Pinned Tweet
نو اپریل 2022۔۔۔
اک شخص کیا گیا زندگی کی کتاب سے۔۔
یزداں نے عہد کا سارا نصاب الٹ دیا۔۔۔
چار سو روئے شہر کی صدا بدل گئی۔۔۔
تصنع و بناوٹ نے نقاب الٹ دیا۔۔۔
معزز و مقرب کے پیمانے بدل گئے ۔۔۔
کھاتہء دل کا سارا حساب الٹ دیا۔۔۔
#ملکانی
مس Malik retweeted
اللہ بچائے ایسے دوستوں سے جو آپ کو CCD سے بچانے آئیں اور آپ کو مروا کر خود بھاگ جائیں 🤷♂️
مس Malik retweeted
Replying to @AzmaBokhariPMLN
اس حساب سے بلوچستان میں بھی گورنر راچ لگانا چاہئیے؟
وہاں کرپشن بھی زیادہ ہے، امن و امان کا بھی بہت مسئلہ ہے، بہت سی جگہوں پر حکومتی رٹ بھی نہیں ہے، پنجاب یا باقی صوبوں کے لوگ اندرون بلوچستان نہیں جا سکتے۔
پاکستان کا 44 فیصد ہے اس کے یہ حال ہیں تو باقی باتیں چھوڑیں گورنر لگوائیں
مس Malik retweeted
حجازی صاحب کا اس ماں والا حساب یے جو ایک بچے کو تھپڑ مارے تو بدوبدی دوسرے کو بھی پکڑ کہ کھڑکانا پڑتا ہے۔ سمجھا کریں آپ۔۔۔
Replying to @Aakbar84
حجازی صاحب 3:7 کے حساب سے ٹویٹ کرتے ہیں
3 پی ٹی آئی کے حق میں
7 نون کے حق میں
7 پی ٹی آئی کے خلاف
3 نون کے خلاف
اپنے اوپر کوئ لیبل نہیں لگنے دینا چاہتے، politically correct دکھنا چاہتے ہیں۔
حال کے ظلم کی بات کرو،ماضی کا ظلم اٹھا لے آیئں گے آج کے ظلم کو dilute کرنے کے لئے🙂
جی مجھے پتا ، سارے یوتھیے اس کی قربانیاں گنوانے پہنچیں گے۔۔۔
حالانکہ یہ تمام لوگ پی ٹی آئی اور عمران خان کے دشمن ہیں۔۔۔
لینا دینا نہیں تو میری پوسٹ پہ کیا کر رہے۔۔۔؟
آپ کا اپنا اکاؤنٹ ہے اپنی ہمدردیاں وہاں شئیر کریں۔۔
ادھر تھیٹر لگانے کو کس نے بولا۔۔۔۔؟
فضول
This quoted post is unavailable.
صنم جاوید کی طلاق کروا کر اسے کسی اور شخص کے ساتھ نتھی کرنا ہے ، یا پھر طلاق کے بعد فری لانسر کے طور پر عسکری سیمنٹ والوں کے لئے بندے کمپرومائز کرنے کا دھندہ کیا کرے گی
جیسے دوسری بہن سلمان اکرم راجہ کے فلیٹ پر پائی گئی تھی
عسکریوں کے گلشن کا کاروبار انہی پنچھیوں کی بدولت چلتا ہے
عسکری انتظامیہ کے واٹس گروپ میں بھی کاپی پیسٹ میسج موصول ہو گیا کہ جلدی سے سنسنی پھیلا دو تاکہ تھریٹ جاری ہو فارم 47 کے لئے
جیسے
سکول میں اکثر سرکولر آتے ہیں کلاس میں پڑھاتے تو اساتذہ کہتے ہیں یا اللّٰہ خیر پتہ نہیں کیا ہو گیا
تمہیں کیا مسئلہ، کھا لیو کٹ ، پیسے تو مل ہی جائیں گے
موسم اپنی پیک پر جا کے شدید ہی ہوتا ہے ، یہ ایک نارمل بات ہے ، مگر دورانیہ کم ہو گیا ہے۔۔۔
سرمایہ دارانہ ممالک کی برکات سے ہم بھی کہیں نہ کہیں مستفید ہوتے ہی ہیں۔۔۔
Replying to @evergreen_40 @istangreen
سردی شدید ہوگی جتنے بھی دن رہی۔ یہ سب سرمایہ دارانہ ممالک کی برکات ہیں جو ہم بھگتیں گے
الحمدللہ ۔۔۔! ادھر بھی ایسا ہی ہے ، ایکس پر بکھرے تبصروں سے پتہ چل رہا کہ آخر چل کیا رہا ہے۔۔۔
ویسے بھی بچوں والے گھر میں اس قسم کا سٹف دیکھنا ہی نہایت مضر و ہانی کارک ہے۔۔۔
مس Malik retweeted
وقت آئے گا شہباز شریف کے گورننس ماڈل پر PHD ہوگی۔ حذیفہ رحمان
پی ایچ ڈی میں بتایا جائے گا ایسے گورننس نہیں کرنی ہے۔ ذرائع
مس Malik retweeted
Replying to @evergreen_40
ہاہاہاہا جدھر دیکھو عورت مرد عورت مرد عورت مرد۔
مجھے تو یہ نئی سمجھ آتی اس تماش بین قوم کو ایسی چیزیں دکھائی کیوں جاتی ان کو اخلاقیات معاشرتی برائیاں نا انصافی پر مبنی content غربت سے نکلنے تعلیمی توجہ دلانے والا مواد کیوں نئی دکھایا جاتا؟ یہ قوم شلوار سے باہر مشکل ہی نکلے گی
مسئلہ یہ ہے کہ فوجیوں نے تھریٹ میں رکھنا تو ہوتا ہی موجودہ سیٹ اپ کو لہذا ایسی توتیاں چھوڑتی رہتی کہ فلاں آ جائے گا ، مگر اب چونکہ عمران خان کے ساتھ تو بالکل کوئی آثار نہیں۔۔
تو ڈیڑھ سال سے ٹیکنو کریٹ آ جائے، والا راگ الاپ رہے ، جیسے بچوں کو ڈراتے ہیں کہ مت کرنا ورنہ جن بابا آیا
ابوبکر کو فینٹسائز کرنے کی بجائے، لمحئہ فکریہ یہ ہے کہ زریاب کی مینوفیکچرنگ کیسے روکی جا سکتی ہے معاشرے میں۔۔؟
یہ صرف عورت پہ کبھی بھی ڈیپینڈ نہیں کرے گا ، اگر آج مرد کسی کو زریاب بنا کے چھوڑے گا تو کل ہو سکتا ابوبکر کی طرح کسی اور کی بنائی ہوئی زریاب کے جوتے کھا رہا ہو۔۔۔۔۔
مس Malik retweeted
Replying to @evergreen_40 @kharoospagal
milta thailay pai hai laikin us sai acha crab soup puray karachi mai kahi nai milta.
youtube.com/shorts/5ENdY7rUi…
مس Malik retweeted
عثمان بزدار کو نااہل کہنے سے چونکہ بندہ کول لگتا ہے اس لئے پٹواری، یوتھی اور جیالے ایک صف میں کھڑے ہو کر باجماعت یہ گپ ہانکتے رہتے ہیں۔ بس کے دور میں میگا انفراسٹرکچر پروجیکٹس کی بجائے پالیسی اور انتظامی اصلاحات ہوئیں اسی لئے ان کو وہ نااہل اور نالائق لگتا ہے۔
سردی کوئی نہیں جے آنی،
لہذا سوپ کے نام پہ
آ ککڑاں نوں پانی وچ غسل دے دے بوتا کشٹ کرن دی
تے ساگ پکا پکا کھا کے تُنیّ ہری کرن دی کوئی ضرورت نہیں ہیگی
بالکل نارمل لینا سردی نوں جس طرح او تانوں گھنٹے تے وی نہیں لکھ رہی۔۔
شکریہ ۔۔🤧
مس Malik retweeted
لاہور والو، سنو ذرا توجہ سے۔ تمہارا شہر دنیا کے ان چند خوش نصیب مقامات میں شامل ہے جہاں سانس لینا خود ایک مہم جوئی بن چکا ہے۔ ہوا ایسی گاڑھی کہ پرندے اڑتے اڑتے راستہ بھول جائیں، اور سموگ اتنی وفادار کہ سردیوں میں بغیر دعوت کے آ کر مہینوں ٹھہری رہتی ہے۔ عالمی فہرستوں میں تمہارا نام ہمیشہ اوپر ہوتا ہے — آلودگی کے معاملے میں، یوں سمجھ لو کہ تمہارا شہر تمغوں کا عادی ہو چکا ہے۔
اور اس تمام شان و شوکت کے درمیان ہماری محترمہ نے فیصلہ فرمایا کہ لاہور کو اب گیندے کے پھولوں سے سجانا چاہیے۔
PHA والے لگے ہیں سڑکوں پر، چوراہوں پر، جزائر پر — نارنجی اور زرد پھولوں کی قطاریں بچھاتے ہوئے، گویا کسی بڑے تہوار کی تیاری ہو رہی ہو۔ ویڈیو بن رہی ہے، ڈرون اڑ رہے ہیں، اور محترمہ فرما رہی ہیں: “کیا ہی دلکش منظر ہے! شاباش PHA!”
اب ذرا غور کرو اس عظیم الشان دانشمندی پر۔
شہر میں ہوا ایسی کہ بچوں کے پھیپھڑے احتجاج کر رہے ہوں، بزرگ سانس لینے کے لیے اللہ اللہ کر رہے ہوں، اور حکمتِ عملی یہ اختیار کی گئی کہ پھول لگا دو۔ وہ بھی ایسے پھول جو چند ہفتوں بعد مرجھا کر مٹی بن جائیں گے۔ درخت لگانے کی ضرورت تھی جو دھواں چھانتے، سایہ دیتے، گرمی کم کرتے۔ لیکن نہیں۔ درخت تو دیر سے پھل دیتے ہیں، اور پھول فوراً کیمرے میں اچھے لگتے ہیں۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی آدمی شدید بخار میں ہو، ڈاکٹر بلانے کے بجائے اس کے بستر پر پھولوں کا گلدستہ سجا دے اور کہے: “دیکھو کتنا حسین لگ رہا ہے مریض!”
یا جیسے کوئی جہاز سمندر میں ڈوب رہا ہو، اور کپتان ہدایت کرے کہ سب سے پہلے ڈیک پر گیندے کے پھول بچھائے جائیں تاکہ ڈوبتے ہوئے بھی منظر خوبصورت رہے۔
محترمہ کی یہ کاوش دراصل ایک گہری فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ آلودگی تو آنکھوں سے نہیں دکھتی، لیکن پھول دکھتے ہیں۔ اور جب لوگ پھول دیکھ لیں تو شاید انہیں سانس لینے کی تکلیف یاد ہی نہ رہے۔ یہ جدید حکمرانی کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے — مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے سجا دینا۔
PHA والے اب بھی لگے ہوئے ہوں گے، پھول سیراب کر رہے ہوں گے، قطار میں لگ رہے ہوں گے، اور سوچ رہے ہوں گے کہ اگلی بار شاید سموگ پر بھی تھوڑا سا سنہری رنگ چڑھا دیا جائے تاکہ وہ بھی “دلکش” لگے۔
کیونکہ جب شہر کی ہوا ہی زہر ہو تو کم از کم زہر خوبصورت ہونا چاہیے۔
شاباش، محترمہ۔ واقعی شاباش۔
تم نے ثابت کر دیا کہ لاہور اب صرف آلودگی کا شہر نہیں رہا — اب یہ آلودگی کا سجا ہوا شہر ہے۔
مس Malik retweeted
Replying to @evergreen_40
کیا پنجاب کا معیارِ زندگی یورپ جیسا ہے؟ صحت اور تعلیم کا نظام یورپ کے برابر ہے؟ کیا یورپ میں بھی ماورائے عدالت قتل، ادارہ جاتی کرپشن اور لاقانونیت عام ہے؟ پنجاب کا موازنہ یورپ سے کرنا آسان ہے، مگر یورپ جیسا معیار فراہم کرنا آپ کے بس کی بات نہیں۔ پروپیگنڈے کو ترقی سمجھنا بند کریں۔

















