میں جو یہاں لکھتا ہو وہ میرا ذاتی خیال ہوتا ہے۔جو غلط بھی ہو سکتا ہیں میرا تعلق کسی ادارے سیاسی پارٹی یا کسی گروہ سے نہیں۔ میرے لکھے ہوئے کو کسی کی ذات سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سب میرے اپنے دماغ کی خرافات ہیں۔
حالانکہ میں صوبوں کی تقسیم کے خلاف تھا۔ لیکن آج کل اُلٹ زمانہ ہے
نوید شاہ۔ retweeted
اوئے باز آ جاو میں لاسٹ وارننگ دے رہا
یہ ہر بندے سے پیسے مانگنے اور پھر پیسے لیکر واپس نا کرنے
اور اگر کرنے بھی تو اگلے کو ذلیل و رسوا کرکے
اور دوبارہ پھر مانگنے
اور ہر لڑکی کے ڈی ایم میں گھسنا
منع نا ہوئے تو
اس کے بعد بمعہ ثبوت میں ساری کنورسیشنز یہاں ٹی ایل پر لگا دینی اگر آئندہ مجھے کوئی شکایت ملی کو یا کوئی نیا سکرین شاٹ آیا میرے پاس
نوید شاہ۔ retweeted
Replying to @pakistanipeeeps
ایک کاکڑ فارمولا بھی آیا تھا کہ نواز شریف بھی گھر جائے اور صدر غلام اسحاق خان بھی گھر جائے پھر دونوں گھر چلے گئے لیکن نواز شریف آج بھی ہے اور غلام اسحاق خان؟
نوید شاہ۔ retweeted
وسيع جنگ کو روکنے کی آخری کوشش۔ مکہ معاہدے میں شامل ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام کا تہران کا دورہ ایرانی نظام کو دوٹوک پیغام بھی ہے اور ایک مشکل توازن قائم رکھنے کی کوشش بھی: ہم جنگ روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ایران اور اس کے پراکسی گروہوں کی جارحیت برداشت نہیں کریں گے۔
HRH Prince Khalid bin Salman bin Abdulaziz Al-Saud, Minister of Defense, leads the Kingdom’s delegation to the meetings that will be held today in Tehran, capital of Iran, between Makkah Joint Defense Agreement countries and officials from the Islamic Republic of Iran, with participation of Field Marshall Asim Munir, Pakistani Chief of Army Staff and Ibrahim Kalin, Director of the Turkish National Intelligence.
Representatives of Makkah Joint Defense Agreement countries will meet with the H.E. President of the Islamic Republic of Iran Dr. Masoud Pezeshkian, and H.E. the Secretary of the Supreme National Security Council of Iran Mohsen Rezaei.
The visit comes as part of the continued efforts by the Makkah Joint Defense Agreement countries for de-escalation between parties involved in the ongoing crisis, and promoting dialogue and diplomatic solutions, in support of the mediation efforts carried out by the State of Qatar and the Islamic Republic of Pakistan. The visit underscore the pivotal role of Makkah Joint Defense Agreement countries in reinforcing regional security and stability, and working with all countries in the region to achieve that goal.
نوید شاہ۔ retweeted
Commercial import and its requirements are officially confirmed in this SRO EDB 2026-0002 issued on 30th September 2026 by Engineering Development Board.
The thing is that does anybody know how to start commercial import of used vehicles?
I talked to banks, shipping companies and customs agents. They have no clue as of yet.
Pakistan may soon allow the commercial import of used vehicles manufactured from 2016 onwards, according to industry sources.
Under the reported proposal, importers would need to be registered companies with valid NTN and sales tax registration, arrange imports through official banking channels, and have agreements with registered workshops for after-sales support.
Imported vehicles would also need to meet Euro 6 emission standards.
However, these changes are not yet officially confirmed, and a formal government notification is still awaited.
نوید شاہ۔ retweeted
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے پچھلے ہفتے ایران کے دورے کے نتائج سامنے آ گئے۔دنیا کو پھر بڑے بحران سے وقتی طور پر بچا لیا۔
امریکی حملے سے
پہلے ایران کو پھر موقع لے دیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ،سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترک انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن
ایران کی ساری بڑی قیادت کے ساتھ آج تہران میں سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔
مکہ دفاعی اتحاد کے تینوں رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی اعلی عسکری قیادت آج تہران میں ایرانی قیادت کے ساتھ ایک انتہائی اہم اور ہنگامی مشترکہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے میں ہونے والی اس تاریخی بیٹھک میں اگست میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد اس نو تشکیل شدہ سہ ملکی بلاک کا ایرانی قیادت کے ساتھ یہ پہلا اور بڑا براہِ راست رابطہ ہے،
اس میٹنگ کا بنیادی مقصد خطے میں جاری جنگ، سکیورٹی امور اور علاقائی استحکام پر بات چیت کرنا اور حل نکالنا ہے۔
یہ اہم ترین سکیورٹی مشاورت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب سعودی عرب کو یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کی جانب سے حملوں کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے یہ ممالک خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی راستے تلاش کر رہے ہیں۔ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ان ممالک کی سرزمین یا سرحدوں پر کسی بھی حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق، اس ملاقات کا بڑا مقصد بیرونی مداخلت کو روک کر خطے کے ممالک کے باہمی تعاون سے مقامی امن قائم کرنا ہے، جس کی راہ ہموار کرنے کے لیے فیلڈ مارشل نے گزشتہ ہفتے بھی تہران کا اہم دورہ کیا تھا۔
گمان کیا جا رہا ہے کہ
اس ہنگامی بیٹھک کے نتائج پورے خطے کے مستقبل پر گہرے اور اچھے اثرات مرتب کریں گے۔
(اسد آر چوہدری)
نوید شاہ۔ retweeted
پاکستان کے گھٹیا ترین حرام کھانے والے ڈیلرز جو ہیں
انہونے پہلے پراپرٹی بلاوجہ بہت مہنگی کروائی خود ساختہ کہانیاں سنا سنا کر
اب کار ڈیلرز چائنیز گاڑیوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔
اسی سال سے ٹویوٹا اور ہونڈا گردی انہی لوگوں نے قائم رکھی ہے
نوید شاہ۔ retweeted
ایرانی اکاؤنٹس Psy Ops کے استعمال سے پاکستان میں لیکوئیڈ گیس کی قیمت speculation اور disinformation کے ذریعے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ پاکستانی حکومت پر پریشر ڈالا جا سکے۔ میں اسکو ربط کرتا ہوں تین باتوں سے:
- پاکستان کو غزہ امن سفارتکاری سے روکنے کیلئے سوشل میڈیا پر پریشر
- پاکستان کو خلیجی ممالک کی مدد کرنے سے روکنے کا پریشر
- پاکستان پر عرب، مغرب، اور امریکہ سے تعلقات بہتر کرنے سے روکنے کا پریشر
ان تینوں معاملات پر ایرانی نظام کے مفادات بھارتی مفاد سے ملتے ہیں، جس میں کوئی حرج نہیں، عالمی سیاست اسی طرح چلتی ہے۔ لیکن ہمارے ایرانی حکومت کے حمایتی بھائیوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ بھارت پر تنقید نہیں کر رہے حالانکہ بھارت بھی امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران سے تجارت نہیں کررہا ہے۔ سارا غصّہ صرف پاکستان پر کیوں۔
نوید شاہ۔ retweeted
ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ بنانے والی تاریخی فتح کے باوجود یہاں کچھ دانشوڑ عجیب و غریب قسم کے تبصرے کر رہے۔۔۔۔
اتنی نیگٹیویٹی کیسے؟؟؟
خوشی کے موقع پہ تو خوش ہو لیا کرو۔۔۔۔۔
شاداب خان کا نام تاریخ میں لکھا گیا ہے، اب آپ چاہیں روئیں، پٹیں، جلیں یا کڑھیں۔۔
😜😜😎😎
نوید شاہ۔ retweeted
حسن ایوب کہہ رہے ہیں اتنی یب یب اور کٌت کٌت کے انکو ARY انکو صرف ڈھیڑ لاکھ تنخواہ دیتا ہے ۔ حسن ایوب کھاتے پیتے اور مالی طور پر مضبوط بیک گراؤنڈ سے ہیں ۔۔۔ کیا ضرورت ہے اس ساری یب یب کی ۔۔۔ بہت شوق ہے کام کرنے اور مصروف رہنے کا تو کوئی کال سینٹر جوائن کر لیں ۔ باقی بات passion کی کی انہوں نے ۔۔۔ passion ہونا صحافت کے موجودہ اقدار اور حالات دیکھتے ہوئے بنتا نہیں ہے ۔ اور باقی جو لوگ 5 ،6 لاکھ ایک ایک ٹوئیٹ پر بانٹ رہے ہیں وہ مجھ سے رابطہ کریں ۔
نوید شاہ۔ retweeted
بھٹی، ڈی سی دے بیج میٹ NCCIA چ وی ھیغے۔ 🤣
@MajidAB_
نوید شاہ۔ retweeted
یہ جو شوٹر/تلئیر ڈرائیور 6,6 گاڑیوں کو ہائی سپیڈ لیفٹ سے اوورٹیک کرتے ہیں اور 7ویں گاڑی کے لین چینج کیصورت میں رنگ روڈ سے باہر الٹے پڑے ہوتے ہیں، انکو مردہ خانے منتقل کرنیکا 1122 کا خرچہ بچے گا
نوید شاہ۔ retweeted
میڈم تب کہاں تھیں جب اسی کارکن ماجد بھٹی پر ایک ناجائز پرچہ ہوا اور بھاری جرمانہ بھگتا اس نے ؟
The video depicts a car rally in which a PERA vehicle is seen accompanying other participating vehicles. The deployment of a regulatory authority’s resources for non-serious purposes, beyond its officially prescribed mandate, constitutes a serious breach of administrative discipline and a violation of established policy. In view of this matter, the Deputy Commissioner is being removed from the post with immediate effect.
نوید شاہ۔ retweeted
ٹک ٹاکر شاہزیب سیالکوٹی کی گرفتاری کا معاملہ سامنے آیا ہے جسے این سی سی آئی اے (NCCIA) نے خواتین کے خلاف نازیبا ویڈیوز اور مواد وائرل کرنے پر حراست میں لیا ہے. اس معاملے پر جب سینئر اینکر پرسن بشریٰ شکیل کا انٹرویو دیکھا تو انہوں نے بتایا کہ کیسے اس شخص نے ان کے اور دوسری خواتین کے خلاف ویڈیوز بنائیں اور انتہائی نازیبا زبان استعمال کی. انہوں نے بغیر کسی سفارش کے باضابطہ قانونی راستہ اپنایا اور اب ملزم چار روزہ ریمانڈ پر ہے.
اختلافِ رائے ہر جگہ موجود ہوتا ہے لیکن اس طرح کسی کو ٹارگٹ کرنا اور گالیاں دینا کوئی قابلِ قبول عمل نہیں ہے۔ آپ ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر بنے ہیں، لاکھوں لوگ آپ کو سنتے ہیں، تو اس قسم کی زبان استعمال کرنا اور گالیاں دینا آخر کیسا کنٹینٹ ہے؟ میں اس خاتون کو بھی نہیں جانتا اور یہ بھی نہیں جانتا کہ ان کی کس ویڈیو پر اتنا ایکسٹریم ری ایکشن دیا گیا، لیکن اس طرح سرِعام گالیاں دینا اور گندی زبان استعمال کرنا اچھی بات نہیں۔
اگر کسی کو کسی کے مواد سے اختلاف ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ذاتی حملے شروع کر دیں یا سوشل میڈیا پر کسی کی تذلیل کریں۔ قانون کی عملداری سب سے اوپر ہونی چاہیے اور اگر کوئی مسئلہ ہے تو اداروں سے رجوع کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا ہمیں اظہارِ رائے کی آزادی ضرور دیتا ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم اخلاقی حدود ہی پھلانگ جائیں۔ یہ سب کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر استعمال کیا جائے۔
#CyberCrime #NCCIA #ShahzebSialkoti
نوید شاہ۔ retweeted
خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کو بڑا دھچکا5 ہفتوں میں حملوں میں 66 فیصد نمایاں کمی، امن و استحکام کی جانب اہم پیش رفت۔👇👇
پاکستان اور انڈیا میں ایک بڑا فرق سلیبرٹی کی پوجا ہے۔ انڈیا میں سلیبریٹیز کی بڑی حد تک پوجا کی جاتی ہے مودی اسی نظریے کو کیش کرتا ہیں۔ پاکستان میں عمران خان نے اس نظریے کو کیش کرنے کی کوشش کی۔ لیکن یہاں کے لوگ سلیبرٹی کو اس کو جگہ پر رکھتے ہیں ۔مقبولیت ہمیشہ کی کامیابی کی ضمانت نہیں۔ یہی عمران خان کے ساتھ ہوا۔ وہ اپنی مقبولیت کو اپنی ہمیشہ کی کامیابی سمجھ بیٹھا۔ اب کوئی اس کے لیے باہر نکلنے کو تیار نہیں۔ گورنر راج بھی لوگوں نے برداشت کر لیا۔ پیچھے کیا رہ جاتا ہے۔ اس کی بہنیں بھی جیل میں ہیں لیکن کوئی عوامی موومینٹ نہیں۔
آپ نے پاکستان اور بھارت کی سیاست میں ایک دلچسپ فرق کی نشاندہی کی ہے: کسی شخصیت کی مقبولیت کو مستقل سیاسی وفاداری سمجھ لینا۔ سیاسی تاریخ میں یہ دونوں چیزیں اکثر الگ ثابت ہوتی ہیں۔
آپ کے تجزیے میں تین بنیادی نکات ہیں۔
### 1۔ سلیبرٹی اور سیاسی قیادت کا فرق
بھارت میں فلمی ستاروں، مذہبی شخصیات اور سیاسی رہنماؤں کے گرد شخصی عقیدت کی مضبوط مثالیں ملتی ہیں۔ نریندر مودی کی سیاست میں بھی ذاتی برانڈ، مضبوط قیادت کی تصویر اور جذباتی سیاسی شناخت اہم عناصر ہیں۔ تاہم، ان کی مقبولیت کو صرف سلیبرٹی کلچر سے سمجھنا کافی نہیں؛ ہندو قوم پرستی، تنظیمی نیٹ ورک، فلاحی پروگرام اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی مشینری بھی اہم ہیں۔
پاکستان میں عمران خان نے کرکٹ کی شہرت، ذاتی کشش، تبدیلی کے وعدے اور سیاسی نظام کے خلاف بیانیے کو ایک بڑی سیاسی تحریک میں تبدیل کیا۔ لیکن یہاں بھی مقبولیت اور مستقل وفاداری ایک چیز نہیں ہیں۔
### 2۔ مقبولیت سیاسی چیک نہیں، جسے ہمیشہ کیش کیا جا سکے
کسی رہنما کے جلسوں میں لاکھوں افراد آ سکتے ہیں، سوشل میڈیا پر اس کے کروڑوں حامی ہو سکتے ہیں، اور پھر بھی ہر سیاسی بحران میں وہی لوگ سڑکوں پر نہیں نکلتے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ حمایت کی کئی سطحیں ہوتی ہیں:
* شخصیت پسند کرنا۔
* ووٹ دینا۔
* سیاسی بیانیے سے اتفاق کرنا۔
* احتجاج میں حصہ لینا۔
* ذاتی خطرہ اٹھا کر مسلسل تحریک چلانا۔
یہ پانچوں ایک جیسی چیزیں نہیں ہیں۔ ایک شخص عمران خان کا حامی ہو سکتا ہے، مگر گرفتاری، تشدد، روزگار کے نقصان یا خاندانی ذمہ داریوں کے خطرے کے باعث احتجاج سے دور رہ سکتا ہے۔
### 3۔ لیکن کیا پاکستان میں واقعی عوام نے عمران خان کو چھوڑ دیا ہے؟
یہاں آپ کے استدلال کا سب سے اہم امتحان ہے۔
پاکستان میں 9 مئی 2023 کے بعد احتجاج، گرفتاریاں اور سیاسی دباؤ دیکھنے میں آئے۔ نومبر 2024 میں بھی عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر مارچ ہوا، جسے بالآخر منتشر کر دیا گیا۔
اس لیے یہ کہنا کہ اب کوئی بھی ان کے لیے باہر نکلنے کو تیار نہیں، دستیاب تاریخی شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔ البتہ یہ سوال بالکل جائز ہے کہ کیا ان کی انتخابی حمایت ایک مستقل، منظم اور طویل احتجاجی تحریک میں تبدیل ہو سکتی ہے؟ انتخابی مقبولیت اور سڑکوں پر تحریک چلانے کی صلاحیت کا فرق یہیں سامنے آتا ہے۔
اسی طرح بھارت میں مودی کی شخصی مقبولیت کے باوجود 2024 کے انتخابات میں بی جے پی اپنی قومی پارلیمانی اکثریت برقرار نہیں رکھ سکی۔ ایک تحقیقی مطالعہ بھی بتاتا ہے کہ شخصی قیادت کے مضبوط ہونے کے باوجود جماعتی تنظیمیں اپنی الگ اہمیت برقرار رکھ سکتی ہیں۔
### اصل نتیجہ
آپ کے نظریے کو یوں سمجھا جا سکتا ہے:
سلیبرٹی کی مقبولیت توجہ پیدا کرتی ہے، سیاسی تحریک جذبات پیدا کرتی ہے، لیکن پائیدار اقتدار کے لیے تنظیم، کارکردگی اور ادارہ جاتی صلاحیت بھی درکار ہوتی ہے۔
اور ایک آخری فرق اہم ہے: گورنر راج کے خلاف عوامی احتجاج نہ ہونا، اس کی قبولیت یا عمران خان کی سیاسی ناکامی کا قطعی ثبوت نہیں۔ اس نتیجے کے لیے عوامی رائے، انتخابی نتائج، احتجاج میں شرکت اور سیاسی تنظیم کی حالت کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا۔
آپ کا بنیادی سوال دراصل کسی ایک رہنما کے بارے میں نہیں، بلکہ اس بارے میں ہے کہ کیا جدید معاشروں میں شخصیت پرستی کی جگہ کارکردگی پر مبنی سیاست لے رہی ہے؟ اس تبدیلی کے شواہد موجود ہیں، لیکن پاکستان اور بھارت دونوں میں یہ عمل نامکمل اور متضاد ہے۔
عمران خان کی خوف اور نفرت کی سیاست سے عوام تنگ آ گئی ہوئی تھی۔ اس لیے خلاف توقع گورنر راج کے خلاف کوئی بڑی آواز نہیں نکلی۔ سیاست عوام سے جڑے لوگوں کا کام ہیں۔ یہ وکیل یہ یو ٹیومر یہ سیاست کو نہیں سمجھ سکتے۔ عمران خان نے ایک نفرت انگیز بیانیہ چلانا شروع کیا جو آہستہ آہستہ اس کی سیاست ختم کر گیا۔ سیاست میں نفرت نہیں چلتی۔ عوام کو سیاسی لڑائیوں سے کچھ لینا دینا نہیں۔ ان کو جدید دور کی سہولیات چاہیے۔ امن و امان چاہیے۔ روزگار چاہیے۔ ان کے لیے کوئی سیاستدان لیڈر نہیں۔ جو بھی ان کی روٹی پورے کر دے وُہی دیوتا ہے۔ پاکستان میں اب کوئی سیاسی لیجنڈ نہیں۔ نا ہی نواز شریف نا زرداری نا عمران خان۔ لیجنڈ اب جدید دور کی سہولیات ہیں۔ جو بھی پوری کر دے گا وہی عوام کے دل پر راج کرے گا۔
**اس پوسٹ میں کچھ حقیقت ہے، لیکن یہ مکمل اور متوازن نہیں ہے۔**[](<tribune.com.pk/story/2634328…>)
**حقیقت والے حصے:**
- خیبر پختونخوا میں دہشت گردی میں واقعی بڑا اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق مارچ 2024 سے ستمبر 2026 تک واقعات میں تقریباً **195%** اضافہ ہوا، جس میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ یہی وجہ وفاقی حکومت نے گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کی دی۔[](<tribune.com.pk/story/2634328…>)
- بڑے پیمانے پر عوامی بغاوت یا "ساڑھے 4 کروڑ پختونوں" کا احتجاج نہیں ہوا۔ حکومت کے وزرا کا دعویٰ ہے کہ لوگ اس اقدام کا خیرمقدم کر رہے ہیں، اور Gallup پاکستان کے اکتوبر 2026 کے سروے میں بھی KP کے 72% لوگوں نے کہا کہ وہ سڑک پر احتجاج میں شامل نہیں ہوں گے۔ کچھ مقامی احتجاج، وکلاء کا بائیکاٹ اور قانونی چیلنجز ضرور ہوئے، لیکن وسیع عوامی ردعمل نہیں ملا۔[](<gallup.com.pk/wp/wp-content/…>)
**مبالغے یا ناقص حصے:**
- عمران خان کی "خوف اور نفرت کی سیاست" کو اس صورتحال کی واحد یا بنیادی وجہ قرار دینا درست نہیں۔ Gallup کے اسی سروے میں **52%** پاکستانیوں (KP میں 53%) نے PTI کی صوبائی حکومت کی کارکردگی کو اچھا یا بہت اچھا قرار دیا۔ ایمرجنسی کی حمایت بھی تقسیم شدہ ہے (قومی سطح پر 47% حمایت، 35% مخالفت؛ KP میں تقریباً برابر)۔[](<gallup.com.pk/wp/wp-content/…>)
- پاکستانی سیاست اب بھی بڑی حد تک شخصیت، بیانیے اور مخالفت پر چلتی ہے۔ عمران خان اب بھی مقبول رہتے ہیں، اور لوگ صرف "روٹی، امن اور سہولیات" کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرتے۔ سیکیورٹی کا مسئلہ حقیقی ہے، لیکن اس کو صرف ایک پارٹی کی نفرت انگیز سیاست سے جوڑنا سادہ ہے۔
**خلاصہ:**
پوسٹ کا یہ نکتہ درست ہے کہ لوگ سیاسی لڑائیوں سے تنگ آ چکے ہیں اور امن و سہولیات چاہتے ہیں، خاص طور پر دہشت گردی کے اس شدید اضافے کے پیش نظر۔ تاہم یہ عمران خان کی سیاست کو مکمل ذمہ دار ٹھہرانے اور "کوئی بڑی آواز نہیں نکلی" کو زیادہ عام کرنے والا ہے۔ رائے تقسیم شدہ ہے، اور حقیقت زیادہ پیچیدہ ہے۔[](<gallup.com.pk/wp/wp-content/…>)






























