھی، جس کا تعلق خفیہ ایجنسی سے ہے؟ کیا یہ پلاٹ عام کمرشل یا اوپن مارکیٹ خریداری کے ذریعے حاصل کیا گیا، صحافیوں کے کسی مخصوص کوٹے کے تحت ملا، یا کسی خصوصی رعایت یا تعلق کی بنیاد پر حاصل ہوا؟ اگر کوئی خصوصی کوٹا یا رعایت تھی، تو اس کی شرائط کیا تھیں؟
2۔ پلاٹ کی اصل قیمت اور منی ٹریل کیا ہے؟
یہ پلاٹ کس قیمت پر خریدا گیا؟ خریداری کے وقت اس کی سرکاری اور مارکیٹ ویلیو کیا تھی؟ ادائیگی کس ذریعے سے کی گئی، اور کیا اس کی مکمل مالی دستاویزات اور منی ٹریل موجود ہیں؟ اگر آج اس فارم ہاؤس کی مالیت تقریباً ایک ارب روپے بتائی جا رہی ہے، تو اس مالیت کا تعین کس بنیاد پر کیا گیا؟ پلاٹ کی قیمت اور اس پر تعمیرات کی لاگت کو الگ الگ واضح کرنا بھی ضروری ہے۔
3۔ سیکٹر ڈی سے سیکٹر اے میں منتقلی کیسے ہوئی؟
یہ اس معاملے کا سب سے اہم سوال ہے۔ سیکٹر ڈی اور سیکٹر اے کی زمین کی قیمت، محلِ وقوع اور اہمیت میں نمایاں فرق بتایا جاتا ہے۔ یہ فرق تقریباً ایسا ہے جیسے اسلام آباد میں کسی شخص کا پلاٹ آئی ٹین سے منتقل کرکے ایف 6 مارگلہ روڈ میں دے دیا جائے۔
اگر پلاٹ واقعی سیکٹر ڈی سے سیکٹر اے میں منتقل کیا گیا، تو اس منتقلی کی قانونی اور انتظامی بنیاد کیا تھی؟ کیا یہ معمول کی پالیسی کے تحت ہوئی یا کسی خصوصی منظوری سے؟ کیا دونوں سیکٹرز کے درمیان قیمت کے فرق کی ادائیگی کی گئی؟ کیا اس منتقلی کے لیے متعلقہ اتھارٹی کی منظوری، بورڈ کی کارروائی اور دیگر ضروری دستاویزات موجود ہیں؟ اور سب سے اہم سوال: کیا یہی سہولت عام الاٹیز کو بھی دستیاب ہے، یا یہ کسی خاص فرد کے لیے خصوصی رعایت تھی؟
4۔ مختلف ادوار میں مبینہ فوائد اور طاقت ور حلقوں سے تعلقات کی وضاحت کیا ہے؟
حامد میر صاحب، آپ کے ناقدین آپ اور آپ کے خاندان کے مختلف فوجی ادوار میں مبینہ فوائد اور سرکاری اداروں سے وابستگیوں پر بھی سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کی حقیقت واضح کرنا ضروری ہے:
* آپ کی اہلیہ مشرف دور میں پی ٹی وی سے وابستہ تھیں، اور آپ کی بیٹی کے بھی موجودہ دور میں پی ٹی وی پر آنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان تقرریوں یا مواقع کی نوعیت اور بنیاد کیا تھی؟
* آپ کے بھائی نگران حکومت کے دور میں وزیر بنے۔ ان کی تقرری کا پس منظر کیا تھا؟
* آپ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ جنرل قمر جاوید باجوہ سے طویل ملاقاتیں کرتے اور انہیں مشورے دیتے تھے، حتیٰ کہ ایک ملاقات آٹھ گھنٹے جاری رہنے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔ ان ملاقاتوں کی نوعیت اور مقصد کیا تھا؟
* ان تمام معاملات کی روشنی میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ نے کسی دور میں کسی قسم کی خصوصی رعایت، سہولت یا فائدہ حاصل کیا؟
آزادیٔ صحافت کا تقاضا صرف دوسروں سے سوال کرنا نہیں، بلکہ اپنے بارے میں اٹھنے والے جائز سوالات کا جواب دینا بھی ہے
Niaz Badar Afridi . retweeted
منیب فاروق کا مزید کہنا ہے کہ جب یہ تمام آڈیو شواہد اور رابطوں کے ثبوت موجود ہیں، تو پھر اس معاملے میں خان صاحب کیلئے کسی رعایت یا معافی تلافی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
Niaz Badar Afridi . retweeted
کی مکمل معلومات تھیں۔ وہ کسی صدمے میں نہیں، بلکہ انتہائی پرجوش تھے۔ انہیں اس بات کا مکمل یقین تھا کہ ان کی گرفتاری کے ردعمل میں فوج کے اندر بغاوت (Mutiny) ہو جائے گی اور موجودہ عسکری قیادت کا تختہ الٹ دیا جائے گا۔+++
Niaz Badar Afridi . retweeted
عمران خان نے دورانِ حراست متعدد افراد سے رابطے کیے۔ اس دوران انہوں نے کچھ انتہائی غیر محتاط گفتگو کی، جس کی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے۔ اس گفتگو میں آرمی چیف کے متعلق سخت اور نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے گئے۔
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ عمران خان کے پاس باہر ہونے والے تمام واقعات+++
Niaz Badar Afridi . retweeted
خلاف سیاست میں حصہ لینے پر مکمل پابندی لگا سکے اس کے اکاونٹس منجمد کر سکے اور اس کی تمام لیڈر شپ کے خلاف ریاست سے بغاوت کی کاروائی کر سکے تب ہی مستقبل میں مستقل مزاجی سے تعمیر و ترقی کا عمل شروع ہو سکتا ہے
Niaz Badar Afridi . retweeted
پاکستان کی پارلیمنٹ کو ایک قانون بنانے کی اشد ضرورت ہے کہ اگر کوئی بھی صوبائی حکومت وفاق پر چڑھائی کرے امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کرے جیسے خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت متعدد بار اس قسم کی خلاف قانون کام کر چکی ہے اسے گھر بھیج سکے بلکه اس سیاسی جماعت کے





























